حجاب کے نام

مضامین اچھے لگے

ماہ نومبر 2018کا حجاب اسلامی ہاتھوں میں ہے۔ شمارہ اچھا لگا۔ تمام ہی مضامین پسند آئے۔ ’خواتین کی خود کشی اور ہندوستان ‘ کے موضوع پر لکھا گیا اداریہ پورے ہندوستانی سماج کو جائزہ، احتساب اور اصلاح کی دعوت دیتا ہے۔لوگ کہتے ہیں اور حکومت اعداد و شمار کے ذریعے یہ بتاتی ہے کہ ملک ترقی کر رہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ تجارت، معیشت اور صنعت کے میدان میں بہ حیثیت قوم ہم آگے بڑھ رہے ہیں لیکن ہمارا سماج، معاشرہ اور گھر جو بنیادی اکائی ہے وہ کس طرف جا رہا ہے، اس تجزیہ سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے۔ اس ضمن میں جو بات مجھے کہنی ہے وہ یہ ہے کہ اس پوری صورتِ حال میں مسلم سماج بھی اسی طرح شامل ہے جس طرح باقی سماج، اس لیے ضروری ہے کہ ہم جہاں پورے سماج کو اخلاقی و معاشرتی اعتبار سے اچھا کرنے کی فکر کریں وہیں یہ بات بھی ضروری ہے کہ مسلم سماج کو بھی زبردست اصلاحی کوششوں کے ذریعے بہتر کیا جائے۔ اس کا طریقہ صرف اور صرف یہ ہے کہ مسلمان اسلام کی تعلیمات کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں اس طرح ایک مثالی سماج بنے گا جو دوسروں کے لیے بھی قابل تقلید ہوگا۔

عورت: حقوق اور دائرہ عمل بہت اچھا مضمون ہے۔ اس مضمون میں ان تمام لوگوں کے لیے اطمینان کا سامان ہے جو عورت کی آزادی کے مغربی تصور سے مرعوب ہوکر اسے معاشی میدان کی ریس کا گھوڑا بنانا چاہتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ عورت گھر سے باہر نکل کر کام نہیں کرتی یا نہیں کر رہی ہے۔ مگر بات صرف اتنی ہے کہ وہ یعنی مشرق کی عورت لوگوں کے لیے سامان نمائش نہیں ہے۔ مضمون میں پوری بحث کو بڑی خوب صورتی سے بیان کر دیا گیا ہے۔

نکاح کی تقریب کے موضوع پر دیا گیا مضمون اچھا ہے۔ کسی نے فیس بک پر لکھا تھا کہ وہ سماج جو بچوں کی تعلیم کے نام پر غربت کا رونا روتا ہے اور ان کی شادیوں پر لاکھوں لاکھ خرچ کر ڈالتا ہے بھلا کیسے ترقی کرسکتا ہے۔بات دل کو لگتی ہے۔ ضروری ہے کہ ہم بچوں کی شادیوں پر پیسہ لگانے کے بجائے ان کی تعلیم پر خرچ کرنا سیکھیں کیوں کہ یہی اجتماعی ترقی کا راستہ ہے۔ امید ہے کہ لوگ ان باتوں پر سوچیں گے۔

ابو عبیدہ تیمی

گورکھپور (بذریعہ ای-میل)

حقوق اور دائرہ عمل کی بحث

نومبر کے حجاب اسلامی کے یوں تو سارے ہی عنوانات اچھے لگے مگر ’عورت حقوق اور دائرہ عمل‘ بہت پسند آیا۔ عورت کے حقوق کی جدوجہد کے دور میں سارا مسئلہ اسی وجہ سے ہے کہ صرف حقوق کی بات کی جاتی ہے اور فطری اور سماجی دائرہ عمل کو نظر انداز کیا جاتا ہے یا یوں کہیں کہ اس کے معاشرتی دائرہ عمل کو جو فطری ہے، معمولی اور حقیر سمجھا جاتا ہے۔ اس کے برخلاف اسے کارپوریٹ میں کام کرنے کی دعوت دی جاتی ہے اور اسی کو اہم سمجھا جاتا ہے۔ یہ لوگ اس کے فطری معاشرتی رول کو حقیر گردانتے ہیں اور اس کے کارپوریٹ رول کے نتیجے میں ہونے والے نقصانات پر غور نہیں کرتے۔ حقوق اور دائرہ عمل، کے انداز میں اگر ہم سوچیں تو ہمارے سارے مسئلے حل ہوجاتے ہیں اور سماج اس بحران سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے، جس سے آج پوری مغربی دنیا دو چار ہے۔

نیکیاں ضائع نہ ہونے دیں، نوعمر بچیوں کے مسائل اور خواتین کی خود کشی پر دی گئی تحریریں اچھی ہیں۔ ڈاکٹر نازنین سعادت صاحبہ کا سلسلہ جاری رکھیں یہ بہت مفید ہے۔

فرحین کوثر

ارے ہلی (ہاسن)

نومبر کے حجاب

نومبر کے حجاب اسلامی کے مطالعے سے بہت اہم معلومات اور جانکاری ملی۔ اس شمارے کو پڑھ کر معلوم ہوا کہ ہندوستان کے مرد و عورت خود کشی کے میدان میں کتنے آگے ہیں۔ جب ہم نے دنیا کے دوسرے ملکوں کا جائزہ لیا تو یہ حقیقت کھلی۔

ڈاکٹر محی الدین غازی صاحب کا مضمون اچھا لگا۔ ان کی تحریروں کی خوبی ہے کہ وہ جو کچھ بھی لکھتے ہیں وہ ایسا لگتا ہے کہ ہماری عملی زندگی کا حصہ ہونا چاہیے۔ میں ایڈیٹر سے گزارش کروں گی کہ ان کی تحریر ہر ماہ کے حجاب میں شائع کیا کریں۔

نصرت جاوید

دودھیڑو ضلع مظفر نگر (یوپی)

[نصرت صاحبہ! ہم کوشش کرتے ہیں کہ ان کی تحریر ہر ماہ ہمارے رسالے میں شائع ہومگر ان کی اپنی مصروفیات ہیں جن کے سبب وہ کبھی کبھی نہیں لکھ پاتے۔ آپ کا خط شاید انہیں مسلسل لکھنے پر آمادہ کردے۔]

مضمون دل میں اتر گیا

اکتوبر 2018 کے رسالے میں دو مضمون ایسے لگے جنھوں نے دل کو چھولیا۔ ایک تھا ’زخموں پر مرہم رکھنا سیکھیں‘ یقین جانئے بہت بہت پسند آیا اور مضمون نگار کے لیے دل سے دعائیں نکلیں۔ کاش! ان کا یہ مضمون ہر فرد کی زندگی میں ایسے ہی اتر جائے جیسے میرے دل میں اتر گیا اور میں کوشش کروں گا کہ میرے عمل میں بھی آجائے۔

دوسرا مضمون حساب کتاب سے متعلق ہے۔ اس مضمون میں مضمون نگار نے بڑی خوب صورتی کے ساتھ لکھی کی گئی تقدیر کے سلسلے میں آزادی اور مجبوری کو بیان کر دیا ہے۔ میں دونوں مضمون نگاروں کے لیے اللہ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ انہیں اجر سے نوازے۔ آمینlll

تحسین عثمانی (موراواں، اناؤ، یوپی)

شیئر کیجیے
Default image
شرکاء