مسلم سماج میں بیداری کی ضرورت

مسلم افراد کے اندر کچھ حد تک دین داری پائی جاتی ہے، جیسے ایمان باللہ، ایمان بالرسول اس لیے کہ وہ رسول کے نام پر فدا ہونے کو تیار ہو جاتے ہیں، یومِ میلاد النبیؐ کا جشن بھی مناتے ہیں، درود کی برکھا برساتے ہیں، اسی طرح دینی مدارس میں بھی اس موقعے پر جلسے جلوس منعقد کیے جاتے ہیں۔

نبیؐ کی اطاعت سے دوری کی بنا پر آپ کی سنت سے لاپرواہی برتی جاتی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہیے کہ نبیؐ کی سیرت سے واقف ہوا جائے، قرآن کے فرمان کے مطابق رسولؐ کی اطاعت، اللہ کی اطاعت ہے۔ ان امور پر توجہ دینا چاہیے۔

الحمد للہ آج کا مسلمان قرآن مجید کو اللہ کی کتاب مان کر اس سے قلبی و روحانی لگاؤ رکھتا ہے وقتاً فوقتاً اس کی تلاوت کا اہتمام بھی کافی حد تک کرتا ہے۔ مگر اس کو سمجھنے اور اس کا فہم حاصل کرنے سے قاصر ہے۔ قرآن کے احکامات سے غافل اور لاپرواہ ہے، جس کی وجہ سے مسلمان دین اسلام کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا، جس کی وجہ یہ ہے کہ عام مسلمانوں میں یہ غلط فہمی پیدا کی گئی کہ قرآن مجید کا سمجھنا اور دعوت دینا صرف عالموں کا کام ہے سب سے زیادہ سنگین مسئلہ پڑھے لکھے طبقات و تعلیمی اداروں میں فہم قرآن سے دوری ہے۔

آج عبادات جیسے نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج، ان تمام امور تک ایمان زندہ ہے، لیکن شرعی خاندانی احکامات جیسے شادی بیاہ، طلاق، خلع، وراثت، صلح رحمی وغیرہ جو قرآنی نظر سے فرض ہیں، مگر لاعلمی اور دیگر مذاہب کے غلط اثرات اور مادہ پرستی کی وجہ سے معاشرے میں بہت ساری خرابیاں پیدا ہو رہی ہیں۔

معاشرتی امور میں بیداری لانا

مسلم سماج کو تیزی کے ساتھ بڑھتے ہوئے مسلکی اختلافات نیز دیگر دینی تنظیموں کے تصادم سے محفوظ رکھنا ضروری ہے۔ آج مسلمان چوں کہ اقلیتی طور پر رہتے ہوئے بہت سی مشکلات میں گھرے ہوئے ہیں، مسلمان سمجھتے ہیں کہ ان کے خلاف شدت، تعصب کی فضا چاروں طرف چھائی ہوئی ہے اور وہ اس فضا میں سانسیں لینے پر مجبور ہیں، ان تعصبات کا مظاہرہ کبھی مسلمانوں کی سیاسی پارٹی یا دینی و سماجی تنظیموں کی طرف سے بھی ہوتا ہے۔ اس تعصب کی بناء پر ان کی صلاحیتوں کا اعتراف تک نہیں کیا جاتا اور کتنے ہی باصلاحیت نوجوانوں کی کوششیں رائیگاں ہو رہی ہیں کیوں کہ آج حکومت کو ان کی قدر و قیمت نہیں ہے، جس کی وجہ سے مسلم نوجوان مایوس اور اداس ہیں۔ ان کے حوصلے دم توڑنے لگے ہیں۔

ملک کے سیاسی حالات سے واقفیت ہو، ساتھ ہی ملت کی بھی فکر ضروری ہے (معاشرتی، سماجی، اقتصادی، دینی وغیرہ)

آج ہماری مساجد میں معاشرتی و دینی مسائل کو حل کرنے کا رجحان نہیں کے برابر ہے۔ لہٰذا ائمہ مساجد، منتظمین، ٹرسٹیان کو بے دار کیا جائے کہ مسجد میں جمعہ و عیدین کے خطبات کے علاوہ وقتاً فوقتاً امت کی رہ نمائی ہو۔ چھوٹے بچوں کی دینی تعلیم کا اہتمام ہے مگر اس کو مزید مستحکم کیا جائے۔ ان کی عصری تعلیم کے لیے لائبریری اور مطالعہ کے مراکز وغیرہ کا اہتمام کیا جائے۔

مسلم خواتین میں بے داری کی ضرورت ہے۔ دینی فرائض کے ساتھ دیگر حقوق و فرائض کو جانیں، تعلیمی قابلیت کو صحیح رخ پر ڈال کر مسلم سماج کی فلاح و بہبود کے لیے تیار ہوجائیں۔ مسلم خواتین کو اپنی گوشہ نشینی کو چھوڑ کر اپنی بستی و محلے میں اجتماعیت قائم کرنے اور دینی علم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

مسلم خاندانی نظام میں خطرات کی وضاحت

مادہ پرستی کی وجہ سے لڑکیوں کی پیدائش پر ناراضگی، لڑکوں کی طرف زیادہ توجہ ایک معاشرتی مسئلہ ہے اور اس سے خاندان پر برا اثر پڑتا ہے۔ لڑکیاں تعلیم یافتہ نیز نوکری پیشہ ہونے پر شادی میں غیر ضروری تاخیر خاندانی نظام میں دو طرفہ نقصان کا سبب ہے جب کہ رشتے کے انتخاب کا بگڑا ہوا معیار جیسے دین داری کو انتخاب کا معیار نہ بتاتے ہوئے صرف خوب صورتی، دولت کو معیار بنانا وغیرہ نے سماج میں لڑکیوں کی شادی کے مسئلہ کو بڑا پیچیدہ بنا دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بڑے شہروں میں مذہب سے باہر رشتہ، انٹرنیٹ پر رشتہ کی تلاش وغیرہ اب مسلم سماج میں بھی عام ہوتا جا رہا ہے۔

سنگین اور سب سے بڑا خطرہ ازدواجی زندگی کے تعلق سے ہے۔ میاں بیوی اپنے اپنے حقوق و فرائض نہ جاننے کی بنا پر نااتفاقی، غلط فہمی، رنجشیں، خاندانی جھگڑوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اور آپسی تعلقات بگڑنے پر فوراٍ دونوں طرف سے Counselling کی کوشش نہ کرنے پر طلاق کی نوبت آجاتی ہے۔

اسی طرح طلاق کے صحیح طریقے سے ناواقفیت کی بنا پر شوہر کی طرف سے غصہ میں ایک بار تین طلاق کہنے کا خطرہ، دوسری طرف بیوی کی ناسمجھی یا ناقدری کی وجہ سے خلع کا خطرہ یا مطالبہ، خاندانی نظام کی منتشر کرنے کا ذریعہ ہے۔

سسرال، رشتہ داروں کے حقوق (شوہر و بیوی) نہ ادا کرنے پر غلط فہمی و جھگڑے، بیوی کی طرف سے شوہر کے ضعیف والدین سے حسن سلوک و خدمت میں کوتاہی وغیرہ کو لے کر گھروں میں تنازعات پیدا ہو رہے ہیں۔ اس سلسلہ میں شوہر بیوی اور والدین دونوں کو حقوق و فرائض سے واقف ہونا چاہیے۔ اور شکوہ شکایت کے بجائے صبر و تحمل کو اپنانا چاہیے۔

مغربی تہذیب کے اثرات سے بڑھتی ہوئی مادہ پرستی و خود غرضی کی بنا پر آج نوجوان نسل میں مشترکہ خاندان سے کٹ کر نیو کلیئر فیملی بنانے کا رجحان چل پڑا ہے۔ اس رجحان نے خاندانی نظام کو توڑ ڈالا ہے۔

اسی طرح بڑے شہروں میں مسلم خاندان میں گھریلو تشدد ۴۹۸ ایکٹ کے تحت پولیس اسٹیشن یا فیملی کورٹ میں مسلم خاندان کی دوڑ بڑھ رہی ہے۔ جس کی وجہ سے آج کی فسطائی طاقتیں اور حکومت بھی بتا رہی ہے کہ مسلم عورت مظلوم ہے۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ مطلقہ یا بیوہ خواتین کی طرف سے لاپرواہی برتی جا رہی ہے۔ جب کہ حدیث میں ہے کہ ’’جو پلٹائی بیٹی کو سہارا دے وہ جنتی ہے‘‘ یعنی ان کو سہارا دینا اور دوسرے نکاح کی فوراً کوشش جاری رکھنا۔

آج مسلم عورت کے مسائل اس لیے بڑھ رہے ہیں کہ وہ خود اپنا مقام و مرتبہ نہیں جانتی۔ دورِ نبوت و خلافت کی عبادت گزار نیک و صالح عورت کی قربانیاں، دعوت دین کی تڑپ اور سادہ زندگی سے ناواقف ہیں۔ دوسری طرف مغربی تہذیب کے غلط اثرات اور ملک کے دیگر مذاہب کے رسم و رواج کے اثرات کی بنا پر وہ ویسی نیک، صالح و عبادت گزار خواتین نہیں بن پا رہی ہے۔ ساتھ ہی وہ اپنا مقام و مرتبہ نہ جاننے کی وجہ سے مسلم سماج کا معاشرتی مسئلہ اور اسلامی خاندانی نظام کے لیے بھی خطرہ بن رہی ہے۔

علاج

ظاہر ہے علاج بھی ہم باشعور، پڑھی لکھی خواتین جو داعیانہ کردار ادا کرنے کی تڑپ رکھتی ہے ان کے لیے لازم ہے۔

۱- اصلاحِ معاشرہ کی جدوجہد کے لیے تیار ہوں۔

۲- اپنے اپنے مقام، بستی یا محلے کا جائزہ لیں۔

۳- اپنی سہولت و فہم کے ساتھ انفرادی و اجتماعی ملاقاتوں سے روابط بڑھائیں۔

۴- جہاں جو مسئلہ ہے ان کے حل کے لیے یا رہ نمائی بڑی حکمت کے ساتھ کریں۔

۵- روابط بڑھنے پر دینی Litreture کا مطالعہ کروائیں۔ (ماہانہ حجاب ان تک پہنچائیں)۔

۶- ان میں بے داری کے لیے ہفتہ واری اجتماعات منعقد کریں اور خواتین کو ان میں لانے کی کوشش کریں۔

۷- خلوصِ دل سے اللہ سے دعا کرے۔

شیئر کیجیے
Default image
منیرہ خانم (پونے)