5

انصاف کے سبق

نئے سال کی دستک بڑی سنسنی خیز ہے۔ ۲۰۱۷ کے بالکل اختتام پرایک نرالے انصاف نے ہمیں ادھیڑ کر رکھ دیا ہے۔ ٹو جی گھوٹالے کے تعلق سے عدالت کو قصور وار قرار دینے سے کیا فائدہ یا اس نے تو ہمارے سسٹم کی سڑاند کو دکھایا ہے۔ ٹو جی گھوٹالے میں سبھی کو بری کرنے کافیصلہ اس خام مال کی پیداوار ہے جو ہماری جانچ ایجنسیوں نے عدالت کو فراہم کیا تھا۔

بھارت گھوٹالوں میں کبھی پیچھے نہیں رہا لیکن ٹو جی جیسے گھوٹالے صدیوں میں ایک بار ہوتے ہیں۔ اس پر ہزار بوفوس اور سو راشٹر منڈل گھوٹالے قربان۔ اس گھوٹالے سے سیاست میں جو تبدیلی آئی وہ تو آئی ہی، اس نے بھارت میں قدرتی وسائل کی تقسیم کی پالیسیاں ہی بدل دیں اور ٹو جی کی ماری دور سنچار صنعت اب تک اٹھ کر کھڑی نہیں ہو پائی ہے۔

ٹوجی پر عدالتی فیصلے دو نتیجے بڑے واضح اور دو ٹوک ہیں:

٭ تفتیشی ایجنسیاں الزامات کے حق میں ثبوت اور دستاویز پیش نہیں کر پاتیں۔

٭ تفتیشی ایجنسیاں کرپشن یا مالی لین دین ثابت نہیں کر سکیں۔ ’’لین دین‘‘ کے نئے طریقوں، مثلاْ فیصلہ لینے والوں اور لائسنس لینے والوں کے درمیان کاروباری رشتوں پر عدالت کسی نتیجے پر نہیں پہنچی۔

ان نتیجوں نے کرپشن کے خلاف لڑائی کے موجودہ طریقوں کی چولیں ہلا دی ہیں۔

ثبوتوں اور دستاویزات کی حفاظت

حکومتوں کے تبدیل ہوتے ہی فائلوں کے جلنے کی خبریں بے سبب نہیں ہوتیں۔ مالی گھوٹالوں میں ثبوت ختم کرنا ایک بڑا گھوٹا بن چکا ہے۔ ٹو جی پر فیصلہ بتاتا ہے کہ جن فائلوں پر فیصلے ہوئے تھے، ان کو یا تو ثبوت کے طور پر پیش نہیں کیا جاسکا یا پھر احکامات کو بری طرح انتشار یا الجھاؤ کا شکار بنا دیا گیا۔ اس لیے تفتیشی ایجنسیاں چارج شیٹ داخل کرنے کے بعد الزامات کی کڑیاں جوڑنے کے لیے ثبوت نہیں لا پائیں۔ عہدیداروں کی الجھی ہوئی گواہی اور الگ الگ تشریحوں نے بھارت کے سب سے بڑے اور پیچیدہ گھوٹالے میں سب کے بری ہونے کا راستہ کھول دیا۔

معاشی گھوٹالے ویسے بھی پیچیدہ ہوتے ہیں اور جانچ ایجنسیوں کے پہنچنے تک ثبوت اکثر ملزمین ہی کے قبضے میں ہوتے ہیں۔ ثبوتوں کا خاتمہ انصاف کی امید کو توڑ دیتا ہے۔ بچی کھچی کسر گواہوں کو خرید کر پوری ہو جاتی ہے۔ اگر قانونی تبدیلیوں کے ذریعے یا عدالتوں کی پہل پر،سرکاریں بدلنے کے بعد ضروری دستاویزات کی حفاظت نہیں کی گئی تو آگے کسی بھی گھوٹالے میں سزا دینا ناممکن ہو جائے گا۔

کرپشن کے نئے طریقے

ٹو جی گھوٹالے میں عدالت نے کلیگ نار ٹی وی کو ڈی بی رائلٹی سے ملنے والے پیسے کو کرپشن نہیں مانا۔ وہ دن اب لد گئے جب رشوتیں نقد کی شکل میں دی جاتی تھیں اور نیتاؤں کے بستر کے نیچے سے نوٹ برآمد ہوتے تھے۔ معاشی گھوٹالوں میں لین دین کے بے شمار طریقے ہیں، جن میں درمیان کمپنی سرمایہ کاری، قرض، شیئر کی خریداری سے لے کر سیاسی پارٹی کو چندہ دینے تک شامل ہوسکتا ہے۔ ویسے ظاہری طو رپریہ بھی درست ہے لیکن کرپشن کے قانون کے تحت ان کی تعریف کو واضح کرنا ہوگا۔

ٹو جی پر فیصلے نے دکھایا ہے کہ ہمارا موجودہ قانونی نظام اور تفتیشی ایجنسیاں مسلسل بڑھتے ہوئے زبردست گھوٹالوں کے آگے کتنی بونی ہیں۔

دھیان میں رکھنا ضروری ہے کہ اس فیصلے کو ان تبدیلیوں (مفید یا مضر) کی روشنی میں دیکھا جائے گا جو اس گھوٹالے کے بعد گزشتہ پانچ سال میں ہوئے۔ ٹوجی گھوٹالے کے بعد…

٭ ملزمین پر فیصلہ آنے سے پانچ سال پہلے متاثرین کو (۱۲۲ کمپنیوں کے لائسنس رد کرنے کی) سزا دے دی گئی۔ اربوں کا سرمایہ ڈوبا، ہزاروں کی نوکریاں گئیں۔ بھارت کی شبیہ بری طرح متاثر ہوئی۔ اس کے بعد کوئی بڑی غیر ملکی کمپنی ہندوستان میں ٹیلی کام سیکٹر میں سرمایہ کاری کے لیے آگے نہیں آئی۔

٭ بھارت کے ٹیلی کام کے انقلاب کا چہرہ بدل گیا۔ اس کے بعد اسپیکٹرم کی نیلامی شروع ہوئی۔ شفافیت تو آئی لیکن مہنگی بولیاں لگیں۔ ٹیلی کام خدمات کی قیمتیں بڑھیں۔ کمپنیوں نے قرض لیا۔ صنعت میں کساد بازاری آئی اور اب مہنگے اسپیکٹرم کی ماری اور 4.85 لاکھ کروڑ روپے کے قرض میں دبی کمپنیاں مدد کے لیے سرکار کے دروازے پر کھڑی ہیں۔

٭ اس سے ٹیلی کام صنعت میں مقابلے کی دوڑ ختم ہوگئی ہے۔ آج ۱۳۵ کروڑ لوگوں کا بازار صرف تین یا چار آپریٹروں کے ہاتھ میں ہے۔ یہ تبدیلیاں اچھی تھیں یا بری، اس کا دار و مدار صرف اس پر ہوگا کہ ٹوجی حقیقت میں گھوٹالا تھا یا نہیں۔ شکر ہے کہ یہ فیصلہ ابھی نچلی عدالت میں آیا ہے۔ اوپر کی منزلوں سے امید باقی ہے، لیکن گزشتہ سال جاتے جاتے ہمیں جھنجھوڑ کر یہ بتا گیا کہ سیاسی کرپشن کے خلاف لڑائی کتنی مشکل ہوتی جا رہی ہے۔lll (بہ شکریہ انڈیا ٹوڈے، ہندی)

شیئر کیجیے
Default image
انشومن تیواری

تبصرہ کیجیے