ایک شمع جلانی ہے!(قسط ــ 22)

نہ بادشاہ ہوں دلوں کا نا شاعر ہوں میں لفظوں کا

زباں بس ساتھ دیتی ہے میں باتیں دل سے کرتا ہوں

ماویہ ۱۳؍ سال کی ہوگئی تھی اور پچھلے کچھ سالوں سے وہ ایسے سیشن اور تدبر قرآن کے ٹارگٹس کی عادی تھی سو اس کے نوٹس اور باتوں میں زیادہ پختگی ہوا کرتی تھی۔

’’سورۃ البقرہ قرآن کی سب سے بڑی سورہ ہے۔ بقرہ کے معنی گائے ہیں چوں کہ اس سورہ میں حضرت موسی علیہ السلام ان کی قوم اور گائے کا قصہ بیان ہوا ہے اسی لیے اس کا نام البقرہ ہے۔ سورہ بقرہ میں احکامات کے علاوہ بہت سارے واقعات کا ذکر ہے تخلیق آدم علیہ السلام اور فرشتوں کے اعتراض کا واقعہ۔

٭ بنی اسرائیل کا بچھڑے کو معبود بنا لینا۔

٭اللہ کے علانیہ دیکھنے کی ضد

٭ من و سلوی اور پھر اس سے بیزارگی ظاہر کرنے والا واقعہ

٭ بستی میں حطۃ حطۃ کہتے جانے کا واقعہ

٭ سبت کا قانون جس کا ذکر تھوڑا سا ہی آیا ہے

٭ گائے کو ذبح کرنے کا واقعہ

٭ ایک شخص کے سلسلے میں ہونے والے جھگڑے کا تفصیلی ذکر۔‘‘

اتنا کہہ کر ماویہ کچھ لمحوں کے لیے رک گئی۔ غافرہ توصیفی نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ ماویہ اتنی اچھی طرح سے تیار کرلے گی۔ ماویہ نے کچھ لمحوں بعد اپنی بات پھر سے آگے بڑھائی۔

’’سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی بڑی فضیلت بیان کی گئی ہے، آپؐ کو معراج کے سفر میں یہ دو آیتیں تحفہ میں ملی تھیں، انھیں روزانہ رات میں سونے سے پہلے پڑھنے کی فضیلت ہے، اسی طرح آیت الکرسی جو ہم فرض نماز کے بعد پڑھتے ہیں وہ بھی اسی سورہ میں ہے۔‘‘ ماویہ نے اپنی بات ختم کرتے ہوئے سوالیہ نظروں سے غافرہ کو دیکھا کہ اس نے تسلی بخش کام کیا یا نہیں…! غافرہ اس کے اس طرح دیکھنے پر مسکرائی۔

’’ماشاء اللہ… تمھیں میں نے صرف ترجمہ پڑھنے کے لیے کہا تھا مگر تم نے تو بہت اچھے سے مطالعہ کیا اور یہ Points نکالے۔ اللہ جزائے خیر دے… اس سورہ کا مختصر میں اتنا خلاصہ ہمیشہ یاد رکھنا۔‘‘ غافرہ نے اس کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے آخر میں تاکید بھی کی۔

اب ماویہ، یحییٰ اور خاموش بیٹھا ابتسام تینوں ہی منتظر تھے کہ غافرہ کچھ کہے گی کیوں کہ یہ ایک Unsaid rule تھا… کچھ وقت کی خاموشی کے بعد غافرہ نے بولنا شروع کیا:

’’جیسے کہ ماویہ نے بتایا کہ اس سورہ میں احکامات کے علاوہ اتنے سارے واقعات کا ذکر ہے تو پھر اس بات پر سوچنا چاہیے نا ہمیں کہ سورہ کا نام بقرہ (گائے) ہی کیوں ہے؟ گائے والے واقعہ کو ہی اتنی اہمیت کیوں دی گئی ہے…؟ تخلیق آدم بھی تو ایک اہم ترین واقعہ ہے؟ ’’غافرہ نے اپنے دھیمے اور نرم انداز میں کہا تو سبھی سوچ میں پڑ گئے۔

’’ممی وہ اس لیے کہ اللہ کو تو سب پتہ ہوتا ہے نا تو اللہ کو معلوم ہوگا کہ اب ایک زمانہ اور آئے گا جب گائے پر پھر سے جھگڑا ہوگا اور کوئی اسے کاٹنے پر تیار نہ ہوگا…‘‘ یحییٰ اپنے حساب سے دور کی کوڑی لایا تھا۔ کئو رکشا کے نام پر ہونے والے واقعات گھر میں اکثر گفتگو کا موضوع بنتے تھے۔ اس کی بات پر سبھی دنگ رہ گئے۔ وہ نہ جانے کہاں سے بات لے آتا تھا لیکن فی الحال غافرہ اسے ڈسکس نہیں کرسکتی تھی سو وہ خاموش رہی اور سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہی رہی۔

کچھ دیربعد اس نے کہنا شروع کیا۔ ’’الفاظ تھے کہ جگنو آواز کے سفر میں‘‘

’’سورہ بقرہ میں بہت سے ٹاپکس پر اللہ نے بات کی ہے اور کوئی بھی نام اتناوسیع نہیں کہ تمام ٹاپکس کو کور کرے۔ اور جب گائے کے واقعہ پر سورت کا نام ہے تو کیا اس کی اہمیت بڑھ نہیں جاتی؟!

جب میں نے اسے اپنے آپ سے Relateکیا تو…‘‘

غافرہ اپنے انداز میں کہے جا رہی تھی لیکن کچھ تھا جو یحییٰ کے ذہن میں کلیر نہیں تھا۔ اوروہ الجھنوں کو صرف ذہن میں رکھنے والا بندہ نہیں تھا۔ اس نے غافرہ کی بات ختم ہونے کا انتظار بھی نہیں کیا… ’’مما… خود سے Relate یہ جو اللہ کی بات سے ٹال مٹول ہوئی تھی وہ تو یہودیوں نے کی تھی نا؟ یہ تو یہودیوں کے بارے میں ہے نا…؟‘‘

’’نہیں بیٹا… قرآن کبھی یہودی، عیسائی، قریش، مکہ کے قبائل اس طرح کے Senorioمیں نہیں پڑھتے۔ اللہ چند لوگوں کے واقعات، ان کی مثالیں دے کر ہمیں سمجھاتے ہیں… قرآن کا ہر لفظ اور ہر واقعہ ہمارے اپنے لیے ہیـ‘‘ غافرہ نے اس کی الجھن دور کی تو یحییٰ نے سمجھنے والے انداز میں سر ہلا دیا۔ غافرہ نے دوبارہ اپنی بات شروع کی تو نور کی چادر پھر سے تننے لگی اور ایک سماں سا بندھنے لگا۔

’’جب میں نے اسے خود سے Relate کیا تو مجھے لگا کہ یہ واقعہ ہر دور کی کہانی ہے، ہر شخص پر گزرتی ہے، ہر انسان کبھی نا کبھی کہیں نا کہیں اس مقام پر آکھڑا ہوتا ہے جہاں وہ سب سے آخر میں اللہ کا حکم مانتا ہے جب کوئی اور راستہ باقی نہیں رہتا، اور اس سے پہلے بس شک میں پڑا رہتا ہے، بہانے ڈھونڈتا ہے اور تاویلیں گڑھتا ہے۔

اور یہ صرف گائے کا واقعہ نہیں ہے بلکہ بنی اسرائیل نے ایک بچھڑہ بھی بنا لیا تھا جس کی پرستش شروع کردی تھی، کہا جاتا ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کی ڈانٹ پھٹکار کے بعد بچھڑہ کا بت توڑ دیا گیا تھا، مگر وہ ان کے دل میں بس گیا تھا، یہی وجہ تھی کہ وہ گائے کو ذبح کرنے میں آنا کانی کر رہے تھے، تو سارا بگاڑ، سارے Problemsاسی وقت پیدا ہوتے ہیں جب اللہ کے حکم کو ماننے میں ٹال مٹول کی جائے، سوال کیے جائیں خوامخوہ کے شک و شبہات میں پڑا جائے Explaination اور تفصیلات مانگی جائیں۔

نہیں … بات وہیں ختم ہوجانی چاہیے کہ اللہ کا حکم ہے بس دی اینڈ۔‘‘

ایک رعب تھا جو ساری فضا پر طاری تھا۔ وہ روشنی کے جگنو تھے جو یہاں وہاں نظر آتے تھے اور جو نظر نہیں آرہا تھا وہ نور تھا، جو دلوں میں اتر رہا تھا، ذہنوں میں اجالا کر رہا تھا۔

’’اللہ نے حکم دیا ہے کہ رشتہ داروں کے ساتھ رحم کا معاملہ کرو… بس بات ختم … اب یہ کہنا کہ لیکن انھوں نے کب ہمارے ساتھ اچھا کیا؟ اور انھوں نے ہمارے حقوق مارے؟ انھوں نے ہمارے ساتھ کتنا برا کیا؟ وقت پڑنے پر ساتھ نہ دیا۔ اچھا ٹھیک ہے ہم تھوڑا ٹھیک رہ لیں گے مگر گارنٹی نہیں… اور نہ جانے کہنے اورسوچنے کو ہمارے پاس کیا کچھ نہیں ہوتا… مگر ہم یہ تو سوچتے ہی نہیں کہ یہ سب باتیں ایک طرف مگر اللہ کا حکم ہے۔ یتیموں، مسکینوں اور محتاجوں سے پہلے رشتہ داروں کے حقوق، ان کے ساتھ رحم و درگزر کے معاملے کا حکم دیا ہے اللہ نے!!

سورت میں پہلے اس گائے کے واقعہ کا ذکر ہے اور پھر ساری احکامات والی آیات ہیں۔ ہمیں بتا دیا گیا ہے کہ احکامات کو مان لیا جائے اگر انھیں بقرہ بنا کر اور اپنی خواہشوں، دنیا کی کشش کو دل میں بچھڑہ بنا کر خوامخوہ کے سوالات اور شکوک کھڑے کروگے تو پھر مشکل میں پڑ جاؤگے، ہمارا ہرگزرتا سوال، ہر گزرتا شک ہمارے لیے حکم کی تکمیل کو مشکل سے مشکل تر بنا دے گا تو آسانی اسی میں ہے کہ مان لیا جائے۔

وہ قرآن کی باتیں تھیں، لفظ لفظ خوشبو تھا۔ عصر کا وقت گزرا جا رہا تھا… اور اس وقت کے فرشتے اس محفل کو دیکھتے ہوئے مسکراتے جا رہے تھے کہ اب اللہ کے حضور انھیں گواہی دینی تھی کہ جب صبح فجر اتری تھی تو اس کے یہ بندے سر جھکائے تھے اور اب وہ انھیں اس حال میں چھوڑ رہے تھے کہ وہ اب بھی سر جھکائے سمعنا و اطعنا ’’ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی ‘‘ کے لیے تیار تھے۔

’’اگر تمھیں یاد ہو کہ ہم نے سورہ فاتحہ میں اللہ سے انعمت علیہم کی دعا کی ہے، تو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اللہ نعمتوں کی طرف لے جانے والا، ذلت اور رسوائی سے بچانے والا، صراطِ مستقیم اور وہ راستہ جو ہدایت تک لے جاتا ہے ضرور بتائے گا مگر یہ بات ہمیں اپنے دل و دماغ میں بٹھا لینی چاہیے کہ اللہ طریقہ جیسا جس طرح، جتنا بتائے اسے ویسا، اتنا ہی اور اسی طرح پورا کا پورا بلا چوں و چرا لے لیا جائے، بحث نہ کی جائے کہ اللہ ایسا ہی کیوں؟ ویسا ہی کیوں؟ ایسا کرسکتے کیا… بے کار کی وضاحتیں نہ ڈھونڈی جائیں…‘‘

’’تو سمجھ آئی بات کہ ’انسان کی نجات اور فلاح‘ سمعنا و اطعنا کہ ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی میں ہے۔‘‘ جیسے کہ ماویہ نے بتایا کہ سورہ بقرہ کی آخری دو آیات نبی کریمؐ کو معراج کے سفر میں دی گئی۔ ان دو آیات میں تدبر کرنے کے لیے بے شمار باتیں ہیں… ابھی ہم تین اہم باتیں دیکھتے ہیں وہ یہ کہ سمعنا و اطعنا … ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی۔

لا یکلف اللہ نفسا الا وسعہا… نہیں ڈالتا اللہ کسی نفس پر اس سے بڑھ کر بوجھ اور پھر اخیر میں ’ربنا‘ کی صورت میں دعائیں ہیں…‘‘

غافرہ دھیرے دھیرے ہلکے پھلکے انداز میں اب انھیں ایک اور مشعل نور تھما رہی تھی۔

’’ہر انسان کی زندگی میں مختلف مراحل آتے ہیں، کبھی اس کے لیے بھی کچھ بہت قیمتی اور محبوب جسے اللہ کے لیے قربان کرنا ہوتا ہے اور جسے وہ قربان نہیں کرنا چاہتا۔ وہ بہانے کرتا ہے، کہیں سے بھی دلائل لاتا ہے مگر بھول جاتا ہے کہ آسانی سمعنا و اطعنا میں ہی ہے جتنے بہانے بنائے گا معاملہ اتنا ہی سخت ہوتا جائے گا۔

تو جب بھی اللہ کا کوئی حکم معلوم ہوجائے، کوئی بات جو حق ہو، کوئی فیصلہ جو سچ ہو اور اس میں ہمیں حق اور سچ کو ،ماننا بہت مشکل لگے تو یاد رکھتا کہ آسانی سمعنا و اطعنا میں ہے ورنہ نہیں ماننے والوں کے لیے مشکلیں بڑھ جاتی ہیں اور اسی کے ساتھ یہ بھی یاد رکھتا کہ You can do thisکیوں کہ اللہ کسی پر بھی اس کی ذات سے بڑھ کر برداشت سے بڑھ کر اس کی طاقت سے بڑھ کر کوئی بوجھ نہیں ڈالتا اور پھر ان سب کے ساتھ دعا کو اپنے سفر کا ساتھی بنانا، دعا جو زمین اور آسمان کا نور ہے اور مومن کا ہتھیار ہے۔‘‘ غافرہ نے ایک ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ اپنی بات ختم کی۔

ایک نور کی چادر سی ساری فضا میں تن گئی تھی وہ دھیرے دھیرے مدھم ہونے لگی اور پھر وہ سارا نور ان چاروں کے دلوں میں اترنے لگا… یحییٰ اور ماویہ کے دل و دماغ نے ان باتوں کو جیسے کسی اسفنج کی طرح خود میں جذب کرلیا تھا۔ مغرب کی اذانیں فضا میں گونجنے لگیں۔ چاروں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور دعا مانگی اور پھر دونوں بچے اٹھ کر جلدی سے وضو کرنے چلے گئے۔ غافرہ قرآن بند کر کے اٹھنے لگی۔

’’اتنی گاڑھی باتیں بچوں سے تو نہ کیا کرو۔‘‘ ابتسام نے موبائل سائیڈ ٹیبل پر رکھتے ہوئے غافرہ کو چھیڑا۔

’’بچے! کون سے بچے؟… اب آپ کہیں گے کہ یہ تو صرف ۱۳ سال اور ۸؍ سال کے ہیں تو میں آگے سے یہی کہوں گی کہ جناب ہم جس دور میں جی رہے ہیں وہاں ان ۱۳ اور ۸؍ سال کے بچوں کے دماغ Developنہیں ہوتے بلکہ Downloadہوتے ہیں اور وہ بھی 4G/5/G کی اسپیڈ سے۔‘‘

ابتسام کا قہقہہ بے ساختہ تھا۔ کمال کرتی ہو تم بھی!‘‘

’’سچ کہہ رہی ہوں نا؟ اب میں یا آپ ان کے پیچھے پیچھے ہر وقت تو گھوم نہیں سکتے… نہ ہی انھیں ٹیکنا لوجی سے دور کرسکتے ہیں، کیوں کہ اگرہم تبدیلی چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو دنیا سے دو قدم آگے رہنا سیکھانا ہوگا انھیں ٹیکنالوجی تھمانی ہوگی مگر میں اس کے ساتھ ہی ان کے اندر وہ سنسر لگانا چاہتی ہوں بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کے اندر لگے سنسر کو Activeateکرنا چاہتی ہوں جو اچھائی اور برائی کو پہچان کر ان کی عمل اور بچنے میں مدد کرے۔

میں اپنے بچوں پر 24×7 گھنٹے نظر نہیں رکھ سکتی مگر میں انھیں اس کتاب کا علم و فہم دے سکتی ہوں جو 24×7نظر رکھنے والے رب کی عطا کردہ ہے۔ اس کا علم انھیں ہر لمحہ یہ احساس دے گا کہ ان کا رب ان کی شہ رگ سے زیادہ قریب ہے۔ یہ سمعنا و اطعنا انہیں حق تسلیم کرنے پر اکسائے گا اور وہ اپنی کسی خواہش کو بچھڑا نہیں بننے دیں گے۔‘‘ غافرہ نے اپنے انداز میں جواب دیا تو ابتسام مسکرا دیا۔ وہ اپنی بیوی کو ماننے لگا تھا۔ اس میں شرم کیسی اور انا کیسی؟ وہ اس کی ہم سفر تھی، شریک حیات تھی، اتنی محبت سے اتنی محنت وہ صرف اس کے بچوں کے لیے کر رہی تھی اور پھر بیوی سے کیسا مقابلہ! اور پھر اس کی تعریف کرنے میں کیسی انا!

یہ بات بالآخر ابتسام کی سمجھ میں آگئی تھی۔ اگرچہ دیر سے آئی تھی مگر آگئی تھی۔ لیکن اس بات کا اقرار غافرہ کے سامنے کب کرنا ہے یہ اس نے سوچا نہیں تھا۔

’’ابھی نہیں… کسی اور وقت، کسی اور طرح…‘‘ اس نے دیوار پر لگے کیلنڈر کو دیکھتے ہوئے دل میں سوچا اور نماز کے لیے اٹھ کھڑا ہوا۔

٭٭

نہیں ہے نا امید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

’’غافرہ!! غافرہ!!!‘‘ ابتسام نے گھر میں داخل ہوتے ہی غافرہ کو یوں پکارنا شروع کیا کہ کپڑے استری کرتی غافرہ سب چھوڑ چھاڑ کر تیزی سے کمرہ سے باہر نکل آئی۔

’’السلام علیکم… کیا ہوا؟ سب خیریت؟‘‘ غافرہ نے قدرے پریشانی سے پوچھا تو وہ مسکرا دیا۔

’’الحمد للہ! بالکل خیریت سے ہوں بیگم صاحبہ!‘‘ ابتسام نے بڑے موڈ میں کہا جب غافرہ بس منہ ہی بنا کر رہ گئی۔

’’ہوں… پیاری بیگم…‘‘ پہلے ہی رات سے اس کا دل بڑا دکھا ہوا تھا۔آج ان کی شادی کی سال گرہ تھی اور ابتسام کو یاد تک نہ تھا۔ وہ چاہے خود کو کتنے ہی بہلاوے دے دیتی لیکن دل کے کسی کونے میں خواہش ہوتی ہے جو معصوم سی خوشی دیتی ہے۔ وہ امجد اسلام امجد نے سچ ہی کہا ہے کہ

محبت کی طبیعت میںیہ کیسا بچپنا قدرت نے رکھا ہے

کہ یہ جتنی پرانی جتنی بھی مضبوط ہو جائے

اسے تائید تازہ کی ضرورت پھر بھی رہتی ہے

یقیں کی آخری حد تک دلوں میں لہلہاتی ہو!

نگاہوں سے ٹپکتی ہو، لہو میں جگمگاتی ہو!

اسے اظہار کے لفظوں کی حاجت پھر بھی رہتی ہے!

اور شوہر و بیوی کے رشتے میں سب سے زیادہ کمی اسی کی رہ جاتی ہے۔ ایک ذرا سی بات ہوتی ہے لیکن جادو کر جاتی ہے۔ خیر غافرہ تو ویسے بھی دکھے دل کے ساتھ تھی۔

پیاری بیگم! ہوں! مجھے لگا آپ تو بھول ہی گئے کہ کوئی بیگم بھی ہے گھر میں … صرف یہ موبائل ہی یاد رہا آپ کو۔ سچ کہہ رہی ہوں میں، آج کل کی بیویوں کے لیے موبائل ہی ان کی سوکن ہے جس کے ساتھ شوہر صبح سے شام اور شام سے رات تک لگا رہتا ہے۔‘‘ غافرہ نے منہ بناتے ہوئے شکوہ کر ہی ڈالا۔ پچھلے دو تین ہفتوں سے وہ ابتسام کو مسلسل موبائل پر ہی دیکھ رہی تھی۔ کبھی کمپیوٹر میں سردیے بیٹھا رہتا تو کبھی موبائل پر کچھ کر رہا ہوتا تو کبھی ایک ایک گھنٹہ دوست سے بات کر رہا ہوتا۔ غافرہ بہت چڑ جاتی تھی۔ باتوں ہی باتوں میں کچھ کہہ بھی دیتی لیکن ابتسام پر و کچھ فرق ہی نہیں پڑتا تھا۔

اس کے یوں چڑ کر کہنے پر ابتسام کو ہنسی آگئی۔

’’اسی سوکن کے ساتھ مل کر ہی تو ایک سر پرائز ہے آپ کے لیے … تھوڑا سا فریش ہوکر جلدی سے سیٹنگ روم میں آجاؤ۔‘‘ ابتسام نے اسے دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تو وہ اسے گھور کر رہ گئی۔ صبح سے کام میں مصروف ہونے کی وہ سے وہ بہت جلدی میں تھی۔ بچے بھی اسکول سے نہیں آئے تھے اور ابتسام تو اپنے وقت سے بہت پہلے آگیا تھا ورنہ وہ ان سب کے آنے سے پہلے نہاکر فریش ہی رہا کرتی تھی۔ اس کا ماننا تھا کہ بچے ہوں یا شوہر، گھر میں داخل ہونے کے بعد صاف ستھری، تازگی سے بھرپور اپنی ماں یا بیوی کو دیکھتے ہیں تو ایک خوش گوار تاثر لیتے ہیں ورنہ بڑا بوجھل سا لگتا ہے۔

خیر غافرہ نے جلدی سے منہ دھوکر کریم لگالی۔ بال سمیٹ کر باندھ لیے، کپڑے تو خیر اچھے ہی تھے ابھی ابھی استری کر کے پہنے تھے۔ پھر کچھ سوچتے ہوئے ہلکی سی لپ اسٹک اور کاجل بھی لگا لیا۔ دو پٹہ برابر سے سیٹ کرتے ہوئے جب وہ دس منٹ کے اندر ہی کمرہ میں داخل ہوئی تو ابتسام کی ہنسی چھوٹ گئی۔ غافرہ نے جھینپ کر لپ اسٹک مٹانے کے لیے ہاتھ بڑھائے تو ابتسام نے روک دیا۔

’’ارے بابا… مجھے اس پر ہنسی نہیں آرہی تھی بلکہ میں سوچ رہا تھا کہ رنگ صاف ہونے کا کتنا فائدہ ہے نا؟ اور عورتیں تو کیسے بھی رنگ کی ہوں فائدہ میں ہی رہتی ہیں۔ اب دیکھو تمہیں دیکھ کر کون کہے گا کہ تم وہی غافرہ ہو جو دس منٹ پہلے بالکل عجیب حلیہ میں تھیں اور دیکھو دس ہی منٹ میں کیسا چاند سا چہرہ نکل آیا، ابتسام نے شرارت سے اسے چھیڑا تو وہ بھی ہنس دی۔

’’بتائیے تو سہی کیا سر پرائز ہے۔‘‘

’’تم ایجوکیٹیڈ ہو… شادی کے بعد کا خاصہ وقت تم نے گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت میں دیا ہے اور اب یہ بہترین وقت ہے کہ تم اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کا استعمال ایک Broad levelپر کرو۔‘‘

ابتسام نے ایک چھوٹا سا خوب صورت سا باکس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے کہا جو ایک رنگین ربن میں قید تھا۔ اس نے جیسے ہی اسے کھولا تو شاکڈ رہ گئی یہ سب کچھ اس کے وہم و گمان اور تخیل سے بہت آگے تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد