معاہدہ

کریم کو میڈیکل کالج سے فارغ ہوئے تین سال سے زیادہ نہیں ہوئے تھے، مگر اس قلیل عرصے میں بہ حیثیت ڈاکٹر، اس نے اس قدر شان دار کامیابی اور شہرت حاصل کرلی تھی کہ سب کے نزدیک محبوب اورپسندیدہ شخصیت بن گیا تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس اعلیٰ مقام تک پہنچنے اور کام یابیاں حاصل کرنے میں اس کے بلند اخلاق و کردار کا بڑا حصہ تھا۔ جو لوگ کریم کو میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے مراحل سے گزرتا دیکھ چکے تھے، وہ بہ خوبی جانتے تھے کہ اس نے بچپن میں کس قدر کٹھن اور دشوار زندگی گزاری۔ مشکلات سے بھرے فرسودہ ماحول میں اعلیٰ تعلیم اور بہترین اخلاقی تربیت کا حصول اس کے لیے قطعی آسان نہ تھا۔ ایسے میں اس کے اندر موجود اوصاف، بلند اخلاق، تہذیب و شائستگی اور رکھ رکھاؤ کی جس قدر توصیف کی جائے، کم ہے کہ وہ نہ صرف مریضوں بلکہ اپنے تمام ملنے جلنے والوں کے ساتھ انتہائی تہذیب و شائستگی اور نرم خوئی سے پیش آتا۔ ویسے طب کی تعلیم کے حصول میں اس کے والد نے اس کا بہت ساتھ دیا۔ اس نے ہائی اسکول کی تعلیم اپنے ہی شہر سے مکمل کی۔ سائنس کے مضامین میں نمایاں کامیابی حاصل کرنے کی وجہ سے اسے اسکالر شپ مل گئی۔ وہیں اس کی ملاقات ایک اعلیٰ گھرانے کے چشم و چراغ سے ہوئی، جو بعد میں قابل اعتماد اور دائمی دوستی میں بدل گئی، حتی کہ دونوں کے رات، دن ایک دوسرے کی ہم راہی میں گزرنے لگے۔ کچھ عرصے بعد کئی اور متمول و ممتاز گھرانوں سے تعلق رکھنے والے نوجوان بھی اس کے دوست بن گئے۔ وہ ان کے حسن سلوک سے بہت متاثر تھا، لہٰذا اب ان ہی کے انداز اختیار کرچکا تھا۔ پختہ سوچ اور واضح فکر کا مالک، پڑھائی میں دلچسپی لینے والا اور عبادت کا شوق رکھنے والا، جس طرح طب کی کتابوں سے استفادہ کرتا، بالکل اسی طرح اللہ کی کتاب سے بھی نہ صرف رہ نمائی حاصل کرتا، بلکہ اپنے ان خاص دوستوں کے ساتھ مل کر اپنے دیگر ساتھیوں کی بری عادات و اطوار کی اصلاح کا کام بھی انجام دیا کرتا۔

اکلوتی اولاد ہونے کے ناتے کریم اپنے والدین کے ساتھ ہی رہنے کو ترجیح دیتا، حالاں کہ اب وہ تقریباْ تیس برس کا ہونے والا تھا۔ وہ اپنے والدین کے درمیان رہ کر ان کے بیچ ہونے والی ناچاقیوں کی اصلاح کرنے کی کوششوں میں بھی لگا رہتا اور ان کوششوں کا یہ فائدہ ہوا کہ ان کے درمیان جو سخت قسم کی ایک محاذ آرائی جاری رہتی تھی، وہ کسی حد تک کم ہوگئی۔ لیکن افسوس وہ اپنی ماں کو اپنے باپ کے ساتھ ایک پرسکون زندگی گزارنے پر قائل نہ کرسکا اور اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ اپنے شوہر کی باتوں پر صبر کرنے سے قاصر تھیں۔ جب کہ اس کے والد کا مسئلہ یہ تھا کہ وہ اپنی زبان کو فضول گوئی اور بدکلامی سے گھڑی بھر کو بھی روک نہیں سکتے تھے۔ ایک دن اس کی ماں نے اس کی شادی کا قصہ چھیڑ دیا۔

’’میں مرنے سے پہلے تمہاری اولاد دیکھنا چاہتی ہوں اور میری خواہش ہے کہ تمہیں ایک پیاری سی بیوی کا ساتھ میسر آجائے۔‘‘

کریم نے ان کی اس بات پر مسکرا کر کہا:

’’آپ کی ہر بات سر آنکھوں پر امی جان… سوائے شادی کے۔‘‘

اس پر وہ فورًا بولیں: ’’اور مجھے تمہاری شادی کے سوا کچھ نہیں چاہیے، یہ بتاؤ کب تک میں تمہارا یہی جواب سنتی رہوں گی، جب سے تم پڑھائی سے فارغ ہوئے ہو، تمہارا یہی جواب ہے۔‘‘ کریم نے زمین پر نظر جماتے ہوئے کہا: ’’امی جان! میرا یہ جواب تب تک رہے گا، جب تک مجھے کوئی ایسی لڑکی نہ مل جائے جو مجھے آپ کے دل سے جوڑ کر رکھے۔‘‘ بیٹے کے محبت بھرے جواب سے متاثر ہوکر ماں اس پرواری ہوتے ہوئے بولی۔’تمہاری خالاؤں کی بیٹیاںبہت اچھی ہیں۔ ان میں سے جسے چاہو پسند کرلو۔‘‘ اس پر کریم نے مسکراتے ہوئے کہا: ’’اور اسی طرح میرے چچاؤں کی بیٹیاں بھی بہت پیاری ہیں ان کے بارے میں آپ کا کیا خیال ہے؟‘‘ جواباً وہ ایک دم تنک کر بولیں۔ ’’ہرگز نہیں، یہ تو تمہارے باپ کی کہی ہوئی بات ہے، جسے تم دہرا رہے ہو۔ اب بھلا کہاں آسمان اور کہاں زمین؟‘‘ پھر بات جاری رکھتے ہوئے بولیں: ’’کریم! مجھے اس تمنا سے محروم نہ کرو، تم مجھے اپنا گھر بسانے دو۔‘‘ کریم نے ہنستے ہوئے جواب دیا۔ ’’ایسی ہی آرزو ابو کو بھی تو ہے، تو پھر آپ کی کیا رائے ہے، اگر میں آپ دونوں ہی کی خواہش پوری کر ڈالوں… پھر تو میرے لیے ایک ہی وقت میں دو بیویاں آجائیں گی۔‘‘ اس پر وہ سختی سے بولیں: ’’نہیں! ہرگز نہیں… ایسا کبھی نہیںہوگا۔‘‘ ان کا حتمی لہجہ دیکھ کر وہ مایوسی سے بولا: ’’تب تو آپ اس معاملے کو یوں ہی رہنے دیں، یہاں تک کہ …‘‘ مگر ماں نے درمیان سے بات اچک لی اور بڑے دکھ بھرے لہجے میں اس کا ادھورا جملہ یوں مکمل کر دیا: ’’یہاں تک کہ مجھے موت آجائے… کیوں یہی بات ہے ناں؟‘‘

کریم اور اس کی والدہ کے درمیان آپس میں اس قسم کی گفتگو اکثر ہوا کرتی تھی، مگر وہ اپنی بات پر مصر رہتا کہ کبھی بھی شادی کے جھنجھٹ میں نہیں پڑے گا۔ اگر اس سے اس ضد کا سبب پوچھا جاتا، تو وہ کوئی قابل اطمینان جواب نہ دے پاتا، نہ ہی کوئی خاص سبب بیان کر پاتا۔ در اصل اسے اس بات کا یقین تھا کہ اس کی شادی کے بعد بھی اس کے والدین کے آپس کے اختلافات جاری رہیں گے اور پھر اسے آج کل کی لڑکیوں پر بھروسا بھی نہیں تھا۔ یہ دونوں باتیں ایسی تھیں، جنھوں نے اسے مجرد زندگی اختیار کرنے پر مجبور کر دیا تھا۔ اپنے گھر کی شکست و ریخت میں وہ نہ تو اپنی ماں کے مزاج کی درشتی اور تندی کا بھلا پاتا تھا اور نہ والد کے رویے کو جو خود بھی کوئی ٹھنڈے مزاج کے آدمی نہیں تھے، البتہ اتنا ضرور تھا کہ وہ کبھی کبھی والدہ کے مقابلے میں زیادہ صبر و ضبط کا مظاہرہ کرتے۔ اگر کوئی بات مزاج پر گراں گزرتی، تو گھر سے باہر نکل جاتے۔

اگرچہ کریم شادی سے مسلسل انکار کر رہا تھا، تاہم وہ اپنی زندگی میں عورت کی عدم موجودگی کی اذیت بھی محسوس کرتا تھا۔ وہ شادی کو شخصیت کی تکمیل کا ذریعہ اور اس کے ذریعے نسل نو کو فطری اور شرعی طریقے سے وجود میں لانے کا وسیلہ گردانتا تھا۔ ایسی نسل نو جو اللہ کے پیغام کو آگے بڑھانے والی ہو، مگر عورت کے بارے میں اس کی جو رائے قائم ہوچکی تھی، وہ اسے شادی کرنے سے روکتی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ وہ شادی شدہ زندگی پر ایک مجرد زندگی کو اس کی خامیوں، خرابیوں سمیت ترجیح دے رہا تھا اور ایسی صورتِ حال میں ڈاکٹر کریم جیسے شخص کے لیے بے حد ضروری تھا کہ وہ اپنے آپ کو کچھ مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھے۔ سو، اس نے جو مشاغل اختیار کیے، وہ دین اسلام سے آگہی اور جدید سائنسی علوم سے متعلق تھے۔ ایک دن ایسا ہوا کہ وہ ریڈیو سن رہا تھاکہ ایک خاتون کی انتہائی محبت بھری اور پرکشش آواز سنائی دی جو سامعین کو ’’شادی‘‘ اور ’’تجرد‘‘ کے موضوع پر کلامِ الٰہی او راحادیث کی روشنی میں معلومات و رہ نمائی فراہم کر رہی تھیں۔ ایک آیت کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ’’اس کی نشانیوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس نے تمہاری جنس سے جوڑے بنائے، تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔ یقینا اس میں غور و فکر کرنے والوں کے لیے نشانیاں ہیں۔‘‘ کریم کو ایسا لگا جیسے یہ آیت اس نے آج پہلی مرتبہ سنی ہو۔ اس آیت کی رو سے دو اصناف کا باہم ملن ایک علم و آگہی ہے، جسے سوائے غور و فکر کرنے والوں کے کوئی اور نہیں سمجھ سکتا اور اس آیت کے مطابق زوجین میں سے ہر ایک دوسرے کے لیے، اپنے اندر جو کچھ پاتا ہے وہ سکون، محبت اور رحمت ہی ہے۔ یعنی مرد کی فطرت و مزاج میں جو ایک خلا ہوتا ہے وہ اس کی رفیق بیوی کے سوا کوئی اور پر نہیں کرسکتا۔ پھر اسی گفتگو کے دوران سنائی جانے والی ایک حدیث بھی سیدھی اس کے دل میں اتر گئی کہ:

’’تم میں سے جو نکاح کی طاقت رکھتے ہوں، تو ان کو چاہیے کہ وہ شادی کریں۔‘‘

یہ سن کر کریم کے دل میں اپنا محاسبے کا احساس اجاگر ہوا۔ وہ ایک مجرد زندگی اس لیے نہیں گزار رہاتھا کہ وہ ازدواجی زندگی کی قید و بند سے فرار چاہتا تھا، بلکہ اس کا معاملہ شاید یہ تھا کہ اسے کوئی ایسی لڑکی ہی نہیں ملی، جو ان صفات عالیہ یعنی سکون، پیار، مودت اور رحمت سے آراستہ و پیراستہ ہو۔ مگر پھر اس نے غور کیا کہ کیا یہ عذر، اسے درد ناک عذاب سے بچانے کے لیے کافی ہوگا…؟ تو اس کے سارے بہانے، عذر ایک ایک کر کے ریزہ ریزہ ہوتے چلے گئے۔ جب اس پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ گناہ اور معصیت سے بچنے کے لیے زوج سے بہتر کوئی سبیل نہیں، تو اس نے بالآخر شادی کا فیصلہ کر ہی لیا۔ تاہم وہ ازدواجی زندگی کے تین بنیادی ارکان، سکون، مودت اور رحمت کو نہیں بھولا۔ کچھ لمحے سوچنے پر اسے خیال آیا کہ اس کے مریضوں میں سے ایک شخص کی بیٹی، اپنے ظاہری حلیے اور تہذیب و اخلاق میں بھی آج کل کی لڑکیوں سے بہت مختلف نظر آتی ہے۔ وہ ڈاکٹر کریم کے منظور نظر مریضوں میں سے ایک تھے، جن کا طبی معائنہ کرنے وہ اکثر ان کے گھر بھی جایا کرتا تھا۔ کریم نے فیصلہ کرلیا کہ وہ لڑکی کے والد کو اس رشتے کے لیے ضرور راضی کرلے گا۔ مگر جب اس بار وہ ان کے طبی معائنے کے لیے ان کے یہاں گئے تو ان کے سامنے اپنی بات پیش کرنے میں اسے کچھ جھجک سی محسوس ہوئی۔ اسے سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ اپنی بات کہاں سے شروع کرے، لیکن اتفاق سے لڑکی کے والد نے خود ہی کریم سے یہ سوال کر کے اس کی مشکل آسان کردی کہ وہ اب تک شادی کرنے میں دلچسپی نہیں لے رہا؟ اس اچانک اور غیر متوقع سوال پر اس سے فوری طور پر کوئی جواب نہ بن پڑا، بس اس کے مہ سے یہی نکلا ’’جی! جی! دلچسپی تو ہے… مگر انھوں نے کہا:

’’تم پریشان نہ ہو، ہم تمہاری مدد کرسکتے ہیں۔‘‘

اس سے قبل کہ کریم کچھ کہتا، انھوں نے بات جاری رکھتے ہوئے کہا:

’’میری ایک بیٹی ہے، جو تمہارے لیے بہت موزوں رہے گی، تم کہو، تو میں تمہیں اس سے ملوا دوں…؟‘‘

جی بالکل! میں ان شاء اللہ عشاء کے بعد آپ کے پاس آتا ہوں۔‘‘ اور پھر عشاء کے بعد وہ ان کے یہاں دوبارہ پہنچ گیا۔ ڈاکٹر کریم جب ان کی بیٹی آمنہ سے ملا، تو اسے اس میں وہ سب کچھ نظر آیا، جو وہ چاہتا تھا۔ وہ راضی، خوشی آمنہ کے والد سے یہ وعدہ کر کے گھر لوٹ آیا کہ وہ جلد ہی ان کے گھر آئے گا۔

پھر جب اگلی بار وہ ان کے گھر گیا، تو اس نے یہ طے کیا کہ وہ بہرحال آمنہ کے اخلاق اور حسن سلوک کا ایک امتحان ضرور لے گا۔ آمنہ نے اسے قہوہ پیش کیا، تو اس نے وہ قصداً آمنہ کے لباس پر گرا دیا اور معذرت کرنے لگا۔ اسے احساس ہوا کہ آمنہ نے اس بات کا ذرا بھی برا نہ منایا۔ اس کے چہرے پر کسی بھی طرح کے رد عمل کا اظہار تک نہ تھا، بلکہ وہ خاموشی سے وہاں سے چلی گئی اور ذرا دیر بعد ہی لباس تبدیل کر کے واپس آگئی، جیسے کچھ ہوا ہی نہیں اور پھر چند ہفتوں بعد ہی دونوں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوگئے اور واقعتا یہ شادی انتہائی پرمسرت ثابت ہوئی۔

ایک دن داکٹر کریم اپنے کلینک سے تھکا ہارا گھر آیا اور آتے ہی صوفے پر دراز ہوگیا۔ آمنہ جلدی سے آگے بڑھی، تاکہ اس کی مدد کرے اور گیلے تولیے سے اس کا چہرہ صاف کرے۔ ساتھ ہی اس نے کریم کو بستر پر آرام کے لیے کہا، لیکن بجائے اس کے کہ وہ ایسا کرتا اور اس کا شکریہ ادا کرتا، اس نے انتہائی سرد مہری سے کہا: ’’مجھے تھوڑی دیر کے لیے اکیلا چھوڑ دو۔‘‘

اور پھر ہوا یہ کہ اس نے چھے ماہ میں پہلی مرتبہ اپنی بیوی کے منہ سے چند خشک جملے سنے۔ آمنہ نے کہا:

’’آپ کی فراخ دلی تو یہ ہونی چاہیے تھی کہ آپ جواباً میرے ساتھ زیادہ سے زیادہ مہربانی کا برتاؤ کرتے، مگر … یہ سن کر وہ اپنی تھکن بھول کر حیرت زدہ ہوکر اٹھ بیٹھا۔‘‘

تمہیں کیا ہوگیا، یہ کیا بدتمیزی ہے؟ کہاں ہے وہ صبر، جس کی وجہ سے میں نے تم سے شادی کی تھی؟‘‘ آمنہ نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا۔ ’’میرا صبر؟ ادھر آؤ، اگر دیکھنا چاہتے ہو تو دیکھو میرا صبر!!‘‘ وہ اسے باورچی خانے میں لے گئی اور ڈائننگ ٹیبل کے نیچے سے ایک چھوٹی سی ٹیبل نکال کر اس کے سامنے رکھ دی۔ ’’دیکھو، یہ دیکھو، یہاں تمہیں کیا دکھائی دے رہا ہے؟‘‘ کریم نے حیرت سے دیکھا:

’’ایک ٹوٹی پھوٹی میز ہے، لیکن تم کہنا کیا چاہتی ہو؟‘‘ ’’میں یہ کہنا چاہتی ہوں کہ میں بھی تمہاری طرح ایک انسان ہوں۔ راضی رہوں، تو پانی کی طرح بہتی ہوں اور غصے میں آجاؤں، تو میزوں کا برادہ بنا کر رکھ دوں۔‘‘ ’’میں اب بھی نہیں سمجھا، تم کیا کہہ رہی ہو؟‘‘ آمنہ بولی: ’’ہر فعل و عمل کا ردعمل ہوتا ہے اور ہر صبر کی حد ہوتی ہے، میں ہمیشہ اپنا غصہ اس میز پر تو نہیں اتار سکتی ناں، اور بس میں یہی تمہیں دکھانا چاہتی ہوں۔‘‘

’’آمنہ! تم نے بالکل سچ کہا، بالکل سچ۔ آؤ، ہم دونوں جلیل القدر صحابی رسولؐ حضرت ابو درداءؓ کے طریقے پر عمل کرتے ہوئے آپس میں ایک معاہدہ کرتے ہیں جو انھوں نے اپنی بیوی سے کیا تھا کہ اگر میں ناراض ہوجاؤں تو تم مجھے منا لینا اور اگر تم ناراض ہوگئی تو میں تمہیں منالوں گا۔ کیوں کہ اگر ہم نے ایسا نہیں کیا تو خدانخواستہ ہمارا گھر بھی میرے والدین کے گھر کی مثل ہوجائے گا۔‘‘ جواباً آمنہ نے مسکراتے ہوئے اپنا ہاتھ کریم کی طرف بڑھا دیا۔ جو اس نے گرم جوشی سے تھام کر گویا دل سے اس عہد کی پاس داری کا یقین دلایا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: محمد المجذوب ترجمہ: ڈاکٹر جہاں آرا لطیفی