مسلم سماج کا ایک واقعہ [دینی تربیت سے غفلت کا ایک واقعہ]

رافعہ بہت خوب صورت، پڑھی لکھی اور اچھے خاندان سے تھی۔ لڑکا اور اس کا گھرانہ بھی بہ ظاہر بہت اچھا تھا۔ دونوں کی شادی ہوگئی تھی مگر شادی کے تین ماہ کے اندر ہی لڑکے نے بیک وقت تین طلاقیں دے دیں۔ وجہ یہ تھی کہ اس لڑکے کا کسی غیر مسلم لڑکی کے ساتھ آفیئر تقریبا دو سال سے چل رہا تھا۔ والدین کے زور دینے پر اس نے اس لڑکی سے شادی تو کرلی مگر بیوی بنی لڑکی کی محبت سے دل کو سجانے کے بجائے وہ ابھی بھی پہلی محبت میں گرفتار تھا۔ رات کو دیر سے آنا، اسی غیر مسلم لڑکی سے چیٹنگ کرنا، اسے گاڑی پر بٹھا کر گھمانے لے جانا، اور ڈھٹائی تو دیکھئے کہ اسے گھر بھی لے آنا۔ اس کا معمول تھا۔

بیوی نے بہت صبر، ہمت اور در گزر سے کام لیا، دین اور ایمان کے حوالے سے بھی سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ سمجھ نہ سکا۔ افسوس ناک بات یہ تھی کہ لڑکے کی ماں بھی لڑکے کو سپورٹ کرتی تھی۔ ایک دن انہی سب باتوں کو لے کر کچھ کہا سنی ہوئی اور لڑکے نے ایک ہی بار میں تین طلاقیں دے دیں۔

اس بچی کا کوئی بھائی نہیں ہے، والد کا بھی گزارہ مشکل سے ہوتا ہے۔ وہ بچی بہت زیادہ ٹینشن کا شکار ہے اور دوسری شادی کے بارے میں سوچ کر ہی کانپ جاتی ہے۔ رو رو کر برا حال ہے۔ زندگی اور پیسہ دونوں برباد ہوگئے۔ والدین کی جانب سے صحیح تربیت و رہ نمائی نہ ملنے کی وجہ سے وہ لڑکا بہکنے گیا اور اس کے کہنے سے ایک اور زندگی بربادی کے دہانے پر ہے۔ سوچئے ذرا کیا رول ہے والدین کا بچوں کی تربیت میں؟ لڑکا اس لڑکی کے ساتھ کیوں ہے اور آخر میں لڑکا اس غیر مسلم سے شادی کر کے اس کا مذہب اختیار کرلیتا ہے تو والدین کے لیے عذاب جاریہ بن جائے گا۔ خود کو بھی جہنم کی آگ کا ایندھن اور والدین کو بھی اس میں لے جانے کا ذریعہ۔

یہ مسلم معاشرے کی ایک تصویر ہے۔ اس کے علاوہ بھی ہزاروں تصویریں ہیں جن میں چند ہم نے دیکھی ہیں اور باقی سے ہم ناواقف ہیں۔ جو حال لڑکوں کا ہے ویسا ہی حال لڑکیوں کا بھی ہے۔ میں یہ نہیں کہہ رہی کہ مسلم سماج کے لڑکے لڑکیاں آوارہ ہوگئے ہیں۔ ہرگز نہیں۔ لیکن بدلتے سماجی اور معاشرتی حالات سے ہمارے بچے متاثر لازماً ہو رہے ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ چیلنج شدید تر ہوتا جائے گا۔ مسلم سماج کو عام طور پر اور والدین کو خاص طور پر بیدار ہونے اور اپنے بچوں کی دینی تعلیم و تربیت پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔lll

شیئر کیجیے
Default image
فرحانہ حق (اکولہ)