شمع

ایک شمع جلانی ہے! (قسط ــ 12)

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم، جو چلے تو جاں سے گزر گئے

رہ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

تو یہ تھی غافرہ اور ابتسام کی کہانی… ایک لڑکی کی کہانی جس نے خوابوں سے حقیقت کا سفر کیا اور دورانِ سفر بھٹک سی گئی… ایک رشتہ ہوتا ہے رشتہ ازدواج اور یہ رشتہ ایک موڑ پر زندگی کے ایک مرحلے میں سب سے اہم رشتہ بن جاتا ہے… اور ایک ہوتا ہے عدو مبین جس نے بندوں کو بھٹکانے کی قسم کھا رکھی ہے اور وہ کیا خوب ہی اپنی قسم نبھا رہا ہے اور ہر روز وہ ایک تاج پہنانا چاہتا ہے ہر اس شیطان کو جو اس رشتہ ازدواج میں بندھے دو لوگوں میں غلط فہمی ڈال دے اور جھگڑا کروا دے، جو معمولی معمولی باتوں کو بنیاد بنا کر ابن آدم اور بنت حوا کو ان کی جنت سے نکلوا دے… لیکن وہ رب رحیم بھی تو مواقع دیتا ہے سنبھلنے کے، موقع نہیں بلکہ مواقع… اور کہتا ہے کہ دیکھو ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے اور پھر اِسی مشکل کے ساتھ ایک اور آسانی ہے۔ غافرہ نے آخر اپنی مشکل میں اللہ کے عطا کیے موقع کا فائدہ اٹھا کر زندگی کو آسان کر لیا تھا اور یوں ایک کہانی کا اختتام ہوا… لیکن کیا حقیقت میں یہی اختتام تھا…؟

اور پھر سارا مسئلہ تو اِسی اختتام کا ہے نا! عورت اپنی کہانی کو اختتام ہی بنا دیتی ہے ایک نیا آغاز نہیں دیتی اور یہ اس کی سب سے بڑی بھول ہوتی ہے۔ عورت کی کہانی کو ختم نہیں ہونا چاہیے۔ اگر غافرہ کی کہانی یوں ختم ہوجائے تو تو ایک جلتی شمع گزرتے وقت کے ساتھ پگھل کر ختم ہوجائے گی پھر وہ اندھیرا کیسے ختم ہوگا جس نے دلوں کو ویران کررکھا ہے اور کیا غافرہ یہ بات جانتی ہے؟ اور اگر نہیں… تو دیکھیں کہ کہانی کیا کروٹ بدلتی ہے۔

٭٭٭

نہیں ہے ناامید اقبال اپنی کشتِ ویراں سے

ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی

’’ماویہ۔۔۔ ماوی۔۔۔ جاگ جاؤ بیٹا بہت وقت ہوگیا‘‘ غافرہ نے محبت سے ماویہ کے بالوں میں ہاتھ پھیرا تو وہ تھوڑا کسمسا کر دوبارہ اس سے لپٹ گئی اور آنکھیں سختی سے مینچ لیں… روزانہ کے نخرے تھے اس کے۔

’’چلو ٹھیک ہے، بیٹی کو نیند آرہی ہے نا… سو جاؤ میں ذرا نانی امی کے گھر جاکر آتی ہوں۔ غافرہ نے آہستہ سے اس کا ہاتھ اپنی گردن کے گرد سے ہٹایا لیکن تب ماویہ نے پٹ سے آنکھیںکھول دیں۔

’’مما… ماوی اٹھ گئی اور دیکھو منہ بھی چھاف کرلیا اک دم اچھے سے۔‘‘ ماویہ نے جلدی جلدی اپنے دونوں چھوٹے چھوٹے ہاتھوں کو منہ پر اچھے سے پھرتے ہوئے کہا تو غافرہ کو ہنسی آگئی۔

’’آہا بیٹا جانی! منہ بھی صاف کرلیا‘‘ ایسے کبھی منہ صاف کیا جاتا ہے؟… بہت سے جراثیم ہوتے ہیں منہ میں۔ صبح اور رات میں دانت اچھے سے برش سے صاف کرتے ہیں۔ پھر صابن سے نہا کر خوشبو والی بیٹی بن جائے گی یہ ہماری۔ اچھے سے بال بنائے گی، صاف ستھرے کپڑے پہن کر تو ہماری بیٹی شہزادی لگے گیـ‘‘ غافرہ نے ماویہ کو برش کراتے اور منہ دھلاتے ہوئے محبت سے سمجھایا۔ بچوں کو عادتیں بچپن سے ڈالنی ہوتی ہیں ورنہ بڑھتی عمر کے ساتھ اگر غلط عادتیں پختہ ہوجائیں تو پھر انہیں چھڑانا مشکل ہو جاتا ہے۔

’’مما… آنی بھی ہے اور چھوٹو بھیا بھی ہے؟‘‘ ماویہ نے اپنی مما کی باتوں پر تیزی سے گردن ہلاتے ہوئے اپنی آنی جو وہ سویرا کو کہتی تھی اور عفان کے ڈیڑھ سالہ بیٹے ریحان کے متعلق پوچھا جن کے بنا نانی کے گھر اس سے دو منٹ بھی رُکا نہیں جاتا تھا۔

’’ہاں… وہ بھی ہوں گے مگر دیکھو چھوٹو بھیا کو تنگ نہیں کرنا… اس کے گال نہیں کھینچنا… نانی امی اور مامی کو ستانا نہیں… زیادہ پٹر پٹر نہیں بولنا… بالکل گڈ گرل بن کر رہنا…‘‘ غافرہ نے اسے تیار کرتے کرتے معمول کی ہدایتیں دیں جب کہ حسب معمول ہی ماویہ کا دھیان کسی ایک ہدایت پر بھی نہ تھا۔وہ تو یہ سوچ رہی تھی کہ پچھلی مرتبہ جب اس نے دیکھا تھا کہ چھوٹو بھیا کے سارے بال کہیں غائب ہوگئے ہی تو اسے بڑا دکھ ہوا تھا اور بس پھر اس نے عفو ماما کے پین سے چھوٹو کے سر پر سارے بال واپس بنا لیے تھے اور اب وہ بال کتنے بڑے ہوگئے ہوں گے؟ لیکن پتہ نہیں کیوں اتنی محنت کے بعد بھی مما نے اسے دو تھپڑ کیوں مارے تھے؟ اور چھوٹو کیوں اتناچلا چلا کر حلق پھاڑ کر رو رہا تھا… آخر کیوں؟

’’ماویہ سمجھ آیا کیا…‘‘ غافرہ نے برقعہ پہنتے ہوئے اس سے پوچھا:

’’جی … مما…‘‘ اس کا شرافت بھرا، مگن مگن سا جواب غافرہ کو ہمیشہ مشکوک لگتا جب کہ ابتسام اس کے اس انداز پر فدا ہوئے جاتے تھے۔

’’چلو اب…‘‘ اس نے گھر کو لاک کیا۔ اس کا آج اپنی امی کی طرف جانے کا کوئی ارادہ نہ تھا لیکن رحمیٰ باجی کا میسج آیا تھا کہ وہ وہاں آنے والی ہے تو اس نے بھی جانے کا فیصلہ کرلیا۔ بہت عرصہ ہوگیا تھا ان سے ملاقات کیے۔

٭٭٭

پلٹا ہوں تو یادوں پہ بہت گرد پڑی تھی

شاید کوئی دروازہ کھلا چھوڑ گیا میں

رحمیٰ باجی سے اس کی ملاقات تقریباً ڈھائی، تین سال بعد ہو رہی تھی۔ مخلص رشتے ہمیشہ یاد رہتے ہیں۔ دلوں میں بھی، لفظوں میں بھی اور دعاؤں میں بھی۔ امی سے ان کی بابت اتنا ہی معلوم ہوا تھا کہ وہ خالہ دادی کے انتقال کے بعد کسی گرلز ہوسٹل میں بطور وارڈن جوائن ہوگئی ہیں مگر تفصیل کا علم نہ تھا۔

تمام خاطر مدارات اور دوپہر کے کھانے کے بعد بھابھی اور امی محلے میں ہوئی کسی کی میت میں چلی گئیں جب کہ کالج سے تھکی ہاری آئی سویرا کچھ دیر ماویہ کے ساتھ کھیل کر تھوڑا آرام کرنے چلی گئی۔ غافرہ چائے کے دو کپ لے آئی۔ وہ اور رحمیٰ آرام سے بیٹھ گئے۔ گزرتے وقت کے ساتھ رحمیٰ باجی مزید سوبر ہوتی گئیں لیکن جو سب سے مثبت تبدیلی غافرہ نے نوٹ کی تھی وہ یہ کہ وہ جو اداسی اور پچھتاوے کی پرچھائیں ان کی شخصیت کا حصہ بنی ہوئی تھی وہ اب سرے سے غائب تھی وہ بہت مطمئن اور تر و تازہ لگ رہی تھیں۔

’’ماشاء اللہ رحمیٰ باجی!! آپ کو وہ دن یاد ہے جب میں بہت ہی ڈپریسڈ اور پریشان سی آپ کے پاس بیٹھی تھی؟ ابتسام کی امی ان کے لیے دوسرا رشتہ دیکھنا شروع کرچکی تھیں اور میں خود کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہی تھی۔‘‘ غافرہ نے پرانی یاد تازہ کی۔

’’اور تب مجھے تم میں اپنا عکس نظر آیا تھا… ایک وقت تھا جب میں بھی تمہاری طرح تھی۔ بس فرق یہ ہوا کہ میں نے اپنا آخری چانس بھی گنوا دیا تھا، لیکن جب تمہیں دیکھا تو مجھے لگا تھا کہ میرا ماضی ایک بارپھر میرے حال میں کھڑا ہے اور مجھے ایک موقع دے رہا ہے اور مجھے خوشی ہے کہ میں نے موقع سے فائدہ اٹھایا۔‘‘ رحمیٰ نے غافرہ کے چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا۔

’’الحمد للہ… جہاں لمحوں کی خطاء سے صدیاں سزا پاتی ہیں وہیں لمحوں کے صحیح فیصلے زندگیاں سنوار بھی دیتے ہیں… اللہ آپ کو جرائے خیر دے۔ لیکن پتہ ہے رحمیٰ باجی؟ میرے دل میں بس یونہی ایک خیال آجاتا ہے جب کبھی میں ماضی میں جھانکتی ہوں کہ میں تقریباً ایک سال تک یہاں امی کے پاس آگئی تھی، پھر یہاں سے جانے کے بعد عرصہ لگا مجھے سب کے دلوں میں اپنی محبت، خدمت اور وفا کا احساس جگانے میں۔ میں نے شادی کے بعد کے ایک سنہرے دور کو یونہی ضائع کر دیا۔ میرا دل چاہتا ہے کہ میں کسی طرح وقت کو پیچھے موڑ لوں… جو غلطیاں میں نے کیں انھیں سدھار دوں اور جو لمحے تلخیوں میں گزارے ہیں انھیں انجوائے کروں۔‘‘ غافرہ نے کچھ دوری پر بیٹھی ماویہ کو دیکھتے ہوئے کہا جو اپنے ہاتھوں سے چوڑیاں اتار کر چھوٹو کو پہنانے کی کوشش کر رہی تھی۔

’’ہاں‘‘ صحیح ہے لیکن گزرا ہوا وقت کیوں کر واپس آسکتا ہے۔‘‘ رحمیٰ نے اس کی نظروں کے تعاقب سے ماویہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو غافرہ ہلکی سی اداسی لیے اس کی جانب دیکھنے لگی مگر رحمیٰ اس کی طرف متوجہ نہیں تھی اب وہ ماویہ کو دیکھ رہی تھی۔

لیکن ہر انسان دوسرے موقع کا حق دار ہوتا ہے اور اسے پھر سکنڈ چانس ملنا ہی چاہیے اور تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اکثر یہ دوسرا موقع بھی آتا ہے اور ہرگزرے وقت کا the best second chance آنے والا وقت ہوتا ہے، اور عورت کے لیے یہ دوسرا موقع اس کی اولاد ہوتی ہے۔ قدرت نے تمہیں بیٹی کی صورت میں ایک بہترین دوسرا موقع دیا ہے…‘‘ رحمیٰ نے ہمیشہ کی طرح دھیمے لہجے میں کہا۔ ان کی باتیں غافرہ کو اپنے اندر اترتی محسوس ہوئیں ہمیشہ کی طرح! وہ خاموشی سے انہیں دیکھتی رہی کیوں کہ ان کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ ان کی بات ابھی ختم نہیںہوئی۔

’’تم جانتی ہو مجھ میں یہ تبدیلی کیسے آئی؟‘‘ رحمیٰ باجی نے جواب دینے سے پہلے خود ہی سوال کیا۔ ایک بار پھر وہ اپنی زندگی کا ایک اور باب اس کے ساتھ شیئر کرنے جارہی تھیں تاکہ اپنی روشنی میں دوسروں کو بھی حصہ دار بنایا جائے تب ہی تو اندھیرا ختم ہوگا نا!

’’میں نے اپنی زندگی کو خود ہی تکلیف دہ بنا رکھا تھا۔ جب تم سے اپنے حالات شیئر کیے اور تم واپس اپنے گھر چلی گئیں تو میں نہیں جانتی کہ کیسے میرے اندر موجود بے چینی کے آکٹوپس کو دھیرے دھیرے سکون آنے لگا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے سالوں کی گھٹن میں کمی ہوئی ہے۔ خالہ امی کے انتقال کے بعد تو میں جیسے خلاء میں تھی۔ میں ایک اکیلی عورت گھر میں اکیلی تو نہیں رہ سکتی تھی سو میں گھر کو قفل ڈال کر بھائی کے پاس آگئی۔ وہاں کے حالات تو تمہیں پتہ ہی ہیں، لیکن اس بار تلخی زیادہ تھی کیوں کہ میری واپسی کے امکانات صفر تھے۔

کچھ ماہ بعد ایک خالہ دادی کی جان پہچان والوں کے توسط سے ایک اچھے گرلز ہوسٹل میں وارڈن کے طور پر جاب مل گئی۔ ساتھ ہی رہنے کے لیے روم بھی اور یوں میں اس ہوسٹل میں رہنے لگی۔

جہاںاس ذمہ داری نے مجھے مصروف کر دیا وہیں لڑکیوں کی ہنستی مسکراتی زندگی کو دیکھ کر میرے اندر کی اداس اور بے سکون لڑکی، اپنی تنہائی اور دکھوں کی مزید گہرائی میں اترنے لگی…‘‘ غافرہ بڑی ہی خاموشی سے انہیں سن رہی تھی یوں جیسے صرف انہی کی آواز اسے آرہی تھی باقی کوئی آواز تھی ہی نہیں۔

’’ان ہی دنوں ہوسٹل میں میرے ساتھ کمرے میں ایک اور خاتون رہنے لگیں۔ وہ نو مسلم خاتون تھیں۔ ۴۰ سال کے لگ بھگ عمر تھی،پی ایچ ڈی کر رہی تھیں۔ قبولِ اسلام کے بعد ان کی کمیونٹی نے ان کا بائیکاٹ کر دیا تھا۔ کسی خیر خواہ کی کوشش سے انہیں یہاں بطور وارڈن رکھا گیا تھا۔ وہ کسی کالج میںلیکچرر تھیں لیکن انھیں وہاں سے بھی نکال دیا گیا تھا۔ اب وہ اسلامک اسٹڈیز میں پی ایچ ڈی کر رہی تھیں اور اپنا خرچہ خود اٹھانا چاہ رہی تھیں۔ اِن خاتون کو جنھوں نے اپنا نام زینب رکھا تھا، انتظامیہ نے وارڈن کی جاب تو دے دی تھی لیکن تنخواہ بہت معمولی تھی۔

میرے اندر پنپتے اور جڑ پکڑتے دکھوں اور احساس کمتری نے مجھے بہت ہی ریزرو بنا دیا تھا۔ میں ان سے بھی زیادہ بات نہیں کرتی تھی بس اپنے ذمہ کے کام انجام دیتی رہتی۔ دھیرے دھیرے انہی کی کوششوں کی وجہ سے میں ان سے مانوس ہوتی گئی، پھر ایک مرتبہ اپنے اندر کے اندھیرے سے تنگ آکر میں اُن سے اپنی زندگی کی کہانی شیئر کر بیٹھی۔ انہیں بتایا کہ کیسے دوسروں کو زندگی سے بھرپور دیکھ کر مجھے احساسِ کمتری ہوتا ہے اور مجھے لگتا ہے کہ کاش میں نے بھی اپنی زندگی کو بہتر بنایا ہوتا! کاش وقت پھر سے پیچھے چلا جائے اور میں وہ غلطیاں نہ کروں جو میں نے کی ہیں…!!

اور تب انھوں نے مجھ سے کہا تھا!!

’’رحمی! ہمارا اللہ ہمیں ساری زندگی مواقع دیتا رہتا ہے اور حقیقت تو یہ ہے کہ زندگی خود ہی ایک موقع ہے، ہر عطا ہونے والا دن اور میسر ہونے والا لمحہ موقع ہے۔

بہت سادہ اور آسان سی بات ہے جو غلطیاں تم نے کیں انھیں کسی اور کو نہ کرنے دو۔ کوئی نہ کوئی تو روکے گا، سوچے گا اور وہی تمہارا سیکنڈ چانس ہوگا۔ ہم غلطی یہ کرتے ہیں کہ اپنی غلطیوں اور پشیمانیوں کا زہر یا تو خود ہی پی کر بیٹھ جاتے ہیں یا پھر اس زہر کو اپنی آنے والی نسلوں میں اتارتے ہیں۔

زہر تریاق بھی بن سکتا ہے اور قاتل بھی۔ وہ امرت بھی ہوسکتا ہے۔اِسے امرت بناؤ خود کے لیے اور تریاق بناؤ دوسروں کے لیے۔

جب کوئی تمہاری وجہ سے غلطیوں کو سدھارے گا، ان سے دور ہونے لگے گا تو یہ ایک تریاق ہوگا جو تمہارے اندر امرت کی شکل میں اٹھے گا۔ تم نے اپنے حصہ کی روشنی جلائی نہیں لیکن تمہاری وجہ سے دوسروں کی زندگی میں ہونے والی روشنی تمہارے اندر کے اندھیرے کو دور کردے گی۔

ان کی ایک ایک بات میرے اندر روشنی بن کر اتر رہی تھی۔ انھوں نے میرے اندر کی بجھتی شمع کو روشن کر دیا تھا۔

میں نے اگلے ہی دن خالہ امی کا گھر کھولا، اپنی تنخواہ میںسے اس گھر کو مزید فرنش کیا۔ خالہ امی وہ گھر میرے نام کر گئی تھیں۔ میں نے اسے کرایہ پر دے دیا۔ پھر انتظامیہ سے بات کی کہ میں بطورِ وارڈن اپنا کام جاری تو رکھوں گی لیکن تنخواہ نہیںلوںگی، وہ زینب آپا کی طرف ٹرانسفر کردیں۔ الحمد للہ گھر کا کرایہ ہی بہت آتا ہے اور اس بات سے میں نے زینب آپا کو لاعلم رکھا، وہ تو وارڈن کی بڑھی تنخواہ پاکر بہت خوش ہو رہی تھیں۔

گرلز ہوسٹل میں لڑکیوں کے بے شمار مسائل ہوتے ہیں۔ میں دھیرے دھیرے اپنے خول سے باہر نکلنے لگی۔ ان لڑکیوں کے ساتھ مضبوط تعلق بنایا، انھیں اپنائیت کا احساس دلایا اور آہستہ آہستہ وہ سب مجھ سے قریب ہوتی گئیں۔ اب وہ اپنی مشکلیں اور مسائل آسانی سے میرے ساتھ شیئر کرلیتی ہیں۔ میں کبھی اپنی سمجھ کے اعتبار سے انہیں حل بتا دیتی ہوں اور اگر کچھ مشکل لگے تو زینب آپا سے پوچھ لیتی ہوں۔ ایک اطمینان اور سکون میرے اندر اترنے لگا تھا۔

’’تو قصہ مختصر یہ کہ میں نے اپنا سکنڈ چانس ڈھونڈ لیا ہے، اور اب تمہارا دوسرا موقع تمہاری بیٹی ہے، اسے اس کے حصے کی روشنی دو … اگر ہر ماں اپنی بیٹی کو اپنے حصے کی شمع جلانا بتا دے تو پھر کسی بنت حوا کی زندگی اندھیروں کا شکار نہ ہوگی اور نہ ہی ابن آدم کو اندھیروں میں سفر کرنا پڑے گا۔ کیا سمجھیں؟ ایک گہری سانس لیتے ہوئے رحمیٰ نے اپنی بات ختم کی اور غافرہ کو دیکھا جو نم ہوتی آنکھوں سے اسے دیکھ رہی تھی۔

’’جزاک اللہ خیراً رحمیٰ باجی…‘‘ بس یہی وہ الفاظ تھے جو اس کی زبان سے نکل سکے اور کہتی بھی تو کیا…! یہ زندگی کے تجربوں سے مثبت نتیجہ نکالنے والے لوگ عطر فروش کی طرح ہوتے ہیں اور ان کی صحبت آپ کو معطر کر دیتی ہے، مہکا دیتی ہے۔

گاڑی کے بجتے ہارن نے اسے خیالوں سے باہر نکالا۔ ابتسام لینے کے لیے آگئے تھے۔ اس نے جلدی سے ماویہ کو اٹھایا جو اپنے کارنامے کو بڑی خوشی سے دیکھ رہی تھی۔ چھوٹو کو چھوٹی بنا رکھا تھا، چوڑیاں، سویرا کا پاؤڈر، میک اپ خود ماویہ کا ہیر بینڈ چھوٹو کے چہرے اور سر کی رونق بنا تھا۔ اب اس کو ٹھیک کرنے کا وقت نہ تھا غافرہ کے پاس اسے بیک وقت ہنسی بھی آرہی تھی اور کسی قدر شرمندگی بھی محسوس ہو رہی تھی۔ رحمیٰ باجی تو مسلسل ہنسے جا رہی تھیں اور چھوٹو کی الگ الگ انداز سے فوٹو لے رہی تھیں۔

’’چلیے پھر ملاقات ہوگی…‘‘ غافرہ نے محبت سے الوداعی جملے کہے…

’’ہاں اللہ حافظ… اور دیکھو کبھی آؤ ہمارے ہوسٹل… وہ زینب آپا بڑی کمال کی خاتون ہیں۔ اُن سے ملاقات کروگی تو خوشی محسوس کروگی‘‘ رحمیٰ نے ماویہ کا بوسہ لیتے ہوئے کہا…

’’ہاں انشاء اللہ کوشش کروں گی۔‘‘ غافرہ نے ماویہ کی انگلی تھامتے ہوئے کہا ۔ویسے اس کا کوئی ارادہ نہ تھا اُن سے ملنے کا، لیکن جو چیز ہونا طے ہو وہ ہو جاتی ہے پھر انسان کے ارادے دھرے رہ جاتے ہیں اور غافرہ اس سے بے خبر تھی کہ وہ بہت جلد ہی ان سے ملنے والی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
سمیہ تحریم امتیاز احمد

تبصرہ کیجیے