مسلم پرسنل لا کی اہمیت

نکاح، طلاق، خلع اور وراثت جیسے امور ایسے نہیں ہیں کہ ان کے سلسلے میں کوئی ساطریقہ اختیار کرنے اور اپنی خواہشات کے مطابق قانون سازی کرنے کی اسلام آزادی دیتا ہو بلکہ ان میں سے ہر مسئلہ میں قرآن کریم کے صریح احکام موجود ہیں اور ان احکام کو بیان کرنے کے بعد ان کی پابندی کرنے کی سخت تاکید کی گئی ہے اور اس کی خلاف ورزی پر سخت وعید سنائی گئی ہے۔ مثلاً نکاح کے احکام بیان کرنے کے بعد قرآن کریم میںارشاد ہوا ہے:

’’یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم ہے۔‘‘ (النساء:۲۴)

طلاق اور خلع کے احکام بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا ہے:

’’یہ اللہ کے حدود ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اور جو لوگ اللہ کے حدود سے تجاوز کریں وہی ظالم ہیں۔‘‘

وراثت کا قانون بیان کرتے ہوئے فرمایا:

’’یہ اللہ کی طرف سے عائد کردہ فریضہ ہے۔‘‘ (النساء:۱۱) اور نظام وراثت کا بیان جس آیت پر ختم ہوتا ہے وہ ہے:

’’اور جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے گا اور اس کے حدود سے تجاوز کرے گا اس کو اللہ آگ میں داخل کرے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہوگا۔‘‘ (نساء:۱۴)

قرآن کریم میں جو معاشرتی احکام بیان کیے گئے ہیں ان کی تشریح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہے جو سنت کہلاتی ہے اور فقہائے امت نے کتاب وسنت کی روشنی میں اجتہادات کیے ہیں اور اسلامی فقہ کو مرتب کیا ہے۔ کتاب و سنت کے احکام جو معاشرتی اور عائلی زندگی سے تعلق رکھتے ہیں شریعت اسلامیہ کا اہم ترین اور لازمی حصہ ہیں اور ان کی حیثیت اللہ کے قانون اور اس کے فرمان کی ہے۔ شریعت کی کامل اتباع کا حکم قرآن مجید میں دیا گیا ہے:

’’اے ایمان لانے والو اسلام میں پورے پورے داخل ہوجاؤ۔‘‘ (البقرہ:۲۰۸)

’’تمہارے رب کی طرف سے جو کچھ تمہاری طرف نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کو چھوڑ خداؤں کی پیروی نہ کرو۔‘‘ (الاعراف:۳)

’’(اے پیغمبر!) تم اللہ تبارک و تعالیٰ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر بعض ان احکام سے منحرف نہ کرنے پائیں جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف نازل کیے ہیں۔‘‘

کسی مسلمان کو یہ اختیار نہیں ہے کہ اللہ کے احکام و قوانین کی موجودگی میں وہ اپنی پسند کا کوئی قانون بنائے یا اپنی پسند کے راستے پر چلے:

’’کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو اللہ اور اس کے رسول کے فیصلہ کردینے کے بعد اپنے اپنے معاملہ میں کوئی اختیار باقی نہیں رہتا۔‘‘ (الاحزاب:۳۶)

جولوگ اللہ کے قانون کے مطابق فیصلہ نہیں کرتے انہیں کافر، ظالم اور فاسق کہا گیا ہے۔ اسی طرح دین کے ایک جزء کو لینے اور دوسرے جزء کو چھوڑ دینے کے بارے میں سخت تنبیہ کے ساتھ فرمایا ہے:

’’پھر کیا تم کتاب الٰہی کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے سے انکار کرتے ہو۔‘‘

سورہ النساء میں معاشرتی احکام تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں اور اسی سورہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خطاب کر کے صاف طور سے فرمایا ہے:

’’(اے پیغمبر) تمہارے رب کی قسم یہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تمہیں حکم نہ مان لیں۔ پھر تم جو فیصلہ کرو اس پر اپنے دل میں بھی کوئی تنگی محسوس نہ کریں بلکہ تمہارا فیصلہ سر بسر تسلیم کرلیں۔‘‘

مسلم پرسنل لاء کے مخالفین کہتے ہیں کہ مسلم پرسنل لا کا جزو شریعت ہونا اس کو ختم کرنے میں مانع نہیں ہونا چاہیے کیوں کہ اس سے پہلے اسلام کے تعزیراتی قانون کو بھی شریعت کا جزء ہونے کے باوجود ختم کیا جاچکا ہے اور اس وقت ملک میں غیر اسلامی قانون تعزیرات رائج ہے۔ یہ استدلال بھی عجیب ہے! اگر کسی شخص کو گندی ہوا میں سانس لینا پڑے تو اس کا مطلب یہ کہاں ہوا کہ جو صاف ہوا میسر آتی ہو اس کو بھی بند کر دیا جائے۔ اور صرف گندی ہوا کا انتظام کیا جائے؟ اسلام کا کوئی قانون خواہ تعزیراتی ہو یا معاشرتی یا اور کسی قسم کا اپنی جگہ پوری اہمیت رکھتا ہے اور یکساں طور سے احترام کا مستحق ہے۔ کسی بھی قانون شریعت کو ختم کرنے کا سوال ایک مسلمان کے ذہن میں پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔ لیکن اگر حالاتِ زمانہ نے اسلام کی تعزیراتی قانون کی بہ جائے کوئی دوسرا قانون ان پر مسلط کر دیا ہو تو یہ صورتِ حال اس بات کے لیے جواز فراہم نہیں کرتی کہ اسلام کے قانون کا جتنا حصہ باقی رہ گیا ہے اس کو بھی خیر باد کہہ دیا جائے۔ پھر جو فرق تعزیراتی قوانین اور معاشرتی قوانین کے درمیان پایا جاتا ہے اس کو یہ حضرات بالکل نظر انداز کردیتے ہیں۔ تعزیراتی قوانین کا تعلق اصلا حکومت سے ہوتا ہے۔ مثلاً چور یا زانی کو سزا حکومت ہی دے سکتی ہے۔ افراد نہیں دے سکتے لیکن معاشرتی قوانین پر افراد کو اپنے طور پر عمل کرنا ہوتا ہے اور حکومت سے ان کا تعلق محض ثانوی حیثیت کا ہوتا ہے۔ یعنی حل مقدمات وغیرہ کے پہلو سے۔

مزید براں اسلام کے معاشرتی قوانین کو ختم کرنے کی صورت میں افراد کی اپنی اخلاقی حیثیت کے متاثر ہو جانے کا امکان پیدا ہوجاتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دے ہی دی، دراں حالے کہ قانوناً طلاق ممنوع قرار دی جاچکی ہو تو وہ بیوی شرعاً اس شخص کی نہیں رہے گی لیکن قانون کی مجبوری سے وہ اس کی بیوی قرار پائے گی۔ ظاہر ہے کہ اس عورت اور مرد دونوں کی اخلاقی حیثیت متاثر ہوگی۔ برخلاف اس کے تعزیراتی قوانین کا تعلق محض مجرمین کو سزا دینے سے ہوتا ہے۔ اس لیے اسلام کے تعزیراتی قوانین کے عدم نفاذ کو مسلم پرسنل لا کے خاتمہ کی دلیل نہیں بنایا جاسکتا۔

دستور ہند کی دفعہ ۴۴

مسلم پرسنل لاء میں تبدیلی کے لیے ملک میں جو تحریک چلائی جا رہی ہے، اس کا منشا در اصل مسلم پرسنل لا کو پوری طرح ختم کرنا اور اس کی جگہ ایک ایسے سول کوڈ کو نافذ کرنے کے لیے راہ ہموار کرنا ہے جو تمام فرقوں کے لیے یکساں ہو، جس میں مسلم اور غیر مسلم کا کوئی امتیاز نہ ہو اور اسلام کا یا کسی اور مذہب کا عائلی قانون باقی نہ رہے۔ اس تحریک کی بنیاد تو اصلا مغربی تہذیب اور مادہ پرستانہ نظریہ حیات ہے لیکن دستور ہند دفعہ (۴۴) نے جو رہ نما اصولوں میں سے ہے، اس کے لیے اساس مہیا کردی ہے۔

دفعہ ۴۴ میں کہا گیا ہے کہ :

The state shall endeavour to secure for ditizens a Uniform Civil code throughout the territory of India.

’’ریاست کوشش کرے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ ہو۔‘‘

لیکن دستور کی یہ دفعہ دوسرے رہ نما اصولوں کی طرح ریاست کے لیے محض ایک رہ نما اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور اس پر دستور کے بنیادی حقوقFundamental Rights کو بہرحال فوقیت حاصل ہے جس میں کہا گیا ہے کہ:

’’تمام لوگوں کو یکساں طور سے ضمیر کی آواز حاصل ہوگی اور اپنے مذہب کو آزادانہ طور پر اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا حق حاصل ہوگا۔‘‘ (دفعہ۴۴)

مذہبی آزادی کی اس دفعہ کے پیش نظر کسی ایسے سول کوڈ کے لیے گنجائش نہیں ہونی چاہیے جس سے کسی فرقہ کی مذہبی آزادی سلب ہوتی ہو اور اسے اس کے مذہب کی تعلیمات کے خلاف عمل کرنے کے لیے مجبور کیا جائے۔

اگر ایسا کیا گیا تو یہ دین میں صریح مداخلت ہوگی اور اس کے بعد دستور کی اس ضمانت کاکہ لوگوں کو اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی آزادی ہوگی کیا مطلب رہ جائے گا؟ تعجب ہے کہ دستور کی اتنی اہم دفعہ کو نظر انداز کر کے دفعہ (۴۴) ہی کو سب کچھ سمجھ لیا جاتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمس پیر زادہ