طلاق کا امتحان

طلاق کو کسی بھی معاشرے میں ایک مثبت عمل نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے نتیجے میں ایک گھر ٹوٹ جاتا ہے اور اگر فریقین کی اولاد ہو تو وہ ماں یا باپ کی شفقت اور محبت سے محروم ہوسکتی ہے۔اسی بات کے پیش نظر چین میں شادی شدہ جوڑوں کو طلاق سے باز رکھنے کے لیے ایک انوکھی شرط متعارف کروائی گئی ہے۔ یہ در اصل امتحان ہے جو طلاق کے خواہش مند جوڑوں سے لیا جاتا ہے۔ اس امتحان میں ناکامی، جی ہاں ناکامی کی صورت میں جوڑوں کے درمیان طلاق کرا دی جاتی ہے۔ طلاق حاصل کرنے کے لیے یہ امتحان چین کے صوبہ شی چوں آن کی عدالت نے لازمی قرار دے دیا ہے۔ مگر عام امتحانات کے برعکس طلاق کے خواہش مندوں کے لیے اس امتحان میں ناکام ہونا ضروری ہے۔ بہ صورتِ دیگر انہیں طلاق کی ڈگری جاری نہیں کی جاتی۔

طلاق کا یہ امتحان یاء بن کاؤنٹی کی پیپلز کورٹ کے جج وینگ شی یو کے ذہن کی اختراع ہے۔ عدالت میں طلاق کی درخواستوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھ کر وہ گھروں کو بکھرنے سے بچانے کے لیے کچھ کرنے پر مجبور ہوئے۔ ان کا مقصد یہ تھا کہ شادی شدہ جوڑوں کو طلاق سے پہلے سوچنے کا موقع دیا جائے، اس کے ساتھ ہی وہ چاہتے تھے کہ فریقین کچھ وقت ساتھ بھی گزاریں۔ چناں چہ انھوں نے شوہر اور بیوی دونوں کے لیے ایک سوال نامہ تیار کیا۔ اس میں شامل سوالوں کے جواب دونوں کو دینے ہوتے ہیں۔

اگر فریقین امتحان میں ساٹھ سے کم نمبر لیں تو وینگ ان کی طلاق کی درخواست منظور کرلیتا ہے۔ بہ صورتِ دیگر انہیں پہلے کی طرح ساتھ رہنے کا حکم دیا جاتا ہے۔ اس منفرد امتحان سے متعلق بات چیت کرتے ہوئے جج نے کہا: ’’ہمارا مقصد زوجین کے اس ارادے کے پس پردہ حالات جاننا اور انھیں ساتھ بیٹھ کر گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے کہ ممکن ہے ان کی سوچ بدل جائے۔‘‘

یاء بن کاؤنٹی کی آبادی ایک کروڑ سے اوپر ہے۔ عدالت میں ہر سال ہزارہا مقدمات سنے جاتے ہیں۔ ان میں سے نصف گھریلو تنازعات پر مشتمل ہوتے ہیں۔ ان میں بڑی تعداد طلاق کے مقدمات کی ہوتی ہے۔ ینگ شی یو کہتے ہیں کہ میری بھی فیملی ہے، اس لیے میں نہیں چاہتا کہ والدین اپنی اور بچوں کی زندگی کا نہایت اہم فیصلہ عجلت میں کریں۔

وینگ کا وضع کردہ امتحان تین حصوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ایک حصے میں خالی جگہیں پر کروائی جاتی ہیں، دوسرے میں مختصر اور تیسرے میں بیانیہ سوالات ہوتے ہیں۔ سوالات میںخاندان کے اراکین کی سال گرہ کی تاریخ، پسندیدہ کھانے، شادی کی سال گرہ جیسی معلومات کے علاوہ زیادہ گہرائی کے حامل سوالات ہوتے ہیں جیسے فیملی میں آپ کا کیا کردار ہے؟ آپ کیا اچھااور کیا برا کرتے ہیں؟ شادی اور خاندان آپ کے لیے کیا معنی رکھتا ہے؟ وغیرہ وغیرہ۔

شوہر اور بیوی سوال نامہ پر کرنے کے بعد جج کے حوالے کردیتے ہیں جو اس کی جانچ کرتا ہے اور نمبر دیتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ کوئی نہیں جانتا کہ نمبر دینے کا معیار اور اصول کیا ہے۔ نہ ہی وینگ اس بارے میں کچھ بتانے کے لیے تیار ہوتے ہیں۔

طلاق کے امتحان کی شرط نافذ ہونے کے بعد امتحان دینے والے اولین جوڑے نے اسی اور چھیاسی نمبر لیے۔ یہ ہائی اسکور تھا۔ چناں چہ وینگ نے انہیں طلاق کی ڈگری جاری کرنے سے انکار کردیا اور انہیں شادی کو جاری رکھنے کی ہدایت کی۔ وینگ کا کہنا تھا کہ شوہر جوا کھیلنے کا عادی تھا اور بیوی کی عزت نہیں کرتا تھا، مگر امتحان میں نمبر بہت اچھے لیے تھے، اس لیے میرے خیال میں دونوں فریق گھر بچا سکتے تھے۔

عوام الناس طلاق حاصل کرنے کے لیے امتحان میں ناکامی کی شرط کے نفاذ پر ملے جلے رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ لوگ وینگ کے اس اقدام کو سراہ رہے ہیں جب کہ بعض کا کہنا ہے کہ ساتھ رہنا یا نہ رہنا شوہر اور بیوی کا ذاتی معاملہ ہے، اس میں جج کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ندیم سبحان