کشادہ ظرفی کی سب سے اعلی تعلیم

قرآن مجید کی ایک آیت پڑھتے ہوئے مجھے احساس ہوا کہ یہاں دیر تک رکنا چاہئے۔ قرآن مجید حسین وجمیل بلندیوں کی کتاب ہے، اور ہر بلندی دل کو بہت دیر تک اس طرح تھامے رکھتی ہے کہ دیکھنے والا ٹکٹکی باندھے دیکھتا رہ جائے۔ ایسی ہی ایک حسین وجمیل بلندی کا تذکرہ کرنا یہاں مقصود ہے۔

اللہ کے ساتھ شرک کرنا آخری درجے کی بد اخلاقی کی بات ہے۔ اللہ کی شان میں سب سے بڑی گستاخی یہ ہے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک مان لیا جائے۔ شرک کو اللہ ظلم عظیم قرار دیتا ہے، اور اس جسارت پر پوری کائنات غصے سے پھٹی پڑتی ہے۔ ایک تو شرک نہایت سنگین گناہ اور اس پر اگر کوئی شرک بھی کرے اور اللہ کے مسلم اور مومن بندوں پر شرک کرنے کے لئے دباؤ بھی ڈالے، تو جرم اور گستاخی کی نوعیت بہت ہی زیادہ سنگین ہوجاتی ہے۔ یہ حقیقت سامنے رکھیں اور پھر اس آیت پر غور کریں:

’’اور اگر وہ تم پر دباؤ ڈالیں کہ تم کسی کو میرا شریک ٹھیرالو، جس کے باب میں تمہارے پاس کوئی دلیل بھی نہیں ہے، تو ان کی بات نہ مانو اور دنیا میں ان کے ساتھ نیک سلوک رکھو۔‘‘ (سورت لقمان 15)

یہاں اللہ ایسے والدین کا ذکر کرتا ہے جو شرک بھی کرتے ہیں اور شرک کرنے کے لئے اپنی اولاد پر شدید دباؤ بھی ڈالتے ہیں۔ ایسی صورت حال کے بارے میں اللہ اولاد کو حکم دیتا ہے کہ ماں باپ کے اس دباؤ کو قبول نہ کریں، لیکن اس کے ساتھ ہی اولاد کو یہ حکم بھی دیتا ہے کہ وہ دنیا میں ایسے ماں باپ کے ساتھ رہیں اور اچھے سلوک کے ساتھ رہیں، زندگی بھر ان کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتے رہیں۔

اس آیت میں کشادہ ظرفی کی اتنی اونچی تعلیم تک پہونچادیا جاتا ہے کہ انسان کا خیال بھی وہاں تک نہیں پہونچ سکتا ہے۔ ایک طرف ماں باپ ہیں کہ اللہ کی شان میں سنگین ترین گستاخی کررہے ہیں، اور دوسری طرف اللہ انہی ماں باپ کے ساتھ ان کی اولاد کو حسن سلوک کی تاکید کررہا ہے۔

یہ آیت بتاتی ہے کہ جس سے ہمیں ناراضگی ہو، اس کے ساتھ ہمارا رویہ کیسا ہونا چاہئے، ہم کسی سے کتنا ہی ناراض ہوں، ہمارے ظرف کی کشادگی برقرار رہنی چاہئے۔ ناراضگی آپ کے ہاتھوں سے آپ کی نہایت قیمتی چیزیں برباد کروادیتی ہے، اگر آپ کے اندر ذرا بھی سمجھ داری ہے تو انتہائی غصے میں بھی ہرگز نہ بھولیں کہ اخلاق کی بلندی آپ کی بہت قیمتی دولت ہے، اسی سے آپ کی شخصیت کا حسن ہے، اپنی اس دولت کی حفاظت آپ کو اور صرف آپ کو کرنی ہے، اگر کوئی آپ کے ساتھ زیادتی یا کوتاہی کرتا ہے، یا آپ کی شان میں گستاخی کرتا ہے خواہ وہ کیسی ہی شدید گستاخی ہو، تو بھی طیش میں آکر آپ کو اپنی یہ قیمتی دولت ضائع نہیں کرنی ہے۔ کیونکہ غصہ تو چڑھتا ہے اور پھر اتر بھی جاتا ہے، لیکن اخلاق کی بلندی اور ظرف کی کشادگی سے ہاتھ دھوبیٹھنا انسان کا بہت بڑا نقصان ہوتا ہے جس کی تلافی آسان نہیں ہوتی ہے۔

یہ آیت بیٹوں اور بیٹیوں کو والدین کے سلسلے میں ایک زبردست اصول دیتی ہے، وہ یہ کہ والدین ان کے ساتھ کیسا ہی سلوک کرتے ہوں، انہیں والدین کے ساتھ اچھے برتاؤ کے ساتھ رہنا ہے۔ مشرک والدین اللہ کی شان میں کتنی سخت گستاخی کرتے ہیں، پھر بھی اللہ ان کی مومن اولاد کو تعلیم دیتا ہے کہ وہ زندگی بھر اپنے ایسے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتے رہیں۔ الہی تعلیم کی یہ بلندی نگاہوں کے سامنے رکھیں اور سوچیں کہ اگر والدین سے اولاد کو تکلیف پہونچ جاتی ہے، والدین ان کے جذبات کو ٹھیس پہونچادیتے ہیں، جانے یا انجانے میں ان کے ساتھ زیادتی کرجاتے ہیں، انہیں ناحق ڈانٹ دیتے ہیں، یا ان کی کسی جائز مانگ کو ٹھکرایتے ہیں، ایسی کسی بھی حالت میں اولاد کے لئے یہ کیسے جائز ہوسکتا ہے کہ وہ والدین کے ساتھ بدسلوکی کا رویہ اختیار کریں، اور ان کے ساتھ اچھا برتاؤ نہ کریں، محض اس وجہ سے کہ ماں باپ نے ان کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔

جب اللہ اپنے ساتھ شرک کرنے والے بلکہ اس سے آگے بڑھ کر شرک پر زور زبردستی کرنے والوں کے سلسلے میں حسن سلوک کی تلقین کرتا ہے، تو پھر ہمیں کیا حق پہونچتا ہے کہ اپنے سلسلے میں کسی بھی طرح کی شکایت پیدا ہوجانے کی بنا پر کسی انسان کے ساتھ حسن سلوک نہ کریں، اور اس کے ساتھ بداخلاقی کو اپنے لئے جائز ٹھیرالیں۔

قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی برائی ایسی نہیں ہے جو حسن اخلاق سے عاری ہوجانے کے لئے وجہ جواز بن سکتی ہو۔ قرآن مجید کی بہت سی آیتوں میں کشادہ ظرفی کی بہت اعلی تعلیمات موجود ہیں۔ ان تعلیمات سے سے آراستہ ہونے والا شخص خراب سے خراب انسان کے لئے بھی اپنے ظرف کو کشادہ رکھتا ہے۔ حضرت عقبہ بن عامر کی اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی تو آپ نے انہیں بڑی قیمتی نصیحت فرمائی: ’’جو تم سے رشتہ توڑے تم اس سے بھی رشتہ جوڑو، جو تمہیں محروم رکھے تم اسے بھی عطا کرو، اور جو تم پر ظلم کرے تم اس سے بھی درگزر کرو۔‘‘

دنیا کے بہت سے حسن کی حفاظت کشادہ ظرفی سے ہوتی ہے۔ انسانوں کے بہت سے داغ دھبے اس حسین سنگھار میں چھپ جاتے ہیں۔ کشادہ ظرفی کے لئے محبت کا ہونا ضروری نہیں ہے، ہوسکتا ہے کسی شخص کو اس کی سیاہ کاریوں کی وجہ سے آپ محبت کرنے کے قابل نہ سمجھتے ہوں، لیکن پھر بھی کشادہ ظرفی سے کام لیتے ہوئے وقت آنے پر اس کے ساتھ اچھا سلوک کریں۔ کشادہ ظرفی کہتے ہی ہیں اس اچھے اخلاق کو جس میں وہ لوگ بھی سما جائیں جن سے آپ کسی بھی وجہ سے نفرت کرتے ہیں۔ کشادہ ظرفی آپ کی اپنی ضرورت ہے، یہ آپ کا وہ پاکیزہ اور عمدہ لباس ہے جسے آپ ہمیشہ زیب تن رکھنا چاہیں گے، چاہے آپ کے سامنے سے کوئی کتنے ہی گندے لباس میں گزر جائے۔

قرآن مجید میں کشادہ ظرفی کی بہت اونچی منزل دکھائی گئی ہے، اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اسی اونچے مقام پر فائز تھے، اس منزل تک پہونچنے کی کوشش کرنا ہر مومن بندے کا ہدف ہونا چاہئے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محی الدین غازی