نکاح و طلاق اور موجودہ چیلنج

اسلامی خاندان

اسلام کا عطا کردہ خاندانی نظام سراسر خیر و عافیت کا سر چشمہ ہے ۔ تمام فریقین کے لیے رحمت ہے۔ جس میں ہر فرد خاندان کا ایک اکائی ہے۔ اس نے ہر ایک کو اپنی ذمہ داری ادا کرنے کے بہتر مواقع فراہم کیے ہیں ۔ جس جگہ حقوق کی پاسداری ہوگی وہاں ترقی کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ یہ خاندان بڑے یا چھوٹے ہو سکتے ہیں۔ بڑے خاندان میں والدین،بھائی، بھابھی، ان کے بچے اور دیگر لوگ بھی ہو سکتے ہیں ۔چھوٹے خاندان میں زوجین اور ان کی اولاد ساتھ رہتی ہیں ۔مرد کو قوام کی حیثیت حاصل ہے۔ عورت گھر کی نگراں ہوتی ہے۔ انسانی تمدن کی جڑیں ازدواجی تعلقات پر منحصر ہیں۔ یہ جڑیں کمزور ہوں تو خاندانی نظام تہ و بال ہو جاتا ہے ۔معاشرتی نظام کا مقصد ہی اسلامی معاشرہ کی تعمیر ہے ۔ تاکہ انسانی نسل کا سلسلہ جاری رہے ۔اسلامی خاندان کے مقام کو سمجھنے کے لیے معاشیات کے نوبل یافتہ فردکا ایک اقتباس ملاحظہ ہو:

’’عورت گھر میں رہ کر بچے کی جو تعلیم و تربیت کرتی ہے ۔دراصل وہ قومی معیشت میں 25ـفیصد سے 50فیصد تک اپنا حصہ ادا کرتی ہے ۔ جب کہ ناواقف کار لوگ سمجھتے ہیں کہ وہ بے کار اپنے گھر میں بچے کی دیکھ بھال کر رہی ہے اور قومی معیشت میں و پیدا وار میں کوئی حصہ دار نہیں اور ایک بوجھ ہے ۔ــ‘‘

اسلام کا عائلی نظام اخلاق و محبت، عدل و اُخوت کا قانون ہے۔ اس پر عمل پیرا ہو کرازدواجی زندگی کو مسرتوں سے مالامال کیا جا سکتاہے صحت مند خاندان وجود میں آتا ہے ۔ پاکیزہ معاشرہ تعمیر کرتا ہے۔ خواتین کی عفت و عصمت اور ان کے حقوق کا محافظ ہے ۔

خاندان کی بنیاد ایک مرد اور ایک عورت کی ازدواجی رشتہ سے پڑتی ہے اس لیے اسلام نے اس کے لیے نکاح کا معروف طریقہ تجویز کیا۔ یہ صرف سماجی اور انسانی ضرورت ہی نہیں بلکہ اسلام کی نظر میں عبادت بھی ہے اور اسے تقویٰ کی بنیاد پر استوار کرنے کی تلقین کی گئی ہے۔ خاص بات یہ ہے کہ اسلام نے نکاح کے عمل کو بڑا سادہ اور آسان رکھا ہے اور دو گواہوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول سے نکاح واقع ہوتا ہے۔ خواہش مند کے الفاظ کو ـ’ایجاب‘اور منظوری دینے والے کے الفاظ ’قبول‘ ہوتے ہیں ۔ اسلام کیوں کہ اعلان کو ضروری سمجھتا ہے اس لیے اس کی تعلیم ہے کہ خفیہ یا پوشیدہ طریقے نہ اپنائے جائیں۔اس لیے لازم ہے کہ ایجاب و قبول دو گواہوں کی موجودگی میں ہو۔یہ لڑکا اور لڑکی کے درمیان ایک معاہدہ ہے ۔ بالغ لڑکی کا حق ہے کہ اس کی مرضی معلوم کی جائے اسے پوری آزادی ہے کہ وہ اپنی خواہش کا اظہار کرے ۔ اس بارے میں محمدﷺ نے فرمایا:

’’عورتوں سے نکاح ان سے اجازت لے کر کیا کرو۔ ‘‘

دین حنیف نے مرد و عورت کے لیے نکاح کو اخلاق کی تکمیل کا ذریعہ بتایا ہے۔ جس پر عمل کر کے صالح معاشرہ کی تشکیل ممکن ہے۔ رسولؐ اللہ نے دونوں کے لیے احسن طریقے بتائے ہیں:

’’عورت سے نکاح چار چیزوں کی بنیاد پر کیا جاتا ہے ۔ اس کے مال کی وجہ سے، اس کی نسبی شرافت کی وجہ سے ، اس کے حسن کی وجہ سے اور اس کی دین کی بنیاد پر، تو تم دین دار عورت کو حاصل کرو ،تمہارا بھلا ہو۔‘‘

’’سب سے زیادہ با برکت نکاح وہ ہے جس میں کم سے کم خرچ ہو۔‘‘

’’اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ ادا کرو۔‘‘

نظام معاشرت طلاق کی اہمیت

ملک عزیز میں مسلمانوں کے Burning Issues میںفی الوقت طلاق سر فہرست ہے ۔ طلاق کے معنی بندھن کھولنے کے ہیں ۔ یعنی نکاح کی صورت میں مرد و عورت کے درمیان جو معاہدہ ہوا تھا ،طلاق کے ذریعے انتہائی ناخوش گوار حالات میں کھول دیا جاتا ہے ۔ میڈیا نے عوام کی منفی سوچ کو خوب چڑھایا ہے ۔ اسلام نے طلاق کی اجازت اس وقت دی ہے جب زوجین کے درمیان موافقت کی کوئی صورت باقی نہ رہے ۔زوجین کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو جائیں ۔ عورت کو ازدواجی زندگی کے کرب و اذیت سے نکلنے کے لیے شریعت نے طلاق کی اجازت دی ہے ۔ تاکہ وہ دوبارہ بھی نکاح کر کے اپنی زندگی شروع کر سکے ۔دونوں فریقین کے درمیان محبت و اعتماد اسی وقت قائم رہ سکتا ہے ۔ جب ایک دوسرے کے حقوق جانیں ۔ اسلام نے اسی غرض سے حقوق ق زوجین کی کھل کر وضاحت کی ہے ۔

زوجین کے حقوق و فرائض

اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک میں حقو ق زوجین پوری طرح کھول کھول کر بیان کر دیا ہے (النساء :۱، الروم:۲۱ اور البقرہ:۱۸۷) ۔ اس بیان کا مقصد یہی ہے کہ کسی کی حق تلفی اور دل آزاری نہ ہو ۔ اس رشتے کا آغاز ہی اعتماد کی بنیاد پر قائم ہوتا ہے۔ دونوںکے باہمی تعاون سے ہی گھر کا سکون بہال رہ سکتا ہے۔ازدواجی زندگی کو کامیاب بنانے میںدونوں فریقین کو ایک دوسرے پر یقین بے حد ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ نے شوہر کو قوام اور بیوی کو محکوم کا درجہ عطا کیا۔قرآن میں ان دونوں کو ایک دوسرے کا لباس کہا گیا ہے۔ لباس سے مراد ایک دوسرے کی اچھائیوں کو سمجھنا ہے اور کمزوریوں کی پردہ پوشی کرنا ہے، ایک پہلو یہ بھی نکلتا ہے کہ دونوں کو برابر حقوق حاصل ہوں، اگر ایسا نہیں ہوتا تو ادنا و اعلا لباس کا لفظ استعال ہوتا۔ اس رشتے میںذہنی ہم آہنگی کا ہونا بھی اہمیت رکھتا ہے۔آپ ﷺ نے فرمایا:

’’اگر میں کسی کو دوسرے کے لیے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو عورت کو حکم دیتا کہ وہ اپنے خاوند کو سجدہ کرے ۔‘ـ‘

مذکورہ حدیث سے شوہر کی اہمیت ثابت ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز بھی نہیں کہ خاوند صرف اسی بات کو بنیاد بنا کر حاکمیت چلانے لگ جائیں بلکہ شوہر کے جو اوصاف اسلام میں بتا دئیے گئے ہیںاسے ملحوظ رکھیں۔ اسی طرح قرآن کریم میں متعدد مقامات پر انھیں ان کے حقوق کی یاد دہانی کرائی گئی ہے ۔ بعض مقامات پر تنبیہ بھی کی گئی ہے ۔ اسی بنیاد پر انھیں راعی کہہ کر بھی مخاطب کیا گیا ہے ۔ ’’ کسی نے رسول ﷺ سے پوچھا: کون سی عورت سب سے اچھی ہے ۔آپ ؐ نے فرمایا وہ کہ جب خاوند اس کی طرف دیکھے توخوش ہو جائے ، وہ حکم دے تو اس کی تعمیل کرے اور اپنی جان و مال کے معاملے میں ایسی کوئی بات نہ کرے جو شوہر کو ناپسند ہو۔’’

دوسری حدیث میں بیان ہے :

’’حضرت اُم سلمہ ؓ روایت کرتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو عورت اس حال میں فوت ہوئی کہ اس کا شوہر اس سے راضی اور خوش تھا تو وہ جنت میں جس دروازے سے چاہے داخل ہو سکتی ہے ۔‘‘

طلاق بدعت کی تاریخ

زمانۂ جاہلیت میں مرد اپنی بیوی سے چھوٹی چھوٹی باتوں کو بنیاد بنا کر جھگڑا کرتے تھے ۔ ان جھگڑوں میں وہ بلا سوچے سمجھے کئی دفعہ عورت کو طلاق دے دیتے تھے۔ جس کی وجہ سے عورت ایک کشمکش میں اپنی زندگی بسر کرتی تھیں۔مرد انھیں متعدد بار طلاق دینے کے باوجود علیحدہ نہیں کرتے تھے ۔ ان کی زندگی اجیرن ہو گئی تھی ۔ اسلام نے اس طریقے کو بدعت قرار دیا ۔ اگر مرد تین بار طلاق دے دیتا ہے تو عورت اس کے لیے نا محرم ہو جائے گی ۔ یہی وجہ ہے کہ عہد نبویؐ میں ایک مرتبہ ایک شوہر نے اپنی بیوی کو بہ یک وقت تین طلاق دے دی۔اللہ کے رسول ؐ تک یہ خبر پہنچی تو آپؐ سخت ناراض ہوئے او رفرمایا :

’’کیا میری موجودگی میں اللہ کی کتاب کے ساتھ کھلواڑ کیا جائے گا۔‘‘

اس کی سب سے بری قسم دور جاہلیت میں ملتی ہے ۔ مرد جھگڑتے ہوئے کہہ دیتا تھا کہ تمہاری پیٹھ میری ماں کی طرح ہے۔ یعنی اب ان کے درمیان شوہر بیوی کا رشتہ نہیں۔ تاریخ میں ایسی باتیں بیویوں کے لیے کہہ دینے سے طلاق پڑ جاتی تھی،جس کے بعد بیوی لازماً شوہر سے الگ ہو جاتی تھی ۔وہ انھی طلاق دے کر فارغ نہیں کرتے تھے۔ اس پر باضابطہ قرآن مبین میں احکام ہیں :

’’تم میں جو اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتیں۔ ان کی مائیں تو وہی ہیں جنھوں نے انھی جنا ہے۔ اس طرح لوگ نہایت بیہودہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔۔۔۔جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کر بیٹھے اور پھر ان کی طرف پلٹیں تو انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کیا جائے گا ۔۔۔۔جو کچھ تم کرتے ہو اس سے اللہ خوب واقف ہے ۔پھر جسے غلام میسر نہ ہو، اسے دو مہینے کے پے در پے روزے رکھنے ہوں گے۔اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ جو یہ نہیں کر سکیں تو وہ مسکینوں کو کھانا کھلا دے ۔ یہ اس لیے ہی کہ تم اللہ اور اس کے رسولؐ کو فی لواقع مانو۔ اور یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں ،اس طرح کے منکروں کے لیے بڑی دردناک سزا ہے۔ ‘‘

موجودہ چیلنجز

ملک کی صورت حال کا اندازہ حساس طبقے کو بہ خوبی ہے۔ ملکی عدلیہ وقتاً فوقتاًشریعت کے مخالف فیصلے کیے جا رہی ہے۔حکومت سے یکساں سِول کوڈ کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ تعلیمی نظام پر سب سے بڑا خطرا منڈلا رہا ہے۔ فرقہ پرست تنظیمیں مسلم خاندان کو نشانہ بنائے ہوئی ہیں۔ شرعی قانون میں ترمیم و تبدیلی کی جی جان سے کوشش جاری ہے ۔نام نہاد ترقی پسند مسلمان خود اسلامی قوانین میں موجودہ لحاظ سے تعبیر و تشریح کی وکالت کر رہے ہیں۔ اسلام پر صنفی تفریق اور زیادتی کے الزامات لگائے جا رہے ہیں۔یہاں تک کہ مخالف قوتوں کو ہمارا خوراک بھی پسند نہیں۔ یقینا یہ سنگین حالات ہیں ۔

اس کی وجہ خود مسلمانوں کا طرز عمل ہے ۔ ان نازک حالات میں ہماری ذمہ داری بنتی ہے کہ اسلام دشمن کی شازشیں ناکام کریں۔ عوام کے اندر اسلام کی بنیادی معاشرتی بیداری لائیں۔ اپنی اصلاح کے ساتھ معاشرے کی اصلاح کے لیے بھرپور جدوجہد کریں۔ حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھیں۔ اپنی تنازعات خود حل کرنے کی کوشش کریں۔ زوجین اپنے معاملات میں تلخی پیدا ہونے پر مسلم اداروں، ائمہ مساجد اور علماء دین سے رجوع کریں۔ شرعی پنچایتیں قائم کی جائیں۔ ساتھ ہی ہم وطنوں کو عائلی نظام کی اصل صورت بتائی جائے۔ سوشل میڈیا اور پرنٹ میڈیا میں کوَرج دیں۔ مسلمانوں سے مطلوب ہے کہ اللہ کی زمین پر اللہ کے دین کو نافذ کریں۔ جس نے اپنے تنازعات اور معاملات کا رخ قرآن و سنت کی طرف پھیر لیا وہ کامیاب ہو گیا ۔

شیئر کیجیے
Default image
ناز آفرین