کتاب۔۔۔ بہترین دوست بڑوں کی بھی، بچوں کی بھی

والدین بچوں کی ابتدائی تربیت میں بلاشبہ اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب بچے بڑوں کو مطالعہ کرتے نہیں دیکھتے، تو ان کے دل میں بھی کتاب پڑھنے کی جستجو پیدا نہیں ہوتی۔ بچوں کی ذہنی تربیت کے لیے ان کا کتاب پڑھنا از حد ضروری ہے۔ یہی تصور کی اڑان انھیں دنیاوی کامیابی کے ساتھ ایک اچھا انسان بننے میں معاونت کرتی ہے۔ در اصل ہمارے ذہن کے دو حصے ہیں Right brain دائیں طرف کا ذہن، جس میں رنگ، آہنگ، تصورات، خواب، سمت کا تعین، موسیقی و آگہی شامل ہیں، جب کہ دوسرے حصے Left brain بائیں طرف کے ذہن میں منطق، ترتیب، زبان، لفظ، گنتی، مطابقت اور تجزیہ وغیرہ شامل ہوتے ہیں۔ چوں کہ بچوں کے بائیں ذہن پر زیادہ بوجھ ہوتا ہے، اس لیے وہ اس یکسانیت سے اکتا جاتے ہیں، جس کی وجہ سے اکثر بچے غیر یکسوئی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ چناں چہ ضرورت اس امر کی ہے کہ بچوں کے دائیں ذہن پر زیادہ توجہ دی جائے، تاکہ ان کی تعمیری و تخلیقی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آسکیں۔ بچوں کو تخلیقی سرگرمیاں فراہم کرنا، کتاب بینی کی طرف مائل کرنا یا انھیں کھیل کود میں مصروف رکھنے کی کوشش، حقیقت میں ان کے دائیں ذہن کی تصوراتی طاقت کو مضبوط کرتے ہیں۔ پھر اکثر والدین، بچوں کے جارحانہ رویوں اور تعلیم میں عدم دل چسپی کے سبب بھی پریشان رہتے ہیں۔ انھیں چاہیے کہ وہ بچوں کو مستقل تنقید کا نشانہ نہ بنائیں، کیوں کہ جو خیال بار بار دہرایا جائے، وہ اپنی افادیت کھو بیٹھتا ہے۔ بچوں کو ڈانٹ ڈپٹ کے بجائے مستقل رہ نمائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ والدین کو چاہیے کہ مہینے میں ایک مرتبہ بچوں کو کتابوں کی دکان پر لے جاکر ان کو، ان کی پسند کی کتابیں دلوائیں۔ اور اگر بچہ منتخب کرنے کی پوزیشن میں نہ ہو تو کتاب کے انتخاب میں اس کی مدد کریں۔

ادب زندگی کا ترجمان ہے، افسانے ہوں یا ناولز یا شاعری، انسان کی مکمل زندگی کا احاطہ ادب ہی کے ذریعے ممکن ہے۔ عام لوگوں کو بھی اپنے جذبات، احساسات، دکھوں اور مسائل کا عکس، ان ہی تحریروں میں نظر آتا ہے اور اس طرح نہ صرف قاری کی تحلیل نفسی ہوتی ہے بلکہ اس کی برداشت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ دنیا کے ادب میں ناول نگاری کی صنف بہت مقبول رہی ہے۔ آج بھی دنیا میں سب سے زیادہ نازل ہی پڑھا جاتا ہے۔ بہت سے ناولز پر فلمیں بھی بنائی گئی ہیں، ٹی وی ڈرامے بھی تشکیل دیے گئے، مگر قارئین کو جو لطف تحریر میں ملا، اسکرین سے نہیں مل سکا۔ شاید اسی لیے لاطینی امریکہ کے نوبل انعام یافتہ ادیب، گارشیا مارکیز سے جب ان کے شہرۂ آفاق ناول ’’تنہائی کے سوسال‘‘ فلمانے کے لیے اصرار کیا گیا، تو انھوں نے صاف انکار کر دیا۔

آج بھی امریکہ میں لوگ سفر یا فرصت کے اوقات میں کوئی نہ کوئی کتاب پڑھتے ہی دکھائی دیتے ہیں اور پھر کتاب ختم کر کے اپنے ساتھ نہیں لے جاتے، بلکہ اسی جگہ چھوڑ کے چلے جاتے ہیں، تاکہ کسی اور کے زیر مطالعہ آسکے۔ یوں کتابیں مستقل ایک سے دوسرے ہاتھ تک سفر کرتے ہوئے ذہن کو جلا بخشتی رہتی ہیں۔

جدید ریسرچ کے مطابق جن بچوں نے بچپن میں گھر کے بڑوں سے کہانیاں سنیں، وہ آنے والی زندگی میں ذہنی طور پر متحرک اور فعال شخصیت کے حامل ہوئے، بہ نسبت ان بچوں کے، جنھوں نے بچپن میں کہانیاں نہیں سنیں یا کھیل کود میں حصہ نہیں لیا۔ دنیا کی مختلف زبانوں میں بچوں کے لیے لوک کہانیاں لکھی گئی ہیں۔ یہ کہانیاں بچوں کے تصور دسیکھنے کے عمل کو جلا بخشتی ہیں۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ کتاب کو دوبارہ اپنی زندگی کا اہم حصہ بنانے کی کوشش کی جائے، ملک بھر کے ویران کتب خانوں کو آباد کیا جائے کہ یقینا آج کے اس پر آشوب دور اور حالات کی بے یقینی کے اس سفر میں کتاب ہی بہترین دوست ثابت ہوسکتی ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مجیب ظفر