6

مرنے کے لیے بڑا وقت پڑا ہے!

چند دن ہوئے ایک دوست میرے پاس آیاـ۔ چہرے سے پریشانی کے آثار نمایاں تھے۔ بھویں سکڑی ہوئی، ناک کھنچی ہوئی، گال کسی قدر اندر کو دھنسے ہوئے اور نچلے ہونٹ کے دونوں کنارے مسلسل نیچے کی طرف ڈھلک رہے تھے۔ وہ کرسی پر بیٹھ گیا۔ اس کی بے کلی دیکھ کر مجھ سے ضبط نہ ہوسکا، فوراً ہی پوچھ بیٹھا۔

’’کہو، کیا ماجرا ہے، کیا بپتا آن پڑی ہے؟‘‘

کچھ دیر ا سنے سکوت اختیار کیا ور میری جانب گھورتا رہا، پھر کہنے لگا:

’’میں اس غرض سے یہاں آیا ہوں کہ تم سے خود کشی کرنے کا کوئی بہتر طریقہ دریافت کرسکوں۔‘‘

یہ سن کر میں بہت حیران ہوا اور اس سے پوچھا:

’’پہلے یہ بتاؤ کہ یہ خیال تمھارے ذہن میں آیا کیوں کر؟ کیوں کہ خود کشی کا طریقہ متعین کرنے سے پہلے یہ معلوم کرنا ضروری ہے کہ زندگی سے اس قدر مایوسی اور بیزاری کا سبب کیا ہے؟‘‘

اس کے ہونٹ آپس میں ملے اور اس نے بڑی بے پروائی اور حقارت سے کہا:’’میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ تم ایسے نازک موقع پر بھی مذاق کروگے۔ میرا خیال تھا کہ تمھاری نظروں میں میری کچھ وقعت ہے، لیکن اب معلوم ہواکہ تم مجھے بچہ سمجھتے ہو۔ بڑے افسوس کا مقام ہے کہ آخر انسان اپنی مصیبتیں کس کے سامنے بیان کرے۔ ایسا شخص کہاں سے آئے جو اپنے دوست کو وہی اہمیت دے جو خود اپنی ذات کو دیتا ہے…‘‘

ابھی وہ کچھ اور کہنا چاہا تھا کہ آنسو اس کی آنکھوں میں بھر آئے اور آواز حلق میں اٹک کر رہ گئی۔ میں نے موقع کی نزاکت بھانپ کر فورا ہی خود کو اداس اور غمگین بنا لیا اور کہا۔

’’اگر تمہارا صحیح معنوں میں کوئی دوست ہے تو وہ میں ہوں۔ اگر کوئی سب سے زیادہ تمھاری عقل و دانائی کا معتقد ہے، تو وہ بھی میں ہی ہوں، لیکن جو سوال تم نے کیا ہے، اس کا جواب آسان نہیں، کیوں کہ میں نے کبھی خودکشی کا تجربہ نہیں کیا ہے اور نہ یہ جانتا ہوں کہ اس فعل کے لیے کون سا طریقہ زیادہ اچھا اور آسان ہے اور افسوس کی بات یہ ہے کہ جن لوگوں نے خود کشی کی ہے یا کسی طریقے سے اپنی جان کو ہلاک کیا ہے، وہ اس دنیا میں دوبارہ نہیں آئے تاکہ اپنے تجربے کا حال ہم سے بیان کرسکتے اور خود کشی کے وقت ان کے جو جذبات و احساسات تھے، ان کی تشریح کرسکتے، البتہ اتنا ضرور ہے کہ موت جتنی سرعت سے آئے گی اتنی ہی بہتر ہے۔ اس لحاظ سے شاید سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ خود کو گولی مار لی جائے، لیکن شرط یہ ہے کہ گولی ٹھیک دماغ یا دل پر لگے، کیوں کہ میں ایک ایسے شخص کو جانتا ہوں، جس نے اپنے ایک کان میں گولی ماری، لیکن وہ سوراخ کرتی ہوئی دوسرے کان سے باہر نکل گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہمیشہ کے لیے تکلیف دہ معذوری کا شکار ہوگیا۔ اس میں شک نہیں کہ وہ لوگوں کی بری بھلی اور گناہ آلود باتیں سننے سے محفوظ ہوگیا، لیکن دوبارہ اس میں خود کشی کرنے کی جرات پیدا نہ ہوسکی۔ اب اگر وہ خود کشی کی طرف کوئی قدم بڑھانا چاہتا ہے تو اکثر اس کا وجود لرز اٹھتا ہے۔ یاد رہے کہ انسان کے دل میں اگر خود کشی سے متعلق کوئی خوف پیدا نہ ہو، تو یہ فعل اس کے لیے آسان ہو جاتا ہے۔‘‘

میں نے مزید کہا:میرے پاس ایک پستول ہے۔ اگر تمھیں درکار ہے تو دے دوں؟‘‘

کہنے لگا: ’’بڑی عنایت ہوگی۔‘‘

چنانچہ میں نے خواب گاہ سے پستول لاکر اس کے حوالے کر دیا اور اس کے طریقہ کار سے بھی اسے آگاہ کر دیا، لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وقت میرا ہاتھ بھی کانپ رہا تھا۔

میں نے پھر کہا:’’اگر واقعی تم مجھے دوست سمجھتے ہو اور میری دوستی کی تمہاری نظروں میں کوئی وقعت ہے، تو خدا کے واسطے یہ ضرور بتاؤ کہ ایسی کون سی آفت نازل ہوئی ہے، جس کے باعث تم اپنی زندگی کے خاتمے پر تلے ہوئے ہو؟‘‘

اس نے کہا: ’’کوئی نیا حادثہ تو رونما نہیں ہوا ہے، لیکن میں دنیا سے سیر ہوچکا ہوں۔ روز مرہ کاموں کی یکسانیت سے اکتا گیا ہوں۔ ایک ہی کام بار بار کرنے سے تنگ آچکا ہوں۔ ماحول کی بے کیفی نے مجھے یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ زندگی کا کوئی مقصد، کوئی جواز نہیں۔ اور پھر جب مجھے آخر اس دنیا سے چلے ہی جانا ہے تو جتنی جلدی جاسکوں، بہتر ہے۔ کہتے ہیں موت کے بعد کی زندگی ابدی ہے۔ اس زندگی میں کوئی مصیبت نہیں، کوئی پریشانی نہیں۔‘‘ اس کے بعد وہ خاموش ہوگیا اور کسی گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

میںنے کہا: ’’کیا اس دنیا کی زندگی محض مصیبتوں سے عبارت ہے؟ نہیں، ایسا نہیں ہے، تم غلطی پر ہو۔ زندگی ایسی نہیں جیسی کہ تم سمجھتے ہو۔ تمھارا یہ خیال وقتی اور عارضی ہے۔ اس وقت تم اعتدال سے ہٹ چکے ہو۔‘‘ اسے غصہ آگیا۔ اس نے کئی بار پہلو بدلے، پھر بڑے گلوگیر اور اضطراب انگیز لہجے میں بولے۔

’’اس سے بڑھ کر اور کیا قباحت ہوگی کہ لوگ اس زندگی میں ایک دوسرے کے ساتھ دشمنی رکھتے اور بغیر کسی وجہ کے دل آزاری کی کوشش کرتے ہیں۔ میری ہی مثال لے لو۔ اکثر ملنے جلنے والے ایسے ہیں جو میرے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتے اور میری ترقی کے راستے میں رکاوٹیں ڈالنے کی سعی کرتے ہیں۔ میں نے کسی کا دل نہیں دکھایا، کسی کے ساتھ برا سلوک نہیں کیا، آخر وہ کیوں مجھ سے بیر رکھتے ہیں۔ میرے ذہن کو کیوں پریشان کرنے پر آمادہ ہیں۔ انھوں نے زندگی کا دائرہ مجھ پر تنگ کر رکھا ہے۔ میں ان کے اس رویے سے سخت نالاں ہوں۔ میرے دل میں ان کے خلاف کینہ جوئی اور انتقام کے جذبات موجزن رہتے ہیں۔ ان جذبات سے مجھے سخت تکلیف اور اذیت محسوس ہوتی ہے۔ کیا اس سے بڑی کوئی اور مصیبت ہے؟ یقینا نہیں۔ جہاں تک دوستوں کا تعلق ہے، وہ تو خوشی کے ساتھی ہیں۔ تھوڑی دیر ہمارے ساتھ مسکراتے ہیں اور پھر منہ موڑ لیتے ہیں۔

’’انسان دنیا میںبالکل تنہا ہے، کاش!تنہا ہی رہتا، لیکن پھر بھی بعض لوگ ایسے ہیں جو بھڑوں کی طرح انسان سے چمٹ کر اسے ڈنک مارتے ہیں، اس کے ساتھ بیٹھ کر کھاتے ہیں، لیکن جس تھالی میں کھاتے ہیں، اسی میں چھید کرتے ہیں۔ تم خود سو چو اور اپنے ایمان سے کہو، کیا زندگی کو ہلاک کردینے کے لیے یہ کافی نہیں۔ میری سمجھ میں نہیں آتا کہ اس دنیا میں رہنے کا کیا لطف ہے۔ کون سی چیز ایسی ہے جس کے حصول سے ہمیں دائمی خوشی نصیب ہوسکتی ہیـ۔ ہم روزانہ صبح سے شام تک کولھو کے بیل کی طرح چلتے رہتے ہیں، لیکن کسی منزل پر نہیں پہنچتے۔

’’ہاں اگر میں صاحب حیثیت ہوتا اور میرے پاس وسائل ہوتے، تو مجھے معلوم ہوسکتا کہ دنیا میں خوشی کس طرح حاصل کی جاسکتی ہے۔ کتنے افسوس کی بات ہے کہ اس دنیا کی خوشی صرف روپے سے خریدی جاسکتی ہے اور میرے ہاتھ تو خالی ہیں، جیب میں پھوٹی کوڑی بھی نہیں۔ آخر میں کیا کرسکتا ہوں۔ کس طرح دنیا کی خوشی میں شریک ہوسکتا ہوں؟ میری قسمت میں تو در در کی ٹھوکریں، مصیبتیں اور تکلیفیں ہیں۔‘‘

میں نے اسے اٹھ کر گلے لگایا۔ ہم دونوں کی آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ وہ جانے والا تھا کہ میں نے کہا:

’’مجھے تمھارے فیصلے پر کوئی اعتراض نہیں اور نہ میں اس میں رخنہ ڈالنا چاہتا ہوں، لیکن چوں کہ مرنے کا موقع ہر وقت مل سکتا ہے، اس لیے میرا خیال یہ ہے کہ تم خود کشی کا خیال صرف دو دن کے لیے ملتوی کردو۔ اس اثنا میں اس دنیا اور اس میں رہنے والوںسے اپنا انتقام لو۔ اگر تم اس بات پر راضی نہیں، تو کم از کم میری دل جوئی کے لیے دو دن اور زندہ رہ لو۔‘‘

اس نے کچھ سوچ کر جواب دیا: ’’گو میرا دل نہیں چاہتا، تاہم تمھاری دل جوئی کے لیے میں تھوڑی سی کیف اور اٹھانے کو تیار ہوں۔‘‘

میںنے کہا: ’’اب جبکہ تم نے اپنی زندگی کے یہ آخری دو دن میرے حوالے کردیے ہیں، اس لیے تم کو چاہیے کہ جو تکلیف میں تمھیں دینا چاہوں اسے برداشت کرو۔‘‘

کہنے لگا: ’’مجھے کوئی اعتراض نہیں۔ یہ تکلیف اٹھاتے وقت مجھے کم از کم یہ تو معلوم ہوگا کہ میں کیوں اور کس کے لیے تکلیف اٹھا رہا ہوں۔‘‘

میں نے کہا: ’’کتنے افسوس کی بات ہوگی کہ تم تو اپنی جان سے جاؤ اور تمھارے دشمن تمھارے مرنے پر خوشی کا اظہا رکریں۔ پس تمھیں چاہیے کہ ان کی دل آزاری کی کوشش کرو، خواہ یہ کوشش چند لمحوں کے لیے ہی ہو۔ اس مقصد کے لیے ان سے ملاقات کرو، اس شخص کی طرح جو نوک جھونک کے بعد اپنے محبوب سے صلح کرتا ہے۔ تم دل میں خواہ کچھ بھی رکھتے ہو، لیکن بظاہر بڑی خندہ پیشانی سے ان سے ملو۔ اپنی اچھی اچھی باتوں سے ان کا دل موہ لینے کی کوشش کرو۔ چوں کہ تمھیں زندہ رہنے کا خیال نہیں ہے، اس لیے اپنے فعل کا نتیجہ معلوم کرنے کا انتظار بھی تمھیں نہیں ہونا چاہیے۔ اگر کوئی تم سے کہے کہ تمھاری خوش اخلاقی کا تمھیں صلہ ملنا چاہیے تو تم اس سے کہہ دینا کہ آپ کی اس ہمدردی کا شکریہ۔ ان باتوں سے میرا مقصد اصل میں یہ ہے کہ جب تم مرجاؤ، تو دشمنوں کو تمھاری موت پر بغلیں بجانے کا موقع نہ مل سکے، بلکہ ان کے دل میں تمھارے لیے حزنیہ جذبات پیدا ہوں۔

’’پھر دوستوں سے ملو۔ ان کے ساتھ بھی خندہ پیشانی سے پیش آؤ۔ کچھ اپنی سناؤ، کچھ ان کی سنو۔ یوں سمجھ کر ہر ایک سے ملو کہ تم کسی کے محتاج نہیں ہو، اس لیے خود کو اس کے برابر سمجھو۔ دوستوں کا کوئی کام تمھارے لائق ہو تو اسے انجام دو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب تم اس دنیا میں نہیں ہوگے، تو وہ تمھیں یاد کر کے رنجیدہ ہوں گے۔

’’ایک اور کام بھی تمھیں کرنا ہے۔ چوں کہ تمھاری زندگی کا یہ مختصر سا وقفہ اب میرے اختیار میں ہے، اس لیے جو کچھ میں کہوں اسے عملی جامہ پہنانے کی کوشش کرو۔

’’کل صبح سویرے اٹھ کر اپنے مکان کی چھت پر چڑھو۔ بہار کا موسم ہے۔ سردی بھی کوئی خاص نہیں۔ یہ خیال رکھنا کہ سورج نکلنے سے کوئی گھنٹہ بھر پہلے چھت پر جاؤ اور جب تک سورج نہ نکلے نیچے نہ اترو۔ تمھارے دل میں جو غم و غصہ ہو، اسے دل کے اندر ہی دبانے کی کوشش کرو۔ پھر مجھے یاد کر کے پو پھٹنے کا نظارہ کرنا اور دیکھنا کہ ہوا کتنے رنگ بدلتی ہے۔ فطرت کے حسین مناظر سے لطف اندوز ہونا اور پرندوں کے چہچہے سننا۔

’’میرا عقیدہ بلکہ ایمان ہے کہ صبح کا نور ایک ایسا نور ہے جو عشق کا جذبہ ابھرنے سے دل میں چمکتا دمکتا ہے۔ یہ دوستی کا خلوص ہے۔ مہر و وفاکے گلستاں کی خوشگوار ہوا ہے۔ اشکوں کی صفائی ہے جو ہم دوسروں کی بدنصیبی پر بہاتے ہیں۔ آہوں کی رقت ہے جو مسکینوں کی حالت پر ہمارے دلوں سے نکلتی ہیں، دل کی پاکیزگی ہے جو بے نواؤں کی تسلی میں مشغول رہتا ہے، نالوں کی لطافت ہے، جو نیکیاں نہ کرنے کی پشیمانی میں بلند ہوتے ہیں، شرمندگی کا حسن ہے جو اپنی اقبال مندی اور محتاجوں کی محتاجی کے موازنے میں رونما ہوتی ہے، ان لمحات کی آزادی ہے، جن میں ہم خود کو بھول جاتے ہیں۔ ان حقائق پر غور کرو اور دیکھو آیا تم میں بھی میری طرح ان کا ادراک یا احساس پیدا ہوتا ہے یا نہیں۔

’’جب سورج نکلنے کا منظر دیکھ لو، تو اپنے کام کاج میں لگ جاؤ اور روز مرہ کے فرائض کی انجام دہی میں مصروف ہوجاؤ، لیکن اس طرح نہیں جس طرح اب تک رہے ہو، بلکہ اپنی خدمات کچھ اس طریقے سے انجام دو کہ تمھارے مرنے کے بعد لوگ حسرت و افسوس کا اظہار کریں۔ ان کا دل تمھاری جدائی شدت سے محسوس کرے۔

’’صبح ناشتہ نہ کرنا اور دوپہر کو نان، پنیر، دہی وغیرہ یا جو غذا تمہیں مرغوب ہو، کھالینا، لیکن شرط یہ ہے کہ خوراک کی قیمت کم سے کم ہونی چاہیے۔

’’اس دوران اہل خانہ کے ساتھ ہنسی مذاق کرو۔ کچھ اپنی کہو کچھ ان کی سنو۔ محبت او رہمدردی کا اظہا ر کرو۔ کسی چیز پرناک بھوں نہ چڑھاؤ۔ دو روزہ زندگی میں نکتہ چینی اچھی نہیں۔ غرض کچھ ایسا رویہ اختیار کرو کہ تمھارے مرنے کے بعد ان کے غم و اندوہ کی کوئی حد نہ رہے۔

’’فارغ وقت میں کچھ مطالعہ کرو۔ جو کتاب تمہارے پاس ہو اسے پڑھنا شروع کردو۔ مولانا روم کی مثنوی یا حافظ کا دیوان سمجھ سکتے ہو، تو زیادہ بہتر ہے۔ دوسرے دن بھی میری خاطر یہی عمل جاری رکھنا۔ تیسرے روز جو تمہارا دل چاہے کرنا۔‘‘

میرا دوست مسکرایا ور کہنے لگا: ’’تم خوامخواہ مجھے خوش فریبی میں مبتلا کرنا چاہتے ہو۔‘‘ میرے چہرے کا رنگ کسی قدر متغیر ہوا اور میں نے جواب دیا: ’’ہاں،ٹھیک کہتے ہو، میں تمھیں خوش فریبی میں مبتلا کرنا چاہتا ہوں، لیکن چوں کہ تم نے مجھے قول دیا ہے، لہٰذا میرے دستور العمل کی سختی سے پابندی کرو۔ اس کے سوا تمھارے پاس کوئی چارہکار نہیں۔‘‘ اس نے محسوس کیا کہ بحث مباحچہ کا کوئی موقع نہیں، چنانچہ پستول اٹھایا اور خدا حافظ کہہ کر چلا گیا۔

تیسرے دن میں اس کے گھر پہنچا۔ اس نے خندہ پیشانی سے میرا خیر مقدم کیا۔ میںنے ازراہِ تفنن کہا: ’’میں تو یہاں تعزیت اور فاتحہ کے لیے آیا ہوں۔‘‘ وہ ہنسا اور بولا: ’’مرنے کے لیے بڑا وقت پڑا ہے۔ میں چاہتا ہوں کچھ دن اور تمھارے دستور پر عمل کروں۔‘‘

ہم دونوں ایک دوسرے سے بغل گیر ہوئے اور خوشی کے آنسو ہماری آنکھوں سے بہنے لگے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد حجازی، حامد خاں حامد

تبصرہ کیجیے