مطلقہ کی شادی کا مسئلہ

حضرت جابر بن عبد اللہ مشہور صحابی ہیں۔ ان کے والد محترم ایک عام غریب آدمی تھے جو غزوہ احد میں شہید ہوگئے تھے۔ ایک مرتبہ اللہ کے رسولؐ نے جابر بن عبد اللہ سے ان کی ذاتی زندگی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے پوچھا کہ کیا تمہاری شادی ہوگئی ہے تو انھوں نے جواب دیا کہ ہاں میں نے شادی کرلی ہے۔ پھر آپ نے پوچھا کہ تم نے کسی کنواری سے شادی کی ہے یا پہلے سے شادی شدہ عورت سے۔ آپ نے کہا کہ اللہ کے رسول میں نے پہلے سے شادی شدہ عورت سے شادی کی ہے۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا کہ ’’تم نے کنواری لڑکی سے شادی کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے اور وہ تمہارے ساتھ کھیلتی۔‘‘ اس پر حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا جواب سنئے! انھوں نے اللہ کے رسولؐ سے فرمایا کہ میری کئی چھوٹی چھوٹی بہنیں ہیں اور گھر میں ان کی دیکھ بھال کرنے والا کوئی نہیں۔ اس لیے میں نے فیصلہ کیا کہ میں ایسی عورت سے شادی کروں جو میری چھوٹی بہنوں کی دیکھ بھال بھی کرسکے۔ اس پر اللہ کے رسولؐ بہت خوش ہوئے، ان کی ستائش فرمائی اور دعائیں دیں۔ حضرت جابر بن عبد اللہؓ بالکل نوجوان تھے اس کے باوجود انھوں نے مذکورہ سبب سے شادی شدہ عورت سے نکاح کیا اور رسولؐ سے ستائش کے مستحق ٹھہرے۔ خود اللہ کے رسولؐ نے ۲۵ سال کی عمر میں چالیس سال کی عمر والی خدیجہؓ سے نکاح فرمایا جو دو جگہ سے پہلے ہی بیوہ تھیں۔

حضرت فاطمہ بنت قیسؓ مشہور صحابیہ ہیں جن کو طلاق ہوچکی تھی۔ وہ آں حضرتﷺ کے پاس آئیں اور کہا کہ مجھے کئی لوگوں کے پیغام آئے ہیں کہ وہ مجھ سے نکاح کے خواہش مند ہیں۔ میں آپ سے مشورہ چاہتی ہوں۔ پھر انھوں نے پیغام دینے والوں کے نام بھی بتائے۔ اللہ کے رسولﷺنے ان افراد پر تبصرہ کرنے کے بعد فرمایا کہ تم اسامہ سے نکاح کرلو۔ فاطمہ بنت قیس کہتی ہیں کہ مجھے یہ مشورہ اگرچہ پسند نہیں تھا لیکن کیوں کہ رسول پاکﷺ کا مشورہ تھا اس لیے میں نے اسے تسلیم کرلیا۔ وہ مزید کہتی ہیں کہ بعد میں یہ نکاح میرے لیے بڑا برکت ثابت ہوا۔

ایک اور صحابیہؓ کا ذکر آتا ہے جن کا نام عاتکہ تھا۔ ان کا نکاح کئی لوگوں سے باری باری ہوا۔ ان افراد میں ابوبکر، عمر اور علی رضوان اللہ علیہم اجمعین بھی شامل ہیں۔ انہیں زوجۃ الشہداء کہا جانے لگا کیوں کہ جن جن افراد سے ان کا نکاح ہوا وہ تھوڑی ہی مدت کے بعد جام شہادت سے سرفراز ہوجاتے۔ ایک بیوگی کے بعد انہیں ایک صحابیؓ نے نکاح کی پیش کش کی جس پر انھوں نے مزاحاً کہا کہ میں نہیں چاہتی کہ تم ابھی شہید ہوجاؤ۔

یہ عہد نبویؐ کے چند واقعات ہیں جن کو پڑھ کر بیوہ یا مطلقہ کے سلسلے میں اسلامی معاشرے کے مزاج کا پتہ چلتا ہے۔ عہد اسلامی ہی کیا اس سے قبل بھی عرب معاشرے میں کسی بیوہ یا مطلقہ کے نکاح کے بغیر رہنے کا تصور نہ تھا۔ اس سماج میں کم عمر کے مرد بلکہ نوجوان بھی بڑی عمر کی خواتین سے شادی کو عیب تصور نہیں کرتے تھے، اسی طرح بڑی عمر کے مرد بھی اگر کم عمر لڑکیوں اور خواتین سے شادی کرتے تو اس میں کوئی برائی نہ تھی۔ اصل برائی اس بات میں تھی کہ کوئی بیوہ یا مطلقہ عورت معاشرے میں بغیر نکاح کے زندگی گزارے۔

حضرت عاتکہؓ کی مثال تو بڑی حیرت انگیز ہے۔ اس حیثیت سے بھی طلاق بھی ہوئی اور یکے بعد دیگرے کئی بیوگیاں بھی مگر اس کے باوجود ان کے لیے نکاح کا راستہ بند نہیں ہوا جب کہ موجودہ معاشرے میں اگر کوئی عورت بیوہ ہوجائے، پھر اس کی شادی ہو، پھر وہ بیوہ ہوجائے یا طلاق ہوجائے تو اسے منحوس اور بے کار کے لقب سے مزین کر دیتا ہے ہمارا معاشرہ۔ برداران وطن میں تو وہ خاص طور پر ’’منحوس‘‘ بنا دی جاتی ہے۔

سید احمد شہیدؒ ہندوستان کی معروف شخصیت ہیں۔ ان کے خلیفہ عبد الحئی صاحب رحمہ اللہ نے نکاح بیوگان کی مہم چلائی۔ ان کی ایک بیوہ عمر دراز بھابھی بھی تھیں۔ وہ ان کے پاس گئے اور کہا کہ میںبیوہ خواتین کے نکاح کی مہم چلا رہا ہوں۔ میں اسے عملاً اپنی زندگی میں بھی نافذ کرنا چاہتا ہوں تاکہ میری بات میں اللہ تعالیٰ تاثیر پیدا کردے۔

احادیث میں اگرچہ بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کی فضیلت کے براہ راست واقعات نہیں ملتے مگر مذکورہ واقعات سے یہ ضرور سامنے آتا ہے کہ اسلامی معاشرے میں بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کرنا معیوب نہ تھا۔ اور اگر اسے اسلامی معاشرے کی اچھی روایت تصور کرتے ہوئے سوچیں تو اس نتیجے پر پہنچ سکتے ہیں کہ اللہ کے رسولؐ کا یہ فرمان یہاں بھی فٹ ہو سکتا ہے کہ ’’جس نے میری امت کے زوال کے وقت میری سنت کا احیاء کیا اسے سو شہیدوں کا اجر ملے گا۔‘‘

طلاق شدہ عورت کو آج کل ہمارے سماج میں اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ بھلے ہی کوئی شرعی عذر ہو یا پوری غلطی شوہر اور اس کے گھر والوں کی ہو سماج طلاق یافتہ عورت کو ہی مورد الزام ٹھہراتا ہے۔ اس کے اندر کتنی ہی خوبیاں ہوں اسے سماج مین عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھا جاتا۔ اس کا سماج اس کے عزیز رشتہ دار اور کبھی کبھی تو والدین بھی اسے اچھی نگاہوں سے نہیں دیکھتے ہیں۔

اس کی وجہ جو سب سے بڑی ہے وہ یہ کہ ہمارے معاشرے میں بیوہ یا طلاق یافتہ کے عقد ثانی کا کوئی منظم ڈھانچہ نہیں ہے۔ جیسا کہ عہد نبوی کے معاشرے میں تھا، یہی وجہ ہے کہ والدین بالکل بے بس ہوجاتے ہیں۔ بیس بائیس سال کی لڑکیوں کی بھی طلاق ہوجاتی ہے اچھی شکل و صورت، تعلیم و تربیت سے آراستہ لیکن والدین ان کا دوسر انکاح کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ ہر لڑکا جو نکاح کا خواہش مند ہونا ہے اس کی فہرست میں بیوہ یا طلاق یافتہ کا نام ہی نہیں ہوتا۔ حد تو یہ ہے کہ جو حضرات خود دوسرا نکاح کرنا چاہتے ہیں یا ان کی اہلیہ فوت ہو جاتی ہیں ان کی بھی خواہش ہوتی ہے کہ کنواری لڑکی سے ہی ان کا عقد ثانی ہو۔ یہ انداز فکر جو کہ غیر اسلامی ہے اس کو بدلنے کی سخت ضرورت ہے۔ رسولؐ نے فرمایا نکاح میری سنت ہے، جس نے میری سنت سے اعراض کیا وہ مجھ سے نہیں۔

نکاح کی سنت پر عمل تو سبھی کرتے ہیں لیکن رسولؐ کا نکاح جن خواتین سے ہوا تھا ان میں حضرت عائشہؓ کے علاوہ سبھی بیوہ یا طلاق یافتہ تھیں۔ پیارے رسول کی اس بہترین سنت پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ آج اصلاح معاشرہ کے لیے جتنی تحریکیں چل رہی ہیں جتنی کوششیں ہو رہی ہیں، جہیز مخالف تحریکیں چل رہی ہیں اس کے ساتھ ساتھ اس کے لیے بھی تحریک چلانے کی ضرورت ہے کہ بیوہ اور طلاق یافتہ خوایتن سے نکاح کی طرف رغبت بڑھائی جائے اور یہ عمل عین سنت نبوی ہے اور عین ثواب ہے۔ آج خواتین مظالم کا شکار ہیں ظلم سہتی ہیں، مجبور ہیں۔ والدین بھی اپنی بیٹیوں کو یہ ترغیب دیتے ہیں کہ برداشت کرو، صبر کرو اگرطلاق لے لوگی تو پھر کیا ہوگا؟

یہ سب سے بڑا سوال ہے کہ پھر کیا ہوگا؟ زندگی رک جائے گی۔ کوئی سہارا نہیں ہوگا کوئی ذمہ دار نہیں ہوگا۔ سبھی لڑکیاں اس قابل نہیں ہوتی ہیں کہ خود روزگار کریں، نوکری کریں اور اپنی کفالت خود کرلیں، ایسی حالات میں طلاق لینا یا ملنا ایک سانحہ عظیم سے بڑھ کر ہے۔ اگر ہمارے معاشرے میں ایسا میکانیزم تیار ہوجائے اور ایسی ذہنی تربیت ہوجائے کہ مناسب اگر ہو تو بیوہ یا طلاق یافتہ سے نکاح کیا جانا چاہیے۔ اس کے لیے ہر منبر سے آواز آنی چاہیے ہر اجتماع، ہر جلسہ ہر محفل سے یہ آواز اٹھنی چاہیے کہ طلاق یافتہ اور بیوہ خواتین سے نکاح کرنا عین سنت ہے اور اس میں خیر ہی خیر ہے تو ہمارے سماج کا ایک مسئلہ کچھ حد تک حل ہو سکتا ہے۔

سارے شرعی مرحلوں کو پار کرنے کے بعد ہی اگر طلاق دیا جائے یا لیا جائے تو طلاق کی شرح خود بخود بہت ہی کم ہوجائیں گی اور اس کے بعد اگر برادران امت سنت پر عمل کرنے کا مزاج بنالیں تو پھر یہ مسئلہ یہاں بھی حل ہوجائے گا اور اس امت پر دوسری قومیں انگشت اٹھا رہی ہیں اس کی نوبت نہ آئے۔ شریعت پر اگر ہم صحیح طرح سے عمل کریں تو شریعت خود ہماری حفاظت کرتی ہے۔ اپنی من مانی کریں شریعت کا پاس و لحاظ نہ رکھیں اور پھر یہ توقع کریں کہ شریعت نے جو تحفظ فراہم کیا ہے وہ ہمیں نہیں مل رہا ہے یہ انصاف نہیں۔ اسلام صرف نماز روزہ پر ہی موقوف نہیں ہے۔ اگر اسلام ہماری زندگی میں ہر معاملات میں معاشرت میں جاری و ساری ہوگا تو اسلام کی برکتیں بھی ہمارے سماج میں ہر جگہ دکھائی دیں گی اور انشاء اللہ اللہ کی رحمت بھی ہوگی۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نیلم غزالہ (کولکاتا)