تین طلاق پر نیا قانون

۲۰۱۷ کے دوران مسلم پرسنل لا اور تین طلاق کو لے کر کافی شورغوغا رہا۔ اسی کے درمیان سپریم کورٹ نے شاعرہ بانو بنام یونین آف انڈیا کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے تین طلاق یعنی طلاق بدعت کا قانونی اثر ختم کرتے ہوئے غیرقانونی قرار دے دیا، یعنی اگر کوئی شوہر اپنی بیوی کو ایک بار میں تین دفعہ طلاق طلاق طلاق کہتا ہے تو وہ تین طلاق غیر قانونی ہوگی جو کہ طلاق نہیں مانی جائے گی۔ بیوی اپنے شوہر کے ساتھ ہی رہے گی نیز اس کو مروجہ قوانین کی رو سے حاصل شدہ تمام ہی مراعات حاصل رہیں گی۔

تاہم سپریم کورٹ کے متعلقہ فیصلے کے بعد مرکزی حکومت نے ‘‘مسلم خاتون (تحفظ برائے حقوق شادی) بل ۲۰۱۷ کو پارلیمنٹ میں پیش کر کے منظور کرادیا،جس کی رو سے تین طلاق یعنی طلاق بدعت کو ایسا جرم بنا دیا جو قابل گرفتاری اور غیر ضمانتی ہوگا اور جس کی سزا تین سال تک کی قید ہوگی۔

اس قانون کو پیش کرنے کی وجہ اس بل میں بتائی گئی ہے کہ ’’طلاق بدعت کوسپریم کورٹ کے فیصلے کے ذریعے ختم کرنے کے بعد بھی مسلمانوں کے درمیان طلاق بدعت کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آئی۔ اس کے بعد حکومت کے ذریعہ اس کی ضرورت محسوس کی گئی تاکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا نفاذ عمل میں آسکے نیز غیر قانونی طلاق کے متاثرین کی شکایات کو دور کیا جاسکے۔ یہاں یہ امر بھی قابل غور ہے کہ جب قانونی طور پر طلاق بدعت کو بے اثر اور غیر قانونی قرار دے جاچکی ہے تو اس کے واقعات بھی بے معنی ہوجاتے ہیں کیونکہ اب طلاق بدعت سے طلاق واقع ہی نہیں ہوسکتی ہے۔یہاں قانونی سوال یہ آتا ہے کہ جب کسی بھی عمل کی قانونی اہمیت ختم ہوگئی تو اس عمل کے لئے قانون کی نگاہ میں کوئی سزا کیسے متعین کی جاسکتی ہے۔

مجوزہ مسودہ بل سات متفرق شقات پر منحصر ہے، کم و بیش تر تمام کی تمام ہی دیگر جن نکات پر منحصر ہیں وہ تمام ہی نکات متفرق قوانین کے تحت مسلم مطلقہ خاتون کو پہلے سے ہی حاصل مراعات کا اعادہ ہیں۔

مجوزہ بل کی شق تین کے مطابق :

’’اگر کوئی شخص اپنی بیوی کو الفاظ میں چاہے وہ تحریری ہو یا زبانی یا الیکٹرانک ذرائع یا کسی دوسرے ذرائع سے طلاق دیتا ہے تو وہ باطل و غیرقانونی ہوگی۔‘‘

یہ نکتہ سپریم کورٹ کے فیصلے شاعرہ بانو بنام یونین آف انڈیا میں طے ہو چکا ہے جس کو ازسر نو اس مجوزہ بل کی شق بنانا صرف تکرار ہی ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں طلاق بدعت کو پہلے ہی غیرقانونی قرار دے دیا ہے۔

اسی طرح شق چھ میں کہا گیا ہے کہ اگر شوہر طلاق بدعت دیتا ہے تو عورت کے نابالغ بچے اپنی ماں کی سرپرستی میں رہیں گے۔ یہاں اہم یہ ہے کہ بچوں کی کفالت یا سرپرستی کا سوال شوہر بیوی کے درمیان طلاق یا علیحدگی کی صورت میں آتا ہے، تاہم یہاں سپریم کورٹ کے فیصلے نیز مجوزہ بل دونوں کی ہی روشنی میں طلاق بدعت غیر قانونی ہے جس کا نفاذ نہیں ہوگا۔ جب طلاق واقع ہی نہیں ہوئی، نہ ہی علیحدگی ہوئی تو بچوں کی کفالت یا سرپرستی کی شق ہی بے معنی ہوجاتی ہے، یعنی مجوزہ بل کی شقات ہی باہم متصادم ہیں۔

سب سے زیادہ تعجب خیز اور حیرت انگیز شق تین سال کی سزا ہے جو کہ مجوزہ بل کی شق چار ہے۔ یہاں یہ سوال آتا ہے کہ جب شوہر تین سال کے لئے جیل میں قید ہوگا تو وہ بیوی یا بچوں کی کفالت کیسے اور کیوں کر کرسکتا ہے؟ جب کہ مجوزہ بل کی شق سات کے مطابق طلاق بدعت دینے والے شوہر کی ضمانت بھی نہیں ہو گی۔

اسلام میں شادی ایک سماجی و مذہبی معاہدہ ہے۔ ہندوستانی قوانین بھی شادی کو ایک معاہدہ ہی تسلیم کرتے ہیں۔ معاہدہ کی خلاف ورزی ایک سول کیس کی ہی اہمیت کا حامل ہو سکتا ہے، یعنی معاہدہ توڑنے والے پر ہرجانہ لگایا جا سکتا ہے حتی کہ سول قوانین میں بھی سزا ہے تاہم شادی یا طلاق کے تناظر میں اگر حکومت واقعی سنجیدہ اور ایماندار ہے تو صلح مصالحت یا تاوان کے مروجہ اصول پیش کرتی۔ مجوزہ بل کی شقات کے تحت جب شوہر جیل میں ہوگا، اس صورت میں نہ تو بیوی بچوں کی کفالت ممکن ہو سکتی ہے نہ صلح مصالحت کی کوئی گنجائش، جب کہ موجودہ قوانین کی روشنی میں عدالت میں جانے کے بعد پہلے عدالتیں صلح مصالحت کے مراکز میں مقدمہ کو منتقل کرتی ہیں تاکہ رشتہ کو باقی رکھنے کی کوئی صورت نکل سکے۔ طلاق بدعت کو مجرمانہ نوعیت کا نہ ہی کسی ملک میں کوئی قانون ہے اور نہ سپریم کورٹ نے ہی ایسی کوئی ہدایت دی۔ جب دنیا کے کسی بھی ملک نے طلاق بدعت کو مجرمانہ عمل تسلیم نہیں کیا تو آخر ہماری حکومت کے اس اقدام کے پیچھے کیا محرکات ہو سکتے ہیں، جب کہ ہمارے ملک میں ایسے بہت سے سنگین مسائل ہیں جن کو لے کر ہماری پارلیامنٹ نے سخت ترین قانونی دفعات بنائیں۔ مثلا: دامنی کیس کے بعد زنا کے قوانین میں سخت تبدیلی ہو یا ملک میں نابالغ بچوں کی شادی کو لے کر قانون، جہیز ہو یا گھریلو تشدد کو لے کر قوانین کی تدوین ہو ایسی ایک طویل فہرست ہے سماجی مسائل کو لے کر سخت ترین قوانین بنے تاہم ان سے جرائم کی روک تھام تو نہیں ہوئی البتہ ان قوانین یا ان قوانین کی دفعات کا غلط استعمال یقینا ہوا۔

مجوزہ بل میں ایک بڑی خامی یہ ہے کہ اس بل میں یہ اہم پہلو نظرانداز کردیا گیا کہ اس جرم کی شکایت کون کرسکتا ہے، مثلا کرمنل پروسیجر کوڈ 1937 کی دفعہ 198 کے تحت شادی یا زنا سے متعلق جرائم کی شکایت صرف متاثرہ (بیوی) ہی کرسکتی ہے تاکہ ان دفعات کا غلط استعمال نہ ہوسکے تاہم اس بل میں ایسا کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا گیا ہے جبکہ طلاق بدعت بھی شادی سے متعلق جرم ہی ہوسکتا ہے۔

مجوزہ بل کی شق پانچ استحکامی وظیفہSubsistance allowanceسے متعلق اس طرح ہے کہ ‘‘بقیہ دیگر تمام مروجہ قوانین میں حاصل شدہ مراعات کے علاوہ ایک شادی شدہ مسلم عورت کو طلاق کے بعد یہ حق حاصل ہوگا کہ اپنے اور اپنے اوپر منحصر بچوں کے لئے استحکامی وظیفہ اپنے شوہر سے حاصل کرے جو کہ مجسٹریٹ کے ذریعہ متعین کیا جائے گا۔’’ درج بالا الفاظ سے یہ واضح ہے کہ یہ استحکامی وظیفہ کسی بھی مسلم عورت کو مروجہ قوانین میں حاصل شدہ مالی مراعات کے علاوہ ہوگا جب کہ کرمنل پروسیجر کوڈ کی دفعہ ۱۲۵ کے تحت ایک شادی شدہ عورت یا مطلقہ عورت اپنی کفالت کے لئے اپنے شوہر سے کفالہ لے سکتی ہے۔ دفعہ ۱۲۵ سی آر پی سی کے علاوہ اگر کسی مسلم عورت کو طلاق کی وجہ سے جذباتی ٹھیس پہنچی ہو تو وہ پروٹکشن آف وومن فرام ڈومسٹک وائلنس ایکٹ ۲۰۰۵ ( گھریلو تشدد سے خواتین کے تحفظ کا قانون) کی دفعہ ۲۰ اور ۲۲ کے تحت مالی معاوضہ حاصل کرسکتی ہے۔ یہاں یہ ثابت ہوتا ہے کہ بیوی کی مالی کفالت و معاوضہ کے لئے دیگر قوانین میں پہلے سے ہی ہمارے پاس تجاویز موجود ہیں تاکہ عورت اپنے اور اپنے بچوں کی کفالت اور مالی تعاون بحسن وخوبی حاصل کرسکے البتہ مجوزہ بل کے قانونی شکل اختیار کرنے کے بعد شوہر تین سالوں کے لئے جب سلاخوں کے پیچھے ہوگا تو مجوزہ مراعات تو دور مروجہ قوانین میں حاصل شدہ مراعات سے بھی متعلقہ عورت اور اس کے بچے مستفید نہیں ہو سکیں گے۔

چنانچہ موجودہ اور مروجہ قانونی ڈھانچہ کے ہونے کے باوجود مجوزہ بل میں انہیں شقات کی تجدید و تکرار نیز ایک سماجی مسئلہ کو سیاسی مفاد کے تحت مذہبی رنگ دے کر اقلیتی طبقے کے اندر بے چینی پیدا کرنا ہی مجوزہ بل کا واحد مقصد محسوس ہوتا ہے۔

طلاق صرف مسلمانوں کا مسئلہ نہیں مگر تین طلاق ضرور مسلمانوں میں رائج بدعت ہے۔ اس مسئلہ کی نوعیت کو مذہبی بناتا ہے جس کو حکمراں جماعت مذہبی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہے۔ طلاق یا طلاق بدعت یا اس جیسے دیگر مسائل سماجی نوعیت کے مسائل ہیں جس سے ہمارا پورا سماج پریشان ہے۔ ان سماجی مسائل کا سامنا لوگوں میں بیداری و تعلیم کے ذریعے اچھی تربیت دے کر ہی ممکن ہے تاکہ ایک اچھے سماج کی تشکیل عمل میں آسکے نہ کہ اس کو فرقہ وارانہ سیاست کا ایک حربہ بنا کر۔ مجوزہ بل سے مسلم خواتین کی بھلائی پیش نظر نہیں ہے بلکہ ان کو موجودہ عدالتی نظام کی پیچیدگیوں میں مزید استحصالی شقات میں الجھا دینا ہی نظر آرہا ہے۔

بل کے تفصیلی مطالعہ کے بعد اندازہ ہوتا ہے کہ ایک طرف تو یہ پہلے سے موجود قوانین کی تکرار والا اور متضاد نتائج تک لے جانے والا ہے دوسری طرف انصاف کے تقاضوں کو بھی پورا کرنے میں ناکام ہے۔

قانون کی اہمیت یہی ہے کہ وہ انصاف فراہم کرنے کا ذریعہ ہو مگر اندیشہ نہیں یقین ہے کہ اس قانون کے ذریعے انصاف کا حصول ناممکن حد تک دشوار ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ابو بکر سباق سبحانی (ایڈوکیٹ سپریم کورٹ)