اعتدال

دین میں وسعت ہے!

سورہ شوریٰ کی آیت ۸ میں ارشادِ ربانی ہے ’’ اگر اللہ چاہتا تو اِن سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مدد گار۔‘‘ اسی طرح کی ایک آیت سورہ نحل میں بھی موجود ہے: ’’ اگر اللہ چاہتا تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی۔‘‘ یہ آیات بظاہرملتی جلتی ہیں مگر ان کے مختلف سیاق و سباق سے آیات کا مخاطب بدل جاتا ہے۔سورہ شوریٰ میں اس سے قبل نبی کریمؐ کو قرآن کریم کے ذریعہ مکہ اور اس کے گردوپیش کے لوگوں کو خبردار کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور بعد والی آیت کفار مکہ کا رویہ بیان کرتی ہے اور آگے اتمام حجت کا اعلان ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ اس آیت میں کفرو اسلام کے فرق کی وجہ بیان کی گئی ہے۔

اس کے برعکس سورہ نحل کی آیت ۹۲ سے قبل دو آیات میں عدل و احسان اور صلہ رحمی کا حکم ہے اور بعد میں اللہ کے ساتھ کیے جانے والے عہدوپیمان کابیان ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہاں مخاطب اہل ایمان ہیں اور جس اختلاف کا ذکر کیا گیا ہے وہ کفر اسلام کا فرق نہیں بلکہ آپسی فقہی اختلافات ہیں۔ مسلکی اختلافات کے سبب پیدا ہونے والے مسائل کے حل کی خاطر ان آیات کو سیاق و سباق کے ساتھ پیش نظر رکھنالازمی ہے۔ آیت ۸۹ میں فرمان ربانی ہے ’’(۱ے محمدؐ، اِنہیں اس دن سے خبردار کر دو) جب کہ ہم ہر امت میں خود اْسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھا کھڑا کریں گے جو اس کے مقابلے میں شہادت دے گا، اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے۔‘‘ یعنی قیامت کے دن نبی کریم ؐ اس بات گواہی دیں گے کہ انہوں نے امت مسلمہ کے سامنے دین حق کا پیغام کماحقہ پہنچا دیا۔

اس کے بعد رب کائنات کاا رشاد ہے ’’ اور ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے۔‘‘ قرآن حکیم کی صاف و شفاف ہدایت اختلافات کو دور کرنے کے لیے کافی ہے لیکن اس سے استفادے یعنی ’’ہدایت و رحمت اور بشارت‘‘ کو ان لوگوں تک محدود کردیا گیا ’’جنہوں نے سر تسلیم خم کر دیا ہے۔‘‘ یعنی اگر اہل ایمان اپنے آپ کو اللہ رب العزت کے آگے ڈال دینے کے بجائے انانیت پسندی کا شکار ہوجائیں تووہ واضح تعلیمات کے فیوض برکات سے یکسر محروم ہوجائیں گے۔ معلوم ہوا کہ اصلاح ِ معاشرہ کی کوئی تدبیر اس وقت تک کارگر نہیں ہوسکتی جب تک ایمان والوں کا قلب و ذہن رب کائنات کا تابع فرمان نہ ہو۔ اس شعبے میں کوتاہی سارے کیے کرائے پر پانی پھیر دیتی ہے۔

وہ مشہورآیت جس کی یاددہانی ہر جمعہ کے خطبے میں کرائی جاتی ہے ’’اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے اور بدی و بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو‘‘اس کے آگے بعد آتی ہے۔ امت اگر قرآن حکیم کے اس تقاضے کا کماحقہ حق ادا کردے تو بیشتر معاشرتی مسائل پیدا ہی نہ ہوں۔اکثر و بیشتر مسائل ظلم و زیادتی کے سبب عالم وجود میں آتے ہیں یا کم ازکم عدل و احسان کی کمی اور صلہ رحمی کے فقدان کے سبب جنم لیتے ہیں۔ اس لیے اعتقادی ارتقاء کے پہلو بہ پہلو معاملات کی اصلاح بھی لازم ہے۔ اس مقصد کے حصول کی خاطر اہل ایمان کو تلقین کی گئی کہ ’’اللہ کے عہد کو پورا کرو جب کہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جبکہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بنا چکے ہو اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے‘‘۔ اس آیت کا لب و لہجہ چیخ چیخ کر عائلی قوانین کی پاسداری پر ابھار رہا ہے۔

اس معاملے میں کوتاہی کے عبرتناک انجام کو ایک نہایت دلنشین مثال کے ذریعہ سے پیش کرتے ہوئے فرمایا گیا ’’تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔‘‘ ہمارے افعال و اعمال اگراللہ سے کیے گئے قول وقرار کے خلاف ہوئے تو ہماری حالت اس بڑھیا کی سی ہوجائیگی جو محنت کرکے سوت تو کاتتی ہے مگر پھر اپنے ہی ہاتھوں سے اس کو برباد کردیتی ہے۔ اس آیت کے اگلے حصے میں تو اللہ رب العزت نے ہماری دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ کر فرمادیا ’’ تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک گروہ دوسرے گروہ سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے۔‘‘ اس آیت کو پڑھنے کے بعد ایسا لگتا ہے جیسے ہم لوگ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہوں۔ یہاں پر گروہ کے بجائے فرقہ اور قوم کا ترجمہ بھی کیا گیا ہے۔ وحی الٰہی ہمیں خبردار کرتی ہے کہ ’’ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے۔‘‘ ایمان لانے کے بعد عہد شکنی اور اللہ کو گواہ بناکر بندوں سے کیے گئے پیمان کو توڑ دینا ہی وہ آزمائش ہے جس نے ہماری دنیوی زندگی کو جہنم زار بنادیا ہے مگر یہ سلسلہ یہاں ختم نہیں ہوگا۔اس کا اخروی انجام بھی ملاحظہ فرمائیں’’اور ضرور وہ (اللہ) قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا‘‘ لیکن اس روز پچھتاوے کے سوا ہمارے پاس کچھ اور نہیں ہوگا۔

ابتدا میں سورہ نحل کی جس آیت ۹۳ کا ذکر کیا گیا اسے اس پس منظر میں پھر سے دیکھیں ’’اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو) تو وہ تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا‘‘ یعنی یہ فقہی اختلافات اذن خداوندی سے ہیں۔ ان کا وجود فطری ہے اور ہماری آزمائش کے لیے لازمی۔ اگر ہم نے اس معاملے میں ہٹ دھرمی اختیار کی اور اختلاف کو انتشار میں بدل دیا تو کمراہی کے گھڑے میں جھونک دیئے جائیں گے بصورتِ دیگر راہ راست سے ہمکنار کردیئے جائیں گے۔ اللہ کا وعدہ ہے ’’ وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھا دیتا ہے، اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہو کر رہے گی۔‘‘قرآن حکیم کی یہ آیات گواہ ہے کہ یک رنگی کامل اتفاق نہ مطلوب ہے اور نہ صرف غیر فطری ہے بلکہ غیر عملی بھی ہے۔یکسانیت امت کے ہمہ رنگ چمن کا حسن برباد کردے گی اور دین کے اندر پائی جانے والی رواداری اور لچک کی صفت بے سود و بیکار ہوجائیگی۔

مسلکی رواداری کا حصول ناممکن نہیں ہے۔دن میں پانچ مرتبہ نمازوں کے دوران اس عملی مظاہرہ ہوتا ہے۔ نماز باجماعت میں ایک دوسرے کی مجبوری کا پاس و لحاظ رکھا جاتا ہے۔ کوئی رکوع نہیں کرپاتا کوئی سجدے سے محروم رہتا ہے۔ کوئی زمین پر بیٹھ کرتو کوئی کرسی پر بیٹھ کرنماز ادا کرتا ہے لیکن سب ایک ہی جماعت میں شامل ہوتے ہیں۔فقہی اختلاف کی ایک مثال نماز فجر میں دعائے قنوت ہے۔ کوئی پڑھتا ہے توکوئی نہیں پڑھتا لیکن دعائے قنوت نہ پڑھنے والے بھی امام کے پیچھے رکوع میں جانے کا انتظار کرتے ہیں۔ اگر مصلیان میں دعائے قنوت پڑھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہو تو امام توقف کرکے پڑھنے کا موقع دیتا ہے۔ اس طرح امام و مصلی دونوں ایک دوسرے کا خیال رکھتے ہیں اورصبرو سکون کے ساتھ نماز باجماعت ادا کی جاتی ہے۔ اسی طرح کی رواداری دیگراختلافات میں بھی درکار ہے۔ اس مثال کو زندگی کے تمام شعبوں پر پھیلا دیا جائے تو جیسے نماز باجماعت میں خلل نہیں پڑتا اسی طرح امت کا عائلی نظام بھی ٹوٹ پھوٹ سے بچ جائے۔اس معاملے میں لازم ہے کہ کسی خودساختہ دین کے ٹھیکیدار کو من مانی کا موقع نہ دیا جائے۔ ہمارا کام دین کی بات پہنچا دینا ہے۔ہم نہ داروغہ ہیں اور نہ دوسروں کے اعمال کے لیے جوابدہ ہیں۔ ’’اللہ کسی پر اس کی طاقت سے زیادہ ذمہ داری نہیں ڈالتا۔‘‘حدیث میں آتا ہے نبی کریمؐ نے فرمایا ’’ اے عمر تم سے سوال لوگوں کے اعمال کے بارے میں نہیں بلکہ سوال فطرت (اسلام) کے بارے میں ہوگا۔‘‘

عدالتوں میں طویل انتظار اور کثیر اخراجات سے بچنے کی یہ بہترین سبیل شرعی پنچایت ہے۔ سرکاری عدالتوں میں یہ اعلان آویزاں ہوتا ہے کہ بہتر ہے آپ لوگ اپنے معاملات عدالت سے باہر نمٹا لیں اس لیے کہ ہم پہلے ہی کام کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔ شرعی پنچایت کو موثر بنانے کے لیے چند تجاویز پرعملدرآمد لازمی ہے۔ کسی ایک قاضی پر کامل انحصار کرنے کے بجائے حتی الامکان سارے ہی مکاتب فکر کے قاضی حضرات کا وسیع پینل ہونا چاہیے ۔ مدعی اور مدعاعلیہ کے مسلک کو ملحوظ خاطر رکھ کرمناسب قاضی سے انہیں رجوع کیا جائے۔ اگر معاملہ بہت پیچیدہ ہو تو اس کو ایک ہی مسلک کے کئی قاضیوں کی بنچ کے حوالے کیا جائے تاکہ غوروخوض اور بحث و مباحثہ کے بعد فیصلہ ہو۔

قدیم فتاویٰ کی مدد ضرور لی جائے لیکن اجتہاد کا دروازہ کھلا رکھا جائے اور دین کی روح جس اظہار کتاب الٰہی میں اس طرح کیا گیا ہے کہ ’’اور ہم آپؐ کو آسان (شریعت) کی سہولت دیں گے۔(الاعلیٰ :۸)‘‘ کا پاس و لحاظ رکھا جائے۔ یاد رہے کہ شریعت کے اصول ضرو رالہامی ہیں لیکن اس کی روشنی میں مخصوص حالات کے اندر کیے جانے والے انسانی فیصلے الہامی نہیں ہیں۔ حالات کے بدل جانے پر کوئی بعید نہیں کہ وہی قاضی اپنا فیصلہ بدل دیتے۔ حضرت عمرؓ نے خلافت کے لیے حضرت ابوبکرؓ کا نام تجویز کیا اور سب سے پہلے آپ کے ہاتھ پر بیعت کی اس کے باوجود خلافت سنبھالنے کے بعدصحابہؓ کے وظائف متعین کرتے وقت آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ کے فیصلے کو بدل دیا۔ یہ ان دونوں جلیل القدر صحابہ کے درمیان اجتہاد کا فرق تھا اور ایسا کرنے سے نہ تو اسلام کی مخالفت ہوئی اور نہ توہین کا ارتکاب ہوا۔ اس لیے کہ قدیم انطباق کوئی پتھر کی لکیر نہیں ہے۔

بزرگانِ دین کی عقیدت میں غلو سے پرہیز کے بغیر اس وادیٔ پر خطر کو عبور کرنا ممکن نہیں ہے۔سورہ مائدہ میں اہل کتاب کو تنبیہ کی گئی ہے کہ ’’کہو، اے اہل کتاب! اپنے دین میں ناحق غلو نہ کرو اور اْ ن لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا، اور’’سَوَاء السّبیل‘‘ سے بھٹک گئے۔‘‘ ہمارے بزرگوں کی بابت تو ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے کہ وہ راہِ حق سے بھٹک گئے تھے لیکن ان کے فیصلوں کومختلف صورتحال پر من و عن منطبق کرکے اڑ جانا مسائل کھڑا کرسکتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ باہم اختلافات کے باوجود سارے ائمہ مجتہد تھے او ر انھوں نے قیاس اور اجتہاد کے اس اصول کو سامنے رکھ کر فیصلے کیے جس کا ذکرمندرجہ ذیل حدیث میں ملتا ہے۔ رسول اکرمؐ نے حضرت معاذ بن جبلؓ سے یمن جاتے وقت سوال کیا ’’ کوئی مقدمہ تمہارے آگے پیش ہوتو فیصلہ کیسے کرو گے ؟ انھوں نے جواب دیا ’’ اللہ کی کتاب کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے دریافت کیا: اگر اللہ کی کتاب میں اس کا حل نہ ملے تو کیا کرو گے ؟ انھوں نے جواب دیا: اللہ کے رسولؐ کی سنت کے مطابق فیصلہ کروں گا۔ آپؐ نے پھر سوال کیا: اگر سنتِ رسول میں بھی اس کا حل نہ پاؤ تو کیا کرو گے ؟ حضرت معاذؓ نے فرمایا کتاب و سنت کی روشنی میں قیاس کرنے او ر رائے قائم کرنے کی سعی کروں گا۔ رسول اکرمؐ نے خوش ہو کر اللہ کا شکر ادا کیا۔

مشہور تابعی حسن بصریؒ کے فتاویٰ سات ضخیم جلدوں پر محیط ہیں۔ جب آپؒ سے پوچھا گیا کہ کیا آپ کا ہر فتویٰ حدیث کی بنیاد پر ہوتا ہے ؟تو جواب دیا ’’نہیں، بلکہ اپنی دانست میں جس بات کو ہم سائل کے حق میں خود اس کی رائے سے بہتر سمجھتے ہیں، اُسے پیش کرتے ہیں‘‘۔امام شافعیؒ کے مطابق کسی مسئلہ کا شریعت میں صریح و مدلل حکم موجود ہو تو اس کی اتباع کی جائے ورنہ اجتہاد کیا جائے۔ شاہ ولی اللہؒ حنفی فقہ سے وابستگی کے باوجود تقلید جامد کے مخالف تھے ۔حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں میں نے نبی اکرم ؐ کو دین کے سوا کسی اور کی طرف کسی شخص کو منسوب فرماتے نہیں سنا۔ یعنی ہمارا تشخص حنفی،شافعی، مالکی ، حنبلی ، جعفری یا سلفی فقہ سے نہیں بلکہ اسلام سے ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’ اس نے تمہارا نام مسلمان رکھا ہے، اس سے پہلے (کی کتابوں میں) بھی اور اس (قرآن) میں بھی۔۔۔‘‘

وقت کا یہ ایک اہم تقاضہ ہے کہ ہمارے بزرگوں نے جس اعتماد کے ساتھ قرآن و حدیث کی بنیاد پر فیصلے کیے عصر حاضر کے علماء بھی اجتہاد فرمائیں۔ اپنے بزرگوں سے بے جا عقیدت نادانستہ عصبیت میں بدل جاتی ہے۔ خدا نخواستہ وہ صورت پیدا ہوجائے تو ہم پرنبی اکرمؐ کی یہ حدیث صادق آجائے گی کہ ’’ جو شخص اپنی قوم کی ناحق مدد کرتا ہے وہ اس اونٹ کے مانند ہے جو کنویں میں گرگیا اوراس کی دم پکڑ کر اس کو نکالا جائے۔‘‘ عصبیت کا اونٹ قومی ہو یا مسلکی دونوں صورتوں میں اس کو کھینچنے والا اونٹ کے ساتھ کنویں کی نذر ہوجاتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اجتہاد کی ترغیب اور کیا ہوسکتی ہے کہ نبی کریمؐ نے فرمایا ’’ جب حاکم فیصلہ کرے، اس کے لیے کوشش کرے او ر امرِ حق پالے تو اسے دو اجر ہیں۔ جب حاکم فیصلہ کرے، اس کے لیے کوشش کرے، لیکن اس کے باوجود غلطی کر جائے تو اس کا ایک اجر ہے۔‘‘ یہاں حاکم سے مراد حکمراں نہیں بلکہ قاضی ہے اور اس کی سہواً غلطی پر بھی گناہ یا سزا کے بجائے ثواب کی بشارت سنائی گئی ہے۔ ارشاد ربانی ہے ’’ اور ہم آپ کو آسان (شریعت) کی سہولت دیں گے۔(الاعلیٰ:۸)۔ عام طور پر اس آیت کا ترجمہ آسان راستہ کیا گیا ہے لیکن نجفی نے راستے کی وضاحت شریعت لکھ کر کردی ہے۔ شریعت اسلامی آسان وسہل ہے اور اسے آسانی فراہم کرنے کے لیے اتارا گیا ہے۔سورہ کہف کی آیت ۸۸ میں یہ بات نہایت واضح انداز میں بیان فرمادی گئی کہ ’’اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اُس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔‘‘ نرم احکامات کا اشارہ شریعت کی جانب ہے۔ سورہ نشرح کی آیت ’’ہاں ہر مشکل کے ساتھ آسانی بھی ہے ‘‘ کا ایک مطلب تویہ ہے کہ تنگی کے بعد کشادگی ہے لیکن اس کے معنیٰ یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ جہاں دنیوی معاملات میں مشکلات پیدا ہوتی ہیں وہیں شرعی احکامات آسانی پیدا کردیتے ہیں۔ عائلی معاملات کو سلجھاتے وقت آسانی والادینی مزاج پیش نظر ہونا چاہیے۔ سورہ بقرہ میں روزہ جیسی عبادت کی بابت سہولت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا ’’ اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے، سختی کرنا نہیں چاہتا ۔‘‘

اللہ تبارک و تعالیٰ کے نازل کردہ دین رحمت کو نہ صرف دشمنوں کی ریشہ دوانیوں بلکہ ہمارے اپنے سخت اور اڑیل رویہ سے بھی خطرہ لاحق ہے۔ آنحضرتؐنے فرمایا ’’بے شک دین آسان ہے اور جو شخص دین میں سختی اختیار کرے گا تو دین اس کو پچھاڑ دے گا( اور اس کی سختی نہ چل سکے گی ) پس ( اس لیے ) اپنے عمل میں پختگی اختیار کرو۔ اور جہاں تک ممکن ہو میانہ روی برتو اور خوش ہو جاؤ (کہ اس طرز عمل سے تم کو دارین کے فوائد حاصل ہوں گے) اور صبح اور دوپہر اور شام اور کسی قدر رات میں (عبادت سے) مدد حاصل کرو۔‘‘ اب بھی اگر امت اپنی داخلی اصلاح کے لیے کمر بستہ نہ ہو توڈر ہے مبادا ہم نبی رحمتؐ کی اس وعید کی لپیٹ میں آجائیں گے ’’تم اپنے اوپر سختی نہ کرو ورنہ اللہ بھی تم پر سختی کرے گا۔ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی تھی تو اللہ نے بھی اس پر سختی کی۔ یہ جولوگ صومعوں اور دیار میں پائے جاتے ہیں۔ یہ انہی کی یادگار اور بقایا ہیں۔رہبانیت انہوں نے خود نکالی تھی ہم (اللہ) نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا۔‘‘شریعت کے باب میں نصرانیوں کی حالت زار میں ہمارے لیے عبرت کا سامان ہے۔

شریعت کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں نافذ العمل کرنے کی اس جدجہد میں آگے بڑھنے سے قبل آئیے پھر ایک بار اسی سورہ نحل کی جانب لوٹیں جہاں سے بات شروع ہوئی تھی۔ اللہ تعالیٰ آیت ۹۴ میں ارشاد فرماتا ہے ’’(اور اے مسلمانو!) تم اپنی قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنا لینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے اور تم اِس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا، برا نتیجہ دیکھو اور سخت سزا بھگتو‘‘ اپنی قسم سے فریب دینے کا جرم تو مدعی یا مدعاعلیہ سے سرزد ہوتا ہے مگر جولوگ مسندِ حکم پر فائز ہوتے ہیں ان کو یوں خبردار کیا گیا ’’اللہ کے عہد کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے۔‘‘ اس آیت کا اختتام تمام ہی فریقوں کو یہ مژدہ سناتا ہے کہ ’’ ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں کو اْن کے اجر اْن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔‘‘رب کائنات امت کے ہر فرد بشر کوشریعت کا پابند اور اس عظیم بشارت کا مستحق بنائے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر سلیم خان

تبصرہ کیجیے