بیوی

جیون ساتھی کا احترام

آج کی دنیا بڑی عجیب ہے۔ اس بھاگتی دوڑتی دنیا میں ازدواجی مسرتیں کسی وقت بھی کھو سکتی ہیں۔ شادی کے ابتدائی دنوں کی تصویریں دیکھ کر کئی میاں بیوی سوچتے ہیں ’’کہاں گئے وہ دن اور مسکراہٹیں جو ہمیں ایک دوسرے کے چہروں پر نظر آتی تھیں؟‘‘ اب یہ اکثر دیکھنے میں آیا ہے کہ شروع میں تو ہر شادی شدہ جوڑا خوش اور مطمئن ہوتا ہے لیکن کچھ عرصے بعد وہ اکثر ایک دوسرے سے ایسے لاتعلق ہوجاتے ہیں جیسے اجنبی ہوں۔

دلچسپ بات یہ کہ دونوں میں سے کوئی کسی بھی معنی میں برا نہیں ہوتا۔ ان کے پاس اپنی استطاعت کے مطابق گھر ہوتا ہے، بچے ہوتے ہیں حتی کہ آپس میں محبت بھی ہوتی ہے مگر ہوتا یہ ہے کہ اب وہ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر کم وقت گزارتے ہیں۔ شام خاموشی کے ساتھ گزر جاتی ہے۔ رفتہ رفتہ وہ ایک دوسرے سے بے خبر ہوتے چلے جاتے ہیں حتی کہ وہ وقت آجاتا ہے جب وہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے اپنی اپنی دنیا میں بس رہے ہوتے ہیں۔

غلط فہمیوں کا ازالہ

دیکھا یہ گیا ہے کہ شادی کے بعد میاںبیوی دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہونا شروع ہوتی ہیں جو بعد کو اختلافات کی شکل اختیار کرجاتی ہیں۔ ان اختلافات کی حقیقت جان کر جوڑے نہ صرف ان کا مداوار کرسکتے ہیں بلکہ زیادہ ذہنی ہم آہنگی پیدا کر کے ایک دوسرے کے قریب تر ہوسکتے ہیں۔

میاں بیوی کو ایک گاڑی کے دو پہیے کہنا بہت پرانی بات ہے۔ تاہم سچ تو یہ ہے کہ یہ بات ہمارے معاشرے پر کل بھی درست بیٹھتی تھی اور آج بھی۔ یہ دنیا کے اس نازک ترین اور خوب صورت بندھن پر پوری طرح صادق آتی ہے۔

مردوں کی لغت کے اعتبار سے ہر عورت حاکم شوہر کو پسند کرتی ہے کیوں کہ محکومیت اس کی سرشت میں رچی بسی ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں دلیل یہ دی جاتی ہے کہ عورت بچپن ہی سے حاکمانہ ماحول میں پلتی بڑھتی ہے اور شادی ہونے تک باپ بھائیوں وغیرہ کے احکامات اس پر صادر ہوتے رہتے ہیں لہٰذا وہ اس کی عادی ہوجاتی ہے اور شادی کے بعد بھی مردانہ حاکمیت کی خواہش مند رہتی ہے۔

مگر یہ اب پرانی بات ہوگئی۔ آج کے دور میں اس دلیل کو بہت سے لوگ تسلیم نہیں کرتے اور کچھ خواتین کا خیال ہے کہ محبت میں سر تسلیم خم کرنے کو جذبہ محکومیت قرار دے دینا، اس سے زیادہ شرمناک بات کوئی اور نہیں ہوسکتی۔ پچھلے زمانے میں تو یہ سب ممکن تھا کیوں کہ عورتیں صرف چار دیواری میں محدود تھیں اور مرد ہی ان کا واحد سہارا ہوتا تھا مگر آج کے حالات یکسر مختلف ہیں۔ عورت ماضی کی طرح بے یار و مددگار نہیں بلکہ اسے زندہ رہنے اور اپنے طور پر زندگی گزارنے کا فن آگیا ہے۔

عورت مرد کی حاکمیت مناسب حد تک تو پسند کرتی ہے لیکن اگر معاملہ حد سے گزرنے لگے تو احتجاج کرنے سے باز نہیںرہتی۔ یہیں سے ساری خرابی پیدا ہوتی ہے کیوں کہ آج کے دور کی عورت اپنے موقف پر ڈٹ جاتی ہے اور مرد اپنی بات منوانا چاہتا ہے۔ اس بدلتے ہوئے زمانے میں میاں بیوی دونوں کو چاہیے کہ ٹھنڈے دماغ سے ایک دوسرے کی باتوں پر مکمل دھیان دیں اور غور کریں، یعنی اگر شوہر اپنی کوئی بات منوانا چاہتا ہے، تو اسے چاہیے کہ بیوی کی باتوں کو بھی اہمیت دے۔ اسی طرح بیوی کا بھی فرض ہے کہ وہ شوہر کے احترام کا پورا پورا خیال رکھے۔

اچھے شوہر کی ذمے داریاں

شوہر کی حیثیت سے مرد پر کافی ذمے داریاں عائد ہوتی ہیں کیوں کہ مرد ہی پورے خاندان کے سربراہ ہوتے ہیں۔ اچھا شوہر بننے کے لیے ضروری ہے کہ شوہر اپنی بیوی کی پسند و ناپسند معلوم کریں۔ یہ جاننے کی کوشش کریں کہ وہ آپ سے کیا چاہتی ہے۔ فرض کیا، بیگم چاہتی ہے کہ آپ اس کے کام میں اس کی مدد کریں، ہاتھ بٹائیں۔ اس طرح اسے سنگت بھی ملے گی اور نفسیاتی سکون بھی۔ آپ یقین کیجیے اس کی مدد کرنے سے وہ بہت خوش ہوگی۔

عام طور پر شوہر سمجھتے ہیں کہ امور خانہ داری صرف بیویوں کی ذمے داری ہے اور شوہروں کا کام گھر سے باہر تک ہی ہے۔ سوچ کا یہ زاویہ بالکل غلط ہے۔ گھر کی ذمے داریاں ایک ٹیم کی طرح پوری کرنی چاہئیں کیوں کہ گھریلو امور نپٹانا جس طرح عورت کی ذمے داری ہے اسی طرح شوہر کی بھی ہے۔ یاد رکھیے آپ کی رفیق زندگی آپ کی مخلص شریک حیات ہی تصور نہیں کرتی بلکہ آپ کو اپنا شریک کار بھی بنانا چاہتی ہے۔ مزید براں بیوی کو جسمانی سے زیادہ جذباتی لگاؤ کی ضرورت ہوتی ہے۔ جو مرد اپنی بیویوں سے کم بولتے ہیں، ان کی گفتگو پر توجہ نہیںدیتے، انھیں یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ بیویاں شوہر کی آواز سننے کے لیے بے تاب رہتی ہیں۔ اسی طرح وہ چاہتی ہیں کہ وہ آپ کی اولین ترجیح بن کر رہیں اور تمام معاملات میں آپ ان سے مشورہ لیں۔ یہ چھوٹی چھوٹی باتیں اگر مناسب طور پر انجام نہ پائیں تو بڑے بڑے اختلافات کا پیش خیمہ بنتی ہیں۔ ایک اچھا شوہر ہونے کے ناطے آپ کا یہ فرض ہے کہ ان سب باتوں پر بھرپور توجہ دیں۔

اچھی بیوی کی ذمے داریاں

حضرت محمدؐ نے فرمایا ہے کہ اگر خدا کے بعد کسی کو سجدہ جائز ہوتا، تو بیوی شوہر کو سجدہ کرتی۔ اسی بات سے اندازہ لگالیں کہ شوہر کا رتبہ کتنا بڑا ہے۔ یہاں میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گی کہ ہوسکتا ہے ، آپ کے شوہر میں بہت سی خامیاں ہوں، جن کے باعث آپ کو تکلیف کا سامنا رہتا ہو لیکن آخر کار وہ آپ کا شوہر ہے جس کا رتبہ یونہی افضل نہیں قرار دیا گیا بلکہ اس کے پیچھے کئی وجوہ ہیں۔

بیوی پر واجب ہے کہ وہ مرد کی فرماں بردار رہے اور اس کا ہر جائز حکم مانے۔ جب وہ باہر سے آئے تو بیوی کا فرض ہے کہ وہ مسکرا کر اسے خوش آمدید کہے اور شربت پلا کر اس کی تھکن اتارے۔ یاد رکھیے اگر آپ گھر سنبھالتی ہیں تو وہ بھی سارا دن باہر کام کر کے تھکا ہارا آتا ہے۔ اس کے علاوہ ہزاروں قسم کی پریشانیاں اور الجھنیں اس کے درپے رہتی ہیں۔ اس لیے شوہر جب باہر سے آئے تو آپ کو اس کا مکمل خیال رکھنا چاہیے۔

کوشش کریں کہ اس کی پریشانی کو سمجھیں اور اسے حل کرنے میں اس کے ساتھ شریک ہوں۔ اس کے بعد اگر آپ کو کوئی پریشانی ہے تو انتہائی تحمل سے اسے بتائیے۔ اگر آپ شوہر کا خیال رکھیں گی تو وہ بھی آپ کا پورا پورا خیال کرے گا۔

شوہر خواہ کیسا ہی ہو، بیوی کا فرض ہے کہ اس کا مزاج اچھی طرح پہچان لے کیوں کہ یہ مثال تو آپ نے سنی ہوگی کہ شوہر شناسی دراصل خدا شناسی ہے، اور جو بیویاں اس بات کا خیال رکھتی ہیں وہ خود بھی مطمئن رہتی ہیں اور ان کا گھر بھی جنت بنا رہتا ہے۔ یہاں میں عقل مند بیویوں سے یہی کہوں گی کہ خود کو مسئلہ بنانے یا شوہر پر مسئلہ پیدا کرنے کا الزام دھرنے کے بجائے مسئلے کا حل نکالنے اور چیزوں کو احسن اور مثبت طریقے سے دیکھنے کی کوشش کریں کیوں کہ مسائل کا حل ہی بہترین اور کامیاب ازدواجی زندگی کی کنجی ہے۔

اگر آپ چاہتی ہیں کہ شوہر آپ سے خوش رہے، تو آپ کو چھوٹی چھوٹی باتوں کا خیال رکھنا ہوگا۔ شوہر کی نیک خواہشات کا احترام سلیقہ مندی اور انسیت کے ساتھ پیش آنا بھی تعلقات میں بہتری کا سبب بنتا ہے۔ بیوی نہ صرف صاف ستھری اورسنور کر رہے بلکہ گفتگو، رہن سہن اور امورِ خانہ داری میں بھی نفیس ذوق کی مالک ہو۔ یہ سب کچھ اختیار کرنا ایک اچھی بیوی ہونے کے ناتے آپ کا فرض بنتا ہے۔

رسول اللہﷺ نے فرمایا ہے کہ سب سے اچھا خزانہ نیک بخت بیوی ہے کہ خاوند اس کے دیکھنے سے خوش ہوجائے اور جب خاوند کوئی کام اسے بتائے تو وہ حکم بجا لائے اور جب خاوند گھر پر موجود نہ ہو تو عزت و آبرو تھامے بیٹھی رہے۔ رسول اللہﷺ نے مزید فرمایا کہ اے بیبیو! یادرکھو، تم میں جو نیک ہیں وہ نیک لوگوں سے پہلے جنت میں جائیں گی۔ اس لیے آپ کو چاہیے کہ کبھی ناشکری نہ کریں اور صبر وتحمل سے کام لیں۔ سمجھ دار بیویوں کو کچھ بتانے کی ضرورت تو نہیں، وہ خود ہی نیک و بدکا ادراک رکھتی ہیں، لیکن پھر بھی میں نے بعض باتیں بیان کردی ہیں۔ مزید چھوٹی چھوٹی باتیں درج ہیں جن کی مدد سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر کے ماحول کو خوش گوار بنا سکتی ہیں۔

توجہ طلب بات

مسرت اور خوشی کی باتوں میں ایک دوسرے کو حیرت زدہ کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے یہ ظاہر ہوگا کہ آپ کو اپنے ساتھی کا خیال رہتا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ تنہائی میں بھی آپ کی توجہ ساتھی کی ذات پر رہتی ہے۔ توجہ کا یہ احساس طرفین میں یگانگت کا خوب صورت احساس جگاتا ہے۔ اب ساتھی کو حیرت زدہ کس طرح کیا جائے، یہ دونوں کی ذہنی صلاحیت اور مالی حیثیت پر ہے۔

سیر و تفریح کریں

اپنی مصروفیات سے وقت نکالیں، ایسا وقت جس میں آپ جو چاہیں کرسکیں۔ یہ ضروری نہیں ہ کہیں مخصوص جگہ جائیں بلکہ کسی بھی جگہ جا بیٹھیں جہاں جی چاہ رہا ہو اور جہاں صرف آپ دونوں اکٹھے شادمانی کا وقت گزار سکیں۔

ہلکا پھلکا ہنسی مذاق

شادی کے بعد اکثر جوڑے ایک دم سنجیدہ ہونے کی کوشش شروع کردیتے ہیں۔ وہ اپنے اندر کی ظریفانہ فضا کو روکتے ہیں جب کہ میاں بیوی کے لیے تھوڑا بہت ہنسی مذاق نہایت کار آمد ہوتا ہے۔ ہنسی مذاق یا شرارت وغیرہ کرنا اور ایسی ہی چھوٹی چھوٹی باتیں بے تکلفی بڑھاتی ہیں اور فضا مکدر نہیں ہونے پاتی۔

اس کے علاوہ میاں بیوی کو چاہیے کہ وہ کبھی کبھی ساتھ بیٹھ کر خوش گوار انداز میں باتیں کریں۔ کسی ایک بات کو مشرکہ طور پر پسند کرنا کسی بات پر ایک ساتھ ہنسنے کا مطلب یہ ہوگا کہ آپ کے مزاج میں قدر مشترک ہے۔ ایک ساتھ رہنے کے لیے قدر مشترک کا ہونا ضروری ہے جسے مزاج کی ہم آہنگی بھی کہتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سلمیٰ ممتاز

تبصرہ کیجیے