مطلقہ کی معاشرتی و معاشی زندگی

عورت انسانیت کی معمار ہے اسلام نے عورت کو ہر رشتہ میں معزز مقام عطا فرمایا ہے۔ چاہے وہ رشتہ ماں کی صورت میں ہو یا بیٹی کی، بہن کی شکل میں ہو یا بیوی کی کوئی بھی رشتہ ہو مرد کا تحفظ عورت کو حاصل ہوتا ہے اور ہر حالت میں ہوتا ہے خواہ وہ کنواری ہو یا شادی شدہ، طلاق یافتہ ہو یا بیوہ۔ مطلقہ کے مسائل کو لے کر ہندوستانی سیاست میں بڑی فکر مندی نظر آتی ہے۔ بالخصوص اسلام دشمن طاقتیں وقفہ وقفہ سے طلاق یافتہ خواتین کے مسائل کو ہدف بنا کر اسلام کو نشانہ بنانے کی کوشش کرتی رہتی ہیں اور کچھ ہماری کمزوریاں ان کو ہوا دینے کا کام کرتی ہیں۔

ادھر چند سالوں سے دنیا بھر میں طلاق کے واقعات میں اضافہ کا رجحان دیکھا جا رہا ہے۔ ہوسکتا ہے مسلم سماج بھی اس رجحان میں شامل ہو لیکن یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ طلاق اللہ کے رسولﷺ کے دور میں بھی ہوتی رہی۔ صحابہؓ کے دور میں بھی اور ہر زمانے میں ہوتی رہی کمی و زیادتی کے تناسب سے ہاں فرق اتنا ہے کہ پہلے اتنا چرچا نہیں ہوتا تھا۔ کوئی خبر دوسرے شہر میں پہنچنے تک بہت پرانی ہو جاتی تھی اس لیے لوگ ان پر تبصرہ اور بحث و مباحثہ بھی نہیں کرتے تھے۔ یہی فرق ماضی اور حال میں ہے۔ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا نے پوری دنیا کو سمیٹ لیا ہے۔ کوئی واقعہ رونما ہوا کہ منٹوں میں خبریں نشر ہو جاتی ہیں۔

بہرحال اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ گزشتہ چند سالوں میں طلاق کی شرح میں اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر طلاق کی مانگ خود بیوی کی طرف سے ہو رہی ہے۔ تامل ناڈو کی خواتین نے ہائی کورٹ میں RTI داخل کی تو معلوم ہوا کہ تقریبا 90فیصد طلاق کا مطالبہ خود خواتین کی جانب سے ہوتا ہے۔

طلاق کے اسباب پر غور کیا جائے تو اکثر طلاق ان باتوں کے باعث واقع ہوتی ہیں جیسے میاں بیوی کا ایک دوسرے کے خود ساختہ معیار پر پورا نہ اترنا، فریقین کا ایک دوسرے کے تئیں فرائض کی ادائیگی سے زیادہ حقوق کا مطالبہ کرنا، شکوک و شبہات، بے پردگی، بیوی کا محرم و نامحرم رشتوں کے حدود کا دانستہ طور پر خیال نہ رکھنا، شوہر بیوی کے رشتہ کی اہمیت کا عدم احساس، انا پرستی، میکہ والوں کی بے جا مداخلت، حکومتی قوانین کا غیر متوازن ہونا، ذمہ داریوں سے فرار، فریقین کے رشتہ داروں کا بروقت ان کے مسائل کو حل نہ کرنا (کونسلنگ وغیرہ کے ذریعے) بیوی کا شوہر کے اختیارات میں مداخلت کرنا مثلاً کاروبار، معاش وراثت یا شوہر کے رشتہ داروں کے حقوق کی ادائیگی میں دخل اندازی کرنا، میکہ والوں کو چھوٹی چھوٹی باتیں بذریعہ فون بتاتے رہنا، سسرالی رشتہ داروں سے عناد رکھنا، آرام پسندی وغیرہ۔

درج بالا وجوہات کی روشنی میں غور کریں تو محسوس ہوتا ہے کہ اکثر والدین اور خود اولاد نے شادی کو گُڑاگُڑی کا کھیل سمجھ لیا، یعنی معمولی تکالیف کو برداشت کرنے کے بجائے فوراً طلاق کا فیصلہ لینے تیار ہو جانا۔ یہ بات درست ہے کہ طلاق یافتہ ہونا کوئی عیب کی بات نہیں ہے لیکن اسلام میںجائز چیزوں میں سب سے مکروہ طلاق کو سمجھا گیا ہے۔ اس لیے حتی الامکان زوجین کو اپنی جانب سے نباہ کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

’’اگر وہ تمہیںناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔‘‘ (النساء:۹۱)

اگر خلوص نیت کے ساتھ یہ کوشش ہوتو بہت سے جوڑے اچھی زندگی بسرکرسکتے ہیں۔ لیکن کوشش کے باوجود نباہ نہ ہو رہا ہو تو طلاق کے ذریعے علیحدگی میں ہی بہتری ہے اور یہ کوئی عیب نہیں خود سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحب زادیوں حضرت رقیہؓ اور حضرت ام کلثومؓ کی طلاق ہوئیں۔ آپؐ کے منہ بولے بیٹے حضرت زیدؓ نے بھی اپنی بیوی حضرت زینبؓ کو طلاق دی تھی اور اس طلاق کے بعد حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت زینبؓ سے نکاح فرمایا۔

اسلام نے انتہائی حالت میں طلاق کی اجازت دے کر گویا میاں بیوی کے لیے زندگی گزارنے کے لیے دوسری راہ اختیار کرنے کی گنجائش رکھی ہے۔ لیکن اس کو ہندوستانی مسلمانوں نے یہاں کی دیگر اقوام کی تہذیب کی طرح انتہائی مذموم فعل، کلنک اور خاندان کے نام پر دھبہ گمان کرنا شروع کر دیا ہے۔ ہندوانہ رواج کے مطابق شادی ایک مرد سے ہوتی ہے تو وہ مرد اس عورت کا جنم جنم ہی نہیں سات جنموں کا شوہر ہوتا ہے اور ان کی شادی کا یہ بندھن ٹوٹنے والا نہیں ہوتا۔ اگر شوہر مر بھی جائے تو بیوہ کی دوسری شادی نہیں کروائی جاسکتی اس لیے ان کے پاس طلاق اور دوسری شادی کا تصور ہی نہیں۔ یہ ہی اثرات ہندوستانی مسلمانوں پر پڑے ہیں۔طلاق کو عورت پر ظلم بتا کر اسلامی قوانین کے خلاف مرد سے نان و نفقہ کی حق دار ٹھہرایا جاتا ہے جب کہ اسلامی تعلیمات کی رو سے طلاق شدہ عورت ایام عدت گزارنے کے بعد اس کے باپ کی ذمے داری ہے۔ اگر باپ حیات نہ ہو تو بھائی وہ بھی نہ ہوتو چاچا یا کوئی قریبی رشتہ دار اس کی کفالت کی ذمہ داری اٹھائے گا۔ اللہ کے رسولؐ نے فرمایا کہ میں تم کو یہ نہ بتادوں کہ افضل صدقہ کیا ہے؟ اس بیٹی پر صدقہ کرنا ہے جو تمہاری طرف مطلقہ یا بیوہ ہونے کے سبب واپس لوٹ آئی اور تمہارے سوا کوئی اس کا نہ ہو۔ (ابن ماجہ)

اسلام نے عورت کو کسی حال میں بھی بے یار و مددگار نہیں چھوڑا ہے۔ اس پر معاش کی ذمے داری نہیں ڈالی اور اس کی دیکھ بھال اور خبر گیری کرنے پر مرد کو اجر کا مستحق ٹھہرایا۔

اکثر طلاق کے بعد طلاق یافتہ عورت کے تعلق سے اس کے محرم رشتہ دار کوتاہی برتتے ہیں جس کی وجہ سے بات عدالتوں تک جاتی ہے اور مخالفین کو انگلیاں اٹھانے کا موقع مل جاتا ہے۔ مطلقہ پر اس کے محرم رشتے دار خرچ کرتے ہیں تو یہ کوئی احسان نہیں بلکہ یہ ان کا فرض ہے، ان کی ذمے داری ہے اس کی ادائیگی پر اجر ہے اور عدم ادائیگی پر بازپرس۔

لیکن بعض گھرانوں میں ان اسلامی احکامات پر عمل آوری نہ ہونے کی وجہ سے مطلقہ کو مصیبتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندوانہ تہذیب کی دیکھا دیکھی ایسی عورت کو منحوس سمجھنا، خاندان کے لیے باعث عار، اضافی بوجھ، دوسری شادی کے لائق نہ جاننا وغیرہ خرابیاں پیدا ہوگئی ہیں جن کے باعث یہ اپنے ہی میکہ میں بے وقعت ہوکر رہ جاتی ہے۔ خاندان اور سماج کے لوگ بھی اسے عزت کی نگاہ سے نہیں دیکھتے۔ یوں ایک عورت طلاق کے باعث پروقار زندگی سے محروم ہوجاتی ہے۔

اسلام وہ آفاقی دین ہے جو عورت کو نصف انسانیت قرار دیتا ہے۔ اسلام کے ماننے والوں کی ذمے داری ہے کہ وہ معاشرے میں مطلقہ عورت کو باعزت زندگی جینے کا حق دلائیں۔ جس طرح اللہ کے رسول اور صحابہ کرامؓ کے دور میں مطلقہ ہونا کوئی بہت بڑا مسئلہ نہیں تھا، عدت کے فوراً بعد اس کے ساتھ کوئی بھی مرد نکاح کرنے کے لیے تیار ہو جاتا تھا۔ آج مطلقہ اور بیوہ کے مسائل کو اسی طرح نکاح کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت ہے۔ مطلقہ کے معاشی مسائل کے حل کے لیے اس کی قابلیت و صلاحیت کی مناسبت سے روزگار فراہم کیاجاسکتا ہے۔ وراثت میں حصہ داری دے کر اسے خود کفیل بنایا جائے۔ اس طرح وہ معاشی طور پر مستحکم ہوگی اور پھر اس کی دوبارہ شادی کے لیے مناسب رشتہ تلاش کر کے اپنی ذمے داری سے سبکدوش ہوجائیں۔ عام طو رپر مطلقہ اور بیوہ کے گھر والے اس کا دوسرا گھر بسانے کی کوشش کرتے بھی ہیں تو خود مذکورہ خاتون اس کے لیے تیار نہیں ہوتی اور بعد میں پچھتاتی ہے۔شاید اس کے اس انکار کے پیچھے جو سوچ کار فرما ہوتی ہے اس کے لیے مسلم معاشرہ ہی ذمے دار ہوسکتا ہے۔ یعنی بیوہ اور طلاق شدہ کو اچھی نگاہ سے نہ دیکھنا، ان کی دوسری شادی کو بے شرمی پہ محمول کرنا، کسی مرد کی ایک بیوی کی موجودگی میںدوسری بیوی بننے کو پہلی پر ظلم قرار دینا وغیرہ۔

خود مرد کے نکاح ثانی کو ہوس پرستی یا بے حیائی سمجھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے مطلقہ اور بیوہ کے ساتھ نکاح ثانی سے بہت سے مرد رک جاتے ہیں اگرچہ کہ وہ ثواب کی نیت سے بھی یہ نیکی کرنا چاہتے ہوں لیکن معاشرے کا رویہ آڑے آتا ہے۔ بعض اوقات مرد بیوہ یا مطلقہ سے نکاح کر بھی لیتے ہیں لیکن اس کو رشتہ داروں سے پوشیدہ رکھتے ہیں گویا کہ انھوں نے کوئی ناجائز فعل انجام دیا ہے۔ مسلم معاشرے کی یہی سوچ رہی تو مطلقہ و بیوہ خواتین دوبارہ ازدواجی زندگی کا سکون حاصل کرنے سے محروم رہیں گی کیوں کہ اس طرح کی خواتین سے کنوارے لڑکے تو نکاح کرنے سے رہے اگر کرتے بھی ہیں تو انگلیوں پر گنے جاسکتے ہیں۔ عموماً لڑکوں کو کم سن اور حسین و جمیل لڑکی سے شادی کرنے کی خواہش ہوتی ہے۔

بس ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلم معاشرہ کی سوچ تہذیب و طریقہ پوری طرح اسلامی ہو ایسی خواتین بھی نکاح کے لیے آمادہ ہوں تو باطل طاقتوں کو اسلام پر حرف اٹھانے کا اور کسی خاتون کے معاملے کو میڈیا میں اچھالنے کا موقع نہیں ملے گا اور ہماری بہنیں بھی کسی محرومی اور کسمپرسی کے بغیر باوقار زندگی جینے لگیں گی۔

شیئر کیجیے
Default image
بشریٰ ناہید (اورنگ آباد)