راستہ

یہ راستہ کوئی اور ہے؟

کبھی غور کیا ہے دنیا ہمیں برا بھلا کیوں کہتی ہے؟ خاندان کے لوگ ہم پر باتیں کیوں بناتے ہیں؟؟ محلے والے ہمیں اچھا کیوں نہیں سمجھتے؟ اور تو اور گھر والوں کے ہاتھوں بھی تنقید کا نشانہ بنے رہتے ہیں۔ حالانکہ ہم اپنے خود گواہ ہیں کہ ہم کتنے اچھے ہیں۔ ہمارا دل جانتا ہے کہ ہماری نیت صاف ہے۔ ہم بے شک تھوڑا تلخ بول جاتے ہیں لیکن ہمارا مطلب ہرگز وہ نہیں ہوتا جو لوگ سمجھ لیتے ہیں۔ ایسا ہی ہے ناں؟ تو جناب اگر ہم واقعی اپنے بارے میں یہی جانتے ہیں تو پھر لوگ ہمیں صحیح برا کہتے ہیں۔ ہم پر صحیح باتیں بناتے ہیں۔ اور یقین کریں کہ ہم پر بالکل ٹھیک تنقید ہوتی ہے کیونکہ اگر ہم ’’ اپنی نظروں میں اتنے ہی اچھے ہیں تو ظاہر ہے سامنے والا ہمیں معاشرے کا سب سے برا شخص نظر آئے گا۔ کھیل صرف دماغ کا ہے۔ یہ بیماری عموماً اس وقت ظاہر ہونا شروع ہوتی ہے جب ہم دوچار کتابیں زیادہ پڑھ لیتے ہیں یا کوئی علم حاصل کرتے ہیں اور اپنے آپ کو سب سے بر تر سمجھنے لگتے ہیں۔ جبکہ غور اور تدبر وتفکر علم کی شان ہے۔ خاموشی علم کی اصل نشانی ہے جس کو حاصل کرنے کے بعد انسان میں عاجزی و انکساری پیدا ہوتی ہے۔دوسری صورت صرف یہ ہے کہ علم حاصل کرنے کے بعد انسان تکبر اور ریا کاری میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ پھر یوں ہوتا ہے کہ اس کو اپنے سوا سب جاہل اور نا سمجھ نظر آتے ہیں۔ اس وقت ہمیں اپنے آپ کو جانچنے کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ المیہ ہے کہ ہمیں بولنے سے فرصت نہیں۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں کہ ہم اپنے دل کو ٹٹولیں، کبھی اپنے آپ کو بھی کسی کٹہرے میں کھڑا کریں۔ ہمیں اپنے آپ سے اچھا کون جانتا ہے؟ ہم اپنی نظروں میں بہت اچھے ہیں۔ رشتہ داروں کی محفلیں ہوں یا دوست احباب کی، ہماری نصیحتوں کے ’’چاند تارے‘‘ ہر جگہ چمکتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ اپنا سارا علم دو چار سانسوں میں ہی لوگوں کو پہنچا دیں۔ ہمیں اپنے خاندان میں ماموں کی لڑکی اور چچا کی بہو سے اتنا پیار ہوتا ہے کہ ان کو سیدھا کرنے کے چکر میں قرآن و حدیث کا سہارا لیتے ہیں۔ یہ بات ٹھیک نہیں ہے۔ یہ قرآن سرا سر ہدایت لینے کے لیے اترا ہے اس کو مناظروںتنقید اور بحث و مباحثے کے سے دور رکھیں۔ اس سے ہم کچھ لوگوں کو لا جواب تو کر سکتے ہیں لیکن کسی کے دل میں جگہ نہیں کر سکتے۔ یہ ایسا دور ہے کہ لوگوں کو حق کی تلاش ہے ،لوگ دین کا سچا علم جاننا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگوں کی اکثریت سیدھی اور سچی بات کا اثر تیزی سے قبول کر رہی ہے۔ یہ ایک مثبت پہلو ہی نہیں ایک حقیقت بھی ہے۔ اس لیے لوگوں کو اپنی منفی سوچوں کی نذر نہ کریں یہ اسلام کا نقصان ہے۔ یہ سب بھی اللہ کے بندے ہیں اور دین فطرت پر ہیں ان کا دل بھی حق کو تسلیم کرتا ہے۔ انہیں دین سے چڑ نہ دلائیں، دین سے متنفر نہ کریں ورنہ ایسے میں ہم نہ صرف رشتے کھو دیں گے بلکہ لوگوں کا ضائع کرنے کا سبب بن جائیں گے۔

کبھی ایسا بھی ہو کہ محفل ہو اور ہماری خاموشی یا مسکراہٹ ہو۔ اپنی سختی اور شدت کہیں دفن کر دیں اور نرمی اختیار کریں۔ خیر اور بھلائی کے کام کریں اور چلتا پھرتا قرآن بن جائیں۔ رب سے محبت کریں تو اس کے بندوں سے بھی محبت کریں۔ معاشرے کی بے حسی اور لا دینیت پر کڑھنے کے بجائے ایسی راہ اختیار کریں کہ جن دعائوں میں ہم اپنی دنیامانگتے ہیں، ان دعائوں میں ان کی اصلاح مانگیں،ان کی جنت مانگیں، اگر ہم واقعی اپنے آپ کو تبدیل کریں تو پھر معاشرے میں نہ ہمیں کوئی فاسق نظر آئے گا نہ کوئی منافق اور نہ کوئی فاجر۔ یہاں تک کہ دین پر چلنے والوں پر جو آزمائش آتی ہے خدانخواستہ اگر ہمیں ایسی آزمائش کا سامنا ہو گا تو ایسے میں ہم چٹان کے پتھر کی مانند ہونگے جو اپنے مقام سے نہ ہٹے گا۔ بلکہ اپنے آس پاس کی کچی مٹی کو بھی اپنے ساتھ جما کر رکھے گا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
بشریٰ زعیم

تبصرہ کیجیے