5

کنکشن

میرے جواب پر کوئی تالی نہ بجی اور بجتی بھی کیوں؟ اس پہیلی نما جواب کی حقیقت کا علم تو صرف مجھے اور ماں جی کو ہی تھا۔

سوال یہ تھا کہ آپ کو زندگی میں کس چیز کی تلاش ہے؟ کسی نے نوکری کی بات کی تو کوئی معاشی آسودگی چاہتا تھا، اکثر نوجوان ہم سفر کے متمنی تھے۔ ایک بزرگوار تو موت کے متلاشی بھی نظر آئے۔ ’’میں فقط ایک لفظ کا معنی جاننے کا خواہش مند ہوں۔‘‘ ’’کیا؟‘‘ ’’کنکشن‘‘ میرے اس جواب پر سبھی نے ناسمجھی میں سر ہلا دیا۔

ماں جی پڑھی لکھی تھیں مگران کی انگریزی سے شناسائی ابجد تک محدود تھی۔ وہ تیسری جماعت تک مجھے خود پڑھاتی رہیں۔ انگریزی پر گرفت نہ ہونے کے باوجود ان کا مجھے انگریزی پڑھانا کوئی تعجب خیز بات نہیں کیوں کہ اسکول سے واپسی پر میں ان کو اپنا اسکول کا کام بتا کر کھیلنے لگ جاتا۔ وہ سارا دن ڈکشنریز اور کتابیں کھول کر پہلے خود پڑھتیں پھر مغرب کے بعد مجھے پڑھانے بیٹھ جاتیں۔ ماں جی سے انگریزی پڑھنے کا وہ آخری دن تھا کہ جب میں نے اسکول سے آتے ہی ان سے پوچھا کہ کنکشن کیا ہوتا ہے۔ ماں جی نے بلا توقف کہا۔

’’کنکشن‘‘ در اصل ایسی چیز ہے کہ جس کے کٹ جانے سے چہار سو تاریکی ہی تاریکی پھیل جاتی ہے۔‘‘ ’’کیا؟‘‘ میں نے استفہامیہ انداز میں ماں کی طرف دیکھا۔ ’’تمھیں یاد ہوگا کہ پچھلے سال جب تمھارے بابا دنیا سے چلے گئے تھے تو ہم نے تین ماہ بجلی کا بل نہیں ادا کیا تھا۔‘‘ ماں جی نے آنکھوں میں چمکتے موتیوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کہا: ’’بجلی محکمے والے ہمارا میٹر اتار کے لیے گئے تھے اور گھر پیغام کہلا بھیجا کہ آپ کا کنکشن کٹ گیا ہے۔‘‘ ’’پھر کنکشن بجلی ہوا کہ بجلی کا میٹر؟‘‘ میں نے سوال کیا: ’’یہ بجلی کی تار کو کہتے ہوں گے کیوں کہ کاٹی تو تار ہی جاتی ہے۔‘‘ اگلے دن استاد جی کے سوال پوچھنے پر یہی الفاظ دہرا دیے تو استاد جی سے اچھی خاصی جھڑپ ہوگئی۔ وہ کہتے ہیں کہ اس کا معنی تعلق ہے اور میں دونوں کان بند کیے یہی الفاظ دہراتا رہا کہ کنکشن بجلی کی تار کو کہتے ہیں۔ گھر آکر یہ روداد سنائی تو ماں جی نے مجھے ٹیوشن رکھوا دی۔ اب وہ دن رات کپڑے سینے لگی تھیں جب کہ پہلے صرف رات کو سلائی کیا کرتیں۔

دن مہینوں میں اور مہینے سالوں میں ڈھلتے چلے گئے مگر کنکشن کا معما حل نہ ہوسکا۔ یہ ان دنوں کی بات ہے جب میں قرآن حفظ کر رہا تھا۔ جاڑا شدت سے پڑ رہا تھا مگر مجھے سردی کم ہی لگا کرتی تھی۔ ماں جی روزانہ مجھے سوئیٹر اور ٹوپی پہنا کر بھیجا کرتی تھیں مگر میں باہر نکلتے ہی سوئیٹر اتار کر بستے میں ٹھونس لیا کرتا۔ ایک دن اسی حالت میں ہمسائی نے دیکھ لیا اور پکڑ کر ماں جی کے پاس لے آئی۔ ’’بہن اسے ایک جیکٹ لے دو یا خود سوئیٹر بن دو۔ پیسے نہیں ہیں تو یہ میری طرف سے دو سو رکھ لو بعد میں کپڑوں کی سلائی سے کاٹ لینا مگر اس کو اس طرح نہ بھیجا کرو۔ بیمار ہوگیا تو بستر کا ہو کے رہ جائے گا۔‘‘ اس نے دوپٹے کا پلو کھولتے ہوئے کہا۔ ماں جی نے غصے سے میری طرف دیکھا اور میں نے نظریں چرالیں۔

’’نہیں آپا سوئیٹر تو اس کے پاس ہے۔روز پہن کے جاتا ہے۔ پتا نہیں آج جوانی کا کون سا نشہ چڑھ گیا ہے جو نہیں پہنتا۔‘‘

’’لو جی یہ کیسی جوانی ہوئی۔ میرا شاکر بھی تو ہے جو سردی کی وجہ سے اسکول نہیں جاتا اور رضائی میں گھسا رہتا ہے۔ اس کے ابا بجلی کا ہیٹر لائے تھے مگر منحوس بجلی والے کل ہی کنکشن کاٹ گئے۔ کہتے ہیں کہ چھ ماہ کا بل نہیں بھرا، بھرا ہے تو بل دکھاؤ۔ اب اتنی جلدی کون بل ڈھونڈے۔ شاید شاکر نے ردی میں بیچ کر پتیسہ کھالیا ہو۔ آج اس کے ابا گئے تو ہیں دفتر۔ دیکھو کیا بنتا ہے۔‘‘ وہ روانی میں بولتی چلی گئی۔

میں نے چور نظروں سے ماں جی کو دیکھا کیوں کہ چھ ماہ سے بل تو ہم نے بھی ادا نہیں کیا تھا۔ شاید محکمے والوں سے غلطی ہوگئی تھی۔ مگر ماں جی کسی اور ہی سوچ میں گم تھیں۔

’’بہن! بجلی کی تار کو اگر کنکشن کہتے ہیں تو میرے بچے کا استاد کیوں نہیں مانتا؟‘‘ ماں جی کے ذہن میں برسوں سے کُلبلاتا سوال باہر نکل آیا۔

’’کنکشن! اس کا مطلب تعلق ہوتا ہے۔ جس سے آپ کی بجلی کی گھر تک رسائی ہو، تو گویا کنکشن ہے مگر جیسے ہی انھوں نے میٹر اتارا تو گھر میں اندھیرا راج کرنے لگتا ہے اور ہیٹر استعمال کرنے والوں کے لیے تو ٹھنڈی قیامت آجاتی ہے۔‘‘ وہ بات سے بات نکالنے کی ماہر معلوم ہوتی تھی ’’ایک کنکشن دل کا بھی تو ہوتا ہے، جیسے ہی دلوں کا تعلق ختم ہوتا ہے تو سب کچھ ختم ہو جاتا ہے۔‘‘ ’’دل کا کنکشن‘‘ ماں جی نے زیر لب دہرایا۔

’’بیٹا تمھاری شادی ہوجائے تو تین سے زیادہ بچے نہ ہونے پائیں تمھارے۔‘‘ یہ بات ماں جی نے میری پیشانی چومتے ہوئے اس دن کہی جب میرا حفظ قرآن مکمل ہوا تھا۔

’’کیوں کہ تم سات لوگوں کو جنت میں لے جاسکتے ہو اور اگر تمھارے بچے چار ہوگئے تو تمھارے، ابا، بیوی اور مجھے ملا کے نفوس سات سے بڑھ جاتے ہیں۔ اور اگر خدانخواستہ میں جنت نہ جاسکی تو تم سے کنکشن توٹ جائے گا۔‘‘ ’’آپ فکر نہ کریں میرے تین سے زائد جتنے بچے ہوں گے ان سب کو حافظ بناؤں گا اور آپ کو تو سب سے پہلے جنت میں لے جاؤں گا۔‘‘

٭٭

جب یونیورسٹی میں داخلہ ملا تو شہر جانا پڑا۔ جانے سے پہلے میں نے دو سستے موبائل سیٹ خریدے۔ ایک ماں جی کو دیا اور جانے سے پہلے ان کو سارا طریقہ سمجھاتا رہا۔‘‘ جب بات مکمل ہوجائے تو یہ سرخ بٹن دبانا ہوتا ہے‘‘ ’’کیوں؟‘‘ ’’وہ کنکشن کاٹنے کے لیے‘‘ لیکن میں تم سے کنکشن کیوں توڑوں گی؟‘‘ ماں جی کے استفار پر میں گڑبڑا گیا۔

اور پھر یہی ہوا۔ کال چاہیے میں کروں یا ماں جی، سرخ بٹن مجھے ہی دبانا پڑتا تھا۔ کبھی کبھار میں ان کی ضد پر جھنجلا اٹھتا مگر حسن اتفاق یہ کہ ان کی کال نیٹ ورک پرابلم یا کمزور سگنلز کی وجہ سے کبھی نہ کٹی تھی اور نہ کبھی ان کے موبائل میں بیلنس ختم ہوا۔ خدا جانے ماں جی نے کیا دم درود پھونک رکھا تھا کہ کنکشن کٹنے پہ نہ آتا اور بالآخر یہ کڑوا گھونٹ مجھے ہی بھرنا پڑتا۔

’’میری تعلیمی قابلیت کو دیکھتے ہوئے میرے لیے وظیفہ منظور ہوا چاہتا تھا‘‘ میں نے جب فون پر یہ اطلاع دی تو مارے خوشی کے ماں جی کا موبائل گر گیا۔ یہ پہلا موقع تھا جب مجھے کنکشن کاٹنے کی ضرورت پیش نہ آئی۔ تھوڑی دیر بعد ماں جی کی کال دوبارہ آگئی۔ ڈھیر ساری بلائیں لینے کے بعد انھوں نے پوچھا:

’’بیٹا یہ وظیفہ کس کی طرف سے ملے گا؟‘‘ مجھے بیک وقت حکومت اور ایک غیر ملکی این جی او نے اسکالر شپ کے لیے منتخب کرلیا ہے۔ اب مجھے اختیا ردیا گیا ہے کہ میں ان میں سے ایک کو چن لوں۔‘‘

’’تو تم کس کا انتخاب کر رہے ہو؟‘‘ ماں جی نے سوال کیا ’’این جی او کی طرف سے ملنے والی اسکالر شپ کی رقم دوسری سے چند ہزار زیادہ ہے۔

دوسری طرف چھائی ہوئی خاموشی طوالت پکڑ گئی۔ ’’ہیلو‘‘ میں سمجھا کہ شاید کنکشن کٹ چکا ہے۔

’’بیٹا چند ہزار کے لیے تم اپنوں کی پیشکش ٹھکرا کر غیروں سے بھیک مانگوگے؟ اپنوں سے کنکشن اس قدر کمزور ہے تمھارا؟‘‘ تب میں نے فیصلہ کرلیا کہ این جی او کی اسکالر شپ قبول نہیں کروں گا۔ این جی او سے اسکالر شپ نہ لینے کے فیصلے پر شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ میں ناقدین کے ملامت سے بھرپور تحیر آمیز کلمات کے جواب میں ماں جی کا موقف اسی بے باکی کے ساتھ پیش کرتا جس بے باکی سے کبھی استاد صاحب کو کنکشن کا معنی بتایا تھا۔ چند سال بعد فل برائٹ اسکالر شپ پر مجھے ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ ملا اور میں نے جھجکتے ہوئے ماں جی کو بتایا تو ان کا چہرہ ایک بار پھر خوشی سے دمک اٹھا۔

’’ضرور جاؤ‘‘ ماں جی نے کہا اور زمین سے مٹھی بھر مٹی اٹھا کر اسے سونگھا اور پھر ایک ڈبیا میں ڈال کر مجھے دیتے ہوئے گویا ہوئیں۔ ’’پردیس جاکر وقتاً فوقتاً اس مٹی کو سونگھ لیا کرنا تاکہ تمھاری مادر وطن سے انسیت برقرار رہے اور کنکشن ٹوٹنے نہ پائے۔ اور ہاں گوروں سے دب کر نہ رہنا، وہ اسکالرشپ دے کر تم پر کوئی احسان نہیں کر رہے بلکہ تم ان پر احسان کرنے جا رہے ہو کہ اپنی زندگی کے دو قیمتی سال ان کے لیے وقف کر رہے ہو‘‘ ماں جی کی منطق میں سمجھ نہ پایا۔

ہارورڈ میں میرے قیام کا آخری مہینہ تھا۔ جب ایک دن ماں جی نے بتایا کہ ان کی طبیعت خراب رہنے لگی ہے اور دواؤں کا بھی اثر نہیں ہو رہا ہے۔ اگلے دن بات کرتے ہوئے یکایک کال کٹ گئی اور اس کے بعد باربار کال کرنے پر بھی رابطہ نہ ہو پایا۔ ایسا پہلی بار ہوا تھا۔ پتا نہیں کہاں کہاں سے وسوسے ذہن میں آنے لگے۔ میرا وہ موبائل پچھلے دنوں گم ہوگیا تھا جس میں رشتہ داروں اور دوستوں کے نمبر محفوظ تھے۔ فیس بک اور اسکائپ پر آن لائن فرینڈز کو چیک کیا مگر کوئی نہ ملا۔ ایک گھنٹے بعد موبائل بول اٹھا۔ کال ماں جی کی نہ تھی لیکن نمبر وہی تھا۔ تو کیا واقعی؟ اور پھر وہ خیال سچ نکلا، جس سے پچھلا پورا گھنٹہ اللہ کی پناہ مانگتا رہا تھا۔ میرے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔

اب کی بار موبائل گرنے سے کنکشن نہیں ٹوٹا تھا کیوں کہ کنکشن تو گھنٹا پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا۔ شاید اب کی بار موبائل خود ہی ٹوٹ گیا تھا۔ اگر ٹوٹ گیا تو اچھا ہی ہوا کہ کنکشن کی تار ٹوٹ جائے، تو میٹر بے کار ہو جاتا ہے۔ لیکن کیا کنکشن واقعی ٹوٹ چکا تھا؟ماں جی کی کہی ایک بات مجھے یاد آگئی کہ میرے مرجانے کے بعد بھی مجھے یاد رکھنا۔ میں تم سے خوابوں میں ملتی رہوں گی اور ہمارا کنکشن کبھی نہیں ٹوٹے گا۔ مگر دل کی ہر دھڑکن پکار رہی تھی کہ کنکشن ٹوٹ چکا۔ میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھایا ہوا تھا اور ماں جی نے خود بتایا تھا کہ کنکشن ٹوٹنے کی نشان دہی یہ ہے کہ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا چھا جاتا ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد عمر حبیب

تبصرہ کیجیے