نو عمر لڑکیوں کے مسائل

لڑکیوں کی پرورش کو ہر زمانہ میں زیادہ چیلنجنگ کام سمجھا گیا ہے۔ جہاں اچھی لڑکیاں ماں باپ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور ان کی نیک نامی کا سبب ہوتی ہیں وہیں لڑکیوں کی غلطیاں ماں باپ کے لئے زیادہ بڑے صدمہ اور بدنامی کا سبب بنتی ہیں۔ خصوصا ًبلوغ اور نوعمری کے مرحلہ میں لڑکیوں کے اندر حیا و عفت کے پاکیزہ جذبات پروان چڑھانا ، فتنوں سے ان کی حفاظت کرنا ، ان کے لئے اچھا شریک زندگی ڈھونڈنا یہ سب مشکل مرحلے ہوتے ہیں۔ موجودہ زمانہ میں ان مرحلوں کی مشکل اور بڑھ گئی ہے۔ خصوصاً بڑے شہروں میں اور میڈیا، انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی یلغار کے اس دور میں بچوں کی تربیت ایک مشکل اور صبر آزما کام ہے۔ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے لڑکیوں کی اچھی تعلیم و تربیت پر خصوصی بشارتیں دی ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ’’ جس شخص کی دو یا تین بیٹیاں ہوں اور وہ ان کی اچھے انداز سے پرورش کرے تو میںیعنی رسول اللہ ﷺ اور وہ شخص جنت میں اس طرح داخل ہوں گے جس طرح یہ دونوں انگلیاں (انگشت شہادت اور درمیانی انگلی) ملی ہوئی ہیں‘‘۔ (روایت انس بن مالکؓ۔ترمذی باب ماجاء فی النفقہ علی البنات) یہ ایک بڑی ذمہ داری کا کام ہے اور ہمیں اس کے سلسلہ میں اللہ کے سامنے جواب دینا ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ بات بھی فرمائی ہے کہ ’’اللہ تعالی ہر ذمہ دار سے اس کی ذمہ داری میں دی گئی چیزوں کے بارے میں سوال کرے گا کہ آیا اس نے اس کی حفاظت کی یا ضائع کیا حتی کہ آدمی سے اس کے اہل خانہ کے بارے میں بھی سوال کرے گا‘‘۔ (روایت انس بن مالکؓ، نسائی ،صحیح ابن حبان)

گزشتہ ماہ ہم نے نوعمر لڑکوں کے مسائل اور ان کے حل پر کچھ باتیں عرض کی تھیں۔ ان میں سے بہت سی باتیں لڑکیوں کے سلسلہ میں بھی درست ہیں(لڑکیوں کی مائیں، اُس مضمون کا بھی مطالعہ کرلیں) لڑکوں کی طرح لڑکیوں کی زندگی کا یہ مرحلہ بھی ، بلوغ کی زندگی اور اس کی ذمہ داریوں کے لئے تیاری کا مرحلہ ہوتا ہے۔ ایک معصوم بچی اب ایک جوان عورت بن رہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالی اس کو اُن ذمہ داریوں کے لئے تیار کررہا ہوتا ہے جو اسے آئندہ انجام دینی ہیں۔ آئندہ اسے ایک بیوی بننا ہے۔ اپنا گھر سنبھالنا ہے۔ اس کے بچے ہونے ہیں اور اُسے ان کی تربیت کرنی ہے۔ اپنی تعلیم اور قابلیت کے لحاظ سے دیگر سماجی و تمدنی ذمہ داریاں انجام دینی ہیں۔ سماج کا سامنا کرنا ہے۔ یہ سب فرائض و ذمہ داریاں جو ایک خاتون کے ساتھ وابستہ ہوتی ہیں، بہت سی جسمانی اور نفسیاتی تبدیلیوں کا تقاضہ کرتی ہیں۔ ٹین ایج کے اس مرحلہ میں لڑکی ان تبدیلیوں سے گزرتی ہے۔

چنانچہ لڑکوں کی طرح لڑکیاں بھی اس مرحلہ میں زیادہ آزادی چاہتی ہیں۔ ہمجولیوں سے ان کا میل جول اور ان پر انحصار بڑھ جاتا ہے۔ ایڈونچر اور تجسس لڑکیوں میں بھی پایا جاتا ہے۔ مثالیت پسندی Idealismاور خود کو بہتر دکھانے کی کوشش ، توانائی اور جوش کی فراوانی جیسی خصوصیات، لڑکیوں میں بھی ہوتی ہے۔ البتہ بعض امور میں لڑکیاں مختلف بھی ہوتی ہیں۔

اس عمر میں لڑکیوں میں زیادہ بڑی جسمانی تبدیلیاں آتی ہیں۔ بعض حیاتیاتی تبدیلیاں (سب سے اہم، ماہ واری کا آغاز) ان کے لئے بہت چیلنجنگ ہوتی ہیں۔ ان جسمانی و حیاتیاتی تبدیلیوں کے مطابق ان کے اندر ہارمونل تبدیلیاں بھی آنے لگتی ہیں۔ یہ ہارمون ان کی نفسیات پر بھی گہرے اثرات ڈالتے ہیں۔ اسٹریس ہارمون، ان کے اندر تنائو پیدا کرتا ہے۔ مزاج کو حد سے زیادہ حساس بنادیتا ہے۔ اگر ان کو نظر انداز کیا جائے یا مسترد کیا جائے تو، اس عمر کی لڑکیاں یہ بات ہرگز برداشت نہیں کرسکتیں۔ نہایت معمولی بات پر بھی ان کا رد عمل نہایت شدید ہوتا ہے۔ ایک مشہور ماہر نفسیات نے نویں جماعت کی ایک طالبہ کی تصویر کشی کی ہے کہ اس نے اپنا آن لائن رزلٹ دیکھااور اپنی توقعات سے کچھ کم گریڈ نظر آیا تو اس زور سے اور اس بھیانک کرب کے ساتھ چیخیں مارنا شروع کیا گویا وہ کسی قتل عام کی جگہ پر پہنچادی گئی ہو۔ اس عمر کی لڑکیوں میں اس طرح کا رد عمل بہت عام ہوتا ہے۔

لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیاں، زیادہ آسانی سے استحصال کی شکار ہوسکتی ہیں۔ ان کا جذباتی استحصال آسان ہوتا ہے۔ لڑکے اپنے جذبات کا اظہار خاص طور پر والدین کے سامنے نہیں کرتے لیکن لڑکیاں اپنی ماں کے سامنے اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہیں۔ اس سے ان کے مسائل کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ماہرین نفسیات یہ بھی کہتے ہیں کہ اس عمر میں لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیاں زیادہ تنائو کی شکار ہوتی ہیں۔ بعض اوقات شدید تنائو ان کے لئے صحت کے مسائل بھی پیدا کرسکتا ہے۔

لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کو اس مرحلہ میں اپنے بہت سے طور طریقے بدلنے پڑتے ہیں۔ بلوغ کے بعد ان پر حجاب واجب ہوجاتا ہے۔ گھر سے باہر نکلنے پر اور میل جول وغیرہ کے سلسلہ میں بہت سی نئی بندشیں عائد ہوجاتی ہیں۔ ہنسنے بولنے ، کھیلنے کودنے اور چلنے پھرنے میں بھی ان کو بہت سی احتیاطیں کرنی پڑتی ہیں۔ بعض لڑکیوں کے لئے یہ تبدیلیاں بھی تنائو پیدا کرتی ہیں۔

ان حالات میں ماں باپ کی اور خصوصاً ماں کی یہ ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ بہت ہی احتیاط کے ساتھ اور اس عمر کی نفسیات کو سمجھتے ہوئے اپنی بیٹی کی مناسب رہنمائی، تربیت اور اس کو جذباتی سہارا فراہم کرنے کی کوشش کرے۔

۱۔ جسمانی خدو خال

اس عمر میں لڑکی اپنے جسمانی خد و خال کو بہت زیادہ اہمیت دینے لگتی ہے اور اپنے ظاہری حسن اور شباہت کو لے کر بہت حساس ہوجاتی ہے۔ بلوغ کے مرحلہ میں اس کے چہرے پر نکھار آجاتا ہے، آواز مترنم ہوجاتی ہے اور نسوانی حسن نمایاں ہوجاتا ہے۔اکثر گھروں میں بھی لڑکیوں کی شکل و شباہت کو لے کر گفتگو شروع ہوجاتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اُسے اچھی شکل و صورت سے نوازا ہے تب بھی وہ اسے اور نکھارنے کی فکر میں لگی رہتی ہے اور اگر وہ معمولی شکل و صورت کی مالک ہے تب ،بہت زیادہ احساسِ کمتری کی شکاررہتی ہے جس کے سبب اسکے مزاج میں چڑچڑا پن آجاتا ہے۔ مطالعات سے معلوم ہوتا ہے کہ وزن گھٹانے کی دیوانگی وغیرہ جیسے امراض عام طور پر اسی عمر میں لڑکیوں کو لاحق ہوتے ہیں ۔ بہت سی لڑکیاں اپنے جسم کو سڈول بنانے کے لئے فاقہ کشی شروع کردیتی ہیں۔

ماں کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ حسنِ سیرت کی اہمیت ُاس کو ذہن نشین کرائے۔ اس کو بتائے کہ انسانی شخصیت کا اصل اور پائیدار حسن، کردار اور رویہ کا حسن ہے۔ اسے یہ بھی بتائے کہ اخبارات اور میگزینوں میں جو ماڈلوں کی تصویریں شائع ہوتی ہیں ، ان میں فوٹو شاپنگ کے کمالات بھی شامل ہوتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ اس کے اندر اپنی صورت، شکل اور جسم کو لے کر اعتماد پیدا ہو۔ ماں کی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی لڑکی کی شکل و شباہت کے اچھے پہلوئوں کی دل کھول کر تعریف کرے۔ اس کے اندر یہ اعتماد پیدا کرے کہ وہ ایک دلکش اور جاذب شخصیت کی مالک ہے۔ اگر اس کے اندر کوئی کمی ہے تو اسے بتایا جائے کہ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کسی کو کامل اور نقائص سے پاک نہیں بنایا ہے۔ چاند میں بھی داغ ہیں۔ حسین ترین عورتوں میں بھی کچھ نہ کچھ کمزوری ضرور ہوتی ہے۔ اس کے اچھے پہلوؤں کو ابھارا جائے۔بننے، سنورنے میں اور کپڑوں وغیرہ کے مناسب انتخاب میں اس کی مدد کی جائے۔

اس تعریف کی ضرورت ،جہاں اس کے اندر خود اعتمادی پیدا کرنے کے لئے ہے وہیں اس کو استحصال سے بچانے کے لئے بھی ہے۔ لڑکی اس عمر میں ، اپنے حسن و جمال کی تعریف و ستائش کی بھوکی ہوتی ہے۔ مائیں اور گھر کے لوگ تعریف نہ کریں اور انہیں تعریف کلاس کے کسی لڑکے سے ملے تو پھروہ لڑکا اثر انداز ہونے لگتا ہے۔ یہ زمانہ جنسی ہارمونز کے سیلاب کا زمانہ ہوتا ہے، ایسے میں اگر حسن کی ستائش کی فطری خواہش پوری نہ ہورہی ہو تو کسی اجنبی لڑکے کی پسندیدگی و چاہت کی ایک نگاہ ، لڑکیوں کو فریفتہ کردیتی ہے۔

خود اعتمادی اور عزت نفس

اس عمر میں لڑکیوں کی ایک بڑی ضرورت یہ ہوتی ہے کہ ان کے اندر خود اعتماد ی اور عزت نفس پیدا کی جائے۔ ان کو یہ یقین ہو کہ وہ ا چھی شخصیت کی مالک ہیں اور اپنے والدین اور خاندان کے لئے باعث عزت اور باعث فخر ہیں۔ یہ اعتماد والدین اور بھائی بہنوں کی جانب سے، تعریف و تحسین، قدر افزائی اور محبت سے پیدا ہوتا ہے۔اس کی صلاحیتوں کی قدر کیجئے۔ اس کی شخصیت کے اچھے پہلووں کو تلاش کیجئے اور اسے نمایاں کیجئے۔اللہ تعالی نے اس دنیا میں ہر انسان کو منفرد پیدا کیا ہے۔ اگر آپ کے پڑوسی کی بچی کلاس میں فرسٹ آتی ہے تو وہ آپ کی بیٹی کی طرح خوبصورت پینٹنگ نہیں کرسکتی۔اب اگر آپ ، رات دن پڑوسی سے اس کا موازنہ کرتی رہیں تو وہ عزت نفس اور خود اعتمادی سے محروم ہوجائے گی۔ پینٹنگ کی جو عظیم صلاحیت اللہ نے اس کو دی ہے، اس سے اسکا دل اچاٹ ہوجائے گا۔ و ہ تنائو کی شکار ہوجائے گی اور کل کسی نے اس کی پینٹنگ کی بے پناہ تعریف کردی تو خدانخواستہ اس کی اسیر ہوجائے گی ۔سمجھ دار مائیں ، اپنی بیٹیوں کے اچھے پہلووں کو اجاگر کرتی ہیں۔ انہیں بھرپور عزت، احترام اور محبت دیتی ہیں۔ ایسی ماؤں کی بیٹیاں، خود اعتمادی اور عزت نفس سے مالامال ہوتی ہیں،اور ان کو شیشے میں اتارنا ، اجنبیوں کے لئے آسان نہیں ہوتا۔

لڑکیوں کی عزت نفس پر شدید ضرب اس وقت بھی پڑتی ہے جب گھروں میں بیٹوں اور بیٹیوں کے درمیان تفریق کی جاتی ہے۔ اچھے کھانے، اچھے کپڑوں، اچھی اور مہنگی تعلیم وغیرہ پر پہلا اور زیادہ حق بیٹوں کا سمجھا جاتا ہے۔ اسلام نے اس تصور پر شدید ضرب لگائی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک اور حدیث میں بیٹیوں کی پرورش پر جنت کی بشارت کے لئے یہ شرط بھی بیان فرمائی ہے کہ بیٹیوں پر بیٹے کو ترجیح نہ دی جائے۔ (جس شخص کی بیٹی ہو اور اس نے اس کی توہین نہیں کی، اسے زندہ درگور نہ کیا اور لڑکوں کو اس کو پر ترجیح نہیں دی ، اللہ تعالی اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔ روایت ابن عباسؓ، مسند احمد ۔من مسند بنی ہاشم)

حیا و عفت اور اسلامی معاشرت

اس عمر میںفطری طور پر حیا و شرم کے احساسات پروان چڑھنے لگتے ہیں۔ یہ عورتوں کی حفاظت کا فطری انتظام ہے، جو رب کائنات نے فرمایا ہے۔ یہ بڑی بدقسمتی کی بات ہے کہ جدید تہذیب اس فطرت کو مسخ کرکے اس فطری حصار کو ختم کرنے کے درپے ہے۔ والدین کی یہ بھی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی بچیوں میں فطری حیا کر پروان چڑھائیں۔ عفت و عصمت اور پاکدامنی کے سلسلہ میں حساس بنائیں۔ نگاہوں کی حفاظت کرنا سیکھائیں۔جس بچی نے ابھی ابھی نوجوانی کی دہلیزپر قدم رکھا ہے، اُسے اپنے اوپر اٹھنے والی ہر نظر کی پہچان نہیں ہوتی ہے۔ یہ تمیز کرنا اُسے سیکھائیں۔

اللہ تعالی کا یہ عورتوں پر عظیم احسان ہے کہ اس نے اسلامی شریعت کی صورت میں ایک نہایت طاقتور حفاظتی حصار ہمیں عطا کیا ہے۔ بالغ ہوتے ہی لڑکی پر تمام اسلامی احکام نافذ ہوجاتے ہیں۔ ان احکام کا شعور اس کے اندر پیدا کرنا اور اس پر عمل کرانا ، یہ بھی ماں کی نہایت اہم ذمہ داری ہے۔ لڑکی پر حجاب فرض ہوگیا ہے۔ ستر کے احکام فرض ہوگئے ہیں۔ اس کے چچا زاد، ماموں زاد، خالو ، پھوپھا، پڑوسی، اساتذہ وغیرہ اب اس کے لئے نامحرم مرد ہیں۔ ان سے تنہائی میں ملاقات جائز نہیں ۔ مصافحہ یا کسی بھی قسم کا جسمانی لمس جائز نہیں۔ زینت اور خوشبو کے ساتھ ان کے سامنے جانا جائز نہیں۔بلاضرورت بے تکلف ہنسی مذاق اور اختلاط جائز نہیں۔ اگر مائیں ابتدائی عمر ہی سے ان اسلامی احکام کی پابندی کرانا شروع کردیں تو لڑکیوں کے غلط راستہ پر جانے کا امکان بہت کم رہ جاتا ہے۔

میرے پاس جو کیس آتے ہیں اُن کی بنیاد پر میں کہہ سکتی ہوں کہ قریبی رشتہ داروں کے ذریعہ بچیوں کا استحصال اب مسلم سوسائٹی میں بھی خاصا بڑھ چکا ہے۔ ماں باپ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نہایت شریف اور دیندار لوگ ہیں۔ ہمارے گھروں میں ایسا نہیں ہوسکتا۔ لیکن وہ یہ نہیں محسوس کرتے کہ اب گھروں کی روایات کی بندش کمزور ہوتی جارہی ہے۔ میڈیا کے طوفان کی زد سے کوئی گھر بچا ہوا نہیں ہے۔ اور شیطان ہر ایک کے ساتھ لگا ہوا ہے۔

جو بچیاں مشترکہ خاندانوں میں رہتی ہیں وہاں والدین کو بہت احتیاط برتنی چاہئے۔ پردے کا حکم اور اسکی اہمیت کو واضح کریں۔ایک ہی گھر میں ساتھ رہنے والے غیر محرم مردوں اور لڑکوں سے ملنے اور بات کرنے کے حدود و آداب کی تعلیم دیں۔قریبی رشتہ داروں کے علاوہ گھر میں کام کرنے والے ملازمین، ڈرائیور، اسکول کالج لے کر جانے والے آٹو ڈرائیورز، ٹیوشن پڑھانے والے اساتذہ،کزن، ان سب کے سلسلہ میں احتیاط ضروری ہے۔ کسی پر بلاوجہ شک بھی نہیںکرنا چاہیے۔ بس سب کے سلسلہ میں شریعت کے احکام کی پابندی کیجئے ، کافی ہے۔

میں نے یہ بات بھی نوٹ کی ہے کہ بہت سے گھرانوں میں بڑی اور شادی شدہ خواتین تو اسلامی احکام پر عمل کرتی ہیں لیکن ان نوعمر بچیوں کے سلسلہ میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ تو ابھی بچی ہے۔ اسی طرح بعض گھرانوں میںبچیاں، نوجوان لڑکوں سے تو محتاط فاصلہ رکھتی ہیں لیکن بڑی عمر کے مردوں کے سلسلہ میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ بچی، اُن کی بیٹی کی طرح ہے۔یہ سب نہایت نقصاندہ رویے ہیں۔ اسلامی شریعت ایسی کوئی تفریق نہیں کرتی۔

محرم مردوں کے ساتھ بھی حیا و شرم کے مناسب تقاضوں کونبھاتے ہوئے ضروری فاصلہ رکھنا چاہیے۔

بچیوں کا جنسی استحصال ، اس وقت ہمارے ملک میں ایک بڑا مسئلہ بنتا جارہا ہے۔ اس طرح کا استحصال بچیوں کی نفسیات پر بہت برا اثر ڈالتا ہے۔ زندگی بھر اس کے اثراتِ بد سے وہ خود کو نکال نہیں پاتیں۔یہ استحصال معمولی درجہ کا بھی ہوسکتا ہے۔ کسی قریبی رشتہ دار کی جانب سے ایک غلط ٹچ، گندی نگاہ ،گندی بات یا گندا اشارہ لڑکی کو تباہ کرکے رکھ دیتا ہے۔ وہ اندر سے ٹوٹ جاتی ہے۔ دنیا کے سارے مردوں سے نفرت کرنے لگتی ہے۔ احساسِ جرم، احساس کمتری کی شکار ہوجاتی ہے۔ماں باپ کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ ایسا کوئی واقعہ پیش آیا ہے اور معصوم بچی کے اندر قیامت بپا رہتی ہے۔ چالیس سال اور پچاس سال کی عمرکی شدید نفسیاتی مریض خواتین کے مسئلہ کی جڑ کو سمجھنے کی کوشش کی جاتی ہے تب پتہ چلتا ہے کہ ان کے بچپن کے کسی ایسے واقعہ کی ناخوشگوار یاد نے ان کی ساری زندگی کو اذیت ناک بنادیا۔ بے حیائی کے موجودہ سیلاب میں اپنی بچیوں کو اس آفت سے بچانا ہر ماں کی اہم ترین ذمہ داریوںمیں شامل ہے۔

دوستیاں اور انٹرنیٹ

ہم نے نو عمر لڑکوں کے سلسلہ میں یہ بات کہی تھی کہ والدین کو ان کے دوستوںپر نگاہ رکھنی چاہیے اور ان کے دوست کے بھی دوست بننا چاہیے۔ یہ بات لڑکیوں کے سلسلہ میں بھی درست ہے۔

ماں کو اپنی بیٹی کی تمام سہلیوں کے بارے میں مکمل معلومات ہونی چاہئیں،اور اس کی بھی کوشش کرنی چاہیے کہ آپ اس کی سہلیوں کی بھی دوست بنیں اور ان پر بھی غیر محسوس طریقہ سے اثر انداز ہوں۔ بیٹی کی سہلیوں کو گھر پر بلانا ، ان کی محفل میں چند منٹ بیٹھ جانا،ان کے ساتھ کھانا پینا اور ان کو تحائف دینا، ان کی کامیابیوں کو سلیبریٹ کرنا، ان کو ان کے ناموں کے ساتھ یاد رکھنا، اچھے کاموں پر ان کی ستائش کرنا،اس طرح کے ہلکے پھلے اقدامات کے ذریعہ آپ یہ ہدف حاصل کرسکتی ہیں۔

اس وقت ایک بڑا مسئلہ انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی دوستیوں کا ہے۔ ابتدا میں اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں کو سوشل میڈیا کی سائٹس، اکاونٹ کھولنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ اب اکثر سائٹس نے گھٹا کر یہ عمر ۱۳ کردی ہے۔ لیکن بہتر یہی ہے کہ کم از کم ہائی اسکول سے فارغ ہونے تک بچے سوشل میڈیا سے دور ہی رہیں اور اس کے بعد بھی سوشل میڈیا پر ان کی سرگرمیاں ، خاص طور پر دوستیاں والدین کی نگاہوں میں رہیں۔اگر آپ کی بیٹی انٹرنیٹ استعمال کرتی ہے تو آپ اس کی ضروری تربیت خود بھی حاصل کریں۔ اس کے نیٹ ورک میں شامل ہوں۔ اور اس کی مناسب رہنمائی کرتی رہیں۔

صحت مند مشاغل

اس عمر میں اپنی بیٹی کو صحت مند مشاغل کی طرف متوجہ کیجئے۔ پینٹنگ، شجر کاری، مضمون نویسی، شاعری، مطالعہ، کشیدہ کاری، پکوان، وغیرہ جیسے مشاغل اس کو مصروف رکھیں گے۔ اس کے ہارمونز کو کنٹرول میں رکھیں گے۔ تنائو کم کریں گے۔ غلط رجحانات کی طرف اس کو جانے نہین دیں گے اور ان مشاغل کی وجہ سے وہ فعال اور سرگرم رہ سکے گی اور اس کی اضافی توانائی کااستعمال ہوسکے گا۔ اگر ان مشاغل میں آپ بھی اس کے ساتھ شریک ہوجائیں تو اس سے آپ کے ساتھ اس کا تعلق اور بے تکلفی بھی مستحکم ہوگی۔

سب سے بہتر مشغلہ یہ ہے کہ اسے دینی و تحریکی سرگرمیوں میں فعال و سرگرم بنایئے۔ جی آئی او جیسی تنظیموں سے جوڑیئے۔ اس سے مندرجہ بالا فائدے بھی حاصل ہوں گے اور اس کو اچھی اور پاکیزہ صحبت بھی میسر آئے گی۔ اس کی سیرت اور اخلاق بھی نکھریں گے اور دین کے کام کی برکت سے ان شاء اللہ وہ ہرفتنہ اور آفت سے محفوظ رہے گی۔

نو عمری سے ہی اکثر گھرانوں میں بچی کے سامنے اس کے رشتہ اور شادی کی باتیں شروع ہوجاتی ہیں۔ سب لوگ اس کے رشتہ کو لے کر بے پناہ فکر مندی ظاہرکرنا شروع کردیتے ہیں۔بعض ماں باپ جہیز اور شادی کے اخراجات وغیرہ کا رونا بھی شروع کردیتے ہیں۔ یہ سب چیزیں لڑکی کی نفسیات پر خراب اثر ڈالتی ہیں۔ ان کی عزت نفس مجروح ہوتی ہے۔ وہ خود کو ماں باپ پر بوجھ محسوس کرنے لگتی ہیں۔شادی کے سوا، اسے اپنا کوئی اور مصرف نظر نہیں آتا۔بعض لڑکیوں میں یہ رویہ شادی اور رشتوں کے سلسلہ میں شدید رد عمل، مزاحمت اور منفی رجحان بھی پیدا کردیتا ہے۔اس عمر میں اس کی تعلیم پر توجہ دیجئے۔ اسے بھی اپنی تعلیم اور صلاحیتوں کی افزائش پر توجہ دینے کا موقع دیجئے۔شادی کی فکر ضرور کیجئے لیکن رات دن اسکے سامنے اس موضوع کو چھیڑے رکھنا ضروری نہیں ہے۔

دوست اور رول ماڈل بنئے

بچیاں بہت کچھ اپنی والدہ سے سیکھتی ہیں۔نوجوان بچی بہت گہرائی سے اپنی والدہ کا مشاہدہ کرتی ہے اس لیے اولین ضرورت اس بات کی ہے کہ ماں خود پردے کا اہتمام کرے ، محرم اور نامحرم رشتوں کو اصولی طور پر نبھائے۔ نماز اور دیگر فرائض کی پابندی کرے۔ شوہر اور دیگر افراد خانہ سے اچھے طریقے سے پیش آئے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ آپ کی بچی اگلے گھر جا کرجو برتاؤ کرے گی وہ اسی برتاؤ کا عکس ہوگا جو اس کی ماں اپنے گھر میں کرتی رہی ہے۔

اگر وہ آپ سے صحیح تربیت حاصل کرے گی توآپ ہی کا نام روشن کرے گی۔ اس لئے ضروری ہے کہ جو کچھ صفات آپ اپنی بیٹی کے اندر دیکھنا چاہتی ہیں وہ آپ اپنے اندر بھی پیدا کریں۔ اگر آپ چاہتی ہیں کہ آپ کی بیٹی نہایت باحیا ہو تو آپ کو خود اس معاملہ میں بہت حساس ہونا پڑے گا۔ اگر آپ چاہتی ہیں کہ وہ حجاب کی سختی سے پابندی کرے اور قریبی رشتہ داروں سے بھی مناسب فاصلہ بنائے رکھے تو یہ اسی وقت ممکن ہے جب آپ خود بھی ایسا کریں۔

اسی طرح والدہ کی یہ کوشش ہونی چاہیے کہ وہ اپنی بچی کی سب سے بہترین اور سب سے بے تکلف دوست بنے۔ اس عمر میں لڑکیوں کو بہت سے مسائل درپیش ہوتے ہیں۔ اپنے جسم کو لے کر، اسکول کالج میں اور دیگر جگہوں پر لوگوں کے رویوں کو لے کر، اپنے بدلتے ہوئے جذبات و احساسات کو لے کر، اس کے ذہن میں بہت سی الجھنیں اور سوالات ہوتے ہیں۔ ماں کے ساتھ اس کا رشتہ اس قدر بے تکلف ہونا چاہیے کہ وہ ان سب سوالات کو بے تکلف آپ کے سامنے پیش کرسکے اور آپ سے ان کا حل معلوم کرسکے۔

اسکولوں اور کالجوں میں اور گھروں کے باہر عام طور پر لڑکیوں کو چھیڑچھاڑ کے مسئلہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اکثر مسئلہ بہت معمولی ہوتا ہے لیکن لڑکیاں اس کا گہرا اثر قبول کرتی ہیں۔ اگر والدہ سے بے تکلفی ہو تو وہ اپنا مسئلہ بیان کرتی ہے اور والدہ اسے حل کرکے اطمینان دلادیتی ہے۔ لیکن یہ بے تکلفی نہ ہو تو اس مسئلہ کے لئے بھی لڑکی خود کو ذمہ دار سمجھنے لگتی ہے۔ اسے حل سجھائی نہیں دیتا ۔ شدید تناؤ اور الجھن کی شکار ہوجاتی ہے۔

بعض مائیں ، ایسے موضوعات پر اپنی بیٹیوں کے ساتھ بات کرتے ہوئے جھجکتی ہیں۔ اس کے نتیجہ میں وہ اپنی بیٹی کے ساتھ بے تکلف دوستی کا رشتہ قائم نہیں رکھ پاتیں۔ایسی ماؤں کو بچیاں بھی کچھ نہیں بتاتیں۔ یہ صورت حال بعض اوقات بہت خطرناک ہوجاتی ہے۔ اس کے نتیجہ میں ماؤں کو اپنی بچیوں کے حالات معلوم ہی نہیں ہوتے اور معلوم ہوتے ہیں تو اس وقت جب پانی سر سے اوپر ہوجاتا ہے۔ ۔

بے تکلف دوستی کی ایک بڑی ضرورت یہ ہے کہ مائیں اپنی بچیوں کے ساتھ کوالٹی ٹائم صرف کریں۔ ان کے ساتھ مشترک دلچسپی کے امور پر بات کریں۔ اس کے لئے روازنہ وقت فارغ کریں۔ ان کے مشاغل اور دلچسپیوں میں خود بھی دلچسپی لیں۔

ضرورت اس بات کی ہے کہ موجودہ حیا سوز معاشرہ میں ، لڑکیوں کی تربیت جس احساس ذمہ داری کا تقاضہ کرتی ہے، وہ ہم اپنے اندر پیدا کریں۔ اس سلسلہ کی مفید کتابوں کا مطالعہ کریں۔ تربیتی پروگراموں میں شرکت کریں۔ ضرورت محسوس ہو تو اچھی کونسلروں سے مشورہ لینے میں تکلف نہ کریں۔ یا د رکھیں، کہ نو عمری کے ان چند سالوں میں آپ نے بھر پور توجہ دی اور سمجھ داری کا مظاہرہ کیا تو آپ کی بیٹی آپ کی آنکھوں کی تارہ اور آپ کے لئے اور پورے خاندان کے لئے فخر و مسرت کا سرچشمہ بن سکتی ہے۔ اللہ تعالی ہمیں اپنی ذمہ داریوں کو بحسن و خوبی انجام دینے کی توفیق عطا فرمائے آمین۔

email:[email protected]

website:www.innerpeacelife.com

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت