ناقابلِ معافی

ارے رہنے بھی دیں صغیر بھائی … میں اٹھالوں گی۔ آپ کیوں تکلیف کرتے ہیں؟‘‘ ناعمہ نے اپنے میزبان کو اپنا بھاری سوٹ کیس گاڑی میں سے گھسیٹتے دیکھ کر آواز لگائی۔

’’ارے بھئی، آپ بے فکر ہوجائیں۔ ابھی تو ہم جوان ہیں اور آپ ہماری مہمان ہیں۔ آپ بس اپنا بیگ اٹھائیں اور چلیں اپنی سہیلی کے ساتھ۔‘‘ صغیر نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور دونوں خواتین کو گھر کے اندر جانے کا کہہ کر سامان اٹھانے لگا۔

ناعمہ نے ارد گرد کے ماحول پر نظر دوڑائی۔ سب کچھ کتنا سرسبز، ٹھنڈا، صاف ستھرا اور خوب صورت تھا۔ یہ پرانا انگلستانی شہر اپنے خوب صورت گرد و پیش کی وجہ سے جنت کا ٹکڑا محسوس ہوتا تھا۔

’’کہاں کھوگئیں سیاح صاحبہ۔ چلو گھر کے اندر چلونا… ٹھنڈ بڑھتی جا رہی ہے۔ فیروزہ نے ناعمہ کو ہلکا سا ٹہوکا دیا تو وہ چونک کر مسکرائی اور تیز تیز قدم اٹھاتی اپنی سہیلی کے ساتھ چلنے لگی۔

ان کا پرانے انگلش اسٹائل کا بڑا ساپروقار، شاندار اور بارعب گھر بہت متاثر کن تھا۔ لکڑی کے بڑے بڑے قدیم طرز کے دروزے ان پہ لگے آہنی کنڈے، تالے، چمکدار فرش اور وال پیپر سے مزین دیواریں دیکھ کر ناعمہ تو کھو سی گئی۔ گھر میں گھستے ہی کان پھاڑ دینے والی خاموشی کی آواز نے ان کا استقبال کیا تو ناعمہ نے ایک لمحے کے لیے سوچا۔ سناٹا اتنا پرشور بھی ہوسکتا ہے کہ اس میں انسان کے اپنے دل کی دھڑکن تک نہ سنائی دے سکے۔ گھر میں کوئی ذی روح دکھائی نہیں دے رہا تھا حالاں کہ اس نے سن رکھا تھا کہ صغیر بھائی کے بچے بھی ان کے ساتھ اسی گھر میں رہتے ہیں۔

وہ اپنی سہیلی فیروزہ کے بے حد اصرار پر اس کے نئے شوہر صغیر سے ملنے اور اس کا نیا گھر دیکھنے ان کے شہر مانچسٹر آئی تھی۔ صغیر صاحب اور فیروزہ دونوں اپنی زندگی کے پہلے شریک سفر ساتھیوں کو کھوچکے تھے مگر اب باقی ماندہ زندگی گزارنے کے لیے انھوں نے ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لیا تھا اور خوب گزر رہی تھی ان دو دیوانوں کی۔ سبھی رشتہ دار، دوست احباب خوش تھے کہ فیروزہ اور صغیر ایک دوسرے کے ساتھ تھے اور اب انھیں تنہائی کا سامنا نہ تھا۔ ’’بچے کہاں ہیں فیروزہ۔ ارے بھئی انھیں بھی بلاؤنا، اکٹھے مل کر کھانا کھالیں۔‘‘ ناعمہ نے پرتکلف لنچ ٹیبل پر سجا دیکھ کر سادگی سے سوال کیا۔ ’’کیا وہ ہمارے ساتھ نہیں کھائیں گے۔‘‘ نہیں۔ فیروزہ نے مختصرا جواب دیا اور توے پہ تازہ روٹی ڈالنے لگی۔

تینوں خوش گوار ماحول میں گپ شپ کرنے لگے۔ کبھی انگلستان کے سرد موسم کے حوالے سے رویوں کے سرد ہوجانے کا ذکر ہوا اور کبھی ملک کے سیاسی حالات پر تبصرے ہوئے۔ کبھی گپیں ہانکی گئیں۔

’’آپ کو انگلستان آئے ہوئے کتنے برس ہوئے صغیر بھائی۔‘‘ ناعمہ نے پوچھا۔ جب ایوب خان نے ساٹھ کے عشرے میں ہری پور، میر پور اور قریبی علاقوں سے انگلستان کی فیکٹریوں میں کام کرنے کیلیے لیبر بھیجی تھی ہم بھی نکل آئے تھے۔ میری شادی پاکستان میں ہوئی تھی مگر ہمارے بچے انگلینڈ میں ہی پیدا ہوئے۔ کتنے خوش تھے ہم میاں بیوی کہ ہمارے بچوں کو انگلش شہریت اور تعلیم و تربیت نصیب ہوئی۔‘‘

فیروزہ چونکہ پاکستان سے آئی تھی اس لیے وہ بھی صغیر کی باتیں دلچسپی سے سننے لگی۔

’’تو یہ اتنے سال ہوگئے آپ کو یہاں۔‘‘ ناعمہ نے یقین نہ آنے والے انداز میں کہا۔

’’ہاں مگر بہت دکھ کاٹا‘‘ صغیر کی آواز کپکپانے لگی اور ناعمہ نے موضوع بدلنے میں ہی عافیت جانی۔ وہ ان دونوں کو دیکھ دیکھ کر خوش ہوتی رہی کہ دونوں اب ایک دوسرے کے دکھوں کا مداوا بنے ہوئے تھے اور ایک دوسرے کے ساتھ اتنی اچھی طرح ہم آہنگ ہوتے نظر آ رہے تھے۔

اتنے بڑے سے بھول بھلیوں والے گھر کے لاؤنج سے اوپر جاتی چوبی سیڑھیاں دیکھ کر ناعمہ کو پراسرار انگلش فلمیں یاد آنے لگیں۔ انہی سیڑھیوں سے اوپر کی منزل کو جاؤ تو شب خوابی کے کمرے یوں سجے سجائے جیسے کسی رسالے کے فوٹو شوٹ میں سے نکالے گئے ہوں۔ ہر چیز اتنی مناسب، اتنے قرینے سے تھی کہ ناعمہ فیروزہ کی انتظامی صلاحیتوں پہ اش اش کر اٹھی۔

آنے والے دنوں میں ناعمہ نے صغیر صاحب کے دونون بچوں کو بھی راہ داریوں میں سے گزرتے، سیڑھیوں پر سے اترتے چڑھتے دیکھ ہی لیا۔ یہ پندرہ سولہ سال کے جڑواں بچے تھے۔ ایک لڑکی اور ایک لڑکا جنہیں صغیر صاحب پیار سے چنو اور منو کہہ کر پکارتے تھے۔

’’کتنے پیارے نام ہیں ان کے چنو او رمنو… بالکل دیسی۔ کس نے رکھے تھے ان کے یہ نام؟‘‘ ناعمہ نے خوش ہوکر صغیر سے سوال کیا۔

’’ان کی امی نے۔ اللہ بخشے زرینہ ان دو چھوٹے بچوں سے حد سے زیادہ پیار کرتی تھی۔ وہ اکثر رات کو سونے سے پہلے انھیں چنو منو کی کہانی سناتی تو وہ بہت خوش ہوتے اور اس کہانی سے کبھی نہ اکتاتے۔ مگراب تو کہانی ہی ختم ہوگئی…‘‘ صغیر بھائی اداس ہوگئے۔

’’ارے چلیں آئیں آئس کریم کھانے چلتے ہیں۔‘‘ فیروزہ نے صورت حال کو بگڑتا دیکھ کر خیال پیش کیا تو صغیر بھائی کے چہرے پر چھائے اداسی کے بادل چھٹ گئے اور دھوپ نکل آئی…

چنو او رمنو صبح سویرے اٹھ کر اسکول جانے کے لیے گھر سے نکل جاتے تو صغیر بھائی اوپر جاکر ان کے کمرے صاف کرتے، ان کے کپڑے واشنگ مشین میں دھوتے، ان کے باتھ روم چمکاتے۔ فیروزہ کے فرائض میں یہ سب کچھ شامل نہ تھا۔ اس لیے باقی گھر کا کام کاج وہی سنبھالتی۔ شام ڈھلے چنو اور منو گھر آتے تو فاسٹ فوڈ کا کوئی بیگ ان کے ہاتھوں میں ہوتا جسے وہ لے کر سیدھے بیسمنٹ میں بنے ٹی وی روم میں چلے جاتے۔ وہیں کھاتے اور ٹی وی دیکھتے رہتے۔ رات گئے وہ سیڑھیاں چڑھتے اور خاموشی سے اپنے بیڈ روم میں جاکر سو جاتے۔ ایک دوبار ناعمہ نے انھیں اپنے سامنے پاکر خوش دلی سے ہیلو، ہائے، ہاؤ آریو کہا تو وہ تمیز کا مظاہرہ کرتے ہوئے سر ہلاکر آگے بڑھ گئے اور وہ وہیں کھڑی کی کھڑی رہ گئی۔ نہ جانے کیوں اسے ان بچوں سے خواہ مخواہ کی دلچسپی پیدا ہوگئی تھی۔ وہ حیران ہوتی رہتی تھی کہ ایک ہی گھر میں رہتے ہوئے ان بچوں کی اتنی علیحدہ سی زندگی کیوں تھی؟

ایک روز پھر جب فیروزہ نے کوئی انوکھی سی ڈش بنائی تو ناعمہ کہے بغیر نہ رہ سکی۔

’’بچوں کو بھی بلالیں صغیر بھائی۔ وہ بھی کھالیں اپنی نئی ممی کے ہاتھ کا کھانا۔‘‘

’’وہ لوگ یہ کھانا نہیں کھاتے۔‘‘ صغیر نے مختصرا جواب دیا اور خود کانٹے سے سلاد کھانے میں مصروف ہوگئے۔

’’حیرت کی بات ہے انھیں گھر کا پکا ہوا اتنا مزے دار کھانا پسند نہیں۔‘‘

ناعمہ چپکی نہ رہ سکی۔ فیروزہ اور صغیر خاموش رہے۔ ناعمہ کھڑکی سے باہر گرتے ہوئے خشک سنہری پتوں کی سرسراہٹ اور دیوانی ہواؤں کی مدھم دستک سن کر سوچنے لگی۔‘‘ اس اتنے بڑے خوب صورت، قدیم انگلش کنٹری سائڈ ہوم میں کیا زندہ انسانوں کے ساتھ ساتھ مردہ انسان بھی اقامت پذیر ہیں جن میں زندگی کی کوئی رمق بھی دکھائی نہیں دیتی؟ بچوں کا معمہ اسے الجھائے چلا جا رہا تھا اور وہ الجھتی چلی جا رہی تھی۔

ایک روز صغیر اور فیروزہ کی کسی دوست فیملی نے انھیں کھانے پر بلایا تو وہ ناعمہ کو بھی ساتھ لے کر ان کے ہاں جا پہنچے۔ یہ مانچسٹر میں سالہا سال سے رہنے والے قادر بخش ٹیکسی ڈرائیور کا گھر تھا جو کیمبل پور پاکستان کے کسی نواحی قصبے سے ہجرت کر کے یہاں آئے ہوئے تھے۔ قادر بخش اور ان کی بیوی زرینہ نے روایتی مہمان نوازی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حد سے زیادہ پرتکلف کھانا تیار کیا تھا۔ جس میں مرغ پلاؤ، شامی کباب، کریلے گوشت سے لے کر سوجی کا حلوہ تک شامل تھا۔ سب نے پیٹ بھر کر کھایا اور پکانے والی کی خوب تعریف کی۔

کھانے پر قادر بخش کا ایک بھانجا بھی موجود تھا جو ماحولیات پر پی ایچ ڈی کر رہا تھا۔ دیکھنے میں وہ زیادہ پڑھا لکھا یا ذہین نہیں لگتا تھا مگر اس کی گفتگو بہت بامعنی اور بامقصد تھی۔

’’آپ کے کتنے بچے ہیں؟‘‘ ناعمہ نے دیوار پہ لگی تصویروں کو دیکھ کر زرینہ سے پوچھا۔ قادر بخش کی بیوی نے فخریہ انداز میں دیواروں کی طرف دیکھا۔

’’چار بیٹیاں ایک بیٹا ہے۔‘‘ جواب ملا۔

’’پڑھتی ہیں؟‘‘ ناعمہ نے سوال کیا۔

’’نہیں پڑھ چکیں… اب لندن میں رہتی ہیں نوکریاں کرتی ہیں۔ اپنی اپنی زندگی ہے ان کی۔‘‘ زرینہ کے لہجے سے بے بسی چھلکنے لگی۔

مرد حضرات تھوڑی ہی دیر میں ڈرائنگ روم میں جاکر ٹی وی دیکھنے لگے اور قادر بخش کی بیوی اپنی ماں اور ساس کو جو ان کے ساتھ ہی رہتی تھیں، کھانا دینے لگی۔ تقریباً اسی اسی برس کی دو ضعیف دیہاتی عورتیں، آنکھوں پہ عینکیں لگائے، گرم سوٹ شالیں اوڑھے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھی خاموشی سے ہیٹر کی گرمی سے لطف اندوز ہوتی نظر آرہی تھیں۔

ہائے یہ بے چاریاں یہاں؟ اپنے کیمبل پور سے دور… رشتہ داروں کے بغیر، مانچسٹر کے ٹھنڈے، پرانی وضع کے گھر میں… نہ جانے کتنی اداس ہوتی ہوں گی۔ ناعمہ کے دل میں رحم کا طوفان موجزن ہوگیا۔

’’آپ کو اپنا گاؤں، اپنا محلہ، اپنے لوگ تو یاد آتے ہوں گے۔ کتنے سال سے آپ یہاں ہیں؟‘‘ ناعمہ نے پیار سے دونوں خاموش بتوں سے سوال کیا۔

دونوں ضعیف عورتوں نے نفی میں سر ہلا دیا۔ شاید اکیلی رہ رہ کر وہ بولنے کی طاقت اور خواہش سے بھی آزاد ہوچکی تھیں۔

’’آپ کو یہاں رہنا اچھا لگتا ہے؟‘‘ ناعمہ نے پھر انھیں کریدا۔ دونوں بوڑھیوں نے اثبات میں سر ہلا دیا۔

’’اچھا؟ وہ کیوں؟ ناعمہ سمجھنے سے قاصر تھی۔

’’کیوں کہ یہاں نلکوں میں ہر وقت گرم پانی آتا ہے۔ ایک نے جواب دیا۔

’’یہاں ہمارا علاج مفت ہوتا ہے۔ پھر بچے ہمارے پاس ہیں۔ وہاں رہیں تو آنکھوں سے دور ہوتے ہیں۔‘‘ دوسری نے جواب دیا۔

ناعمہ خاموشی سے انھیں تکتی چلی گئی۔ اس کا جی چاہا انھیں بتائے کہ اس وقت کے میر پور، ہری پور، کیمبل پور اور آج کے انہی شہروں میں اب بہت فرق ہوگیا ہے۔ اب وہاں بھی نلکوں میں گرم پانی آتا ہے۔ البتہ علاج کی سہولیات اور بچوں کی موجودگی کے بارے میں اس کے پاس کوئی خاطر خواہ جواب نہیں تھا اس لیے وہ خاموش بیٹھی رہی۔

اسی وقت ٹی وی پر خبر چلی۔ ایک لڑکی کو عین شادی کے دن اس کے ایک کزن نے قتل کر دیا تھا۔ انگلش ٹی وی والے اس لڑکی کے قاتل کا انٹرویو نشر کر رہے تھے جس میں وہ کہہ رہا تھا، لڑکی نے ہماری مرضی کے خلاف شادی کی ہے۔ اس لیے یہ ہماری غیرت کا سوال تھا۔ اسے سزا دینی ہی تھی۔ ٹی وی پر بہت سے شلوار قمیض والے پٹھان مرد اور انگریز پولیس کے اہلکار آپس میں گتھم گتھا ہوتے نظر آرہے تھے۔

’’تو یہ کیا ہو رہا ہے؟‘‘ فیروزہ اور ناعمہ ہکا بکا ہوکر ٹی وی دیکھنے لگیں۔ اتنی جہالت اور پسماندگی… ناعمہ کو تو یقین ہی نہیں آرہا تھا۔

آنٹی جی آپ لوگوں کو شاید پتا نہیں ہے۔ انگلینڈ میں پاکستانیوں کے ذہن اور رہن سہن میں اب بھی قبائلی نظام رچا بسا ہوا ہے۔ ساٹھ کی دہائی میں چھوٹے شہروں سے اٹھ کر آنے والے یہاں اپنے اپنے میر پور، ہری پور اور کیمبل پور بنا کر زندگی گزار رہے ہیں اور ان کا ذہن موجودہ انگلستانی نظام اور قانون کو قبول نہیں کرتا، اس لیے یہاں عورتوں پہ اسی طرح تسلط قائم رکھنے کی خواہش کی جاتی ہے جیسے بیک ہوم ہوتا ہے۔‘‘

’’ہاں بڑے مسائل ہیں یہاں۔ ماں باپ بھی کیا کریں، لڑکیاں پڑھ لکھ جاتی ہیں تو اپنے کزنوں سے شادی نہیں کرنا چاہتیں۔ ہم کہاں سے ان کے مطابق رشتے لائیں۔ ہماری بیٹیاں بھی اسی لیے ابھی تک غیر شادی شدہ ہیں۔‘‘ زرینہ نے اپنے دل کا حال کہہ ڈالا اور ناعمہ سوچنے لگی۔ کیمبل پور کے کسی نواحی قصبے کی یہ فیملی انگلستان میں بیٹھ کر کریلے گوشت، پلاؤ، پودینے کی چٹنی تو بنا اور کھا سکتی ہے مگر اپنی انگلینڈ کی جنمی پلی لڑکیوں کی زندگیوں پر انھیں کوئی اختیار نہیں ہوتا۔ سہولت اور فراوانی کی زندگی اپنا خراج لے کر رہتی ہے۔

’’صغیر بھائی نے بھی کچھ کم تکلیفیں نہیں اٹھائیں۔‘‘ زرینہ نے گفتگو کا رخ صغیر کی طرف موڑ دیا۔ بس اللہ انہیں ہمت اور حوصلہ دے۔

’’ٹھیک کہتی ہیں بھابی جی۔ وطن چھوڑا تھا بہتر زندگی کے لیے، یہاں آکر رل ہی گئے۔

’’ماں باپ نے بھی معافی نہیں دی انہیں چھوڑ کے جانے کی۔ ناراض رہے۔‘‘ صغیر بولے۔

گھر لوٹنے پر ناعمہ نے ٹی وی روم کی دروازے سے چھن کر آتی ہوئی روشنی میں دیکھا، صغیر بھائی کے دونوں بچے خاموش بت بنے ٹی وی کے آگے برگر اور فرنچ فرائیز کے ڈبے رکھے میکانکی انداز میں ہولے ہولے کھا رہے تھے۔کھانے کے بعد انھوں نے کاغذ کے پیک لفافے اسی کمرے میں پڑے کوڑے کے ڈبے میں پھینکے اور خاموشی سے سیڑھیاں چڑھ کر اوپر اپنے کمرے میں چلے گئے۔ نہ کسی سے ہیلو نہ ہائے، نہ سلام نہ دعا۔ بچے تھے یاروبوٹ؟ ناعمہ نے متذبذب ہوکر سوچا۔

’’فیروزہ… ایک بات پوچھوں؟‘‘ اگلی صبح ناشتہ کی میز پر سوئس چیز کا ٹکڑا ٹوسٹ پہ رکھتے ہوئے ناعمہ نے اپنی سہیلی سے سوال کیا۔

’’ہاں … بھئی بولو… کیا پوچھنا ہے؟‘‘ فیروزہ مسکرائی۔

’’تم خوش تو ہونا؟ دیکھو مجھ سے نہ چھپانا۔‘‘

’’ارے، یہ کیسا سوال کر دیا تم نے… ارے پگلی نظر نہیں آتا تمہیں۔ ہم دونوں کتنا چاہتے ہیں ایک دوسرے کو۔ اتنے سال بعد تو زندگی نے ہمیں خوش ہونے کا موقع دیا۔ خوش کیوں نہ ہوں۔ صغیر بہت اچھے انسان ہیں۔ میں تو خوش قسمت ہوں کہ وہ مجھے مل گئے۔

’’تو پھر بچے؟ ان کا رویہ کچھ سمجھ میں نہیں آتا۔

’’اوہ تو دیکھا تم نے بڑے ظالم ہیں۔ باپ کو نوکر بنایا ہوا ہے۔ فیروزہ سوتیلی ماں جیسی کڑواہٹ سے بولی۔

کیا ہوا؟ ناعمہ نے پوچھا۔ آخر ایسا رویہ کیوں ہے ان کا؟

’’بس کیا بتاؤں؟ فیروزہ نے ٹھنڈی سانس لی۔

’’آج تم نے قادر بخش کی بیوی سے سن ہی لیا تھا یہاں کے رہنے والوں کو کیا مسائل در پیش ہوتے ہیں؟ بس صغیر بھی تقریباً انہی حالات کا شکار تھے۔ ان کی تین بیٹیاں ہیں… تھیں…‘‘ فیروزہ نے انکشاف کیا۔

’’تھیں؟ کیا مطلب؟ کیا ہوا انھیں!‘‘ ناعمہ حیران ہوتی چلی گئی۔

’’ہونا کیا تھا… بس وہی مسئلہ۔ لڑکیاں جوان ہوگئیں تو ماں باپ کو شادی کی فکر ہوئی۔ لڑکیاں پڑھ لکھ کر قابل ہوگئی تھیں وہ کسی ایسے شخص سے شادی نہ کرسکتی تھیں جو صرف پاکستانی ہو اور کچھ نہ ہو۔ انھیں اپنی سطح اور معیار کے لڑکے ڈھونڈنے میں مشکل پیش آرہی تھی۔ صغیر اس وقت ایک سخت گیر باپ، پنڈی وال، روایتی آدمی تھے۔ اپنی روایات اور تمدن برقرار رکھنے کی خواہش رکھتے تھے۔ پھر یہاں رہنے والے ان کے دوست، رشتہ دار باتیں بنا رہے تھے کہ لڑکیوں کی شادی نہیں کر رہا۔ وہی تنگ نظر برادری سسٹم تھا جس نے ان کی نیندیں حرام کر دی تھیں۔ در اصل یہ صحیح ہے کہ تیس چالیس سال پہلے انگلینڈ اٹھ کر آجانے والے لوگ ذہنی طور پر اسی ٹائم زون میں قید ہوکر رہ جاتے ہیں، جس میں انھوں نے وطن سے ہجرت کی تھی۔ وہ نہ ادھر کے رہتے ہیں نا ادھر کے۔ بڑی لڑکی ثریا جوان ہوکر قابل ہوگئی تھی۔ صغیر اس کی کسی پاکستانی لڑکے سے شادی کرنا چاہتے تھے مگر وہ ایک انگریز لڑکے سے شادی کے عہدو پیمان کرچکی تھیں۔

’’ہائے ہائے…‘‘ ناعمہ یہ سن کر پریشان سی نظر آنے لگی۔

عین اسی وقت کھٹکا ہوا اور دونوں سہیلیوں نے دیکھا۔ صغیر ہاتھ میں کئی طرح کے فروٹ، چاکلیٹ اور گفٹ باکس اٹھائے اندر داخل ہوئے۔

’’ارے کیا پورا اسٹور ہی اٹھا لائے ہیں۔ اتنی چیزیں؟ خیریت تو ہے؟‘‘

فیروزہ نے سامان ہاتھ سے لیتے ہوئے پوچھا۔

’’آج اسپیشل ڈے ہے فیروزہ جی آج چنو اور منو کی سالگرہ ہے‘‘ صغیر کی خوشی سے باچھیں کھلی جا رہی تھیں۔

’’اوہ۔‘‘ ناعمہ بولی۔

’’وہ تو گھر پر نہیں ہیں۔ لائیے میں یہاں رکھ دوں۔‘‘ فیروزہ نے چیزیں لے کر سنبھالنا شروع کر دیں۔ صغیر نے آتش دان روشن کر دیا اور لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز سے ماحول بڑا آرام دہ، گرم اور دوستانہ محسوس ہونے لگا۔

’’صغیر بھائی… اگر آپ برا نہ مانیں تو میں آپ سے آپ کی کہانی پوچھ سکتی ہوں… فیروزہ نے مجھے تھوڑا سا بتایا ہے۔‘‘ ناعمہ نے ان کے ہاتھ میں تھمائی ہوئی کافی سے اٹھتی بھاپ پر نظریں جما کر پوچھا۔

’’بس ناعمہ! کیا بتاؤں، شاید مجھ سے کچھ غلطی ہوئی، شاید میری بیوی سے یا میرے بچوں سیـ۔۔۔ پتا نہیں۔۔۔ سب کچھ گڈمڈ ہوکر رہ گیا ہے۔ ہم لوگ دو ملکوں اور دو معاشروں کے درمیان معلق ہوکر رہ گئے ہیں۔

’’میں نے اسے بتایا تھا آپ ثریا کی شادی کرنا چاہتے تھے… اپنی مرضی سے۔‘‘ اور بس کچھ نہیں بتایا۔ ’’فیروزہ نے اپنے شوہر کو گرم شال اوڑھا کر پیار سے اس کا کندھا تھپتھپا کر کہا۔

صغیر نے ایک گہری سانس لے کر کہنا شروع کیا۔

’’میں نے ثریا کو مجبور کیا کہ وہ شادی کے لیے ہاں کر دے حالاں کہ اس کی ماں نے مجھے بہت روکنے کی کوشش کی مگر میں تو اپنی بیٹی کی بھلائی ہی چاہتا تھا۔ اسے کسی انگریز کے ساتھ زندگی گزارتے کیسے دیکھ سکتا تھا۔ ثریا نے بالآخر میرا کہا مان لیا اور دلہن بن کر بیٹھ گئی مگر … صغیر کی آواز کپکپانے لگی۔ اس نے بہت سی خواب آور گولیاں کھالی تھیں اس لیے وہاں دلہن کی جگہ سرخ کپڑوں میں ملبوس ایک لاش پڑی تھی۔‘‘

’’اوہ میرے اللہ۔ صغیر بھائی… یہ تو بہت افسوس ناک بات ہے۔ آئی ایم سو سوری۔‘‘ ناعمہ اظہار تاسف میں سر ہلانے لگی۔

’’آپ آگے سنیں تو آپ کو پتا چلے کہ المیہ کیا ہوتا ہے۔‘‘ صغیر نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے اپنے آنسو پونچھے۔

میری بیوی زرینہ کو بیٹی کی موت کے صدمے نے تقریباً مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اس نے گھر کی بچوں کی دیکھ بھال کرنا چھوڑ دی اور بسترپر پڑ گئی۔ بس ہر وقت مجھے ظالم، خود غرض اور قاتل ہونے کے طعنے دیتی رہتی۔ اس نے ہماری دوسری جوان بیٹی صبیحہ کو گھر چھوڑ کر چلے جانے کو کہہ دیا اور صبیحہ لندن کے ایک فلیٹ میں منتقل ہوگئی۔ وہ وہیں جاب کرتی اور ماں کو، چنو منو کو کبھی کبھار ملنے آجاتی مگر مجھ سے کوئی ٹھیک طریقے سے بات تک نہ کرتا۔ زرینہ نے بالآخر کھانا پینا بھی چھوڑ دیا۔ ڈاکٹر کہتے تھے وہ ڈپریشن کی آخری حدوں کو چھو رہی ہے۔

’’بے چارے صغیر بھائی۔‘‘ ناعمہ کو ان پر ترس آنے لگا۔

’’زرینہ مجھ سے لڑتی جھگڑتی، کبھی روتی اور کبھی ہنستی تھی۔ پھر ایک روز اس کا مکمل نروس بریک ڈاؤن ہوگیا اور اس نے اسی عالم میں ثریا کی طرح خواب آور گولیاں کھاکر ہمیشہ کے لیے آنکھیں موند لیںـ۔‘‘ صغیر ہچکیاں لے لے کر رونے لگے۔۔۔ فیروزہ کی بھی آنکھیں بھیگ گئیں۔

’’یہاں تو کوئی ہوتا بھی نہیں ہے۔ یہ جو سیڑھیاں ہیں نا …جو تمہیں بڑی اچھی لگتی ہیں۔ انہی سیڑھیوں سے میں اور میرے یہ چھوٹے سے بیٹی بیٹا منو اور چنو، ماں اور بہن کے مردہ جسموں کو اٹھا کر نیچے لائے تھے۔ دوبار بچوں نے لاشے گھسیٹے تھے؟ بے چارے میرے بچے۔‘‘ ناعمہ نے ان شاہانہ، قدیم انداز میں بنی ہوئی خوب صورت چوبی سیڑھیوں کو دیکھا تو ایک لحظے کے لیے تو وہ کانپ کے رہ گئی۔ کیسا دکھ بھرا اور خوف ناک منظر ہوگا وہ… اس نے تصور کیا… تو بہ… اس نے کچھ کہنا چاہا مگر اسے کہنے کے لیے الفاظ نہیں مل رہے تھے اس لیے خاموش رہی۔

’’بس تبھی سے یہ دونوں بچے چپ ہوکے رہ گئے ہیں۔ مجھے مجرم گردانتے ہیں کیوں کہ میں نے ہی اپنی ضد کی وجہ سے ان کے گھر کی خوشیاں برباد کی تھیں۔‘‘

’’آپ نے وہی کیا جو ایک ذمہ دا رفرض شناس باپ سوچتا ہے۔ آپ نے اپنی سوچ کے مطابق ہی کیا نا… آپ اپنے آپ کو الزام نہ دیں۔ فیروزہ نے شوہر کو تسلی دینا چاہی۔

’’ابھی ذرا چھوٹے ہیں۔ بڑے ہوں گے تو یہ بھی پھڑپھڑا کر اڑ جائیں گے اور گھونسلا خالی ہوجائے گا اور پھر شاید کبھی کبھار ہی باپ کی شکل دیکھیں گے۔‘‘ صغیر بھائی دھیمے لہجے میں بولتے چلے گئے۔

’’ایک آئیڈیا ہے صغیر بھائی، کیوں نہ آج ہم سب چنو منو کی سالگرہ مل کرمنائیں۔ کیک کاٹیں، میوزک لگا کر ڈانس کریں، ہلا گلا ہو تو شاید ان کا موڈ بھی بہتر ہوجائے۔‘‘ ناعمہ نے تجویز پیش کی مگر اگلے ہی لمحے صغیر اور فیروزہ کی شکلیں دیکھ کر اسے اندازہ ہوگیا کہ اتنا کچھ کرنے کی توقع کرنا شاید کچھ زیادہ ہوگا اس لیے خود ہی چپکی ہوکر بیٹھ رہی۔

’’آج کے دن تو وہ لوگ اپنی ماں اور بہن کی قبر پہ جاتے ہیں۔‘‘ فیروزہ نے ہولے سے کہا۔

’’اچھا برتھ ڈے گفٹس تو دکھائیں۔‘‘ فیروزہ بولی۔

’’دیکھو چنو کے لیے یہ جیکٹ لایا ہوں۔ اچھی ہے نا… اسے یقینا پسند آئے گی… یہ اس کا پسندیدہ رنگ ہے۔‘‘ صغیر نے تحفہ کا بیگ کھول کر دکھاتے ہوئے کہا۔

’’اور منو کے لیے کیا لائے ہیں؟ فیروزہ نے اشتیاق سے پوچھا۔

’’منو کے لیے یہ گولڈ کا جیولری سیٹ۔ اچھا لگے گا نا اسے۔‘‘

’’صغیر بھائی۔ بہت اچھا ہے سب کچھ۔ لائیں میں اسے اچھی طرح پیک کردوں۔‘‘

ناعمہ نے ان کے ہاتھ سے چیزیں لے لیں اور ڈبوں کو خوب صورت ربن اور ڈیکوریشنز لگا کر پیک کرنا شروع کر دیا۔ کچھ ہی دیر میں صغیر اوپر جاکر گفٹ باکس ان کے کمروں میں سر پرائز کے طور پر چھوڑ آئے اور خود ان کے ردعمل کا انتظار کرنے لگے۔

خلافِ توقع بچے اس دن گھر ہی نہیں آئے۔ صغیر صاحب نے فون کر کے پتا کیا تو علم ہوا کہ وہ بڑی بہن صبیحہ کے گھر لندن چلے گئے ہیں۔ فیروزہ نے پھر بھی کیک لاکر کاٹا، موم بتیاں جلائیں ار بچوں کی غیر موجودگی میں ہی تالیاں بجا کر ناعمہ کے ساتھ ’’ہیپی برتھ ڈے چنومنو‘‘ کے نغمے گائے جس سے صغیر بہت خوش ہوئے اور بار بار آنکھوں کے کونوں سے نمی صاف کرتے رہے۔

’’فیروزہ تمہارے آنے سے میری سونی زندگی میں بہار آگئی ہے۔ شکریہ! اور ناعمہ اب سے تم کو انگلینڈ بار بار آنا ہے۔ سنا؟ میں خود تمہیں ٹکٹ بھیجا کروں گا… فکر نہ کرنا۔‘‘ صغیر بھائی نے جذبات سے مغلوب ہوکر ناعمہ کے سر پر ہاتھ پھیرا۔

چنو اور منو جس طرح خاموشی سے گھر سے گئے تھے، اسی طرح چپ چاپ ایک دن بعد گھر چلے آئے اور اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے۔ صغیر توقع کر رہے تھے وہ نظر آئیں تو ان سے پوچھیں کہ گفٹ پسند آئے؟ مگر بچے اگلا پورا دن انہیں دکھائی نہ دیے اور صغیر کو ان کو یوش کرنے اور بات کرنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔

اگلے روز موسم بہار کی آمد پر شہر کے سینی ٹیشن والوں کا خاص سپرنگ کلیننگ دورہ لگنا تھا۔ اس لیے سبھی لوگ اپنے اپنے گھروں، لان اور اسٹورز کی صفائی کرنے میں جٹے ہوئے نظر آنے لگے۔ ناعمہ اور فیروزہ نے کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو صغیر اکیلے ہی لان کا بڑا سا جھاڑو تھامے خشک پتے، ٹہنیاں اکٹھے کرتے نظر آئے۔

’’ارے چلو ہم بھی صغیر بھائی کی مدد کرتی ہیں۔‘‘ ناعمہ نے ہلکی سی جیکٹ پہنتے ہوئے فیروزہ کو دعوت دی جسے اس نے مسکرا کر قبول کرلیا اور وہ دونوں سہیلیاں باہر کو چل دیں۔

بڑے بڑے پلاسٹک بیگوں میں گندبلا، پتے وغیرہ بھر کے جب صغیر نے اپنے بیک یارڈ میں لگے بڑے سے ڈمپ میں پھینکنے شروع کر دیے تو فیروزہ اور ناعمہ بھی اپنا اپنا اکٹھا کیا ہوا کوڑا لے آئیں اور اسے پھرتی سے ڈمپ میں انڈیلنا شروع کر دیا۔ یکایک ناعمہ کو ڈمپ میں کچھ نظر آیا تو وہ ٹھٹکی۔

’’کیا ہوا؟ صغیر نے پوچھا اور پاس آکر ڈمپ میں چیزیں کھنگالنا شروع کردیں۔ انہیں زیادہ دیر کھنگالنا نہیں پڑا کیوں کہ جلد ہی انہیں وہ پیک شدہ گفٹ باکس نظر آگئے جو انھوں نے چنو اور منو کو تحفہ کے طو رپر دیے تھے۔ لگتا تھا انھوں نے انہیں کھولا تک نہیں تھا کیوں کہ ان کی ٹیپ بھی اسی طرح چپکی ہوئی تھی۔ صغیر کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور وہ بے اختیار بے بس ہوکر زمین پر دھپ سے گر گئے۔

’’کیا ہوا صغیر؟ فیروزہ لپک کر آئی اور ڈبے دیکھ کر سب سمجھ گئی۔

’’مجھے کبھی معافی نہیں ملے گی۔ مجھے کہیں سے بھی معافی نہیں ملے گی۔‘‘ وہ بچوں کی طرح بلبلانے لگے۔ ’’یا اللہ میرا قصور کیا ہے؟‘‘ انھوں نے آسمان کی طرف دیکھ کر چیخنا چلانا، بال نوچنا شروع کر دیا اور اپنے کپڑے پھاڑتے ہوئے سڑک پر دیوانہ وار دوڑنے لگے۔lll

(مرسلہ: اقبال احمد ریاض وانم باڑی)

شیئر کیجیے
Default image
نیلم احمد بشیر