ایک شمع جلانی ہے! (قسط ــ 21)

ہے انقلاب وقت ہمارا ہی منتظر

آؤ کہ لوٹ چلتے ہیں قرآن کی طرف

’’ماویہ … یہ سورہ البقرہ ہے… اسے پڑھ لو ذرا اور جمعہ کو مجھے بتانا کہ ہم نے کیا سمجھا…‘‘ ماویہ اب اپنی ٹین ایج میں داخل ہوچکی تھی… غافرہ نے کافی غور و فکر کے بعد اسے قرآن سمجھنے اور اس پر غور و فکر کرنے کا ایک ٹارگٹ دیتے ہوئے کہا۔

’’امی… کیا ساری پڑھنی ہے اور بتانا ہے؟‘‘ ماویہ نے حیرت سے پوچھا۔ غافرہ اکثر چھوٹی چھوٹی سورتیں یا کوئی ایک چھوٹی سی آیت ماویہ اور یحییٰ کو ٹارگٹ کے طور پر دیتی رہتی کہ تم ان دو تین دن میں یا اس ہفتہ میں اس پر سوچو اور پھر مجھے بتاؤ کہ تم نے اس سے کیا سمجھا؟ کیا سیکھا اور اسے کہاں اور کیسے Apply کروگے۔ اس اعتبار سے ماویہ کو سورۃ البقرۃ ٹارگٹ ملی تو وہ حیران رہ گئی۔

’’ہاں… عربی مت پڑھو صرف ترجمہ ہی پڑھ لو۔ آج پیر ہے اور تمہیں مجھے اگلے جمعہ کو بتانا ہے۔ دس گیارہ دن تو ہیں ہی اور بہت تفصیلی نہیں بلکہ موٹا موٹا ہی بتانا۔‘‘ غافرہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو اس نے مطمئن ہوکر اثبات میں سر ہلا دیا۔

’’اور یحییٰ تمہیں اس آیت کو یاد کرنا ہے اور ہمیں سمجھانا بھی ہے اور بتانا بھی ہے کہ اسے کیسے Apply کروگے…‘‘ غافرہ نے ایک کارڈ یحییٰ کی طرف بڑھایا جس پر سورہ طہٰ کی آیت تحریر تھی:

وَ عَجِّلْتُ اِلَیْکَ رَبِّیْ لِتَرْضٰی

’’اے میرے رب میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تاکہ تو خوش ہو۔‘‘

یحییٰ نے عربی اور اردو با آواز بلندپڑھی اور کچھ لمحے کے لیے اس کے چہرہ پر عجیب الجھن آگئی۔

’’ہیں… ہم خود اللہ کی طرف کیسے جاسکتے؟ اللہ تو اپنے پاس خود بلاتا ہے نا! جیسے آپ نے کہا تھا کہ دادا ابا کو اللہ نے اپنے پاس بلا لیا اور وہ اس دن جب وہ طاہر انکل کا انتقال ہوگیا تھا تو آنٹی کہہ رہی تھیں نا کہ وہ انکل بہت نیک تھے۔ اس لیے اللہ نے جلدی سے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔‘‘ یحییٰ کی سوئی بری طرح اٹکی تو غافرہ بس سر پکڑ کر رہ گئی یہ آج کل کے بچے جو اسکولوں میں انگریزی اور گھر میں اردو سنتے ہیں، ان کی اردو کا تو بس اللہ مالک ہے۔

’’بیٹے اللہ کی طرف آنے میں جلدی کرنے کا مطلب ہے اس کے ان کاموں کی طرف جلدی سے جانا جو اس نے ہمیں کرنے کے لیے کہے ہیں۔ نیکی اور بھلائی کے کاموں کی طرف‘‘ غافرہ نے اسے بڑے صبر سے سمجھایا۔

’’اوہ اچھا۔۔۔‘‘ آٹھ سالہ یحییٰ نے سمجھ داری سے سر ہلایا تو وہ دونوں ہی اپنی ہنسی کو بے قابو ہونے سے روکنے لگے۔

’’اگلے جمعہ کو تیاری سے رہنا دونوں! غافرہ نے ایک بار پھر تاکیدی لہجہ میں کہا۔ ’’انشاء اللہ‘‘ ماویہ نے جواب دیا، جب کہ یحییٰ صرف سر ہلاکر رہ گیا تو غافرہ نے ہلکے سے اس کے سر پر چپت ماری۔

’’یہ سر ہلانا کیا ہوتا ہے! کتنی بار کہا ہے کہ انشاء اللہ کہا کرو۔‘‘

غافرہ نے اسے گھورا تو وہ بس منہ بنا کر رہ گیا۔

’’کیا ہے امی؟ دل میں کہہ دیا تھا… ’’اف یہ بچوں کے بہانے۔‘‘

’’یہ دل میں کہنا کیا ہوتا ہے۔ زور سے کہا کرو… اور تیاری کا مطلب ہے نوٹ بک اور پین لے کر بیٹھنا! پہلے آیت، اس کے نیچے اس کا ترجمہ لکھنا اور پھر ہم نے کیا سمجھا وہ لکھنا۔ سمجھ میں آئی بات؟‘‘ غافرہ نے ہلکے سے سخت لہجے میں بات کہی تو چھوٹے یحییٰ کا مزید منہ بن گیا اور اس پر ماویہ کے چہرے پر جو چڑانے والی مسکراہٹ تھی اس نے اسے مزید تپا دیا تھا مگر غافرہ کے سامنے وہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا تو بس ماویہ کو گھورتے ہوئے خاموش ہوگیا۔

٭٭

سحر کے انوار دیکھتا ہوں طلوع نجم سحر سے پہلے

نظر میں یہ وسعتیں کہاں تھیں کسی کے فیض نظر سے پہلے

’’یہ ممی مجھے اتنا کیوں ڈانٹتی رہتی ہیں۔‘‘ یحییٰ پچھلے ایک گھنٹے میں تقریباً دسویں بار یہ سوال ماویہ سے پوچھ رہا تھا۔ شروع میں ایک دوبار تو ماویہ نے اسے اچھے سے جواب دیا کہ تم تنگ بھی کتنا کرتے ہو اور سنتے نہیں ہو! ایسا کچھ نہیں ہے مگر اس کے بعد وہ ہر بار اس کے سوال کرنے پر اسے مسکرا کر دیکھتی اور دوبارہ اپنے کام میں لگ جاتی۔

’’آپی… بتائیں مجھے…‘‘ اس بار یحییٰ نے چلا کر کہا تو ماویہ نے اپنی نوٹ بک اطمینان سے بند کی اور اسے اشارے سے اپنے پاس بلایا۔

’’کیوں کہ تم لے پالک ہو… ہم تمہیں درگاہ والی پہاڑی سے اٹھا کر لائے تھے اور تمہیں تو پتا ہے کہ ممی کتنی نرم دل کی ہیں۔ تم اتنے کالے موٹی ناک والے تھے لیکن پھر بھی تمہیں امی ابو گھر لے آئے۔ بس ہوسکتا ہے یہی بات ہو۔‘‘ ماویہ نے رازدارانہ انداز میں سرگوشی کی۔

’’امی… امی… آپی مجھے لے پالک کہہ رہی ہیں اور یہ کہ آپ مجھے درگاہ والی پہاڑی سے اٹھا کر لائی تھیں۔‘‘ یحییٰ کو یہ بات بالکل ہی برداشت نہ ہوئی۔

’’ماویہ یہ کیا حرکت ہے، بری بات۔‘‘ غافرہ نے کچن سے آواز لگائی۔

’’مما… یہ بھی کب سے مجھے پریشان کر رہا ہے۔‘‘ ماویہ نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

’’چلو اب ختم کرو جھگڑا۔ دونوں اپنے نوٹس نکال کر قرآن کھول کر رکھو۔ آج جمعہ ہے بھول گئے کیا۔ میں بس دو منٹ میں آرہی ہوں۔‘‘

’’آپ کو تو صرف سننا ہوتا ہے تو بھی آپ ایک بار بھول جاتی ہیں کہ دن کو ن سا ہے مجھے تو نیند میں بھی لگتا ہے کہ آنکھ کھلے گی تو شاید جمعہ کا دن نکلے گا۔‘‘ یحییٰ ہلکا سا بڑبڑایا تو کمرہ میں داخل ہوتی غافرہ بس اسے گھور کر رہ گئی یہ اور بات ہے کہ اس کی بات پر وہ محظوظ بھی ہوئی۔

وضو کر کے ماویہ اسکارف پہنے اور یحییٰ اپنی چھوٹی سی جالی دار ٹوپی پہنے قرآن اور اس میں رکھے اپنے نوٹس لیے بیٹھے تھے۔ غافرہ کا ماننا تھا کہ گھر میں دو تین Commonقرآن ہونا اچھی بات ہے مگر یہ زیادہ اچھا ہوتا ہے کہ ہر کسی کا اپنا خود کا ایک قرآن کا نسخہ ہو۔ اس نے ایک Coloured تجوید والا قرآن کا نسخہ ماویہ اور یحییٰ کے لیے خریدا تھا… وہ انہیں جو بھی ٹارگٹ دیتی اس کے نوٹس بنانے کے لیے کہتی اور وہ نوٹس قرآن میں ہی رکھنے کی ہدایت کرتی۔ یہ ایک محبت بھرا تعلق پیدا کرنے کا طریقہ ہے اپنی چیزوں کے ساتھ انسان کی ایک الگ Bondingہوتی ہے۔ وہ دونوں ہی اپنے قرآن کے نسخوں کو بہت احتیاط سے رکھتے۔

غافرہ قرآن پر غور و فکر کے ہر سیشن کے بعد دونوں کو ایک رنگین نوٹ پیڈ پر اس آیت کا نچوڑ چند جملوں میں لکھ کر دیتی جسے وہ اس آیت کے قریب میں حاشیہ کے پاس Stickکردیتے۔ اس عمر میں یہ انہیں ایک دلچسپ ایکٹی وٹی دیکھتی لیکن وہ اس بات سے بے خبر تھے کہ یہی چھوٹی چھوٹی باتیں آگے زندگی میں انہیں کیسے مدد کریں گی۔

’’چلو یحییٰ تم سے شروع کرتے ہیں… ‘‘ غافرہ نے اپنے سامنے رکھے قرآن کے نسخہ کو کھولتے ہوئے کہا تو ماویہ نے بھی اپنے قرآن سے مطلوبہ آیت نکال لی۔ اسی دوران ابتسام بھی خاموشی سے آکر صوفے پر بیٹھ گیا اور یوں ظاہر کرنے لگا جیسے موبائل میں کچھ کرنے میں مصروف ہے لیکن اگر قریب جاکر دیکھو تو پتہ چلے کہ موبائل تو سرے سے آن ہی نہ تھا وہ سوئچ آف تھا لیکن اب بیوی کو اتنا مان لینا… او ہو… کیسے ممکن تھا، لیکن بچوں کے لیے اتنا ہی کافی تھا کہ قرآن کے سیشن میں ابو بیٹھے ہیں۔

’’اعوذ باللہ من الشیطن الرحیم، بسم اللہ الرحمن الرحیم،

وَ عَجِّلْتُ اِلَیْکَ رَبِّیْ لِتَرْضٰی

یحییٰ نے بنا دیکھے آیت پڑھی اور پھر اس کا ترجمہ پڑھا۔

’’اے رب میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تاکہ تو خوش ہوجائے۔‘‘

’’یہاں اللہ کے پاس جلدی جانے کا مطلب ڈیتھ ہونا نہیں ہے… ایسا نہیں سوچنا کہ ہم اللہ کے طرف کیسے جاسکتے ہیں؟ اللہ تو اپنے پاس خود بلاتا ہے جیسے دادا ابا کو اللہ نے اپنے پاس بلالیا۔‘‘ اس نے غافرہ کی سمجھائی بات ماویہ اور ابتسام کو دیکھتے ہوئے یوں سمجھائی جیسے وہ دونوں بھی اس کا وہی مطلب نہ لے رہے ہوں جو وہ لے رہا تھا اور اتنا کہہ کر رک گیا۔

’’پہلے تو میں سوچ رہا تھا کہ جلدی کا کام شیطان کا ہوتا ہے مگر اللہ کے کام میں جلدی تو شیطان نہیں کرسکتا نا [یہ یحییٰ کی عادت تھی کہ وہ اپنے ہر خیال کو لکھ دیتا تھا اور اس کے پیچھے یہ خیال ہوتا کہ اس کے نوٹس ماویہ سے زیادہ لگیں]۔

’’پھر جیسے کہ ممی نے مجھے بتایا تھا کہ رب کی طرف آنے میں جلدی کرنے کا اللہ کے کام یعنی بھلائی کے کام میں جلدی کرنا… لیکن ممی کو شاید یاد نہیں کہ ایک بار ممی نے گھر صاف کرنے کے لیے کہا تھا اور میں اور آپی یہ کام ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے تب ممی نے کہا تھا کہ اللہ قرآن میں فرماتے ہیں کہ بھلائی کے کاموں میں سبقت لے جاؤ اور صفائی تو آدھا ایمان ہے اور سبقت لے جانے کا مطلب ہے پہل کرنا اور پہل وہی کرتا ہے جو جلدی کرتا ہے… اوکے تو مما میں یہ نہیں کہہ رہا کہ آپ نے غلط سمجھا یا یحییٰ نے بڑی سمجھ داری سے غافرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو سبھی نے اپنی مسکراہٹ دبائی۔‘‘

اس کا وہ مطلب بھی ہوگا لیکن جو مطلب میں نے سمجھا ہے وہ یہ ہے کہ… یہ کہہ کر کچھ دیر کے لیے وہ رک گیا۔ سبھی خاموش بیٹھے اسے دیکھ رہے تھے اس نے ایک نظر سب پر ڈالی اور ایک ٹھنڈی گہری سانس لی… [یہ سب کس لیے تھا یہ سبھی کو بعد میں سمجھ آیا]۔

میں نے یہ سمجھا کہ رب کی طرف بلانے والا دن میں پانچ مرتبہ بلاتا ہے، وہ اذان دے کر ہمیں بلاتا ہے کہ چلو رب کی طرف چلو۔ اور اللہ کو اول وقت میں پڑھی جانے والی نماز بہت پسند ہے۔ تو مجھے لگا کہ جب بھی اذان ہو سب کام چھوڑ کر چاہے وہ کتنے ہی امپورٹنٹ کیوں نہ ہوں سب چھوڑ کر ان کی طرف جانے میں جلدی کریں اس سے اللہ خوش ہوجائیں گے اور جن سے اللہ خوش ہوجائیں انھیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اللہ کی طرف سے انعام ملتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر وہ کچھ لمحوں کے لیے رک گیا۔

’’اذان اور نماز میں وقت ہوتا ہے تو پھر جلدی کرنے کا مطلب یہ ہے کہ جیسے ہی اذان کی آواز سنیں سب کام چھوڑ دیں جیسے ممی اگر کھانا پکا رہی ہوں تو وہ روک دیں۔ آپی اگر موبائل سے کھیل رہی ہوں تو وہ چھوڑ دیں اور اگر میں ہوم ورک کر رہا ہوں تو ہاتھ روک دوں [یہ کہتے کہتے اس نے کنکھیوں سے ماویہ کو دیکھا جو اس کی اس بات پر منہ ہی منہ میں کچھ بڑبڑاکر رہ گئی تھی)۔

’’اذان کے بعد کی دعا پڑھیں، وضو کریں، میں اپنی ٹوپی پہن لوں، ممی دو پٹہ باندھ لیں اور آپی اسکارف ڈھونڈ کر پہن لیں… (یحییٰ کبھی بھی خود کی بات نہیں کرتا تھا بلکہ وہ اپنے ساتھ سبھی کو لپیٹ لیتا تاکہ خود اس کی غلطی زیادہ ہائی لائٹ نہ ہو) …یہ نہ ہو کہ جماعت کھڑی ہوگئی اور تب وضو کریں، سارے گھر میں ٹوپی، اسکارف ڈھونڈا جا رہا ہو اور بھاگتے دوڑتے مسجد جا رہے ہوں۔ (یہ کہہ کر اس نے چور نظروں سے غافرہ کو دیکھا کیوں کہ اس کا یہی حال تھا… جماعت کھڑے ہونے کے وقت وہ غافرہ کی ڈانٹ ڈپٹ کے سائے میں وضو کرتا، ٹوپی پہنتا اور مسجد کے لیے بھاگتا)۔

’’تو یہ ہوتا ہے رب کے حضور آنے میں جلدی کرنا… تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے اور میں نے یہ آیت یاد کرلی ہے تاکہ جب بھی میرا دل نماز میں سستی کرنے کے لیے کہے تو میں یہ آیت پڑھ لوں اور یہ آپ سب کے لیے بھی… یہ کہتے ہوئے اس نے تین الگ الگ رنگ کے نوٹ پیڈ نکال کر ماویہ، ابتسام اور غافرہ کی طرف بڑھا دیے جس میں اس کی لکھائی سے آیت اور اس کا ترجمہ لکھا تھا… اور دیکھنے میں اسے مشکل ہوتی تھی مگر اس نے پھر بھی کوشش کی تھی۔

غافرہ کی آنکھوں میں ہلکی سی نمی چھانے لگی تھی… یہ اس کا کل اثاثہ تھا، وہ دھیرے دھیرے کامیاب ہو رہی تھی۔ یحییٰ پہلے ہی ضدی تھا، مشکل سے بات سنتا تھا، شرارتی تھا، اسے کوئی بات سمجھانا یا بتانا جوئے شیر لانے کے برابر تھا مگر وہ اس میں محبت خدا اور خوفِ خدا پیدا کرنے میں کامیاب ہوگئی تھی… وہ ہمیشہ کی طرح زبان سے ماشاء اللہ Good boyاللہ قبول کرے۔ تمہیں بہت ساری خوشیاں کامیابیاں اور جنت کی شکل میں ابدی خوشی عطا کرے۔ وہ جیسے الفاظ ادا نہیں کر پائی بس یحییٰ کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی جانب کھینچا اور زور سے بھینچ لیا، اس کی پیشانی چوم لی۔

غافرہ کے اس طرح پیار کرنے پر یحییٰ لال لال سا ہوگیا اور دھیرے سے اس کے کان میں کہا ’’مما مجھے یقین ہوگیا کہ آپ مجھے درگاہ والی پہاڑی سے نہیں لائے …‘‘ اس کی بات پر وہ ہنس دی۔

’’ماشاء اللہ … آج یحییٰ نے بہت اچھے سے غور و فکر کیا اور انشاء اللہ ہم سب اس پر عمل کریں گے، تو کیا تحفہ چاہیے ہمارے بیٹے کو‘‘ غافرہ نے ہلکے سے اس کے بال سہلاتے ہوئے پوچھا تو یحییٰ Super exeitedہوگیا۔

’’تحفہ! گفٹ!! اوہو… نہیں یہ آپ پر ڈیو رہے گا۔ بس جب جو بھی چاہیے ہوگا میں آپ کو یہ وعدہ یاد دلا دوں گا۔ ٹھیک ہے نا! نہیں رکیے… ذرا اس پیج پر لکھ دیجیے آپ مجھے تاکہ … (پھر ایک نظر غافرہ کے چہرے پر ڈالی… اگر مما ناراض ہوں گی تو … اور پھر جملہ بدل دیا تاکہ مجھ یاد رہے کہ آپ نے ایسا کوئی وعدہ کیا تھا۔‘‘ اس کی چالاکی پر ماویہ نے دانت کچکچائے… پورا چھوٹ کا پٹاخہ ہے یہ۔

’’ٹھیک ہے… ‘‘ غافرہ نے ہنستے ہوئے اس صفحہ پر اپنی بات اور تاریخ بھی لکھ دی اور نیچے اپنے دستخط بھی کردیے۔ اور اسی صفحہ کے اوپر وہ آیت بھی لکھ دی، جسے یحییٰ نے بڑی حفاظت سے اپنے قرآن میں لکھ دیا۔

’’چلو آپی اب آپ کی باری ہے…‘‘ یحییٰ جان گیا تھا کہ آج تو وہ بازی مار گیا ہے اس لیے اس کی اتراہٹ اس کے ہر انداز میں تھی…

’’ہاں! چلو ماویہ بیٹی آپ کو کس بات پر سوچنا تھا؟‘‘

’’ممی سورہ بقرہ پر… آپ نے صرف ترجمہ پڑھنے کے لیے کہا تھا اور تھوڑا Broadlyبتانا تھا کہ کیا سمجھا۔‘‘ ماویہ نے وضاحت کی…

’’توبہ توبہ آپی… ۱۲ دن میں صرف ترجمہ اور اس میں بھی broadly اور grosslyکر رہی ہیں آپ؟ آپی محنت کرنی پڑتی ہے اور قرآن سے دوستی کرنی ہوتی ہے پھر ہر آیت خود اپنا مطلب سمجھاتی ہے۔‘‘

یحییٰ نے بڑے ہی متاسف نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے فلاسفی جھاڑی تو ماویہ بس صبر کا گھونٹ پی کر رہ گئی۔

’’اس … کو تو میں فرصت میں دیکھوں گی۔‘‘ جب کہ غافرہ نے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا۔ تو وہ دوبارہ قرآن میں دیکھنے لگا۔

ماویہ ۱۵ سال کی ہوگئی تھی اور پچھلے کئی سالوں سے وہ ایسے سیشن اور ٹارگٹ کی عادی تھی تو اس کے نوٹس اور باتوں میں زیادہ پختگی ہوا کرتی تھی۔

سورۃ البقرہ قرآن کی سب سے بڑی سورت ہے۔ بقرہ کے معنی گائے کے ہیں چوں کہ اس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام، ان کی قوم اور گائے کا قصہ بیان کیا گیا ہے اسی لیے اس کا نام بقرہ ہے۔ میں نے جب سورہ بقرہ پڑھی تو اس میں احکامات کے علاوہ بہت سارے واقعات کا ذکر ہے۔’’ماویہ ان تینوں کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھی ۱۲-۱۵ دن تک ان پر تدبر کرنے کی وجہ سے اسے اپنے نوٹس تقریبا یاد ہوگئے تھے لیکن یحییٰ کو اسے کہاں بخشنا تھا۔

’’آپی آپ کے نوٹس کہاں ہیں؟ مما کا Strict orderہوتا ہے کہ نوٹس ہونا ہی چاہئیں۔ یحییٰ آج Man of the show ہی بنا رہنا چاہتا تھا لیکن اس بار غافرہ کو بولنا ہی پڑا۔

یحییٰ … کیا آپ کو یاد نہیں کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے خاموشی کے ساتھ سننا چاہیے کہ اللہ ہم پر رحم کرے، تو اب ماویہ جو کچھ کہہ رہی ہے وہ ہم سب کو دوسری سب باتوں کو ذہن سے نکال کر (غافرہ نے خصوصی طور پر یحیی کو دیکھتے ہوئے کہا) خاموشی سے سننا ہے۔ ٹھیک!

’’جی …‘‘ یحییٰ نے نظریں جھکاتے ہوئے فرماں برداری سے کہا۔

’’یہ ممی تھوڑی کہہ رہی ہیں یہ تو اللہ نے فرمایا ہے کہ جب قرآن پڑھا جائے تو اسے غور سے سننا چاہیے تاکہ رحم کیا جائے۔ یہ تو اللہ کا حکم ہے اور اللہ کا حکم ماننے میں جلدی کرنی چاہیے تاکہ اللہ ہم سے راضی ہو جائے … یہ تو اللہ کا حکم ہے اور اللہ کا حکم ماننے میں جلدی کرنی چاہیے تاکہ اللہ ہم سے راضی ہوجائے… واؤ ایک اور بات سمجھی مجھے…‘‘ یحییٰ نے دل ہی دل میں خود سے کہتے ہوئے قرآن پر نظریں جما دیں۔‘‘ دل میں قرآن کے نور سے شمعیں چلنے لگی تھیں جن کا نور پھیل رہا تھا۔ اور پھر ماویہ نے اپنی بات آگے بڑھائی۔

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد