3

شادی کے لیے انتخاب

ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی۔۔۔۔یہ کوئی فرضی کہانی نہیں ہے اور مبالغہ بھی نہیں ہے۔۔۔۔ باتوں باتوں میں سوال کیا کہ’’ جناب! شادی کب کر رہے ہو!‘‘ چہرہ بشرہ بتارہا تھا کہ اب تک ہوجانا چاہیے ۔ویسے شادی کا نام لیتے ہی ہر ایک کے چہرے پر مسکراہٹ آجاتی ہے۔ ہم دونوں کی مسکراہٹوں کے درمیان اس نے شرماکر کہا ’’کہیں کوئی لڑکی ہو تو نشاندہی کیجیے۔۔۔ ’’میں نے سوال کیا‘‘ کیوں اب تک کوشش نہیں کی۔۔۔؟؟’’ جواب دیا کہ ’’بہت دیکھی پر پسند ہی نہیں آئی، اب تک سو لڑکیاں دیکھ چکے۔۔۔مگر ایک بھی پسند نہیں آئی۔۔۔یہی جواب تھا جس نے مجھے یہ چند الفاظ قلم بند کرنے پر مجبور کردیا… میں سوچنے لگا کہ کیا ہم ہی بیوقوف تھے جو ایک ہی جگہ وہ بھی گھر کے بڑے لوگوں کے فیصلہ پر مطمئن ہوگیے۔۔۔ بات آگے بڑھی تو میں نے سوال کیا’’آخر آپ کا کرائیٹریا کیا ہے۔‘‘ انگریزی کا لفظ درمیان میں اس لیے استعمال کیا کہ موصوف انگریزی کے لیکچرار ہیں۔ اس نے قدرے تکلف سے کہا’’ رنگ گورا ہونا چاہئے، بی۔ ایڈ ہو ہائی اسکول ٹیچر ہو اور وہ بھی گرانٹیڈ‘‘مجھے ہمارے ایک دوست خان صاحب کا جملہ یاد آگیا۔ ایسے ہی ایک دیر سے شادی کرنے والے کو انھوں نے برجستہ کہا تھا کہ تھوڑے پیسے اور جمع کرلو اور حج کرکے اللہ اللہ کرتے باقی کی زندگی گزارلو۔۔۔ سوچا کہ یہی مشورہ دوں۔۔۔مگر تذکیر کے دو بول بول کر چل دیا۔۔۔

حیدر آباد جانا ہوا ، آٹو میں بیٹھ کر جارہا تھا ،فاصلہ قدرے طویل تھا اور ٹرافک بھی ٹیریفک۔۔۔آٹو ڈرائیور لگ بھگ 60-65 سال کے بزرگ تھے۔عادت کے بر خلاف ان سے بات چیت شروع ہوگئی۔۔۔اس عمر میں آٹو چلانے کی مجبور ی کے بارے میں پوچھا تو بتایا کہ چار بیٹیاں ہیں دو کی شادیاں ہوگئیں لیکن بڑی بیٹی کی شادی نہیں ہوئی۔ کیونکہ اس کا رنگ ذرا ساؤنلا ہے۔۔۔ہر آنے والا یا تو انکار کر رہا ہے یا بڑی رقم کا مطالبہ کر رہا ہے۔۔۔ انھوں نے مزید کہا کہ ایسے بہت لوگ ہیں جناب۔۔سب گورا رنگ ،تعلیم اور نوکری ہی کی بات کر رہے ہیں اور اوپر سے جہیز اور مہنگی شادیاں… کمزور ہوتے اعضا وجوارح پر کپکپاتے ہوے لہجے سے جو درد بیان ہو رہا تھا شاید میں اسے بیان نہیں کر پاؤں گا۔

’’ہاں جاہلیت کے تمام دستور آج میرے پاؤں کے نیچے ہیں، عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر، سرخ کو سیاہ پر اور سیاہ کو سرخ پر کوئی فضیلت نہیں مگر تقویٰ کے سبب سے۔‘‘

کیا یہ الفاظ ہمارے لیے لیے ہیں ؟ کیا یہ ہمارے پیارے نبیؐ کا تاریخی اعلان نہیں ہے جب انھوں نے جاہلیت کے تمام دستور کچل دیے تھے۔ پھر یہ ’’رنگ‘‘اور رنگوں کا بھید بھاؤ کہاں سے آگیا۔الزام دوسروں پر کہ انھوں نے ذات پات اور رنگ اور نسل کی بنیاد پر ظلم کیا ہے۔۔۔ کیاہم بھی رنگوں کے شیدائی نہیں بن رہے ہیں۔۔۔ محبت اور تقوی رنگوں کامحتاج نہیں رہتا ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ لیکن ۔۔۔ تقویٰ اور شادی گویا متضاد الفاظ ہیں۔۔۔کہیں جوڑ ہی نہیں بن پا رہا ہے۔

چراغوں کی لو ذرا بڑھا دو

آدھی سے زیادہ دنیا جس کے حکم کی منتظرتھی، ساری دنیا میں اس وقت اس شخص سے طاقتور انسان کوئی دوسرا نہیں تھا۔ جاہ و جلال کا پیکر، زبردست حکمراں اور فرمارواں اپنے بیٹوں کو بلاتا ہے اور کہتا ہے میں نے ایک لڑکی پسند کی ہے کوئی اس سے شادی کرے گا۔ عاصم بن عمر بن الخطاب نے کہا کہ میں شادی کروں گا اور شادی ہو جاتی ہے۔ ان کے یہاں بیٹی پیدا ہوتی ہے جو بڑی ہوکر عمربن عبدالعزیز جیسے انسان کی ماں بن جاتی ہے۔

آپ جانتے ہیں کہ وہ لڑکی کون تھی؟ اس لڑکی کا رنگ ،نسل اور برادری عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ نے نہیں دیکھی بلکہ صرف آواز سنی جو اس کے تقوی کے معیار کا اظہار کر رہی تھی۔۔۔’’اماں !میں دودھ میں پانی نہیں ملاؤں گی۔ اگر عمر نہیں دیکھ رہے ہیں تو کیا ہوا اللہ تو دیکھ رہا ہے ۔

اپنے لخت جگر کے لیے لڑکی کے انتخاب کا اس سے حسین منظر اور کیا ہو سکتا یے۔ ہم ظلمت شب کے گھبرائے ہوئے ہیں لیکن چراغوں کی لو بڑھانا نہیں چاہتے۔ کہیں روشنی میں شیطان بھاگ نہ جائے۔

ہمارے رسول محترم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہدایت فرمائی کہ لڑکی کے انتخاب کا اعلیٰ معیار تقویٰ ہے نہ کہ رنگ ،نسل ،دولت اور خوبصورتی…

بظاہر روشنی کا گماں ہوتا ہے

لیکن بہت اندھیرا ہے۔ اس اندھیرے میں اسقاط حمل کی دل خراش چیخیں کسی کو سنائی نہیں دے رہی ہیں ،لڑکی کی پیدایش پر خوشی اور محبت کے باوجود ماں کے آنکھوں سے نکلے وہ دبے دبے آنسو اور باپ کے مضمحل ہوتے چہرے نظر نہیں آرہے ہیں اور ہم نہیں دیکھ پا رہے ان دوشیزاوں کا درد جو انتظار میں اپنے حیا کے آنچل سے بڑھتے ہوے سفید دھاروں کو چھپانے کی ناکام کوششیں کر رہی ہیں۔وہ چہرے جانے پہچانے ہیں۔

جی ہاں! وہ چہرے اپنے ہی ہیں۔ اصلاح معاشرہ کے دعویدار بھی ہیں ،واعظ و خطیب بھی ہیں ،ڈاکٹر و پروفیسرز بھی ہیں ،آزاد خیالی کا دم بھرنے والے اسکالرز بھی ہیں۔ میں بھی ہوں اور آپ بھی ہیں اور یہ سب لوگ رنگ، تعلیم ،نوکری اور پیسہ کی خاطر گلی گلی ،قریہ قریہ ،نگرنگر گھوم رہے ہیں۔ اور معاشرے کی بنیادی اکائی کی بنیادوں کو تباہ و تاراج کر رہے ہیں۔کیا اب بھی کہیں گے؟؟

’’مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی سازش ہے‘‘

شیئر کیجیے
Default image
محمدانور حسین

تبصرہ کیجیے