triple talaq-415x250

تین طلاق بل: مجھے مسلم مردوں کی حمایت کیوں کرنی چاہیے؟

 میں ایک مسلم خاتون ہوں اور یہ میرے لیے ایک تاریخی دن ہے،کیوں کہ بالآخر میری زندگی کے زہر (مسلم مرد) کو اس کی اوقات بتادی گئی ہے، اب اگر اس نے’’طلاق، طلاق، طلاق‘‘کا لفظ مجھے بولا یا لکھا، تو عن قریب ایک قانون کے ذریعے مجھے اختیار ہوگا کہ اسے جیل بھجوادوں، جہاں وہ تین سال تک سڑتا رہے گا، پھر نہ وہ مجھ سے مصالحت کرسکے گا اور نہ اپنے بچوں کے لیے کما سکے گا، اور اگر میں خود اسے پولیس تک پہنچانے میں ناکام رہی، تولوگ اسے جیل بھجواکر رہیں گے، کیوں کہ تین طلاق بل ایک تیسرے شخص کو بھی اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ کسی جھگڑالو شوہر کی پولیس میں شکایت کرے اور وہ اسے بغیر کسی وارنٹ کے گرفتار کرلے۔ کیا یہ خوشی منانے کی وجہ نہیں ہے؟ کیا یہ اپنے جیسی دوسری عورتوں کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر’’ شیطان ‘‘مسلم مردوں کے خلاف جشن مناتے ہوئے فوٹو کھنچوانے کاموقع نہیں ہے؟ اور ہاں،میں خاص طورپر اپنے بی جے پی کے ہندو بھائیوں کا شکریہ ادا کرتی ہوں،جنھوں نے ایک بار پھر مسلم مردوں کو ان کی اوقات بتادی، یہ واقعی مسلم خواتین کے لیے ایک تاریخی موقع ہے، کیا حقیقت میں ایسا نہیں ہے؟

ہاں، یقیناہے، یہ تاریخ کا ایک انوکھا اور منفرد لمحہ ہے کہ جب خاص طورپر تعلیم یافتہ اور مجھ جیسی عورت کو ضرور بالضرور مسلم مردوں کی حمایت میں کھڑی ہونا چاہیے،کیوں کہ حکومتِ ہندمسلم مردوں کے خلاف اپنی غیر علانیہ نفسیاتی جنگ میں انھیں ایک بڑے Villain کے طورپر پیش کررہی ہے، اگر کوئی حقیقت ہے،تو یہ ہے کہ ملک کا مسلمان مرد (عورت نہیں) حکومت کی گندی سیاست کا شکار ہو رہا ہے۔ مئی2014ء کو جب بی جے پی مرکز میں برسرِ اقتدار آئی تھی،تبھی سے گئورکھشک اور دوسرے حاشیائی شدت پسند گروپس گائے، ہندو خواتین، عہدِ وسطیٰ کے مسلم حکمران اور ایک افسانوی رانی کویہ بتانے کے لیے استعمال کرتے رہے ہیں کہ مسلمان مرد ان کے غیر علانیہ ہندو راشٹر کے دشمن ہیں۔

اب ہندوتواعناصر کے ذریعے مسلم مردوں کے خلاف گائے کو استعمال کرنے پر بے چاری گائے تو کچھ نہیں کرسکتی تھی، البتہ ہندوعورتوں کو لوجہاد کے مفروضے کے خلاف احتجاج کرنا چاہیے تھا،مجھے تو یہ امید تھی کہ کم ازکم لبرل، تعلیم یافتہ ہندوخواتین اس بات پر احتجاج کریں گی کہ انھیں ایک ناسمجھ اور بے اختیار عورت کے طورپر پیش کیا جارہا ہے،جوشادی اور تبدیلیِ مذہب کے جال میں پھنسائی جارہی ہیں،لیکن کھڑی ہوئی بھی تو ہادیہ نامی لڑکی، جو ہندوسے مسلمان ہوئی تھی اور جسے کورٹ نے اپنے مسلمان شوہر سے دور رہنے کی سزادی۔ مسلم بادشاہ تو اپنا دفاع کرنے کے لیے موجود ہیں نہیں اور ہمارے مؤرخین فرقہ پرست متعصب عناصر کے سامنے تاریخ کے سادہ فرق کو بیان کرنے میں بھی نہایت بھولے پن کامظاہرہ کررہے ہیں،ممکن ہے کہ رانی پدماوتی (اگر حقیقی وجود رکھتی ہو) کی عزت و عصمت کے حوالے سے ان کے اندرکوئی حساسیت نہ ہو۔

مگر میں،بہ طور ایک مسلم عورت، مسلم مردوں کی ہراسانی یا مسلم خاندان کو توڑنے کے لیے اپنے استعمال کے خلاف احتجاج کرتی ہوں، کیوں کہ تین طلاق بل کا اصل مقصد یہی ہے۔ یہ بل مسلم خواتین کوبااختیاربنانے کی بجائے انھیں مزیدلاچاروبے بس بنائے گا، اس بل کا مقصد یہ ہے کہ یکبارگی تین طلاقیں بے اثرہوں گی یعنی اگر کوئی شخص ایساکرتاہے، تواس کانکاح ختم نہیں ہوگا، مگر ساتھ ہی اس بل میں یہ بھی کہاگیاہے کہ اگرکوئی بول کریا لکھ کر ایک ساتھ تین طلاق دیتاہے، تواسے تین سال قید کی سزاہوگی، جب ایک ساتھ تین طلاق قابلِ اعتبارہی نہیں ہیں، توپھر اس شخص کوجیل بھیج کر میاں بیوی کے درمیان مصالحت کی راہیں مسدودکرنے کا کیامطلب ہے؟ پھرجب وہ شخص سلاخوں کے پیچھے ہوگا، تواپنی فیملی کا خرچہ کیسے برداشت کرے گا؟ اس بل کاسب سے نامعقول حصہ یہ ہے کہ بیوی کے علاوہ کوئی بھی دوسراشخص شوہر کے خلاف شکایت درج کرواسکتاہے، مثال کے طورپرایک پڑوسی یاکسی بھی دوسرے معاملے میں کسی شخص کا دشمن یاکوئی بھی اس قانون کاسہارا لے کر ایک مسلمان مردکے خلاف چڑھائی کرسکتاہے اورپولیس اسے بغیروارنٹ جاری کیے گرفتارکرسکتی ہے؟ نیشنل کرائم ریکارڈس بیورو کے مطابق فی الحال مختلف معاملوں میں ملزم قراردیے گئے افراد میں سے 15.8فیصدمسلمان ہیں، جبکہ پورے ملک میں 20.9 فیصد مسلمان جیلوں میں بندہیں، یعنی ان کی مجموعی آبادی 14.2فیصدسے زیادہ ان کا تناسب جیلوں میں ہے، ان میں بے شمار ایسے مسلمان بھی ہیں، جودہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیے جاتے اور دسیوں سال جیل میں گزارنے کے بعد اپنے خلاف ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے بری کردیے جاتے ہیں؟

یہ وہ اسباب ہیں، جن کی بناپر دیگرتعلیم یافتہ لبرل مسلم خواتین کے ساتھ میں نے StandUpForMuslimMen# کے ہیش ٹیگ کے ساتھ مسلم مردوں کے دفاع کی مہم شروع کی ہے؟

میں سمجھتی ہوں کہ یہ بل اس ملک کے مسلم مردوں کوبدنام کرنے کی ایک نئی سازش ہے، اسی وجہ سے میری ذمے داری ہے کہ بطورِ خاص مسلم خاتون ہونے کی حیثیت سے میں (مطلق مسلمان نہیں)مسلم مردوں کے حق میں آوازِ احتجاج بلندکروں ۔

ایک طویل عرصے سے ملک کامیڈیااورحکومت مسلم سماج کوبدنام کرنے کے مقصدسے مسلم مردوعورت کے لیے ‘‘حقیر ‘‘و ‘‘بے وقعت ‘‘جیسے بیانیے کا استعمال کررہے ہیں، ان کے ذریعے خلق کی گئی مسلم عورتوں کی ‘‘افسوسناک صورتِ حال ‘‘دراصل مسلم مردوں کوعام طوپردرپیش حقیر، بے حیا وذلیل جیسے ان کے طعنوں ہی کی پیداوارہے۔

یعنی(میڈیاوحکومت کے ذریعے ڈویلپ کیے گئے Narrativeکے مطابق) وہ ‘‘ذلیل ‘‘مسلم مرد، جو بستر پر حیوان بن جاتاہے، اپنی بیوی کوزیادہ سے زیادہ بچے پیداکرنے پرمجبورکرتاہے، اس کی زندگی کو خطرے میں ڈالتااورملک کی آبادی میں اضافہ کرتارہتاہے ؟

وہ ‘‘ذلیل ‘‘مسلم مرد، جواپنی عورتوں کوبرقعہ پہننے پرمجبورکرتااورانھیں ملازمت کے لیے باہرنہیں نکلنے دیتاہے؟

وہ ذلیل مسلم مرد، جوہمیشہ شراب کے نشے میں دھت رہتاہے اور ‘‘طلاق، طلاق، طلاق ‘‘بول یالکھ کر اپنانکاح ختم کردیتااور نتیجتاًاپنی بیوی کی زندگی تباہ کردیتاہے؟

وہ ‘‘ذلیل ‘‘مسلم مرد،جوفطری طورپر سنگ دل ہوتاہے اوراسی وجہ سے عموماً وہ جانورکاٹنے جیسے مہیب اورگندے پیشے کواختیارکرتاہے(اس حقیقت پرمت دھیان دیجیے کہ پانچ ستارہ ہوٹلوں کے ڈائننگ ٹیبلس پر جانوروں کے ٹکڑے ہی پیش کیے جاتے ہیں) لہٰذا اگر ایسے شخص کو کوئی بھیڑگائے کے نام پرنہایت دردناک طریقے سے موت کے گھاٹ اتاردے، توبھی وہ کسی ہمدردی کے لائق نہیں؟

اس ‘‘ذلیل ‘‘مسلم مرد کی جینز Genesمیں ماضی کے ‘‘ذلیل ’’ مسلم مرد… اورنگ زیب، علاء الدین خلجی اورتیمورجیسے لوگوںکاخون دوڑرہاہے،ارے میں تواکبر کوبھول ہی گئی، جو (متعصب میڈیا اور ہندوتواعناصر کے بہ قول)دھوکے باز تھا اوراس نے سیکولرہونے کاکھڑاگ رچایا؟

رہی بات’’حقیروبے چاری ‘‘مسلم عورت کی، تووہ اپنی ‘‘برقع پوشانہ امیج ‘‘کے سایے میں توتھی ہی،اب مسلم سماج، بطورِ خاص مسلم مردوں کوبدنام کرنے کے لیے اقلیت وخواتین دشمن سیاست داں اس کے حقوق کے تحفظ کانعرہ لگارہے ہیں ؟

حکومت اورمیڈیاکی یہ ہذیان گوئی بہت ہوگئی، کم ازکم میں تو ایک تعلیم یافتہ اوربااختیارمسلم عورت کی حیثیت سے حکومت اورمیڈیاکے ذریعے مسلم مردوں کے خلاف چھیڑی گئی اس جنگ میں کھل کران (مسلم مردوں) کی حمایت میں کھڑی ہوں اورمیں اس جنگ میں حکومت کے ذریعے اپنے استعمال کو کلیتاً مسترد کرتی ہوں؟lll

شیئر کیجیے
Default image
تحریر: ارینا اکبر ترجمانی: نایاب حسن

تبصرہ کیجیے