ہندوستان میں مسلم پرسنل لا: مختصر تاریخی پس منظر

کی آمدسے قبل ہندوستان مغلیہ عہد (1526-1858)میں تمام شعبہ ہائے حیات پر اسلامی قوانین ہی کا اطلاق ہوتاتھا۔ جب کہ دیگر مذاہب کے ماننے والوں کے لیے ان کا پرسنل لا ہوتا تھا۔ مغلوں نے اپنے دور حکومت میں عدالتی نظام کو بخوبی منظم کیا۔ مورخ واحد حسین لکھتا ہے کہ مغلیہ دور کے نظام عدلیہ نے ہندوستان کے موجودہ نظام عدالت پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ جے این سرکار کے بقول یہ نظام پورے ہندوستان کے متمدن معاشرے کو محیط تھا۔ غیر مسلموں کو اپنے شادی بیاہ اور وراثت وغیرہ کے معاملات میں ان کے مذہبی یا رواجی قوانین پر عمل کرنے کی پوری آزادی تھی۔ یعنی ان کا اپنا پرسنل لا تھا اور مسلمانوں کا اپنا پرسنل لا۔ پرسنل لا سے مراد خاندانی زندگی کے وہ مسائل ہیں جن کا تعلق شادی بیاہ، طلاق، خلع، زوجین اور اولاد و والدین کے حقوق، وراثت، ہبہ وغیرہ سے ہو۔ فقہ اسلامی میں اسے ’’مناکحات‘‘ سے تعبیر کیا گیاہے جبکہ جدید قانونی اصطلاح میں اسے ’’پرسنل لا ‘‘ کہا جاتا ہے۔ جدید قوانین کی دوقسمیں ہوتی ہیں: دیوانی (سِول) اور فوج داری (کرمنل) ہیں۔ فوج داری قوانین تمام ملک و الوں کے لیے یکساں ہوتے ہیں اور ان میں نسل، عقیدے یا مذہب کی بنیادپرکسی قسم کا کوئی امتیاز نہیں رکھا جاتا۔ البتہ دیوانی قوانین کاتعلق معاشرتی و تمدنی مسائل اور معاملات سے ہے۔ اس کاایک حصہ پرسنل لا ہوتا ہے جس کے تحت مخصوص گروہوں کو اختیار حاصل ہوتا ہے کہ خصوصاً عائلی معاملات سے متعلق معاملات کا فیصلہ مقدمہ کافیصلہ اس گروہ کے رواجی یا مذہبی قانون کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

یہ ایک ناقابل تردید واقعہ ہے کہ ہندوستان میں اپنے پانچ سوسالہ دور اقتدار میں مسلم حکمرانوں نے غیر مسلموں کو اپنے پرسنل لا کاپابند نہیں بنایا، بلکہ ہندو اپنے مذہب کے مطابق عمل کرتے تھے اور مسلمان پنی شریعت پر۔ انگریزوں کی پونے دو سو سالہ دور حکومت میں بھی ہندوؤں کو ہندو پرسنل لا اورمسلمانوں کومسلم پرسنل لا پرعمل کرنے کا اختیار تھا۔

تاہم جب انگریزاقتدار پر قابض ہوئے تو انہوں نے منظم انداز میں مسلمانوں کو اپنی شریعت اورتہذیب وتمدن سے بھی محروم کردینے کی مذموم کوشش کی۔ انگریزوں کی آمد کے بعد جب رفتہ رفتہ ایسٹ انڈیا کمپنی نے ہندوستان میں اقتدار حاصل کرلیا اور ملک کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لینا شروع کیے تو1765 میں عدالتوں کی از سر نو تنظیم کی گئی۔ اس وقت بھی انگریز جج مسلمان علما اور ماہرین قانون کی مدد سے اسلامی شریعت کے مطابق ہی فیصلے کرتے رہے۔ 1860 کے عشرے میں مسلمانوں کے فوج داری قوانین پرحملہ ہوا۔ اس کے بعدشریعت کے قانون شہادت، قانون معاہدات، قانون خرید و فروخت، یہاں تک کہ یکے بعد دیگرے تمام اہم قوانین کالعدم قراردیدیے گئے۔ مسلمانوں کوصرف اپنے چندعائلی قوانین پرعمل کرنیکی اجازت رہ گئی۔ یہاں تک کہ1862 میں اسلام کے فوج داری قانون کو ختم کرکے انڈین پینل کوڈ کے نام سے نیا قانون نافذ کیا گیا، جو آج بھی اسی نام سے رائج ہے۔ البتہ نکاح، طلاق، خلع، مہر، نان و نفقہ، وراثت وہبہ وغیرہ جیسے عائلی اور شخصی نوعیت کے مسائل کی حد تک ہی اسلامی قانون کو باقی رہنے دیا گیا۔

انگریز چاہتے تھے کہ مسلمانوں سے ان کے شرعی قوانین بھی چھین لیے جائیں۔ تاہم برطانوی رائل کمیشنوں نیانتباہ دیا کہ مسلمانوں کے پرسنل لا کا ان کے دین وعقیدہ سے گہرارشتہ ہے۔ اسے ان کی روزمرہ زندگی سے الگ کر دینا اور اس میں مداخلت کا مطلب مسلمانوں کے سلگتے ہوئے جذبات کو بھڑکا دینا ہے۔ 1857کے غدر کو ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا تھا جس میں انگریزوں کے خلاف مسلمانوں نے جذبہ جہاد کے تحت عظیم قربانیاں پیش کی تھیں۔ انگریزی حکومت مزید کسی عام بغاوت کی متحمل نہیں ہوسکتی تھی۔ چنانچہ وہ شرعی قوانین میں مداخلت سے بازرہی۔

برطانوی دور حکومت میں 1930 کی دہائی میں میمن برادری کی ایک مسلمان لڑکی نے وراثت کا ایک مقدمہ انگریزی عدالت میں دائر کردیا۔ شریعت اسلامیہ کی رو سے بیٹی لازمی طور پر اپنے باپ کی متروکہ جائداد کی وارث ہوتی ہے۔ تاہم اس مقدمہ کافیصلہ ہندورسم ورواج کے مطابق کیا گیا اور ایک مسلمان لڑکی کو باپ کی وراثت میں اس کے حق سے محروم کردیاگیا۔ اسلامی نقطہ نظر سے یہ ایک صریح ظلم تھا کہ ایک عورت کو محض اس کے عورت ہونے کی وجہ سے باپ کی میراث سے محروم کردیا جائے۔ تب پہلی بارعلمانے تحفظ شریعت کی آواز بلند کی اور ملک گیر تحریک چلائی۔ زبردست جدوجہد کے نتیجے میں 1937میں مسلم پرسنل لا (شریعت) اطلاق ’’شریعت اپلی کیشن ایکٹ‘‘پاس ہوا۔ یہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تہذیبی شناخت اورشریعت کی حفاظت کے تعلق سے پہلی کامیابی تھی۔ درحقیقت یہی وہ پہلی لہرتھی جس نے مسلمانوں کی موجودہ مسلم پرسنل لا کیدروازیتک رہنمائی کی۔

شریعت اپلی کیشن ایکٹ 1937میں کہا گیا کہ شادی بیاہ، فسخ نکاح، طلاق، ایلاء، ظہار، لعان، خلع، نان و نفقہ، مہر، ولایت، ہبہ اور اوقاف وغیرہ کے معاملات میں، جہاں فریقین مسلمان ہوں فیصلے کا قانون (Rule of decision) مسلم پرسنل لا ہوگا۔ نیز یہ کہ مسلمانوں کے شخصی نوعیت کے معاملات میں حکومت دخیل نہیں ہوگی اور انھیں اپنے مذہب کے مطابق اپنے معاملات حل کروانے کی آزادی ہوگی۔ موجودہ آئین ہند میں اس ایکٹ کو باقی رہنے دیا گیا ہے۔ 1939میں جب انفساخ نکاح قانون(Dissolution of Marriage Act, 1939) کا نفاذ عمل میں آیا جس میں فقہ مالکی سے استفادہ کرتے ہوئے ان اسباب کو متعین کیا گیا تھا جن کی بنیاد پر ایک مسلمان عورت اپنے شوہر سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کرسکتی ہے مثلاً، اگر شوہر ۴ سال تک مفقود الخبر ہے، یا ۲ سال سے نان و نفقہ نہیں دیتا، یاظلم و زیادتی کرتا ہے یا امراض خبیثہ میں مبتلا ہے وغیرہ، تو اس بنیاد پر عورت فسخ نکاح کا فرمان (decree) حاصل کرسکتی ہے۔

دستور میں پرسنل لا صرف مسلمانوں کے ساتھ مخصوص نہیں ہیں۔ دیگر مذاہب کے لیے بھی پرسنل لا وضع کیے گئے ہیں۔ ہندو وراثت قانون (Hindu Succession Act, 1956) ہندو، سکھ، بودھ اور جین کے لیے جائداد کی تقسیم کے معاملات کا فیصلہ کرنے لیے بنایا گیا۔ پارسی شادی و طلاق قانون 1936 میں پارسیوں کو ان کے مذہبی عقیدے کے مطابق شادی بیاہ اور علیحدگی کی آزادی دی گئی ہے۔ ہندو شادی قانون 1955، ہندوؤں کو نہ صرف اپنے رسوم اور مذہبی عقائد کے مطابق عمل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ بلکہ 1955 میں اس قانون میں ترمیم کرکے اس میں طلاق کے ضوابط شامل بھی کیے گئے تھے جو اس سے پہلے اس قانون کا حصہ نہیں تھے۔

یکساں سول کوڈ اور مسلم پرسنل لا بورڈ کا قیام

اسے ہندوستان کی بدقسمتی ہی کہا جائے گا کہ یہاں کی سب سے بڑی اقلیت آزادی سے پہلے بھی اپنے تشخص، تہذیب و تمدن نیز اپنے دین پر عمل کرنے کے تعلق سے خطرات و اندیشے کاشکار رہی اوراسے بار بار آزمائشوں میں ڈالاجاتارہا اورجب ملک نے صبح آزادی میں آنکھ کھولی اس وقت بھی وطن عزیز کی یہ بڑی آبادی اپنے مستقبل کے گرد اندیشوں کی تاریک پرچھائیاں دیکھ رہی تھی۔

آزادی کے بعد وطن عزیز نے، جو مختلف مذاہب اور تہذیبوں کاگہوارہ ہے، اپنے لیے جمہوریت کو طرز حکمرانی کے طور پر منتخب کیا۔ سیکولرزم ملک کے آئین کی بنیاد ٹھہرا۔ بنیادی حقوق کے طور پر عقیدہ وضمیر کی آزادی اور اقلیتوں کے حقوق کی ضمانت دی گئی جوہندوستان جیسے تکثیری معاشرے کے لیے ناگزیربھی تھا۔

دستور کے ذریعے عطا کردہ بنیادی حقوق کی رو سے اور دستور ہند میں مختلف پرسنل لا کی شمولیت سے یہ بات واضح ہے کہ تمام مذاہب اور بالخصوص اقلیتوں کو اپنے مذاہب پر عمل کرنے، مذہب کی تبلیغ کرنے اور یقینی طور پر اپنیاپنے پرسنل لا اور سول کوڈپر عمل کرنے کی پوری آزادی حاصل ہے اسی میں مسلم پرسنل لا بھی شامل ہے۔ معزز عدالتیں اس حق کو تسلیم کرتی رہی ہیں اور وقتاً فوقتاً اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے کرتی رہی ہیں۔ تاہم آزادی سے پہلے سے ہی ملک میں ایک مخصوص طبقہ سرگرم رہا ہے جس کی کوشش یہ ہے کہ ملک کی تمام اقلیتوں کو ایک خاص تہذیب میں ضم کردیا جائے۔ اسی طبقے کی کوششوں سے دستور کی دفعہ ۴۴ میں، جو رہنما اصولوں سے متعلق ہے، ایک شق ڈال دی گئی جو اس طرح ہے:

The State shall endeavor to secure for citizens Uniform Civil Code throughout the territory of India.

یعنی ’’ریاست کوشش کرے گی کہ پورے ملک میں شہریوں کے لیے یکساں سول کوڈ ہو۔ ‘‘

جب آئین ساز اسمبلی میں ریاست کے لیے رہنما اصولوں پر مبنی مسودۂ دستور کی دفعہ ۳۵ پر غور ہورہا تھا (یہی دفعہ بعد میں چل کر دفعہ ۴۴ بن گئی)، اس وقت مسلم ممبران پارلیمنٹ نے اس پر کئی ترمیمات پیش کی تھیں۔ مدراس کے جناب محمد اسماعیل نے ترمیم پیش کی کہ یکساں سول کوڈ کے لیے عوام کے کسی گروہ، فرقے یا طبقے کو اس بات کے لیے مجبور نہ کیا جائے کہ وہ اپنے پرسنل لا کو ترک کردے، اگر وہ ایسا کوئی قانون رکھتا ہو۔ دوسری ترمیم جناب نذیرالدین احمد نے پیش کی جس میں کہا گیا کہ ریاست نے جس فرقے کے پرسنل لا کو ضمانت دی ہے اس کے سول کوڈ کو تبدیل نہ کیا جائے ، الّا یہ کہ اس فرقے سے پیشگی منظوری حاصل کرلی جائے۔ ایک دیگر ترمیم محبوب علی بیگ صاحب بہادرنے پیش کی تھی جس میں کہا گیا کہ یہ دفعہ شہریوں کے پرسنل لا کو کسی صورت متاثر نہ کرے۔ ان ترمیمات پر گرما گرم بحثیں ہوئیں۔ بہت سے غیر مسلم ارکان نے شریعت ایکٹ کے حوالے سے کہا کہ اس سے مسلمانوں کے خوجہ اور بوہرا طبقوں میں عدم اطمینان پایا جاتا ہے۔ انگریزوں کے دور میں بعض مسلم علاقوں میں ہندو قوانین سے فیصلے کیے جانے کے نظائر بھی پیش کیے گئے اور مصر اور ترکی میں پرسنل لا ساقط کیے جانے کے حوالے دیے گئے۔ آخر میں ڈاکٹر امبیڈکر نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ دفعہ ۳۵ سے کچھ زیادہ ہی خائف ہیں اور انھیں یقین دہانی کروائی کہ ان پر یکساں سول کوڈ ہرگز جبراً تھوپا نہیں جائے گا اور آئندہ پارلیمنٹ یکساں سول کوڈ میں یہ اہتمام رکھے گی کہ اس کا نفاذ خالصتاً ان ہی گروہوں پر ہوگا جو رضاکارانہ طور پر اسے تسلیم کرلیں :

My second observation is to give [Muslims]an assurance.[The Article] does not say that after the Code is framed, the State shall enforce it upon all citizens merely because they are citizens. It is perfectly possible that the future parliament may make a provision by way of making a beginning that the Code shall apply only to those who make a declaration that they are prepared to be bound by it, so that in the initial stage the application of the Code may be purely voluntary.…[1], therefore, submit that there is no substance in these amendments and I oppose them.

اور اس وقت ملک کے حالات ایسے نہیں تھے کہ یکساں سول کوڈ کے خلاف کوئی تحریک چلائی جائے، اس لیے یہ دفعہ جوں کی توں باقی رہی۔ تاہم کچھ عرصے بعدمحسوس ہونے لگا کہ حکومت کے تیور اچھے نہیں ہیں اور وہ مسلمانوں کو ان کے شرعی قوانین سے محروم کرنے کے درپے ہے۔

ہر چند کہ یہ شق دستور کی دفعہ ۴۴ میں مشمولہ دیگر رہنما اصولوں کی طرح محض ایک اصول کی حیثیت رکھتی ہے اور شہریوں کے بنیادی حقوق سے متعلق دستور کی ایک اہم دفعہ (دفعہ ۲۵) سے متصادم بھی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ تمام لوگوں کو یکساں طور پر ضمیر کی آزادی حاصل ہوگی اور اپنے مذہب کو آزادانہ طور پر اختیار کرنے، اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کا بھی حق حاصل ہوگا۔ ایک طرف دستورہند کی دفعات۲۵، ۲۹، ۳۰ میں مسلم پرسنل لاکوقانونی طورپرتسلیم کرلیاگیا، لیکن ساتھ ہی دستور کے رہنمااصول دفعہ ۴۴ کے ذریعے حکومت کواس بات کا بھی اختیار دیا گیاکہ وہ پورے ملک کے لیے یکساں سول کوڈ کانفاذ بھی کرسکتی ہے۔ یہ گویا ایسی ننگی تلوارتھی جسے مسلمانوں کی شریعت پرمستقل طورپرلٹکادیاگیا۔

دستورکی اسی کمزوردفعہ ۴۴ کی آڑ میں مسلم پرسنل لا پر اعتراضات کرنے اور اس کے آئینی حق کو سلب کروانے اور مسلمانوں کواکثریتی دھاریمیں ضم کرلینے کی دھمکیاں بھی دی جانے لگیں۔ دھیریدھیریاس صورت حال کی سنگینی میں اضافہ ہوتاگیا۔ یہاں تک کہ آئینی اداروں سے بھی ایسے احکامات صادرہونے لگے جو دستورکی روسے دی گئی مذہبی آزادی میں صریح مداخلت اوراقلیتی حقوق کو سلب کرنے والے تھے۔ مثلاً ’’اسپیشل میرج ایکٹ‘‘ کی چور دروازے سے اسلامی قانون نکاح اور قانون وراثت میں خردبردشروع کی گئی۔1950 میں ہندو کوڈ بل پیش کرتے ہوئے مرکزی وزیر قانون مسٹر پاٹسکر نے کہا تھا کہ ہندوقوانین میں جواصلاحات کی جارہی ہیں، وہ مستقبل قریب میں ہندوستان کی تمام آبادی پر نافذ کی جائیں گی۔ پھر ۱۹۶۳ء میں مرکزی حکومت نے مسلم پرسنل لا میں ’’اصلاح‘‘ کی غرض سے ایک مستقل کمیشن قائم کردیا۔ اس اقدام نے حکومت کے منفی رویے کو واضح کردیا۔ ۱۹۷۲ء میں پارلیمنٹ میں متبنیّٰ بل (بچوں کو گود لینے سے متعلق) پارلیمنٹ میں پیش کردیا گیا۔ اس کی رو سے گود لیے گئے بچے کو وہی قانونی حیثیت دی گئی جو حقیقی اولاد کو ہوتی ہے اور وہ میراث میں برابر کاشریک ٹھہرایا گیا۔ اس قانون کا اطلاق مسلمانوں پر بھی ہوتا تھا جو سراسراسلامی شریعت کے منافی تھا۔

یہی نہیں بلکہ یکساں سول کوڈ کے حامیوں کو اس وقت بڑی شہ ملی جب ملک کے وزیر قانون مسٹر ایچ آر گوکھلے نے پارلیمنٹ میں متبنی بل پیش کرتے ہوئے یہ کہا کہ یہ یکساں سول کوڈ کی تدوین کی طرف پہلا قدم ہے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ملتِ اسلامیہ میں اضطراب کی لہر دوڑ گئی۔

اس پس منظر میں امارت شرعیہ بہار کے امیر شریعت مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ نے جولائی 1963 میں پٹنہ میں بہار اسٹیٹ مسلم پرسنل لا کانفرنس طلب کی۔ ملک کی دو بڑی تنظیموں (جمعیۃ علماء ہند اور جماعتِ اسلامی ہند) کے اس وقت کے سربراہان مفتی عتیق الرحمن عثمانیؒ اور مولانا ابواللیث اصلاحی ندویؒکے علاوہ مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ، مولانا عبدالرؤف ایم، ایل، سی (ناظم جمعیۃ علماء اتر پردیش) اور منظور احسن اعجازی بھی اس اجلاس میں شریک ہوئے۔ اس طرح اسلامیان ہند کی یہ پہلی متحدہ و مشترکہ آواز تھی جو شریعت میں مداخلت کے نتیجے میں بلند ہوئی۔ مارچ ۱۹۷۲ء میں دیوبند میں مسلم پرسنل لا کے موضوع پر ایک کل جماعتی اجلاس منعقد کیا گیا جس میں ملت کے سرکردہ قائدین نے شرکت کی۔ اس اجلاس میں طے پایا کہ ممبئی میں اس موضوع پر ایک نمائندہ کنونشن کا انعقاد کیا جائے۔ چنانچہ دسمبر 1972 میں یہ تاریخ ساز نمائندہ کنونشن منعقد کیا گیا۔ تمام مکاتب فکر کے علما و دانشووراس میں شریک تھے۔ ہندوستان کی تاریخ خلافت تحریک کے بعد یہ اپنی نوعیت کا منفرد اور بے مثال اجتماع تھا۔ اس اجلاس میں اتفاق رائے سے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے قیام کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کنونشن میں تین تجاویز منظور کی گئیں:

(۱) مسلم پرسنل لا مسلمانوں کے دین و مذہب کا جز ہیں، کسی پارلیمنٹ یا ریاستی مجالس قانون ساز کو ان میں ترمیم کرنے کا حق حاصل نہیں ہے۔

(۲) متبنیٰ بل اپنی موجودہ شکل میں شریعت میں مداخلت ہے اور مسلمانوں کو اس سے مستثنی رکھا جائے۔

(۳) اس کنونشن کے ذریعے آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی تشکیل کی جاتی ہے جو ہمیشہ ہر فرقہ مسلم کے علما ، ماہرین شریعت، مسلم قانون داں اور ملت کے دیگر ارباب حل و عقد پر مشتمل ہوگا۔

8؍ اپریل 1973 کو اجلاس حیدرآباد میں بورڈ کی تشکیل عمل میں آئی۔ مولانا قاری محمد طیب صاحبؒ بورڈ کے پہلے صدر اور مولانا سیدمنت اللہ رحمانی صاحب بورڈ کے پہلے جنرل سکریٹری منتخب ہوئے۔

بورڈ کے بنیادی مقاصد میں تین باتیں شامل ہیں:

(۱) مسلمانوں کو پرسنل لا کے بارے میں باشعور رکھنا، نیز پارلیمنٹ اور صوبائی مجالس قانون ساز اور عدلیہ میں زیر بحث آنے والے ایسے تمام قوانین کی تشریح پر نظر رکھنا جن کا تعلق براہ راست یا بالواسطہ مسلم پرسنل لا سے ہو۔

(۲) محمڈن لا کا جائزہ لینا اور مختلف دبستان فقہ سے استفادہ کرتے ہوئے ، مناسب حدود میں واقعی دشواریوں کو ماہرین و علما کے باہمی مشورے سے حل کرنا۔

(۳) مسلمانوں کو عائلہ و معاشرتی زندگی کے بارے میں شرعی احکام، حقوق و فرائض سے واقف کرانا، اس سلسلے میں ضروری لٹریچر کی اشاعت نیز مختلف مکاتب فکر کے درمیان اتحاد و اتفاق کو پروان چڑھانا۔

۱۹۸۳ء میں قاری طیب صاحبؒ کی وفات کے بعد چنئی کیاجلاس میں مفکر اسلام مولانا سید ابوالحسن علی ندوی کو بورڈ کادوسرا صدر منتخب کیا گیا۔ ان کے بعد 2000ء میں لکھنؤ اجلاس میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ بورڈ کے تیسرے صدر منتخب ہوئے۔ ان کے بعد جون 2002ء میں حیدرآباد اجلاس میں موجودہ صدر مولانا سید محمد رابع حسنی ندوی کا بحیثیت صدر انتخاب عمل میں آیا۔ مختلف اوقات میں، دیوبندی حلقہ سے امیر شریعت مولانا ابو السعود احمد، بریلوی مکتبہ فکر سے مولانا مفتی برہان الحق جبل پوریؒ، مولانا مظفر حسین کچھوچھویؒ، مولانامحمد محمدالحسینیؒ (سجادہ نشیں گلبرگہ شریف) ، شیعہ مکتبہ فکر سے مولانا کلب عابد مجتہد، اہل حدیث حلقہ سے مولانا ڈاکٹر عبد الحفیظ سلفیؒ، مولانا مختار احمد ندویؒ، جماعت اسلامی سے مولانا ابو اللیث اصلاحی ندویؒ، مولانا محمدیوسف صاحبؒ اور مولانا سراج الحسن صاحب بورڈ کے نائب صدر رہ چکے ہیں۔ اس وقت مولانا محمد سالم قاسمی، مولانا سید شاہ فخر الدین اشرف، مولانا کلب صادق (لکھنؤ) مولانا سیدجلال الدین عمری اورمولانا کاکا سعید احمد عمری نائب صدر ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
عرفان وحید