اسلامی معاشرے میں بزرگوں کا مقام

رسولِ اکرمﷺ کا ارشادِ گرامی ہے: ’’جو شخص ہمارے چھوٹوں کے ساتھ رحم کا معاملہ نہ کرے اور بڑوں کی عزت نہ کرے اور بھلی باتوں کا حکم نہ کرے اور بری باتوں سے نہ روکے، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔‘‘ (ترمذی)

یہ اسلام کی انسانیت نوازی اور اس کا درس احترام ہے جو اس ارشادِ گرامی سے صاف طو رپر ظاہر ہو رہا ہے کہ آپﷺ ایسے شخص کو اپنے افراد سے خارج قرار دے رہے ہیں جو چھوٹوں کے ساتھ محبت و شفقت کا برتاؤ نہ کرے اور ان کے ساتھ ظلم و زیادتی سے پیش آئے، ان کی حق تلفی کرے اور اسی طرح اس شخص کو بھی آپﷺ نے اپنے افراد سے خارج مانا ہے جو اپنے سے بڑی عمر والوں کے ساتھ عظمت و احترام کا برتاؤ نہ کرے، ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آئے، ا ن کی بزرگی اور عمر رسیدہ ہونے کا خیال کر کے ان کا احترام اور ان کی تعظیم نہ کرے، اسی طرح امر بالمعروف کو ترک کرنے والے اور برائی سے نہ روکنے والے کی بابت آپﷺ نے یہی حکم فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے۔

لہٰذا آپﷺ سے نسبت جوڑنے اور نسبت کو پختہ کرنے اور اسے برقرار رکھنے اور آپﷺ کے افراد میں خود کو شامل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپﷺ کے اس ارشاد کو اپنا یا جائے اور بچوں پر شفقت کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کے لوگوں کی تعظیم کا خیال رکھا جائے۔

عمر رسیدہ لوگوں کی عظمت و فضیلت، احترام و ادب کے سلسلے میں صرف یہ سمجھا جاتا ہے کہ والدین، بڑے بھائی اور اساتذہ ہی اس کے حق دار ہیں، ان کے علاوہ دیگر کے ادب و احترام کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ یہ ہماری مرضی پر موقوف ہے کہ جس کا چاہیں ہم ادب و لحاظ کریں اور جس کا چاہیں ادب و احترام نہ کریں۔ اس سلسلے میں یہ بات جان لینی چاہیے کہ یہ خیال سراسر غلط، معاشرے میں فساد اور بگاڑ کو بڑھانے والا اور معاشرے کے نظام کو بدامنی کی طرف لے جانے والا ہے۔ اس بارے میں اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ آدمی چاہے کوئی عہدہ نہ رکھتا ہو اور اسی طرح چاہے وہ والد اور بڑے بھائی یا رشتے دار کے علاوہ کوئی اور ہو لیکن عمر کے اعتبار سے بڑا ہو تو اس کا ادب و احترام لازماًکرنا چاہیے۔

دورِ نبویؐ اور دورِ صحابہؓ میں اس طرح کی مثالیں بکثرت ملتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عملی طو رپر بھی اس کی تلقین فرمائی اور موقع بہ موقع اس کی ہدایت بھی فرمائی۔

حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی ہے کہ جو نوجوان کسی بوڑھے آدمی کی اس کے بڑھاپے کی بنا پر تکریم کرے تو اللہ تعالیٰ اس نوجوان کے بوڑھا ہونے پر اس کے ساتھ بھی ایسے ہی اکرام کرنے والے کو مقرر فرمائے گا۔‘‘ (ترمذی، مشکوۃ)

ایک دوسری روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشادِ گرامی اس طرح منقول ہے: ’’یہ بات انسان کی عظمت میں شامل ہے کہ آدمی کسی بوڑھے کی اس کے بڑھاپے کی بنا پر عزت کرے۔‘‘

’’طبرانی‘‘ کی روایت ہے، حضرت ابو امامہؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابو بکرؓ حضرت عمرؓ اور حضرت ابو عبیدہؓ صحابہ کرام کی ایک جماعت کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک پیالہ لایا گیا، جس میں پینے کی کوئی چیز تھی، حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ پیالہ حضرت ابو عبیدہؓ کو دیا تو حضرت ابو عبیدہؓ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسولؐ آپ کا اس پیالے پر مجھ سے زیادہ حق ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لے لو، انھوں نے پھر عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم آپ لے لیں، حضور اقدس نے فرمایا: تم پیو، کیوں کہ برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے اور جو ہمارے بڑوں کی تعظیم نہ کرے اور چھوٹوں پر رحم نہ کرے وہ ہم میں سے نہیں۔ (حیاۃ الصحابہؓ)

مذکورہ روایات سے عمر رسیدہ افراد کی عظمت و فضیلت کا پتا چلتا ہے۔ ایک روایت میں بوڑھے شخص کی تعظیم کو اللہ کی عظمت و کبریائی کو ملحوظ رکھنا بتایا گیا ہے، جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی تعظیم کرنا ایک مسلمان کے لیے لازمی اور ضروری ہے اسی طرح بوڑھے اور بزرگ مسلمان کی تعظیم کرنا اسی واجبی فریضے کا اظہار ہے۔

اسی طرح ایک دوسری روایت میں آپﷺ نے فرمایا کہ برکت ہمارے بڑوں کے ساتھ ہے، جس سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ اگر بڑوں کی عظمت کروگے تو اس برکت سے حصہ پالوگے۔

اسلام نے بزرگوں کی عظمت کا اس قدر خیال رکھا ہے کہ ہر معاملے میں عموماً بڑوں کو ہی آگے رکھنے کی تلقین فرمائی ہے۔ کیوں کہ ان کے تجربات زیادہ ہوتے ہیں اور عمر کی درازی کی بدولت وہ حالات کو زیادہ دیکھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ان کی فکر سنجیدہ اور سوچ کی راہ مضبوط ہوچکی ہوتی ہے، اس سلسلے میں ایسے لوگوں کو بات شروع کرنے کا موقع دینا چاہیے۔

’’بخاری شریف‘‘ میں ایک واقعہ مذکور ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پیش آمدہ معاملے میں چھوٹوں سے پہلے بڑوں کو ہی بات کہنے کا موقع ملنا چاہیے، چناں چہ حضرت رافع بن خدیجؓ اور سہل بن ابی حتمہؓ فرماتے ہیں کہ عبد اللہ بن سہلؓ اور محیصہ ابن مسعودؓ دونوں خیبر آئے اور کھجور کے باغات میں ایک دوسرے سے بچھڑ گئے اور پھر عبد اللہ بن سہل رضی اللہ تعالیٰ عنہ قتل کردیے گئے (یعنی تنہا دیکھ کر کسی نے قتل کر ڈالا) اب حضرت عبد اللہ بن سہلؓ اور حویصہؓ اور محیصہؓ جو حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ کے صاحبزادے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے اور اپنے ساتھی عبد اللہ بن سہلؓ کے قتل کیے جانے کے بارے میں بات کرنے لگے، اس موقع پر حضرت عبد الرحمن بن سہلؓ نے گفتگو کا آغاز کیا، حالاں کہ یہ سب سے چھوٹے تھے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم لوگوں میں جو بڑی عمر کے ہیں، ان کو بولنے دو۔‘‘ (بخاری)

نتیجہ یہ نکلا کہ مجلس میں جب کوئی بات پیش کرنے کا معاملہ ہو تو بڑی عمر کے لوگوں کو مقدم کرنا چاہیے تاکہ وہ بات کو صحیح ڈھنگ سے پیش کرسکیں اور ان کا ادب و احترام بھی ملحوظ رہے۔

امام بخاریؒ نے اپنی کتاب ’’الادب المفرد‘‘ میں نقل کیا ہے کہ حضرت حکیم بن قیس بن عاصمؓ روایت کرتے ہیں کہ ان کے والد نے مرتے وقت اپنی اولاد کو وصیت کی اور کہا: اللہ سے ڈرو اور اپنے سے بڑی عمر والوں کو اپنا بڑا بناؤ (یعنی ہر بات میں ان کو آگے رکھو) کیوں کہ لوگ جب اپنے بڑوں کو سردار تسلیم کرتے ہیں تو وہ اپنے آباء واجداد کی صحیح نیابت کرتے ہیں (ان کی روایات کو برقرار رکھتے ہیں) اور جب اپنے چھوٹوں کو سردار بناتے ہیں، تو ان کا درجہ برابر والوں کی نگاہ میں کم ہو جاتا ہے، اپنے پاس مال رکھو اور اسے حاصل کرو، کیوں کہ مال سے کریم اور سخی آدمی کو شرافت ملتی ہے اور اسی کی وجہ سے آدمی کسی کمینے اور بخیل آدمی کا ضرورت مند نہیں رہتا، اور لوگوں سے کچھ نہ مانگنا، کیوں کہ یہ انسان کی کمائی کا سب سے ادنیٰ اور گھٹیا درجہ ہے اور جب میں مرجاؤِ تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیوں کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر نوحہ نہیں کیا اور جب میں مرجاؤں تو مجھے کسی ایسی جگہ دفن کرنا جس کا قبیلہ بنو بکر بن وائل کو پتا نہ چل سکے (تاکہ وہ میری قبر کے ساتھ کوئی نامناسب حرکت نہ کریں) کیوں کہ میں زمانہ جاہلیت میں انھیں غافل دیکھ کر ان پر چھاپے مارا کرتا تھا۔ (الادب المفرد)

یہ وہ صورتیں ہیں جن مواقع پر بڑی عمر کے لوگوں کا خیال رکھنا ضروری ہے، تاکہ ان کی تعظیم کے خلاف نہ ہو۔lll

شیئر کیجیے
Default image
عمران اللہ قاسمی