مسلمانوں کو پہلے مسلمان بننا پڑے گا!

[سپریم کورٹ میں مسلم پرسنل لا بورڈ کے وکیل مقبول اعجاز ایڈووکیٹ صاحب سے ایڈیٹر حجابِ اسلامی کی گفتگو]
سوال: سپریم کورٹ کا تین طلاق کے خلاف آنے والا فیصلہ حقیقت میں کیا ہے؟

جواب: سپریم کورٹ میں جو معاملہ آیا تھا اس میں کئی باتیں تھیں۔

۱- تین طلاق بنیادی حقوق کی دفعہ ۱۴،۱۵ کے خلاف ہے۔

۲- مسلمانوں میں ایک سے زیادہ شادیوں کی اجازت غیر آئینی ہے۔

۳- نکاح حلالہ غیر آئینی ہے۔

۴- اسلام کے قانون وراثت میں لڑکی کو لڑکے کا آدھا حصہ ملتا ہے یہ انصاف کے خلاف ہے۔

۵- مسلمان دار القضاء اور شرعی عدالتیں چلاتے ہیں ان کو چیلنج کیا گیا تھا۔ میں اس کیس میں مسلم پرسنل لابورڈ اور جمعیۃ علمائے ہند (ارشد مدنی گروپ) کی نمائندگی کر رہا تھا اور میں نے الگ الگ دونوں کی جانب سے کاؤنٹر حلف نامہ داخل کیا تھا، اس لیے ہم لوگ پارٹی بنا دیے گئے۔

عدالت نے کچھ اصولی بنیادوں پر باقی چیزوں کو D-linkکیا اور کہا کہ صرف تین طلاق کے معاملے پر سنوائی ہوگی۔ عدالت نے اس معاملہ کو ارجنٹ کے طور پر لیتے ہوئے عدالت کی تعطیلات کے دوران ہی اس کی سماعت کی اور مختلف مذاہب پانچ ججز کی کانسٹی ٹیوشن بنچ کے سپرد کیا جس میں خود چیف جسٹس آف انڈیا جے ایس کھیہر بھی شامل تھے۔

یہ بنچ درج ذیل حضرات پر مشتمل تھی۔

۱- چیف جسٹس آف انڈیا، جے ایس کھیہر

۲- جسٹس جوزف کورین

۳- جسٹس آر ایف نریمن

۴- جسٹس اُدے اومیش للت

۵- جسٹس عبد النذیر

اس فیصلے کے دو حصے ہیں: ایک اکثریتی فیصلہ ہے اور ایک اقلیتی فیصلہ۔ کانسٹی ٹیوشن بنچ کے تین جج حضرات کی ایک رائے ہے۔ اس میں جسٹس کھیہر، جسٹس کورین جوزف اور جسٹس عب النذیر ہیں اور دوسری میں جسٹس نریمن اور جسٹس للت ہیں۔

تین ججز کی رائے تھی اگر پرسنل لاء میں کوئی ریفارم کرنا ہے تو حکومت کو پارلیمنٹ کے ذریعے قانون بنانا ہوگا۔ کیوں کہ قانون سازی عدالت کا نہیں پارلیمنٹ کا کام ہے جب کہ دوسری رائے کے حامل جسٹس نریمن اور جسٹس للت کی رائے ہے کہ مسلم پرسنل لاء (شریعت اپلی کیشن ایکٹ ۱۹۳۷) ایک لیجسلیشن ایکٹ ہے اس لیے سپریم کورٹ اس کو اسٹرائک ڈاؤن کر سکتی ہے۔

اکثریتی حصہ کا ماننا تھا کہ پرسنل لا کو ہم بنیادی حقوق کی دفعہ سے ٹسٹ نہیں کرسکتے کیوں کہ دستور کی دفعہ ۲۵، ۲۶ کے تحت پرسنل لا بھی بنیادی حق Fundamental Rightہے۔ چناں چہ ہم جانتے ہیں کہ عدالت نے بیک وقت تین طلاق پر چھ ماہ کے لیے روک لگائی ہے اور حکومت سے کہا ہے کہ وہ اس دوران اس سلسلے میں قانون سازی کرے۔

اٹارنی جنرل مکل روہتگی نے تو سرے سے طلاق ہی کو ختم کرنے کی بات عدالت کے سامنے کہی تھی۔

س: کیا اس فیصلے سے پرسنل لا محفوظ ہوگیا؟

ج: یہ فیصلہ مکمل طور پر پرسنل لا کو تحفظ دیتا ہے۔ یہ صرف اور صرف بیک وقت تین طلاق کو غلط مانتا ہے جس کو ہم بھی غلط مانتے ہیں۔

س: تین طلاق کو غلط ماننے کا تصور یا تسلیم کرنا عدالتی فیصلے کے بعد ہی کیوں آیا؟

ج: دیکھئے یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور اس سلسلے میں علماء بتائیں گے۔ عدالت نے بھی اسے مذہبی معاملہ مانا ہے۔ دفعہ ۲۶ اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ کسی مذہب کے ماننے والے اپنے مذہبی معاملات کو کیسے مینج کرتے ہیں۔ قانون تو کسی بھی مذہبی Domain یا سیکٹ کو بھی تسلیم کرتا ہے اور اسے عقیدے اور عمل کی آزادی دیتا ہے۔

س: آپ نے دو حلف نامے فائل کیے اور دوسرے میں وہ سب کچھ مان لیا جو فریق مخالف کہتا تھا؟

ج: ایک کاؤنٹر Affidevid تھا جس میں فریق مخالف کے اعتراضات کے جوابات دیے گئے تھے۔ دوسرا تحریری اقرار نامہ یا written submission تھا۔ جو سماعت مکمل ہونے کے بعد عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس میں عدالت سے یہ درخواست کی گئی تھی کہ کیوں کہ یہ ایک مذہبی معاملہ ہے اور عدالت خود اسے مذہبی معاملہ سمجھتی ہے۔ اس لیے عدالت اس میں فیصلہ نہ کرے اور اسے مذہب پر چھوڑ دیے۔ اس میں ان اقدامات کا بھی ذکر تھا جو پرسنل لا بورڈ نے تین طلاق کے خلاف عوام میں بیداری لانے اور اسے ختم کرنے کے لیے تجویز کیے تھے۔

یہ ایک قانونی نوعیت کا اقدام تھا جو بعض اوقات ضروری ہو جاتا ہے۔

س: اس فیصلے سے مسلمانوں کی عائلی زندگی پر کیا اثر پڑے گا۔

ج: دیکھئے! مسلمانوں کو سب سے پہلے مسلمان بننا پڑے گا۔ اگر آپ صحیح معنوں میں مسلمان ہیں اور قرآن و حدیث کو Followکرتے ہیں تو آپ کوذرہ برابر بھی پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسلام نے جتنا زور علم پر دیا ہے اسے ہم نے بالکل بھلا دیا ہے۔ علم کو دین اور دنیا میں بانٹا نہیں جاسکتا۔ علم بہت وسیع ہے اور اسلام اسے مومن کی میراث کہتا ہے۔ ہم علم کے میدان میں پچھڑے ہوئے ہیں اس لیے زندگی میں پچھڑ گئے ہیں۔ تاریخ کا ایک موڑ دیکھئے جس نے مسلمانوں کو صدیوں پیچھے دھکیل دیا۔ جرمنی میں جب پرنٹنگ پریس ایجاد ہوا تو ترک خلیفہ نے اس کے ناجائز ہونے کا حکم صادر کیا۔ اس نے مسلمانوں کو علم کے مرکز سے دور کر دیا۔ آج آپ تصور کیجیے! اگر پرنٹنگ پریس کو اپنی زندگی سے نکال دیں تو کیا بچتا ہے اور کہاں بچتا ہے علم۔

میں دنیا بھر میں گھومتا ہوں۔ میں نے دیکھا ہے، برطانیہ اور امریکہ میں لوگ زیادہ اچھے مسلمان ہیں۔ نماز پڑھتے ہیں روزہ رکھتے ہیں، حلال کھاتے ہیں اور ہم سے زیادہ انفاق کرتے ہیں اور ہر طرح کا علم ان کے پاس ہے۔

اصل مسئلہ ہماری انفرادی زندگی کا ہے، اس میں ریفارم اور اصلاح کی ضرورت ہے۔ بھول جائیں کہ حکومتوں سے کچھ ملے گا۔

س: مسلم پرسنل کو ڈی فائی نہیں ہے جو بھی جج حضرات ہیں وہ تو جدید قانون پڑھ کر آتے ہیں ایسے میں کیا کریں؟

کوڈی فکیشن کی ضرورت نہیں ہے۔ کہاں تک کو ڈی فائی کریں گے؟ ہمارے یہاں بھی بہت سے فرقے ہیں، شیعہ الگ ہیں ان میں بھی پھرکئی فرقے۔ سنی الگ ہیں اور ان میں بھی چار مسلک ہیں پھر سب کے لیے الگ الگ کوڈ بنانا پڑے گا جو ممکن نہیں۔ حقیقت میں مذہبی باتوں کو کو ڈی فائی نہیں کیا جاسکتا جب تک لیجسلیشن میں نہ لائیں۔ ہندوؤں کے عقائد و روایات بھی الگ ہیں۔ نارتھ انڈیا میں بھانجی سے شادی نہیں ہوتی لیکن ساؤتھ میں بہت سی جگہ اسے جائز تصور کیا جاتا ہے۔ اور بہت سی پیچیدگیاں ہیں اس میں۔

س: مسلمانوں کے عائلی معاملات کورٹ میں جاتے ہیں تو جج حضرات سول کوڈ سے فیصلہ کرتے ہیں؟

ج: فیصلے تو پرسنل لا ہی کے مطابق ہوں گے، لیکن بعض صورتوں میں سیکولر لا بھی گورن کرتا ہے۔ مثال کے طو رپر اگر ایک طلاق شدہ مسلم عورت اگر اپنی بنیادی ضروریات کی تکمیل کی اہلیت نہیں رکھتی یا مینٹینیش کے قابل نہیں ہے تو وہ CRPCکی دفعہ ۱۲۵ کے تحت کیس درج کرواسکتی ہے۔

س: اس فیصلے کو ہر کوئی فتح تصور کر رہا ہے؟

ج: ہمارے لیے اس فیصلے کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ عدالت نے اکثریت سے یہ بات تسلیم کی ہے کہ یہ معاملہ مذہبی معاملہ ہے اور اس حیثیت سے یہ عدالت کے Domainیادائرہ عمل میں نہیں آتا۔ دستور پرسنل لا کو تحفظ دیتا ہے اور عدالت اس میں مداخلت نہیں کرسکتی۔ اس لیے عدالت نے طلاق بدعت کو جس کا غلط ہونا شریعت سے ثابت ہے چھ ماہ کے لیے معطل کیا ہے۔ یہ عدالت کا واضح حکم ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ایڈیٹر