مسلم پرسنل لا: غور و فکر کے چند پہلو

ہندوستان کی تاریخ پر جن لوگوں کی نظر ہے، وہ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہماری جمہوری اور سیکولر حکومت اپنے قیام کے وقت سے ہی ملک میں بسنے والی تمام قوموں پر یکساں سول کوڈ کے نفاذ کے لیے کوشاں رہی ہے۔ لہٰذا مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے مختلف عائلی قوانین خصوصاً مسلم پرسنل لا یکساں سول کوڈ کے نفاذ میں مانع رہا ہے، جس کی وجہ سے اب تک حکومت اپنے مقصد میں ناکام رہی ہے۔ البتہ ہندو پرسنل لا میں ترمیم و تنسیخ کرنے اور اسے ایک خاص درجہ دینے کے بعد یہ اعلان کیا کہ:

’’ہندو قوانین میں جو اصلاحات کی گئی ہیں وہ عنقریب ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائیں گی۔ اگر ہم ایسا قانون بنانے میں کامیاب ہوگئے جو ہماری پچاس فیصد آبادی کے لیے ہوتو باقی آبادی پر اسے نافذ کرنا مشکل نہ ہوگا اور اس قانون سے پورے ملک میں یکسانیت پیدا ہوگی۔‘‘ واضح رہے کہ یہ اعلان 1956 میں جب ہندو پرسنل لا کو نیا روپ دیا جارہا تھا تو اس وقت کے وزیر قانون مسٹر پاسکر نے کیا تھا۔ علاوہ ازیں 1962 میں اور پھر 1972 میں متبنیٰ بل کے حوالے سے مسئلے کو اٹھانے کی کوشش کی گئی۔ اسی سال 1972 میں ہی لا کمیشن کے چیئرمین مسٹر گجندر گڈکر نے تو ہندوستان میں یکساں سول کوڈ کی پُر زور وکالت کرتے ہوئے اس کو ہندوستان کی سالمیت، وحدت اور یک جہتی کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا ’’اگر مسلمانوں نے خوش دلی کے ساتھ یکساں سول کوڈ کو قبول نہیں کیا تو قوت کے ساتھ یہ قانون نافذ کیا جائے گا۔‘‘

مذکورہ بالا حوالوں سے ہمارے خیال میں ملک کی سب سے بڑی سیکولر پارٹی کانگریس کے نظریات و موقف کو بہ آسانی سمجھا جاسکتا ہے۔

1956 سے آج 2015 تک تو بہ وجوہ حکومت کا یہ فیصلہ پورے ملک میں نافذ نہ ہوسکا لیکن رہ رہ کر کسی خوفناک ازدہے کی طرح سانسیں ضرور لیتا رہتا ہے جس سے ملک کی اقلیتوں بالخصوص مسلمانوں کے پرسنل لا پر اکثر و بیشتر خوف و ہراس کے بادل ضرور منڈلانے لگتے ہیں۔ اور اب تو مسلمانوں کے عائلی قوانین کی ترمیم و تنسیخ کی دو ڑ میں صرف کانگریس اور اس کی حکومتیں ہی نہیں بلکہ وہ عناصر بھی شامل ہوگئے ہیں جو مسلمانوں کے ازلی دشمن ہیں۔ یہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف کہاں تک جاسکتے ہیں ان کی حالیہ سرگرمیوں سے بخوبی اندازہ لگاسکتے ہیں۔ سب سے بڑی اور اہم بات تو یہ ہے کہ ان کے معاون ملک کا میڈیا و دیگر ذرائع ابلاغ ہیں جسے زبان عام میں سچ کا دشمن اور جھوٹ کا امام کہا جاسکتا ہے۔

اس تعلق سے اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت اسلام اور مسلمانوں کے پرسنل لا پر چہار طرفہ یلغار ہے تو شاید غلط نہ ہو کیونکہ اسلام دشمنوں کے خیال میں مسلم پرسنل لا ایک ایسا قانون ہے جس میں خواتین کے ساتھ حق تلفی اور نا انصافی کے علاوہ بڑی زیادتیاں ہیں جس کی وجہ سے وہ گھٹ گھٹ کر جی رہی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان کے نزدیک اسلامی قانون طلاق خصوصاً طلاق ثلاثہ اور تعدد ازدواج مسلم خواتین کے لیے زیادتی اور جبری قوانین ہیں جسے میڈیا کے ذریعے مستقل نہ صرف موضوع بحث بنا رکھا ہے بلکہ ان قوانین کی تضحیک کرنے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتے۔

طلاق ثلاثہ

مسلم پرسنل لا پر پہلا اعتراض بجاطور پر طلاق ثلاثہ ہے۔ گزشتہ چند برسوں کی بات ہے۔ اہل حدیث طبقہ نے یہ مسئلہ اٹھایا تھا تو اس پر خاصی لے دے ہوئی اور کہا گیا کہ ان کی تعداد ہی ملک میں کتنی ہے؟ گویا کسی صحیح بات کے لیے تعداد کی ضرورت لازمی ہے۔ یہ بھی جواز پیش کیا گیا کہ:

’’طلاق ثلاثہ بدعت تو ضرور ہے مگر طلاق واقع ہوجاتی ہے۔‘‘

گویا ہم اسے گناہ بھی سمجھتے ہیں اور زندگی کے اس دُور رس معاملے میں جہاں انتہائی احتیاط کی ضرورت ہے، ہمیں یہ بدعت قابل قبول بھی ہے۔ اسی طرح کے رویوں کی وجہ سے مخالفین کو مخالفت کا موقع ملا ہوا ہے۔ سمجھ میں نہیں آتا کہ ہمارے علماء خصوصاً پرسنل لا کے ذمہ داران اس معاملے میں کوئی مشترکہ لائحہ عمل کیو ںنہیں تیار کرتے؟

طلاق ثلاثہ کے تعلق سے جو لوگ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دور میں واقع ہونے والے واقعات کا حوالہ دیتے ہیں وہ یقینا کسی مصلحت کے تحت وقتی تھے کیوںکہ اگر ایسا نہ ہوتا تو ایک نشست میں تین طلاق کا وہ واقعہ جسے سن کر آپ صلی اللہ علیہ و سلم غصے میں کھڑے ہوگئے اور ارشاد فرمایا کہ کیا میری زندگی میں ہی کتاب اللہ کا مذاق اڑایا جائے گا؟ یہاں تک کہ ایک صحابی نے کھڑے ہوکر عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیوں نہ میں اسے قتل کردوں؟

اور پھر قرآن نے جس وضاحت کے ساتھ طریقہ طلاق بیان کیا ہے اس نے ایک نشست میں تین طلاق دے دینے کے عمل کو محض جذباتی و اضطرابی اقدام قرار دیا ہے اور اس کے بجائے طلاق کو ایک سوچا سمجھا منصوبہ بند عمل قرار دیا ہے۔ یعنی دو بار کی طلاق رجعی کے ساتھ یہ حکم بھی دیا کہ اگر کسی (میاں بیوی) کے تعلقات بگڑنے کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے رشتہ دار اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو۔ وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا۔ (النساء) اتنے واضح اور صریح حکم کے بعد ایک وقت میں تین طلاق کا عمل بے معنی ہی کہا جائے گا۔ علاوہ ازیں اگر یہ کہا جائے کہ طلاق ثلاثہ سے راجعت کے حق کی بربادی بھی ہے اور اللہ کے بندوں پر پشیمانی کا دروازہ بھی بند ہوجاتا ہے اور اس سے وابستہ پشیمان زندگیوں، جڑے ہوئے کنبوں اور باپ کی زندگی میں ہی یتیم ہوئے بچوں کی حالت زار سے کسے ہمدردی نہیں ہوگی۔

یہ طلاق ثلاثہ ہی ہے جس سے غیر مسلموں میں بڑی غلط فہمیاں ہیں۔ ان کے نزدیک ہر مسلمان جیسے طلاق کی بندوق لیے پھرتا ہے اور جب چاہتا ہے اپنی شریک حیات کے سینے پر داغ دیتا ہے۔ اس طرح کی غلط فہمیوں کے ازالے کی ذمہ داری ہمارے علما کی ہے۔ خاص طور سے پرسنل لا کے ذمہ داران سے گزارش ہے کہ وہ اس طرف پوری توجہ دیں۔

طلاق کے سلسلے میں قرآن نے بڑی شرطیں لگائی ہیں اور یہی نہیں بلکہ اس کے بعد بھی جیسا کہ اوپر ذکر آچکا ہے کہ صلح و رجوع کا دروازہ کھلا رکھاگیا ہے اس لیے کہ شرعاً مطلوب ملاپ ہے، اور یہ چیز ایک نشست میں تین طلاق دے دینے میں نہیں پائی جاتی۔ جسٹس کرشنا آئر نے تو قرآنی طریقہ طلاق کو انتہائی سائنٹفک اور مہذب طریقہ قرار دیا ہے۔ عورت کی کسی بھی صورت میں حق تلفی نہ ہو اس لیے بار بار خدا کے خوف سے ڈرایا گیا ہے۔ قرآن نے عورتوں کے لیے جتنے حقوق دیے ہیں شاید ہی کسی اور مذہب میں دیے گئے ہوں۔ یہ بات بھی واضح رہے کہ طلاق کے ساتھ عورتوں کو خلع کا حق بھی تفویض کیا گیا ہے۔

تعدد ازدواج

یکساں سول کوڈ کے حامیوں کے لیے مسلم عائلی قوانین میں قابل توجہ مسئلہ تعدد ازدواج کا ہے جو بطور خاص اس کے نفاذ میں رکاوٹ ہے اور جو اس وقت پورے زور و شور سے موضوع بحث بنا ہوا ہے۔ جب کہ مسلم معاشرے میں اس کا رواج نہ ہونے کا ہے۔ تاہم چند ناعاقبت اندیش افراد (مسلم، غیر مسلم) مذہب کی آڑ لے کر جس طرح اس کا استعمال کر رہے ہیں اس سے شریعت اسلامی کی روح مجروح ہوتی ہے۔ اکثر نوجوان کثیر زوجگی کو سنت محمدی صلی اللہ تعالیٰ علیہ آلہٖ وسلم سے تعبیر کرتے ہیں لیکن عدل کی کڑی شرط کو بھول جاتے ہیں۔

قرآن حکیم میں ایسے لوگوں کے بارے میں واضح اشارہ ہے:

’’اور دیکھو عورتوں کے ساتھ حسنِ معاشرت کرنے میں نیکی اور انصاف ملحوظ رکھو، اور اگر ایسا ہو کہ تمہیں کسی وجہ سے وہ ناپسند ہوں تو (بے ضبط اور بے قابو نہ ہوجائو) عجب نہیں کہ ایک بات تم ناپسند کرتے ہو اور اس میں اللہ نے تمہارے لیے بہتری رکھ دی ہو۔‘‘ (النساء: ۱۹)

قرآن کی نظر میں تو دخترکشی کی بھی سختی سے ممانعت ہے بلکہ لڑکیوں کی اچھی تعلیم و تربیت پر جنت کی بشارت دی گئی ہے۔ ترکہ میں لڑکی کا حصہ مقرر کرکے شریعت اسلامیہ نے معاشرے میں اس کی قانونی حیثیت کو تسلیم کرایا ہے اور یوں اس کا مقام و مرتبہ بلند و بالا کردیا ہے۔ اسے معاشی تحفظ صرف ترکہ ہی نہیں بذریعہ نفقہ اور بذریعہ مہر بھی فراہم کیا۔ نفقہ کے لیے حکم ہے کہ ’’مالدار اپنی استطاعت اور مفلوک الحال اپنی استطاعت کے مطابق نفقہ دے۔‘‘ (سورہ البقرہ)

بہر صورت یہ ایسے مسائل ہیں جن پر سنجیدگی سے مسلمانوں کے اہل علم حضرات کھل کر بحث کریں، اپنا محاسبہ یقینا کوئی آسان کام نہیں۔ تاہم شترمرغ کی طرح ریت میں سر چھپانے کا وقت بھی نہیں ہے۔ اجتہاد کا کام بے شک علماء و مجتہدین کا ہے لیکن انہیں کب زمینی حقیقتوں کا احساس ہوگا۔ کب وہ مسلکی تعصبات سے اوپر اٹھیں گے۔ یہ ایک بنیادی سوال ہے۔

جو لوگ اس وقت ہمارے پرسنل لا پر ٹوٹے پڑ رہے ہیں وہ ہماری کوتاہیوں، غلطیوں کے سبب ہی ہیں۔ ان میں کچھ جان بوجھ کر اور کچھ انجانے میں ہمارے عائلی قوانین کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں۔ انہیں ہمیں اپنے اعلیٰ کردار، استدلال و بلند اخلاق سے زیر کرنا ہوگا۔ بصورت دیگر ہمیں دنیا و آخرت دونوں جہانوں میں رسوا ہونے سے کوئی روک نہیں سکتا۔

شیئر کیجیے
Default image
جلال الدین اسلم، نئی دہلی