کاہلی سے ایک تہائی ہندوستان بیمار

سستی اور کاہلی انسان کی سب سے بڑی دشمن ہے جو اس کی صحت کو گھن کی طرح چاٹ کر ختم کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ماہرین صھت انسان کو جسمانی محنت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔ جو لوگ روز مرہ کی زندگی میں جسمانی محنت نہیں کرپاتے ان کیلیے ورزش کو ضروری قرار دیا جاتا ہے۔ دوڑنا یا تیز تیز پیدل چلنا جس سے کہ یہ جسم سے پسینہ نکلے انسانی صحت کے لیے لازم ہے۔ موجودہ دور میں طرزِ زندگی کی تبدیلی نے لوگوں کی صحت کے لیے زبردست مسائل پیدا کردیے ہیں اور اس کی وجہ جسمانی محنت میں کمی ہے لہٰذا اگر آپ کم جسمانی محنت نہیں کررہے ہیں تو جان لیجیے کہ آپ خطرناک بیماریوں کو دعوت دے رہے ہیں۔ یہ ہمارا نہیں (WHO) کا دعوی ہے۔ اس کے مطابق سستی و کاہلی ملک کی ایک تہائی آبادی کو بیمار کر رہی ہے۔ (نئی دہلی پریس، ہندوستان ٹیم)

یعنی کاہلی انسان کے جسم میں رہنے والا سب سے بڑا دشمن ہے۔ یہ دشمن اب ہمارے لیے مہلک ثابت ہوتاجارہاہے۔ صحت سے متعلق عالمی تنظیم ڈبلیو ایچ او (World Health Orgnization) (WHO) کی رپورٹ کے مطابق ہندوستان کی 125 کروڑ آبادی میں سے تقریباً34 فیصد یعنی 42کروڑ لوگ کاہلی اور سستی کی زد میں آکر بیمار ہورہے ہیں۔ اس صورتِ حال سے خواتین دنیا بھر میں عام طور پر اور ہمارے ملک میں خاص طور پر متاثر ہو رہی ہیں، جہاں 47.7 فیصد خواتین اور 22.3 فیصد مرد خود کو جسمانی طور پر فٹ نہ رکھ پانے کے سبب مختلف النوع بیماریوں کا شکار ہیں۔

اس کی سب سے بڑی وجہ محض جسمانی محنت نہ کرنا بتایاگیا ہے۔ عورت مرد سے پیچھے نہیںہے۔ دی لان سیٹ میگزین میں شائع رپورٹ کے مطابق ہندوستانی عورتوں میں جسمانی محنت نہ کرنے کی وجہ سے خرابیِ صحت کا معاملہ مردوں کے مقابلہ میں دوگنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کے قریب آدھی عورتیں (47.7%) ورزش نہیں کرتی ہیں جب کہ 20% سے زیادہ مرد بھی کاہلی کا شکار ہیں۔

168 شہروں میں کرائے گئے 358 سروے کے دوران 19 لاکھ سے زیادہ لوگوں کو اس رپورٹ میں شامل کیاگیا، سال 2001 سے 2016 کے اعداد و شمار کی بنیاد پر تیار کی گئی اس رپورٹ کے مطابق دنیا کی 27.5 فیصد آبادی سستی و کاہلی کی شکار ہے۔ سروے کے دوران الگ الگ عمر کے لحاظ سے تعین کی گئی ورزش کی مشقیں دھیان میں رکھتے ہوئے ڈاٹا جمع کیاگیا۔

سال 2001 کے مقابلے سال 2016 میں کوئی بہتری نہیں ہوئیہے اور دنیا بھر میں تین میں ایک عورت اور چار میں سے ایک مرد صحت مند رہنے کے لیے مطلوب حد تک فعالیا جسمانی محنت سے دور رہے۔

دنیا میں کئی ممالک ایسے ہیںجو دولت کے معاملے تو یقینا امیر ہیں لیکن صحت کی بات کی جائے تو وہ اتنے ہی غریب ہیں۔ عالمی تنظیم صحت (ڈبلیو ایچ او) کے مطابق ایک سروے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ آشائس زندگی کی تکمیل کے معاملے میں آگے ہونے کے باوجود وہ ممالک صحت میں پیچھے ہوتے جا رہے ہیں۔انٹرنیشنل مونیٹری فنڈ کی رینکنگ میں کویت کا مقام ۶۷ فی صد آبادی جسمانی محنت پر توجہ نہیں دیتی۔ اسی طرح سعودی عرب کی ۵۳ فی صد سے زیادہ آبادی آرام طلبی کا شکار ہے۔ دولت مند ممالک کی فہرست میں چوتھے مقام کے حامل ملک، سنگاپور، کی صورت حال بھی ایسی ہی ہے۔اس کے برخلاف غریب ممالک میں جہاں لوگ جسمانی محنت کرنے پر مجبور ہیں وہاں صحت کی حالت بہتر ہے۔ اس سلسلے میں اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جہاں کے تین فیصد سے فٹ ممالک میں یوگانڈا جو ایک غریب افریقی ملک ہے سر فہرست ہے جہاں مطلوب حد تک جسمانی ورزش نہ کرنے والوں کی تعداد محض 5.5 فیصد ہے۔ دوسرے نمبر پر موزمبیک ہے اور تیسرے نمبر پر لیسوتھو ہے، جہاں مطلوبہ حد تک جسمانی محنت نہ کرنے والوں کا تناسب بالتربیت محض 6 فیصد اور 6.3 فیصد ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر ۲۰۰۱ء سے اب تک جسمانی سرگرمیوں کے سلسلے میں ان ممالک کے اندر کوئی بہتری نہیں آئی ہے۔دنیا بھر کی صورت حال اس وقت یہ ہے کہ ہر تین میں سے ایک خاتون اور ہر چار میں سے ایک مرد اپنی صحت کے تعلق سے غفلت کا شکار ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے اس سروے میں اہم کردار ادا کرنے والی خاتون ریجینا گُتھولڈ کا کہنا ہے: ’’بالغ مرد و عورتوں میں ایک چوتھائی افراد زیادہ بہتر صحت کے لیے مطلوبہ جسمانی کام اور محنت کی سطح پر نہیں پہنچ پا رہے ہیں۔‘‘

42

کڑوڑکو بیمار بنا رہا آلس

22.3%

مرد خود کو فٹ نہیں رکھتے

47.7%

عورتوں میں یہ مسئلہ

34

آبادی میںورزش نہیں کرنے سے بیماریوں کا خطرا

پانچ بیماریوں کا خطرہ

دل کا دورا موٹاپا

17 لاکھ بھارتیوں 1.4 کڑوڑ موٹے بچے کے سات

کی موت دل کا ہندوستان دنیا میں دوسرے نمبر پر

دورا پڑنے سے ہوئی

2016 میں۔

نمبر دو۔ 7.2 کڑوڑ دنیا میں ذیابیطس ۔ کینسر:۔11.54% چھاتی

ڈائبیٹیز۔ سے شکار تھے سال 2017 میں کینسر کے معاملہ بڑے

ہائی بلڈ پریشر: 3 میں سے ایک 2008 سے 2012

ہندوستانی بلڈپریشر کی مسئلہ کا شکار کے درمیان۔

آگے کی چیلنجز

۔ 15.1 کڑوڑ لوگ دنیا میں ذیابیطس کا شکار ہونگے 2045 تک

۔107 کڑوڑ بچے میں موٹاپے کا خطرا بڑ جائیگا 2025 تک

۔ 40% کی در سے بڑرہی بلڈپریشر کا مسئلہ

۔34% دل کی بیماری کے معاملہ بڑے1990سے 2016 کے درمیان

۔18 لاکھ سے زیادہ چھاتی کینسر کی مریض ہونے کی امید 2020 تک

اس پوری صورتِ حال کو ماہرین صحت دنیا کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت میں دیکھ رہے ہیں۔ ان کا اندازہ ہے کہ جسمانی محنت کے اس گرتے گراف کے نتائج آئندہ سالوں میں صحت کے زبردست بحران کا ذریعہ ہوں گے اور انداہز لگایا جا رہا ہے کہ ۲۰۱۷ کے مقابلے جہاں 7.2 کروڑ لوگ شوگر کی بیماری کا شکار ہیں وہاں ۲۰۴۵ تک یہ تعداد دوگنی سے بھی زیادہ ہوجائے گی۔اسی طرحبلڈ پریشر، چھاتی کا کینسر اور موٹاپا جیسی بیماریاں مستقبل میں تیز رفتاری سے بڑھیں گے اور کروڑوں لوگوں کے لیے جان لیوا ثابت ہوں گی۔

آنے والے سالوں میں موٹاپا ایک خطرناک بیماری کی صورت اختیار کرلے گا۔ واضح رہے کہ یہ موٹاپا اپنے آپ میں بیماری ہونے کے ساتھ ساتھ بہت سی دیگر بیماریوں کو جنم دیتا ہے، جن میں بلڈ پریشر، کولسٹرول، شوگر اور دل کی بیماریاں سر فہرست ہیں۔ موجودہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ۲۰۲۵ تک ملک میں 1.7کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہوسکتے ہیں جب کہ امریکہ میں اس وقت 38.2فیصد لوگ موٹاپے کا شکار ہیں اور آئندہ دنوں میں ۳۱ فیصد سے زائد بچوں کے اس کی گرفت میں اآنے کا خطرہ ہے۔

ہندوستان مجموعی طور پر دیہی آبادی پر مشتمل ملک ہے جہاں ایک طرف غربت کا یہ حال ہے کہ لوگ اکیسویں صدی میں بھی بھوک کے سبب موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ اور جہاں بچوں کی ایک بڑی تعداد ہے جو نقص تغذیہ کا شکار ہے، جن میں ہزاروں بچے ہر سال موت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ مگر دوسری تلخ حقیقت یہ بھی کہ ہندوستان موٹاپے کا شکار ایک کروڑ چالیس لاکھ بچوں کے ساتھ دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور اس تناسب کے بڑھنے کے امکانات بہت زیادہ ہیں۔

مذکورہ اعداد و شمارصحت سے متعلق جس بحرانی کیفیت کا اشارہ دیتے ہیں اور ان میں خواتین کا جو تناسب پایا جاتا ہے، اسے دیکھتے ہوئے یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ اس صورتِ حال پر قابو پانا صحت مند دنیا، صحت مند ملک اور صحت مند خاندان، کے لیے ضروری ہے۔ یہ وقت کا تقاضہ ہے کہ ہماری خواتین، افراد اور بچے سب مل کر اپنے گھر کو صحت مند خاندان کا مظہر بنائیں اور ا س کے لیے ضروری ہے کہ بہت سی آسائشوں کو چھوڑ کر جسمانی محنت کو اپنا شعار بنایا جائے۔ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے مشینی دنیا پر منحصر ہونے کے بجائے ہاتھ سے انجام دیا جائے۔ باہر آتے جاتے آٹو، سائیکل رکشہ وغیرہ کے بجائے مختصر دوری کو پیدل طے کیا جائے، معمولاتِ زندگی کو تبدیل کیا جائے اور گھر کے ہر فرد کے لیے جسمانی محنت کے کام تلاش کیے جائیں اور اگر ایسا ممکن نہ ہو تو پھر ہر فرد جسمانی ورزش کے لیے وقت ضرور نکالے، اس لیے کہ صحت زندگی بھی ہے اور زندگی کا حقیقی لطف بھی۔ اس سے آگے بڑھ کر یہ اللہ کی امانت ہے اور اس امانت کا تحفظ لازمی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تنویر آفاقی