مختلف مذاہب میں مساوات مرد و زن کا نظریہ

انسانیت کی تکمیل اور معاشرے کی تشکیل میں عورت کا اہم کردار رہا ہے۔ اسی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے عورت اور مرد کو بحیثیت انسان حقوق،اجروثواب اورسزا میں برابری کے مقام پر رکھا اور عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید کی ہے،لیکن تاریخی مطالعہ اور تحقیقی حقائق سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کے مختلف مذاہب میں عورت کے ساتھ بہتر سلوک نہیں کیا گیا ہے اورشوہر کے مقابلے بیوی کومذہب اورمعاشرے میںنکاح اور طلاق کے حوالے سے کوئی خاص حقوق نہیں دیے گئے۔

ہندومت میں عورت

ہندو مت میں عورت کو کم تر اور حقیر مخلوق سمجھا گیا اوراس کے لیے لازمی قرار دیا گیا کہ اسے ہمیشہ مرد کے تابع رہ کر زندگی گزارنی ہوگی۔ ہندوؤں کے مشہور قانون داں منو مہاراج کے مطابق:

’’عورت لڑکپن میں اپنے باپ کے اختیار میں رہے،اورجوانی میں شوہر کے اختیار میں اوربیوہ ہونے کے بعد اپنے بیٹوں کے اختیار میں۔خودمختار ہوکر کبھی نہ رہے۔‘‘(منوسمرتی،باب:۵:۴۵)

ہندومت میں عورت کو طلاق و نکاح اور دوسری شادی کا حق نہیں ملا۔ شوہر کی وفات کے بعد بیوی کاچتا کے ساتھ جل جانا ضروری تھا،جسے ’ستی‘ کا نام دیا گیا تھا اور یہ معاشرے میں عزت و فخرکی علامت سمجھی جاتی تھی۔ابن بطوطہ اس پر لکھتے ہیں:

’’جو بیوہ اپنے خاوند کے ساتھ جل جاتی ،اس کا خاندان معزز سمجھا جاتااور وہ اہلِ وفا میں شمارہوتی تھی اور جو ستی نہیں ہوتی اسے موٹے پھٹے پرانے کپڑے پہننے پڑتے اور طرح طرح کی ذلت وخواری میں بقیہ زندگی گزارنی پڑتی تھی۔‘‘ (سفرنامہ ابن بطوطہ،ابن بطوطہ،بک لینڈ،کراچی،ص۳۴)

ہندو مت میں مہر کا کوئی تصور نہیں ہے ،البتہ گھر والے اپنی بیٹی کو جہیز کی شکل میںجو دینا چاہیں دے سکتے ہیں۔ البیرونی اس پر رقم طرازہیں:

’’زوجین کے درمیان مہر کا ذکر نہیں آتا،بلکہ حوصلہ کے ساتھ عورت کو جو کچھ دینا ہوتا ہے اسی وقت دے دیا جاتا ہے اوراسے واپس لینا جائز نہیں،الا یہ کہ عورت اپنی خوشی سے دے دے۔‘‘ (کتاب الہند، البیرونی، ص۳۴۶)

مزید برآںہندومت میں عورت کی نجات اس کے شوہر کی خوشنودی میں مضمر ہے۔اسے اس قابل ہی نہیں سمجھا گیا کہ وہ براہ راست نجات حاصل کرسکے۔ ان کے علاوہ بہت سے ایسے ازدواجی قانون ہیں جو غیر انسانی ہیں جیسے عورت کی شادی مندر کے بت سے کر دینا، اپنی ذات اور خاندان سے باہر شادی کرنا،ایک عورت کے کئی شوہر ہونا اور شوہر کو بغیر کسی رکاوٹ کے کئی شادی کرنے کی اجازت ہونا وغیرہ۔

یہودیت میں عورت

یہودی مذہب اور معاشرے میں بھی مرد کو نکاح اور طلاق کے حقوق میں عورتوں پر برتری حاصل ہے۔ عورت کو کم تر اور ذلیل اوراسے سرتاپا گناہوں کا منبع مانا گیا۔ ان کا مانناہے کہ عورت مرد کی کنیز اور لونڈی ہے۔ انسائیکلوپیڈیا آف جیوز میں لکھا ہے :

’’مصیبت اول بیوی ہی کی تحریک پرسرزد ہوئی تھی لہٰذا اسے شوہر کا محکوم رکھا گیا ہے اور شوہر اس کا حاکم اور مالک ہوتا ہے۔بیوی اس کی مملوکہ ہے۔‘‘

(محسن انسانیت اور انسانی حقوق، ڈاکٹر حافظ محمد ثانی، دارالاشاعت، کراچی، ص ۳۴۷)

اسی لیے عورت کو خاندانی معاملات اور وراثت سے بے دخل سمجھا گیا اوربذاتِ خود بیوی کوایک جائیداد کی حیثیت دی گئی۔بقول ایس ایم شاہد:

’’بائبل میں بیوی کو بعولہ یعنی منقولہ جائیداد اور شوہر کو بُعل یعنی مالک کہا گیا۔‘‘(تعارف مذاہب عالم، ایس ایم شاہد، نیوبک پیلس،لاہور،ص۵۲۴)

یہودیت میں طلاق کاحق صرف مردوں کے پاس ہے۔ شوہر معمولی باتوں میں باآسانی طلاق دے سکتا ہے اور اس کے برعکس عورت کوعلیحدگی کا کوئی حق نہیں ہے۔ عورت کو دوسری شادی کا حق حاصل تو ہے لیکن صرف شوہر کے بھائی سے اور اسے اس پر مجبور بھی کیا جاتا ہے۔

سید سلیمان ندوی اس پر لکھتے ہیں:

’’عورت پر مرد کو مکمل حاکمیت حاصل تھی اور وہ ایک بھائی کے مرنے کے بعد اس کے دوسرے بھائی کی ملکیت ہو جاتی تھی اور وہ اس کے ساتھ جس طرح چاہے معاملہ کرتا تھا،یہاں تک کہ عورت کی مرضی کا بھی اس میں کوئی دخل نہ تھا۔‘‘(سیرت النبی،سید سلیمان ندوی، مطبع معارف،اعظم گڑھ،ص۱۵۱)

یہودیت میں مہر کا تصور ہے لیکن اسے عورت کا معاشی حق نہیں سمجھا جاتا، اسی لیے اسے اتنی اہمیت بھی حاصل نہیں ہے۔محمد عبدالرحمن اس پر لکھتے ہیں:

’’یہودی مذہب میں عورت کے مہر کا تصور ہے اور وہ اس کی مالک بنتی ہے،لیکن یہ اس کا قانونی یا معاشی حق نہیں ہے کہ اسے بہت زیادہ اہمیت دی جائے۔‘‘

عیسائیت میں عورت

عیسائیت میں بھی عورت کا حال کچھ اچھا نہ تھا۔ اسے شیطان کا دروازہ،آدم کو شجر ممنوعہ کھلانے والی، قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کرنے والی اور انسان کو بگاڑنے والی قرار دیا گیا۔وہ مکمل طورپر مرد کی محکوم تھی۔ سید امیر علی اس پر رقم طراز ہیں:

’’راسخ العقیدہ کلیسا نے عورتوں کو معاشرے سے خارج سمجھا اور انہیں تاکید کی کہ وہ گھروں کے گوشوں میں رہیں، خاموش رہیں اور شوہروں کی اطاعت کرتے ہوئے گھریلو کام کاج انجام دیتی رہیں اور بس۔‘‘ (روح اسلام، سید امیر علی، ادارہ ثقافت اسلامیہ، لاہور، ۱۹۹۲ء، ص۳۹۵)۔

عورت کو نان ونفقہ اور طلاق وخلع کاحق حاصل نہ تھا۔مہر کا تصور تو تھا لیکن اس کے لیے لڑکی کا کنواری ہونا شرط تھا اور مزید ستم یہ کہ عورت کو اس میں تصرف کا کوئی حق نہیں تھا،بلکہ وہ لڑکی کے گھر والوں کے لیے ہوتا تھا اور بیوی کے بجائے وہی مہر کے قانوناً مالک ہوتے تھے۔ اسے نہ تو شوہر کی کمائی میں تصرف کا حق حاصل تھا اور نہ ہی اسے اپنی کمائی میں کچھ اختیار ملا تھا۔

عیسائیوں کے اکثریتی فرقہ کیتھولک میںعورت کو شوہر کی ظلم وزیادتی پر آواز بلند کرنے،طلاق لینے اور الگ ہونے کی اجازت بھی نہ تھی،ایسا حضرت مسیح کے اس قول کی بنیاد پر تھا: ’’جسے خدا نے جوڑا اسے آدمی جدا نہ کرے۔‘‘ (متیٰ:۶:۱۹)

پروٹسٹنٹ فرقہ میں بعض انتہائی ناگزیر حالت میں علیحدگی کا حق دیا گیا۔وہ بھی اس صورت میں کہ عدالت میں فریقین میں سے ایک فریق دوسرے کوبدکردار یا ظالم ثابت کردے۔ لیکن تب بھی عورت کو دوسری شادی کی اجازت نہ تھی۔

جدید دور میں عورت

جدید دور میں خصوصاً یورپ کے صنعتی انقلاب (۱۷۶۰ء) کے بعد مساوات مرد وزن کا نظریہ تیزی سے پروان چڑھا ۔اس میں اقوام متحدہ(1945) کا بہت اہم کرداررہا ،جس کی جنرل اسمبلی نے اپنے ریزولیوشن نمبر 217-A(III) کے تحت10؍دسمبر 1948ء میں ’’انسانی حقوق کا عالمی منشور‘‘ (The Universal Declaration of Human Rights-1948)جاری کیا۔ یہ عالمی منشور ابتدائیہ(Preamble) اور30 دفعات پر مشتمل ہے۔ اس کی ایک دفعہ میں اس بات پر خصوصی زور دیا گیا کہ مرد اور عورت کو مساوی حقوق حاصل ہوں گے اور صنف کی بنیاد پر کسی قسم کی کوئی تفریق نہیں کی جائے گی۔اس کا اطلاق نکاح اور طلاق کے حقوق پر بھی ہوا۔

مغرب نے شادی کو محض ایک ’سماجی معاہدہ‘ قرار دے کر اسے مذاہب اور آسمانی تعلیمات سے آزاد کردیا اوراس معاہدے کے دونوں فریقوں (مرد وعورت)کو مساوی حقوق دے کر دنیا کے سامنے یہ مثال پیش کرنی چاہی کہ ہم نے مرد و عورت کے درمیان مساوات قائم کردی ہے۔ لیکن اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مغربی معاشرے سے خاندانی نظام کا خاتمہ ہو گیا۔خاندانی نظام کی تباہی اور طلاق کی شرح میں اضافہ نے مغرب کو اس حد تک پریشان کر دیا ہے کہ سوویت یونین کے آخری صدر میخائل گورباچوف نے اپنی کتاب ’پرسٹرائیکا‘ میں خاندانی نظام کی بحالی پر زوردیتے ہوئے بے بسی کا اظہار کیا ہے۔ جبکہ برطانوی وزیراعظم جان میجر Back to Basies (بنیادوں کی طرف واپسی) کا نعرہ لگا کر ان عورتوں کے لیے سہولتیں فراہم کرنے کی پالیسیاں وضع کیں جو بچوں کی پرورش کے لیے گھر میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ان ممالک میں نکاح اور طلاق کی شرح تقریباً برابر ہو گئی ہیں۔

۲۰۱۷ء کی ایک رپورٹ کے مطابق طلاق کی شرح کے معاملے میں بیلجیم،پرتگال،ہنگری، اسپین، ایسٹونیا، کیوبا، فرانس،امریکہ وغیرہ سرفہرست ہیں۔

نظریۂ مساوات کے نتیجے میں نہ صرف طلاق کی شرح بڑھی بلکہ عورت پر معاشی ذمہ داریوں کا بوجھ بھی بڑھا۔جو مرد طلاق سے پہلے عورت کو نان نفقہ دینے کا عادی نہیں تھا وہ بھلا طلاق کے بعد بچوں کا خرچ کیوں اٹھاتا؟نتیجتاً سنگل پیرینٹس فیملی(Single Parent Families) نے جنم لیا اور عورت پر مزید ذمہ داریاں آگئیں۔

مساوات مردوزن کا نظریہ اگرچہ خالص مغربی ملکوں میں تھا لیکن اس سے مسلم ممالک بھی متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ اس کی شروعات ترکی کے مصطفی کمال پاشا نے کی اور پھر رفتہ رفتہ مصر، شام، عراق، ایران، پاکستان اور دیگر مسلم ممالک میں بھی اس نظریہ کو قبول کرتے چلے گئے۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر محمد اسامہ شعیب علیگ