پانی چہرے کی جھریاں ختم کرے

جدید طب نے دریافت کیا ہے کہ چہرے کی جھریوں کے خلاف کوئی کریم اور دوا اتنی موثر ثابت نہیںہوتی جتنا کہ زیادہ سے زیادہ پانی پینے کا عمل اثر انداز ہوتا ہے۔ عمر کے بڑھنے کے ساتھ ساتھ انسان کے چہرے پر جھریاں پیدا ہو جانا ایک فطری عمل ہے۔ تاہم ان جھریوں کو بہت زیادہ نمایاں نظر آنے سے روکنے کے لیے اب کافی کچھ کرنا ممکن ہے۔ اس بارے میں جرمنی میں صارفین کے تحفظ سے متعلق ایک معروف جریدے ’’ٹیسٹ‘‘ کی تازہ ترین رپورٹ میں چند دلچسپ حقائق سامنے آئے ہیں۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چہرے کی جھریوں سے بچنے کے لیے صحت مند طرز زندگی اختیار کرنا ضروری ہے۔ جس میں موزوں نیند لینا، اچھی غذا کھانا اور روزانہ کم از کم ڈیڑھ لیٹر پانی پینا بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ ماہرین کے مطابق تمباکو نوشی اور دھوپ کی الٹراوائلٹ شعائیں جلد کو گہرے نقصانات پہنچاتی ہیں۔ ان کی وجہ سے چہرے کی جلد کا لوچ اور چہرے کی رونق ختم ہو جاتی ہے۔ صحت بخش غذا جلد کو خوب صورت بنانے میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ وٹامن اور معدنیات سے بھرپور غذائی اجزاء، پھل اور سبزی چہرے کی جھریاں نمایاں نہیں ہونے دیتے۔ ماہرین کے مطابق متوازن غذا کا استعمال اور کافی مقدار میں پانی پینا نہ صرف تندرست رہنے بلکہ خوش نما نظر آنے کے بھی بنیادی اصول ہیں۔ جلد کی حفاظت کے لیے عموماً کریم یا لوشن وغیرہ استعمال کیا جاتا ہے۔ مگر جلد کو صاف رکھنے، اسے نکھارنے اور جھریوں وغیرہ سے محفوظ رکھنے کے لیے دستیاب کریمیں اور لوشن وغیرہ کیمیائی اجزا سے تیار کیے جاتے ہیں۔ اس لیے ان کے ضمنی اثرات ضرور ہیں۔ ماہرین کے مطابق جلد کی دیکھ بھال کے لیے دستیاب مصنوعات زیادہ تر کیمیائی اجزا ضرور رکھتی ہیں۔ بعض جلدوں کو یہ اجزا نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

ماہرین جلد کا کہنا ہے کہ قدرتی تیل جیسے ارگنڈی، بادام اور جو جو باجلدکو اضافی رطوبت فراہم کرتے ہیں۔ اگر جلد کو ٹھیک کرنے میں سارے نسخے ناکام ہوجائیں تو رجاجی تیزاب (Hyaluronicacid) کا استعمال جلد کی رطوبت برقرار رکھنے اور خاص کیسوں میں اسے جلد میں داخل کرنے کے کام آتا ہے۔

جرمن جریدے ٹیسٹ نے نو اینٹی ایجنگ کریموں کا تجربہ دو سو ستر خواتین پر چار ہفتوں تک کیا۔ ان خواتین کے چہرے کے ایک طرف چار ہفتوں تک صبح اور شام ان کریموں کو لگایا گیا جب کہ چہرے کی دوسری طرف نارمل موئسچرائزنگ کریم لگائی گئی۔ چہرے کے اطراف کی کریم لگانے سے پہلے اور بعد دونوں حالت میں تصویریں بنائی گئیں اور ان کا موازنہ کیا گیا۔ نتیجے سے ظاہر ہوا کہ اینٹی ایجننگ یا چہرے کو جھریوں اور بڑھاپے کے اثرات سے بچانے والی کریموں کا کوئی خاص اثر سامنے نہیں آیا۔

شیئر کیجیے
Default image
ماخوذ