خواتین کی خود کشی کے اعداد و شمار

کیا آپ کو یہ بات معلوم ہے کہ ہم ہندوستان کے عوام اپنی ایک سو ۳۰ کروڑ آبادی کے ساتھ دنیا کی آبادی کا 17.8 فیصد حصہ ہیں؟ جی ہاں! اس حقیقت کے بعد اگلی بات سنئے جو آپ کو تکلیف دہ حقیقت سے آگاہ کرے گی۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ دنیا کی 17.8 فیصد آبادی میں ہی دنیا کی خود کشی کرنے والی خواتین کا تقریباً چالیس فیصد حصہ موجود ہے۔ اس بات کو یوں بھی سمجھا جاسکتا ہے کہ دنیا بھر میں خود کشی کرنے والی پانچ خواتین میں دو خواتین ہندوستانی ہیں۔ 2016 کی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ دنیا بھر میں 2,57627 خواتین نے خود کشی کی، ان خود کشی کرنے والی خواتین میں 94380کا تعلق ہمارے اپنے ملک ہندوستان سے تھا، جب کہ ہندوستان میں خود کشی کرنے والے مرد دنیا بھر میں خود کشی کرنے والوں کا 24.3فیصد ہیں۔ دنیا کی آبادی میں ہندوستان کے مرد و خواتین کا تناسب 17.8 فیصد مگر خود کشی میں مردوں کا تناسب 24.3 اور عورتوں کا تناسب 36.4 فیصد۔

مذکورہ تحقیق سے یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ ۱۹۹۰ میں یہ تناسب 25.3 فیصد تھا جو گزشتہ ۲۶ سالوں میں بڑھ کر 36.6 ہوگیا۔ اسی طرح یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ خود کشی کرنے والی ان خواتین میں 71.2 فیصد خواتین کی عمریں 15-39 سال کے درمیان ہوتی ہیں جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ خواتین نوجوان یا جوان عمر ہوتی ہیں۔ عمر کے ٹرینڈ کو دیکھ کر ایک عام آدمی بھی آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ ان خواتین میں انتہائی بڑی اکثریت شادی شدہ خواتین کی ہوتی ہے۔

مذکورہ بالا حقائق منسٹری آف ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر حکومت ہند کے تعاون کے ساتھ کی جانے والی ایک تحقیق میں سامنے آئے۔ اس میں انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ میٹرکس اینڈ ای ویلو ویشن (IHME)، پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا (PHFI) اور انڈین کاؤنسل آف میڈیکل ریسرچ (ICMR)شامل تھے اور جو مشہور عالمی جرنل لانسٹ میں گزشتہ دنوں شائع ہوئی۔

اس تحقیقی رپورٹ کی لکھنے والی پروفیسر راکھی ڈنڈورا نے بتایا کہ:

’’خود کشی کی ان اموات میں شادی شدہ خواتین کا تناسب انتہائی اونچا ہے اور شادی عورت کو مطلوبہ تحفظ دینے میں ناکام ہے۔‘‘

’’ہر ہندوستانی عورت جو خود کشی کرتی ہے، زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ وہ شادی شدہ ہو، ۳۵ سال سے کم عمر کی اور ممکن ہے کہ زیادہ خوش حال تصور کی جانے والی ریاست سے ہو‘‘ یہ بات کہنے کے بعد پاپولیشن فنڈ آف انڈیا کی ایگزیکٹیو ڈائرکٹر پونم متریجا ملک کو آگاہ کرتی ہیں:

’’یہ (رپورٹ) بتاتی ہے کہ لڑکیاں ہندوستان میں ’’سیریس ٹربل میں گرفتارہیں۔‘‘

مذکورہ رپورٹ اپنی صداقت کے اعتبار سے معتبر اداروں کی تیار کردہ رپورٹ ہے جس میں حکومت ہند کی ہیلتھ اینڈ فیملی ویلفیئر کی وزارت بھی شامل ہے۔ اس حیثیت سے اس کے اعداد وشمار میں شک وہ شبہ کی گنجائش کم ہی بچتی ہے لیکن یہ سوال اب بھی بڑا سوال بنا رہتا ہے کہ اس انتہائی تشویش ناک صورت حال میں حکومت نے اس صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کیا کچھ اقدامات کرنے کا بھی ارادہ ظاہر کیا ہے؟ تاحال ایسی کوئی رپورٹ نہیں ہے کہ حکومت نے سرکاری طور پر عوام کے سامنے کسی بھی اصلاحی اقدام کا عندیہ دیا ہو۔

ہمارے ہندوستان میں لڑکی کے لیے شادی کی عمر قانونی طور پر ۱۸ سال متعین ہے لیکن رپورٹ واضح طور پر بتاتی ہے کہ ہر پانچ میں سے ایک شادی اس قانونی عمر سے کم عمر میں ہی انجام پاتی ہے۔ لیکن اس سے زیادہ تکلیف دہ اور قابل توجہ پہلو وہ ہے جسے رپورٹ خاص طور پر انڈر لائن کرتی ہے اور وہ ہے خواتین کے خلاف یا بیویوں کے خلاف مرد کا تشدد پر مبنی رویہ۔ خواتین پر جسمانی تشدد اور سماج میں مختلف ناموں سے لڑکیوں کو جس ذہنی اذیت سے دو چار ہونا پڑتا ہے وہ اس بڑھی ہوئی اور بڑھتی ہوئی خود کشی کے رجحان کا اہم سبب ہے۔ اس میں سر فہرست جہیز ہے جس کے سبب ہر سال لاکھوں دلہنیں قتل کردی جاتی ہیں اور لاکھوں بنات حوا اس ذہنی اذیت کی تاب نہ لاکر خود موت کو گلے لگانے کو ترجیح دیتی ہیں۔ اب اگر ہم خود کشی کے اعداد و شمار میں ان دلہنوں کے اعداد و شمار کو بھی جوڑ دیں جو جہیز کے سبب قتل کر دی گئیں تو ہندوستانی سماج کی حقیقی تصویر کے قریب پہنچ سکتے ہیں جہاں بیویوں اور بہوؤں کی زندگی جہنم بنا دی جاتی ہے اور وہ مجبور محض بن کر زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جہاں ان کو اس سے نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور وہ سماجی معاشرتی تانے بانے میں پھنسی رہتی ہیں جو بہت مضبوط ہیں۔یہاں ایک اچٹتی نظر اگر جہیز سے متعلق اعداد و شما رپر ڈال لیں تو بیان کردہ بات کی تصدیق ہوجاتی ہے۔

نیشنل کرائم ریکارڈ بیورو کے تازہ ترین اعداد و شمار جو 2016 سے متعلق ہیں ہمیں بتاتے ہیں کہ اس سال شوہر یا اس کے اہل خانہ کے ذریعے دلہن پر تشدد کے 1.10378 واقعات درج ہوئے۔ اسی کے فراہم کردہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہمارے ملک میں روزانہ ۲۱ خواتین کو جہیز کے سبب مار دیا جاتا ہے۔ اس طرح سالانہ آٹھ ہزار سے زیادہ دلہنوں کے قتل کے اعداد و شمار آپ کو نظر آئیں گے۔ جبکہ اس حقیقت کے بیان کی ضرورت نہیں کہ ہندوستان کے سماجی ماحول میں حادثات واقعات کی معمولی تعداد ہی رپورٹ ہوپاتی ہے اور جو کچھ رپورٹ ہوتے ہیں ان میں سزا محض۳۴ فیصد کو مل پاتی ہے۔

اس صورت حال کے مطالعہ کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے سماج میں شادی ایک ایسا عمل بن گئی ہے یا بنی ہوئی ہے جو لڑکی کے مستقبل کو ایک غیر یقینی کیفیت سے دو چار کرنے والی ہے، جہاں کامیابی اور ناکامی دونوں کے امکانات برابر موجود ہیں اور بعض حالات میں لڑکی کے والدین کو اس کی زندگی بھی داؤ پر لگی نظر آتی ہے۔ حالاں کہ ملک میں جہیز مخالف قانون موجود ہے جو ۱۹۶۱ سے ہی نافذ العمل ہے، لیکن قانون کا نفاذ اور اس کے مثبت اثرات سے ہنوز ہندوستانی سماج محروم ہے۔

عورت کو آزادی اور اختیارات کے نام پر جو ’قانونی لولی پاپ‘ دیے جا رہے ہیں ان کی زد بھی کسی نہ کسی طو رپر خواتین ہی پر پڑتی ہے۔ اس میں سردست حالیہ دنوں میں مرد اور عورت کو ایکسٹرا میرئیل رلیشنز بنانے کی آزادی کا جو تحفہ سپریم کورٹ سے ملا ہے اس کے بعد ایسے واقعات سامنے آنے لگے ہیں جہاں اس آزادی نے عورت ہی کو خود کشی کرنے پر مجبور کر دیا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آجانے کے بعد ملک کے ایک بڑے شہر چنئی کی ایک خبر اخبارات کی زینت بنی جس میں عورت نے شوہر پر دوسری عورت سے جسمانی رشتہ بنانے پر اعتراض کیا۔ شوہر نے اسے بتایا کہ اب یہ جرم نہیں رہا اور اب مرد و عورت اس کے لیے آزاد ہیں۔ عورت یہ جواب سن کر اس قدر دل برداشتہ ہوئی کہ اس نے خود کشی کرلی۔ اس طرح یہ آزادی کا پروانہ بھی عورت ہی پر ظلم کی صورت میں اثر انداز ہوا۔

ہمارا مسئلہ یہ نہیں ہے کہ قانون کی کمی ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں قانون کے نفاذ کے لیے مطلوبہ کوششوں کی کمی ہے اور قانون محض مکڑی کا وہ جالا بن کر رہ گیا ہے جس میں کمزور وجود رکھنے والے پتنگے اور مکھی مچھر تو پھنس جاتے ہیں مگر بڑی اور طاقت ور مخلوق اسے توڑ کر نکل جاتے ہیں۔

خواتین پر تشدد یا ان کے خلاف جرائم میں سماج کی سوچ اور فکر کو بڑا دخل ہے۔ اگر سوچ اور فکر منفی اور پراگندہ ہو تو قانون سے ہی لاقانونیت بہ آسانی جنم لے لیتی ہے جو ہمارے سماج میں ہر جگہ اور ہر سطح پر نظر آتی ہے۔ ایسے میں اس بات کی ضرورت شدید تر ہے کہ سماج میں عورت کے لیے عزت و احترام کی سوچ کو پروان چڑھایا جائے اور شادی کے رشتہ کو ہر قسم کے لالچ اور مفاد پرستی سے اوپر اٹھ کر ایک متبرک رشتے کا شعور پیدا کیا جائے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی