پیاس بجھاتے چلو! قسط-10

شرمین بھابھی کیوں نہیں آئیں؟ جب مسکان باجی بہت تفاخر سے بتا رہی تھیں کہ انھوں نے اپنی سینڈل کس طرح دکاندار سے لڑ جھگڑ کر کم قیمت پر پیک کرائی تو صبا نے دانستہ موضوع بدل دیا اور ارحم بھائی کی نئی نویلی دلھن کے متعلق پوچھا:

’’شرمین بھابھی… ہنہ۔‘‘ تنزیلہ باجی کی طنزیہ ہنسی۔ ’’میکے گئی ہیں محترمہ! کیوں کہ ان کی شادی کے بعد پہلی عید جو ہے… ہم نے کہا بھی کہ ہمارے ماموں آئے ہوئے ہیں۔ آپ کو آج نانی کے گھر چلنا چاہے تو ان کے میکے والوں نے کہا کہ دوپہر تک آجائے گی۔ بیٹی اور داماد کو عید کا سلام کرنے یہاں ضرور آنا چاہیے۔

’’تو کوئی بات نہیں… (صبا موضوع بدل کر پچھتائی) دوپہر تک آجائیں گی نا؟ نئی نئی شادی ہے گھر کی یاد آرہی ہوگی۔‘‘

’’وہی تو میں بول رہی ہوں کہ شادی ہوگئی ہے۔ اب ان کو مائکا بھول جانا چاہیے یہ کیا کہ عید کے دن ہی مائیکے چل دیں۔…‘‘

وہ آگے بھی مزید گل افشانی کر رہی تھیں۔ لیکن فائزہ کو صرف ان کے ہونٹ ہلتے دکھ رہے تھے اور دل میں یہ سوچ کہ مغفرت کے اس وقت جب اللہ تعالیٰ ہر روزہ دار مسلمان کی خطائیں بخش دیتا ہے اور اسے اس طرح گناہوں سے پاک کر دیتا ہے۔ گویا وہ آج ہی پیدا ہوئے ہوں… ایسے مبارک موقع پر اس طرح کی گفتگو …؟؟

فائزہ کو ان کی باتوں سے عجیب متلاہٹ ہونے لگی… گناہوں سے پاک صاف ہونے کے فوراْ بعد وہ اپنا نامہ اعمال آلودہ نہیںکرنا چاہتی تھی۔ اب کچن میں کوئی خاص کام نہیں رہ گیا تھا۔ ان لوگوں کو باتیں کرتا چھوڑ کر وہ چپکے سے باہر نکل آئی… (تم بہت دین دار ہوگئی ہو ہم ہی جہنم میں) اس بازگشت سے موڈ پھر خراب ہوا اور آنکھوں میں نمی در آئی۔ اسے لاؤنج میں اندر جانے سے پہلے خود کو سنبھالنا تھا۔ اور وہ سنبھال چکی تھی۔ کنزنز کی باتوں سے دل ذرا سا برا ہوا تھا، اس نے اپنے داہنے ہاتھ سے خود اپنے کندھے کو تسلی دینے والے انداز میں تھپتھپایا۔ ’’ریلیکس‘‘۔‘‘

ایک تھپکی سے افاقہ نہیں ہوا تھا تو دوسرے ہاتھ سے دوسرا کندھا تھپتھپایا۔ ’’اٹس اوکے برا مت لگاؤ۔‘‘

اس مرتبہ قدرے فرق پڑا تھا۔ جب آپ کے پاس کوئی تسلی دینے والا نہ ہو تو خود کو ہی اپنا ہم درد بنا لینا چاہیے۔ اپنے آپ کو ایک حالت سے دوسری حالت میں لے جانے میں دیر نہیں کرنی چاہیے۔ اس کی گلابی آنکھوں کی نمی خشک ہوچکی تھی۔ اس نے گلاب جیسے نرم و نازک لبوں پر مسکراہٹوں کی شبنم بکھیری اور اندر جانے کے لیے قدم اٹھائے۔ لاؤنج کے دروازے پر موتی اور سیپوں کی لڑیاں پردے کی صورت میں لٹکی تھیں۔ فائزہ نے بہت آہستہ سے ان لڑیوں کو ہٹا کر اندر پیر رکھا۔ سارا لاؤنج تازہ جو ہی اور گلاب کے پھولوں سے معطر تھا… گھر کے در و دیوار مہک رہے تھے۔ فضا میں مختلف عطر اور پرفیوم کی خوشبو رچی بسی تھی۔ اور حیدر میرتضیٰ پر نظر پڑتے ہی وہ بہت خوش گواری محسوس کر رہی تھی۔ فائنلی اس کے ابو اس عید پر اس کے ساتھ تھے۔ عین اسی وقت پھپھو سے باتیں کرتے ہوئے حیدر مرتضیٰ نے بھی فائزہ کو دیکھا تھا۔ اور بہن کی بات کا جواب دیتے ہوئے فائزہ کے چہرے کو دیکھتے ہی ان کی آنکھوں کی روشنی ایک دم بڑھی تھی۔ کیا ان کے لیے اس چہرے سے بڑھ کر بھی کوئی اور منظر خوب صورت تھا۔ اکلوتی بیٹی کا حسین چہرہ۔

’’آجاؤ بیٹے۔‘‘ انھوں نے بہت شفقت سے اسے پکارا تھا، اور فائزہ نگاہوں میں ترسی اور ہونٹوں پر جاں فزا تبسم لیے حیدر مرتضیٰ کے پاس تھری سیٹر صوفے پر آہستہ سے بیٹھ گئی۔

’’یہ تو بتاؤ حیدر!‘‘ پھپھو ابو سے مخاطب تھیں۔ ’’تمہارا آنا اچانک کیسے ممکن ہوگیا۔ ہم تو اب ناامید ہونے لگے تھے۔‘‘

(اوہ تو پھپھو کو بھی پتہ تھا)۔

’’کوششیں تو میں لگاتار کر ہی رہا تھا… فیصلہ کرنا ہی مشکل لگ رہا تھا۔ کبھی دل کہتا یہیں رک کر دوسری کسی کمپنی میں ٹرائی کرتا ہوں… کبھی لگتا کہ کمپنی پر ہم نے جو کیس درج کرایا تھا اور وہ زیر سماعت تھا تو لگتا کہ ہم وہ کیس جیت ہی جائیں گے اور ہمیں ہمارے سارے پیسے مل جائیں گے۔ پھر یہاں آنے سے چند دن پہلے میں نے عمرہ کیا۔ کعبہ کے سامنے جاکر اللہ کو اپنی خواہش بتائی… وہاں جاکر دل بہت پرسکون ہو جاتا ہے آپا… لگتا ہے کوئی پریشانی پریشانی ہی نہیں رہی… اور جو چیز ہمیں مشکل لگتی ہے ہمارے لیے تو مشکل ہوتی ہے لیکن اللہ کے لیے اس کو دور کرنا کچھ مشکل نہیں۔

اور بس پھر میں یہاں آپ کے سامنے ہوں۔‘‘

’’لیکن اب تم یہاں کروگے کیا؟ اب اس عمر میں تو جاب ملنا بھی مشکل ہے۔‘‘ بہن کی اس بات پر حیدر مرتضیٰ پورے چہرے کے ساتھ مسکرائے، اس مسکراہٹ میں بے پناہ سکون تھا۔

’’تبدیلیاں خیر لاتی ہیں آپا‘‘ انھوں نے اپنا مخصوص جملہ دہرایا۔ فائزہ نے رخ موڑ کر ان کا چہرہ دیکھا، ان کے اس جملے پر فائزہ کو کچھ یاد آیا تھا۔ حیدر مرتضیٰ صوفے کی بیک پر اپنا داہنا ہاتھ لمبا کیے ہوئے تھے اور فائزہ چوں کہ ان کے بالکل قریب تھی تو ایک نظر میں یوں دکھائی دیتا گویا وہ اس کے گرد بازو حمائل کر کے بیٹھے ہوں … فائزہ پیچھے ہوئی اور ان کے داہنے بازو سے سر ٹکا دیا… حیدر مرتضیٰ کی آواز آرہی تھی۔ وہ اب بھی پھپھو سے مخاطب تھے۔

’’آپ جانتی ہیں ناں۔‘‘ میں سعودی عرب نہیں جانا چاہتا تھا۔ کسی قیمت پر بھی نہیں۔ اور واقعی نہیں جاتا اگر ابا اموشنلی دباؤ نہ ڈالتے… میں بہت ناراض سا مجبور ہوکر وہاں گیا تھا… لیکن حج و عمرہ کی سعادتوں نے اور شرک سے پاک آپ و ہوا نے میری زندگی میں تبدیلیاں پیدا کیں۔ اینڈ یونو ویری ویل چینج برنگز خیر (Dhange brings khair)۔

ابو کے منہ سے یہ جملہ خاص سنتے ہی فائزہ کی آنکھوں کے سامنے چند ماہ پہلے والا وہ منظر گردش کرنے لگا جب وہ تینوں بہنیں صبا کے کمرے میں موجود تھیں اور فضا آپو یاسر کو سنبھالنے میں ہلکان ہوئی جا رہی تھیں۔ ننھا یاسر اس وقت نیند سے قبل کی چڑچڑاہٹ میں مبتلا تھا اور فضا آپو اسے سلانے کی پوری کوشش کر رہی تھیں۔ فائزہ کو بے ساختہ ان پر رحم آیا۔ ’’آپو کیا آپ کو کبھی ایسا نہیں لگتا کہ کاش ابھی آپ کی شادی نہ ہوئی ہوتی، آزاد زندگی جیتیں… آپ سے بڑی لڑکیاں بھی تو اب تک کنواری ہیں؟‘‘

’’اللہ نہ کرے کہ میں ایسی ناشکری کروں۔‘‘

یاسر کو کندھے سے لگائے انھوں نے اس کی پیٹھ پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔ یاسر نے گردن ان کے کندھے پر ڈھلکا دی تھی۔

’’لیکن مجھے یاد ہے کہ آپ شادی کے لیے بالکل راضی نہیں تھیں۔ پھر اب کیا ہوا۔‘‘

’’ہاں میں بالکل رضا مند نہیں تھی میں شادی کرنا ہی نہیں چاہتی تھی۔

لڑکیوں کی عام طور پر دو قسمیں ہوتی ہیں ایک وہ جنہیں شادی کا ارمان ہوتا ہے دلھن بننے کا، اپنا گھر سجانے سنوارنے کا شوق ہوتا ہے۔ ساتھ ہی شادی کو لے کر فطری طور پر تھوڑی گھبراہٹ اور اندیشوں کا بھی شکار رہتی ہیں۔ یہ ہوتی ہیں نارمل لڑکیاں… اور دوسری قسم ان لڑکیوں کی ہوتی ہے جو شادی کے نام تک سے بے حد نالاں، الرجک اور بیزار رہتی ہیں۔ میرا شمار دوسری قسم کی لڑکیوں میں ہوتا تھا۔

فضا آپو پرانے دنوں کو یاد کر رہی تھیں ساتھ ہی یاسر کو تھپکنا بھی جاری تھا۔ جو کبھی کندھے پر سر رکھ دیتا کبھی آنکھیں کھول کر اپنی امی کے چہرے کو دیکھنے لگتا۔ اور فضا آپو جواباً اس کے سر کو اپنے کندھے پر دبا دیتیں۔ فائزہ بہت دلچسپی سے یہ ڈرامہ دیکھ رہی تھی۔ یاسر کا سونے کا کوئی موڈ نظر نہیں آرہا تھا اور اس کی امی جان اسے سلا کر چھوڑنے پر مصر تھیں۔

’’اپنی شادی شدہ سہیلیوں کے ذریعے سسرال کے مظالم، دیورانی جٹھائی کی سیاستوں اور نند و بھاوجوں کی شازشوں کے متعلق سن سن کر میرے دل میں شادی کے نام سے ایک خوف سا بیٹھ گیا تھا۔ اس لیے جب میرے لیے خرم کا رشتہ آیا تو میں شادی کے لیے مسلسل انکار کر رہی تھی بلکہ احتجاج کے طور پر میں نے کھانا پینا بھی چھوڑ دیا تھا۔۔۔‘‘

فضا آپو ذرا سا ہنسیں۔ ’’اور ضد کرنے لگی تھی کہ ابھی مجھے B-edکرنا ہے۔ حالاں کہ مجھے پڑھائی میں کوئی دلچسپی نہیں تھی اور نہ ہی آگے پڑھنے کا شوق تھا لیکن B-edکرنے کی ضد بھی صرف اس لیے پکڑلی تھی کہ کسی طرح یہ شادی والا معاملہ ٹل جائے۔ مجھ پر اس وقت اتنی گھبراہٹ اور وحشت طاری تھی کہ میں ان دنوں میں جتنا زیادہ روئی ہوں شاید پوری زندگی میں اتنے آنسو نہیں بہائے۔ ابو نے مجھے ڈانٹ دیا تھا کہ ہمیں نہیں معلوم تھا تم بڑی ہوکر ہمارے فیصلوں سے انکار کروگی۔ حالاں کہ ان کے فیصلے سے کس کافر کو انکار تھا؟ ان کا تو ہر حکم سر آنکھوں پر تھا۔ لیکن بس شادی کے لیے میرا دل آمادہ نہیں ہو پا رہا تھا۔ مگر بھلا ہو چا چو دی گریٹ کا مجھے سمجھاتے اور مناتے ہوئے ہر بات کے پیچھے ان کا یہ جملہ ضرور ہوتا کہ یہ تبدیلی تمہاری زندگی میں ضرور خیر لائے گی ۔ اللہ سے اچھا گمان رکھو اور یہ کہ عقل مند اور کامیاب لوگ Changes کو قبول کرتے ہیں ان سے گھبرا کر راہِ فرار اختیار نہیں کرتے۔‘‘

فضا آپو مدھم سروں میں کہہ رہی تھیں۔

’’اور سچ بتاؤں فائزہ! جب خرم میری زندگی میں آئے تو یوں لگا جیسے میری بلیک اینڈ وہائٹ زندگی میں رنگ بھر گئے ہوں۔ قوسِ قزح کے رنگ، شوخ اور خوب صورت ترین رنگ۔‘‘

وہ یاسر کو جھلاتے جھلاتے تھک چکی تھیں لیکن مجال تھی جو صاحب بہادر کی پلک سے پلک تک لگی ہو۔ فضا آپو اسے لے کر صبا کے بستر پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئیں اور یاسر کو گود میں لٹا دیا۔ وہ سو نہیں رہا تھا تو کم از کم رو بھی نہیں رہا تھا۔ اتنا بھی ان کے لیے غنیمت تھا۔

’’تو کیا آپ کو کنوارے پن کی زندگی یاد نہیں آتی؟‘‘

’’کیا تمہیں اسکول لائف یاد نہیں آتی۔‘‘ انھوں نے جواباً سوال کیا۔

’’بہت یاد آتی ہے…‘‘ فائزہ نے فی الفور جواب دیا… ’’بٹ کالج لائف کا بھی اپنا مزہ ہے…‘‘ اس نے شانے اچکائے۔

’’Exectly… عموماً لڑکیاں Bachler lifeکو اور میکے کی زندگی کو تو بہت اہمیت دیتی ہیں لیکن جو نعمت سسرال میں شوہر کے گھر جاکر ملتی ہے وہ امی ابا کے گھر مل ہی نہیں سکتی۔ مثلاً شوہر کی محبت، عزت واحترام معاشرے میں باوقار مقام اور مثلاً یہ جناب…‘‘

انھوںنے بہت موڈ میں آکر یاسر کو ہوا میں اچھالا اور اس کے Chubby cheeks(پھولے رخساروں) کو نرمی سے چوما۔

ہر دور کا اپنا مزہ ہے، اپنا لطف ہے۔ میں اپنی پریگننسی (Pregnancey)سے پہلے بھی میں عجیب اضطراب کا شکار تھی، فگر بدل جائے گا، مصروفیت بڑھ جائے گی خود کو اور خرم کو وقت نہیں دے پاؤںگی۔ لیکن کسے پتہ تھا کہ یہ بدلاؤ اپنے ساتھ کتنے ہی حسین اور امیزنگ تبدیلیاں لائے گا۔ شادی ایک لڑکی کی زندگی کی سب سے بڑی تبدیلی ہوتی ہے۔۔۔ اس کی دنیا سراپا بدل جاتی ہے اور ماں بننا ایک عورت کے لیے سب سے بڑا اعزاز ہے سب سے بڑا آنر! اگر میں شادی والے Change کو قبول نہ کرتی تو اتنی بڑی نعمت سے محروم رہ جاتی۔‘‘

انھوں نے شدت جذبات سے مغلوب ہوکر یاسر کو اتنی زور سے بھینچا کہ وہ حواس باختہ ہوکر رونے لگا۔

’’بیڑہ غرق‘‘ فضا آپو کے بے بسی سے کہنے پر فائزہ محظوظ ہوکر ہنسی تھی۔

اور وہ سچویشن یاد کر کے آج عید کے دن حیدر مرتضیٰ کی بغل میں بیٹھی ہوئی وہ چپکے سے مسکرا دی۔ پھر ارحم بھائی کی آواز پر فوراً اپنے لب دبا لیے۔ وہ اسے ہی دیکھ رہے تھے۔

’’فائزہ کچن سے آئی ہے اور خالی ہاتھ ہے یہ قابلِ حیرت نہیں!!!‘‘

ارحم بھائی نے مصنوعی استعجاب کا اظہار کیا۔

’’آپ کو کچھ چاہیے تھا‘‘ اس نے اٹھنے کے لیے پر تولے۔

’’نہیں … لیکن مس سبزہ زار! آپ کا جگ اور گلاس کدھر ہے ہمیں تو لگ رہا تھا عید کے دن بھی فائزہ کی ضیافت پانی سے شروع ہوکر پانی پر ہی ختم ہوگی۔‘‘

وہ جھینپ گئی۔ اس کا کیا گیا ہر کام نہ جانے کیوں مذاق بن جاتا تھا۔ اور پھپھو کی فیملی سے مس ہریالی، میڈم ہری بھری اور سرسبز خاتون جیسے ملنے جلنے والے الفاظ کا وہ قطعاً برا نہیں مناتی تھی۔ یہ سب اس کی ذاتی غلطی تھی اور ایک جیسے رنگ والے کپڑے پہننے کا نتیجہ تھا۔

’’اچھا تو تم لوگوں نے اس پانی والی بات کو میری بیٹی کے مذاق کا موضوع بنا لیا ہے۔ اللہ نے تو کتے کو پانی پلانے والے شخص کو معاف کر دیا تھا تو اس آدمی کا کیا مقام ہوگا جو پیاسے انسانوں کو پانی پلائے۔‘‘

حید رمرتضیٰ کی بات پر فائزہ کو ایک سپورٹ اور ہمت کا احساس ہوا۔ ’’میری بیٹی نے تو میسر اسر فخر سے بلند کر دیا تھا۔‘‘ انھوں نے محبت سے بھرے لہجے میں کہا۔ ارحم بھائی سمیت سب مسکرا رہے تھے۔ ’’تابعین کہتے ہیں کہ جب گناہوں کی کثرت ہوجائے تو پانی پلانا لازم کر لینا چاہیے کیوں کہ یہ گناہوں کی معافی کا ذریعہ ہے۔‘‘

ابو کی بات پر فائزہ بے ساختہ چونکی … اسی لمحے فضا آپو کے سسرال والے ان کے جیٹھ جٹھانی (اَنس کے والدین) سلام مبارک کہتے ہوئے اندر آئے۔ فائزہ انہیں دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی۔

ابھی ابھی کچن میں ہوئی گفتگو سے ہونے والی متلاہٹ کا علاج اسے مل گیا تھا… وہ مہمانوں کو پانی پلانے چل دی۔

چند دنوں کے بعد (یہاں مارچ کے شمارہ میں)

’’اُمید‘‘ ہاسپٹل سے بارش رک جانے کے بعد نکلی تو سنہری دھوپ میں سب کچھ چمک رہا تھا۔ اندر ریسیپشن پر بیٹھی لڑکی فون کا ریسیور کان سے لگائے کسی کو اپائنٹمنٹ کے متعلق اطلاع دے رہی تھی۔ ریسیپشن کے سامنے ویٹنگ ایریا تھا۔ جہاں قطار میں لگی آہنی کرسموں پر بیٹھے مریض اپنے تیمار دار کے ساتھ اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ان میں زیادہ تعداد خواتین کی تھی۔ پریگنینٹ عورتیں … اور اسی سے متعلق باتیں۔ ہر عورت اپنے ساتھ والی خاتون سے اس کی تکلیفوں اور تجربوں کی بابت گفتگو کر رہی تھی اور ساتھ ہی اس بات کی شکایت بھی سنائے دے رہی تھی کہ اسپتالوں میں اپنا نمبر بہت دیر سے لگتا ہے۔ گھنٹوں لگ جاتے ہیں کبھی کبھی دن بیت جاتا ہے وغیرہ وغیرہ۔

ڈاکٹرافراح رحمن ایک قابل گائنالوجسٹ تھیں۔ بہت کم عمری اور کم وقت میں انھوں نے اپنی شناخت بنا لی تھی۔ ’’امید‘‘ ہاسپٹل ان کے شوہر ڈاکٹر عبد الرحمن کا ذاتی اسپتال تھا۔ جس کے فرسٹ فلور پر ڈاکٹر افراح کا میٹرنٹی ہوم تھا۔ ڈاکٹر عبد الرحمن مشہور کارڈیا لوجسٹ (ماہر امراضِ دل) تھے۔ سیکنڈ فلور پر وہ اپنے مریضوں کو دیکھتے تھے۔

ڈاکٹر افراح رحمن فرسٹ فلور پر اپنے وسیع تر اور کشادہ کیبن میں بڑے سے ٹیبل کے سامنے ریوالونگ چیئر پر بیٹھی تھیں۔

ٹیبل کی دوسری جانب ان کے سامنے رکھی دو کرسیوں میں سے ایک پر کوئی خاتون امید و بیم کے عالم میں بیٹھی ڈاکٹر افراح کے چہرے کو تک رہی تھیں۔

ڈاکٹر افراح ابھی ینگ تھیں اور دبلی پتلی ہونے کی وجہ سے کم عمر لڑکی نظر آتیں۔ آدھے بالوں کی پونی بنا کر باقی آدھے بال کھلے چھوڑ رکھے تھے جو شانوں پر گرے ہوئے تھے۔ کانوں میں باریک نگوں کے چھوٹے چھوٹے ٹاپس ڈال رکھے تھے۔ اس عورت کی نگاہ ان کے کانوں کے ٹاپس پر سے چہرے پہ جاتی اور چہرے سے پھر ٹاپس پر۔ اس کی آنکھوں کی پتلیاں مسلسل متحرک تھیں۔ بے چین و بے قرار، مضطرب و پریشان۔۔۔

اس کیبن میں قد آور کھڑکیاں تھیں، جن سے دن کی ساری روشنی اندر آرہی تھی۔ اجالا اتنا زیادہ تھا کہ ایک بھی لائٹ جلانے کی ضرورت نہیں تھی۔ ساری لائٹس آف تھیں، صرف سیلنگ فین کے گھومنے کی آواز کمرے میں ارتعاش پیدا کر رہی تھی۔

اس عورت کی نظریں اب بھی ڈاکٹر افراح کے نقوش پر تھیں جب کہ ڈاکٹر اپنے ہاتھ میں پکڑی فائل میں لگی رپورٹ کے مطالعے میں غرق تھیں۔ چند لمحوں کے بعد ڈاکٹر افراح رحمن نے اپنی ناک پر پھسلتے ہوئے گلاسز کو شہادت کی انگلی سے پیچھے سرکا کر ماتھے سے ٹکایا اور ریوالنگ چیئر پر تھوڑا آگے کو ہوئی اور دونوں کہنیاں ٹیبل پر ٹکا دیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سلمیٰ نسرین آکولہ