مٹی کا آدمی

جمعہ کادن تھا۔ صبح کا وقت تھا۔ میں خالی دماغ سے اخبارات کے صفحات دیکھ رہا تھا۔ ساری رات میں نے خواب میں خود کو اڑتے دیکھا تھا۔ صبح اٹھا تو دماغ اپنی جگہ پر نہیں تھا۔ اخبارات کے رنگین صفحات پر خوف ناک مسٹنڈے پہلوانوں، بدمعاشوں، چوروں، اچکوں، قاتلوں، ڈاکوؤں، دانشوروں اور سیاست دانوں اور انڈر ٹریننگ سیاست دانوں کے رنگین فوٹو دیکھ کر میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کا قائل ہو رہا تھا۔

میں غور سے ایک نہایت ہی خوف ناک اور خبیث قسم کے بوڑھے کی تصویر دیکھ رہا تھا، جس نے اسی سال کی عمر میں ایک سولہ سالہ لڑکی سے شادی کی تھی۔ اخبار کے صفحے پر سے لڑکی کی تصویر غائب تھی اور اس بوڑھے دولھے کی تصویر نمایاں تھی جس نے اپنی داڑھی کے بال اور گنج پر بچے کھچے بالوں کو کسی ظالم کے دل کی طرح خضاب سے کالا کر رکھا تھا۔ اسی وقت اچانک باہر کا دروازہ کھٹکا۔

میں نے چینے سے کہا: ’’یار چینے! میرا خیال ہے کرایہ دار قرض کی وصولی کرنے آئے ہیں۔‘‘

چینا مٹی سے آدمی بنا رہا تھا۔ پوچھا: ’’دروازہ کھولوں کیا؟‘‘

’’ایک ٹیلی ویژن ڈرامے سے پیسے ملے ہیں۔‘‘ میں نے کہا: ’’دروازہ کھول دو۔ آج اپنا قرض اتاریں گے اور کچھ یاروں کو قرض میں مبتلا کریں گے۔‘‘

چینے نے کہا: ’’آدمی کے چہرے پر ناک لگا کر ایک منٹ میں دروازہ کھولتا ہوں۔‘‘

چینا میرا چھوٹا بھائی ہے۔ وہ دس سال کا ہے۔ بے حد ذہین ہے۔ دکھ سکھ میں میرا ساتھی ہے۔ مجھے دکھی نہیں ہونے دیتا۔ میں کبھی کبھی چینے کے لیے بڑا اداس ہو جاتا ہوں۔ مجھے معلوم ہے کہ چینا ایک نہ ایک دن اپنی ذہانت کے سبب مارا جائے گا۔ ہمارا معاشرہ سطحی سوچ رکھنے والوں کے لیے نہایت موزوں اور مناسب معاشرہ ہے۔ مگر ہمارے معاشرے میں ذہین آدمی کے لیے ملامت اور موت کے سوا کچھ نہیں ہے… کچھ عرصے سے چینا، مٹی سے آدمی بنانے لگا ہے لیکن اس کے بنائے ہوئے آدمی مائیکل اینجلو اور شاکر علی کے بنائے ہوئے آدمیوں سے مختلف ہوتے ہیں۔

دروازہ دوبارہ کھٹکا۔

چینے نے آدمی کا چہرہ ناک کے بغیر چھوڑ دیا۔ اس کے دونوں ہاتھ مٹی سے بھرے ہوئے تھے۔ باہر دروازے کی طرف جاتے ہوئے بولا ’’ٹینا کا باپ ہوگا۔ رات کی پارٹی سے بچے ہوئے کیک کا ٹکڑا لے کر آیا ہوگا۔‘‘

ٹینا اور اس کا باپ ہمارے پڑوسی ہیں۔ٹینا ایک پرائیویٹ فرم میں اسٹینو گرافر ہے اور وہ بہت اچھی آواز اور انداز سے باتیں کرتی ہے۔ اور اس کا باپ وکٹر ڈی سوزا ریٹائرڈ ریلوے گارڈ ہے۔ وہ اپنے وقت کا مشہور کرکٹر ہے۔ جوانی میں کرسچن کرکٹ کی طرف سے کھیلتا تھا ور بہت تیز بالنگ کیا کرتا تھا۔ اس کے گھر پر کبھی کبھی پارٹیاں بھی ہوتی ہیں، جس میں ٹینا کی فرم کے ملازم شامل ہوتے ہیں۔ وہ لوگ رات دیر تک ہنگامہ برپا رکھتے ہیں۔ صبح کو اکثر یہ ہوتا کہ ٹینا کا باپ وکٹر ڈی سوزا، رات کی پارٹی سے بچا ہوا کیک اٹھائے ہمارے پاس آتا اور رات بھر کی ہنگامہ آرائیوں پر معذورت کرتا اور پھر صبح کی چائے ہمارے ساتھ پیتا۔ وکٹر ڈی سوزا کی چینے سے پکی دوستی ہے۔ وہ چینے کو مٹی سے آدمی بنانے کے لیے طرح طرح کی ہدایتیں اور مشورے دیتا ہے۔ وہ چینے سے کہتا ہے: ’’کبھی کبھی ایسا آدمی بھی بنایا کرو جس کے چہرے پر کانوں کے بجائے کھن (سور کے کان) ہوں۔‘‘

چینے نے دروازہ کھولا۔ دروازے کے باہر وکٹر ڈی سوزا کے بجائے ہمارا دوسرا پڑوسی سومار چانڈیو کھڑا تھا… دروازے سے اس نے مجھے آنگن میں اخبار پڑھتے دیکھا، تو ایک دم اندر چلا آیا۔ اس سے پہلے کہ میں اس سے حال احوال پوچھتا، اس نے کہا ’’میرے بیٹے ولوکا دماغ پھر خراب ہوگیا ہے۔ میں اسے چارپائی کے ساتھ باندھ کر آرہا ہوں۔‘‘

میں نے پوچھا: ’’دورہ پڑا ہے کیا؟‘‘

اس نے رونے کی سی آواز میں کہا: ’’ہاں۔‘‘

سومار چانڈیو ایک سرکاری آفس میں پٹے والا ہے۔ اس کا بیٹا وَلو میٹرک میں پڑھتا ہے۔ صبح وہ اسکول جاتا ہے اور رات کو دھوبی کی دکان پر کپڑے استری کرتا ہے۔ لوگوں کا خیال ہے کہ چانڈیو کا بیٹا ولو یاتو آدھا پاگل ہے یا پھر اس پر جن بھوتوں کا اثر ہے۔ لیکن ولو ہمیں کبھی پاگل نہیں لگا۔ وہ اپنے اسکول کا ایک اچھا شاگرد ہے۔ اور اس کول کی والی بال ٹیم کا ایک ممبر ہے۔ بس کبھی کبھی اس پر دورہ پڑتا ہے۔ تب اس کا سارا جسم پہلے کانپنے لگتا ہے اور پھر پسینے میں تر ہو جاتا ہے۔ ایسی کیفیت میں وہ گھر سے بھاگنے کی کوشش کرتا ہے اور صرف ایک ہی جملہ بار بار منہ سے نکالتا ہے۔ ’’میں سب سمجھتا ہوں، میں سب سمجھتا ہوں، میں چوک پر کھڑا ہوکر سچ بولوں گا۔‘‘

رشتہ دار عزیز سب اسے سمجھاتے ہیں کہ ’’بیٹے! سچ بولنے کا رواج ختم ہوچکا ہے۔ اور ویسے بھی ہم مسکین لوگوں کا بھلا سچ سے کیا واسطہ…؟ کیوں سچ کا نام لے کر ہم سب کو مصیبت میں ڈالتے ہو؟‘‘

لیکن دورے کے دوران وَلوکو کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔ ایک ہی بات بس اس کے منہ پر ہوتی ہے کہ ’’میں سب سمجھتا ہوں، میں سب سمجھتا ہوں، میں چوک پر کھڑا ہوکر سچ بولوں گا۔‘‘

سومار چانڈیو کو کچھ سیانوں نے مشورہ دیا تھا کہ اپنے بیٹے کا علاج ملک کے مشہور ڈاکٹر اور سرجن جمعہ خان سے کراؤ۔ وہ دماغ کا بڑا ماہر ڈاکٹر ہے۔ اور اگر دماغ میں کسی طرح کا خلل ہو تو وہ نکال دیتا ہے۔ سومار چانڈیو نے حامی بھرلی تھی۔ لیکن جب اسے ڈاکٹر جمعہ خان کی فیس اور اسپتال کے گردن توڑ خرچ کا علم ہوا، تو اس نے ایک ٹھنڈا سانس لیتے ہوئے کہا ’’آئندہ ایک صدی میں بھی میں اپنے بیٹے کا علاج کسی اسپیشلسٹ سے نہیں کراسکوں گا۔‘‘

وَلو اور محلے کے دوسرے بچوں کا مجھ سے بھائی چارہ ہے۔ وہ میری بات سمجھ سکتے ہیں اور میں ان کی بات سمجھ سکتا ہوں۔ اگر میری شادی ہوئی ہوتی اور میرے بچے ہوتے تو محلے کے کتنے ہی بچوں سے عمر میں بڑے ہوتے۔ اس کے باوجود کہ میری شادی نہیں ہوئی، بچے مجھے ’اداوڈ‘ (بڑا بھائی) کہہ کر بلاتے ہیں۔ وَلو میری بہت عزت کرتا ہے اور میری بات کبھی نہیں ٹالتا۔ وہ چینے سے بھی بہت محبت کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسے جب بھی دورہ پڑتا ہے اس کا باپ سومار چانڈیو دوڑتا ہوا آتا ہے۔ میں ہوتا ہوں تو مجھے ورنہ چینے کو اپنے گھر لے جاتا ہے۔ ہم وَلو کو راضی کرتے ہیں، سمجھاتے ہیں اور پھر اسے اپنے گھر لے آتے ہیں۔ پھر جب وہ ٹھیک ہو جاتا ہے تب اسے اس کے گھر چھوڑ آتے ہیں۔

یہ جس جمعہ کی بات ہے، سومار چانڈیو ہمیں بہت پریشان نظر آیا۔ وہ آتے ہی بولا: ’’وَلو نے چارپائی کے پائے سے اپنا ماتھا مار کر پھاڑ ڈالا ہے۔ خون بری طرح سے بہہ رہا ہے۔ مگر وہ پٹی باندھنے نہیں دیتا۔‘‘

ہٹیّ کٹّے، مسٹنڈے مردوں کی ہیبت ناک تصویروں سے مرصع اخبار چارپائی پر رکھ کر میں سومار چانڈیو کے ساتھ اس کے گھر گیا۔

وَلو چارپائی سے بندھا ہوا تھا۔ اس کی ناک سے خون بہہ رہا تھا۔ اس نے دیکھا تو تڑپتے ہوئے چیخ کر کہا: ’’میں سب سمجھتا ہوں، میں سب سمجھ تاہوں، میں چوک پر کھڑا ہوکر سچ بولوں گا۔‘‘

مجھ پر نظر پڑی تو خاموش ہوگیا۔ میں ذرا دوسروں سے ہٹ کر اس کے قریب بیٹھ گیا۔ وہ روہانسی آواز میں بولا: ’’دیکھ رہے ہو اَداوڈا! مجھے چارپائی سے باندھ دیا ہے۔‘‘

میں نے رسّیاں کھولتے ہوئے کہا: ’’غلط کیا ہے میرے بیٹے، میرے بچے۔‘‘

میں نے ولو کو رسیوں سے آزاد کیا۔ وہ اپنے خون آلودہ منہ کو میرے سینے میں چھپائے رونے لگا اور کہنے لگا۔ ’’میں چوک پر کھڑا ہوکر سچ بولوں گا۔‘‘

پھر میں نے اس کے چہرے سے خون صاف کرتے ہوئے کہا: ’’اس بار ہم چل کر چینے سے مشورہ کریں گے۔ اگر چینے نے مشورہ دیا تو تمہیں چوک پر کھڑا ہوکر سچ بولنے میں پوری مدد دی جائے گی اور پھر تمہیں سچ بولنے سے کوئی بھی نہیں روک سکے گا۔‘‘

وَلو کو ماتھے پر پٹی باندھ کر میں اسے اپنے گھر لے آیا۔ چینا آدمی کے منہ پر ناک لگانے میں ابھی کامیاب نہیں ہوا تھا… وَلو کے ماتھے پر پٹی بندھی دیکھ کر اس سے پوچھنے لگا ’’سر میں سے دماغ نکالنے کی کوشش کی تھی کیا؟‘‘

وَلو کے خشک ہونٹ گیلے ہوگئے۔

میں نے چینے سے کہا:

’’یہ ہمارا ساتھی ولو، چوک پر کھڑا ہوکر سچ بولنے کے موڈ میں ہے تمہاری کیا صلاح ہے؟‘‘

چینا ایک دم سنجیدہ ہوگیا۔ سوچ میں گم ہوگیا۔ ہم سب نے محسوس کیا چینا اپنی طبعی عمر سے کہیں ذہین ہے۔ سندھو (دریائے سندھ) نے ایک بار کہا تھا ’’چینے کے روپ میں کسی ذہین یونانی دیوتا نے دوبارہ جنم لیا ہے۔‘‘

چینے نے اٹھ کر کہا:

’’میں وَتائی فقیر کا وارث ہوں۔‘‘

سندھو نے پھر اٹھ کر اسے پیار کیا اور جب وہ چلی گئی تب چینے نے مجھ سے کہا تھا:

’’سندھو، تمہاری میری ہیکل ہے اور وہ تمہاری ایک ایک تحریر پر حاوی رہے گی۔ لیکن خلیل جبران اور میری ہیکل کی طرح تم دونوں کی بھی آپس میں شادی نہیں ہوسکے گی۔‘‘

مجھے لگتا ہے کہ چینا اَن لکھی تاریخ کے آئینے میں دیکھ سکتا ہے۔ وہ آنے والے دور کا امین ہے، اس نے ایک دفعہ دلو سے کہا تھا: ’’تم کس کے بارے میں چوک پر کھڑے ہوکر سچ بولوگے؟کیا دھرتی کے بارے میں، آسمان کے بارے میں، انسان کے بارے میں، عقیدے کے بارے میں، محبت کے بارے میں، زندگی کے بارے میں، موت کے بارے میں؟ تم کس کے بارے میں چوک پر کھڑے ہوکر سچ بولوگے؟‘‘

تب وَلو میرے پیچھے کھڑا تھا۔ وہ پاگل سا ہوگیا۔

پچھلے جمعہ کو چینا ایک دم سنجیدہ ہوگیا۔ وہ کچھ دیر ولو کی طرف دیکھتا رہا۔

’’چینے کیا دیکھ رہے ہو؟‘‘ وہ بولا ’’وَلو چوک پر کھڑے ہوکر سچ بولنے کے موڈ میں ہے۔‘‘

چینا گوندھی ہوئی مٹی اور نامکمل جسموں کی طرف چلا گیا۔ اور ناک بنا آدمی کا مجسمہ لے آیا۔ ناک کے بغیر آدمی بہت عجیب لگ رہا تھا۔

’’تم، میں اور اَداوڈ، چوک پر کھڑے ہوکر سچ نہیں بول سکیں گے۔ ہمارے لیے سچ بولنے کا وقت گزر چکا ہے۔‘‘ چینے نے مٹی کے آدمی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:

’’اس آدمی کے منہ پر جب ناک لگ جائے گی، تب یہ آدمی چوک پر کھڑا ہوکر ہم سب کے بارے میں سچ بول سکے گا۔‘‘

چینے کا آخری جملہ سن کر مجھے اپنے بدن میں کپکپی محسوس ہوئی۔ میں نے ڈرتے ڈرتے اپنے عکس کی طرف دیکھا۔ یہ یقین کرنے کے لیے کہ میرے منہ پر ناک ہے یا نہیں ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سندھی: امر جلیل، ترجمہ: فیاض اعوان