4

ایک سے زائد طلاقوں کا مسئلہ (ایک علمی و تحقیقی بحث)

ایک بہت اہم مسئلہ ہے ایک سے زائد طلاقوں کا، جو ہمارا روزمرہ کا مسئلہ ہے، اس مسئلے میں گرچہ فقہاء کرام کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے،مگر تعجب کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کسی کا بھی مسلک قرآن پاک سے ہم آہنگ نہیں!

ہر ایک نے اس موضوع سے متعلق آئی ہوئی روایات کو ہی سامنے رکھا ہے، حالانکہ ان روایات میں کافی اختلاف ہے، انہی مختلف روایات میں سے کسی نے کسی روایت کو ترجیح دی ہے،دوسرے نے کسی دوسری روایت کو ترجیح دی ہے،مگر شایدکسی نے ان روایات کے دائرے سے باہر نکل کر نہیں سوچا ہے۔

حالاںکہ جب قرآن پاک نے اس موضوع سے متعلق ہدایات دی ہیں،تو ضروری تھاکہ پہلے انہی ہدایات پر غور کیا جاتا،اور اس سلسلے میں قرآن پاک کی منشا معلوم کی جاتی۔

قرآن پاک کی منشا معلوم کرلینے کے بعد اس سلسلے کی روایات دیکھی جاتیں،جوروایتیں قرآن پاک کے موافق ہوتیں،وہ لے لی جاتیں، جو قرآن پاک سے ہم آہنگ نہ ہوتیں، وہ چھوڑدی جاتیں، مگر بدقسمتی سے ایسا نہیںہوا۔

امام ابن تیمیہؒ کا نقطۂ نظر

امام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: بیک وقت تین طلاقیں، جو فقہ کی اصطلاح میں طلاق بدعی کہی جاتی ہیں،ان کی تین حالتیں ہوسکتی ہیں:

پہلی حالت: کوئی شوہرایک ہی طہر میں، اورایک ہی بول میں بیوی کوتین طلاقیں دے دے، مثلا وہ اپنی بیوی سے کہے: (تم کو تین طلاقیں!)یاکہے: (تم کو طلاق ! تم کو طلاق! تم کو طلاق !)یاکہے:(تم کو دس طلاقیں !یا سو طلاقیں! یاہزار طلاقیں!)امام ابن تیمیہ فرماتے ہیں۔ اس صورت میں علماء کے تین اقوال ہیں:

پہلاقول: اس طرح تینوں طلاقیں ہوجائیں گی،اور اس میں کوئی گناہ نہیں ہے، یہ امام شافعیؒ کا قول ہے، ان کے نزدیک طلاق بدعی صرف اس صورت میں ہوتی ہے، جب حالت حیض میں طلاق دی جائے،یا اس طہر میں دی جائے جس میںبیوی سے مباشرت ہوئی ہے۔

دوسراقول: یہ طلاق حرام ہے،اس کے باوجود تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، امام ابوحنیفہؒ اور امام مالک ؒ اسی کے قائل ہیں،امام احمدؒ کا بھی آخری قول یہی ہے، اور اسی کو ان کے بیشتر اصحاب نے اختیار کیا ہے۔یہ قول بہت سے صحابہؓ اور تابعین ؒسے بھی منقول ہے۔

تیسراقول: یہ طلاق حرام ہے،اور اس صورت میں بس ایک طلاق واقع ہوگی۔وہ فرماتے ہیں: صحابۂ کرام کی ایک جماعت سے اسی طرح کا قول منقول ہے،مثلا حضرت زبیر ؓبن عوام، حضرت عبد الرحمن ؓبن عوف، حضرت علیؓ بن ابی طالب، حضرت عبد اﷲؓ بن مسعود، حضرت عبداﷲؓ بن عباس کا یہی قول ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ ان تینوں اقوال میں سے تیسرے قول کو ترجیح دیتے ہیں،وہ فرماتے ہیں:

ایسی صورت میں بس ایک طلاق واقع ہوگی۔ کتاب وسنت سے اسی تیسرے قول کی تائید ہوتی ہے۔

قرآن سے استدلال

قرآنی دلیل کے طور پر وہ یہ آیت پیش کرتے ہیں:

الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ۔(البقرہ:۲۲۹)

وہ فرماتے ہیں: یہاں(مرّتان) یعنی (دوبار) کہا گیا ہے، (طلقتان) یعنی (دو طلاقیں) نہیں کہا گیا ہے، اس تعبیر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ طلاق یک با رگی نہیں واقع ہوسکتی، پہلے ایک بار ہوگی، پھر دوسری بار ہوگی۔ پھر تیسری بار ہوگی،اب اگر کوئی شخص اپنی بیوی سے کہتا ہے: (تمہیں دو طلاقیں،یا تین طلاقیں،یا دس طلاقیں،یا ایک ہزار طلاقیں !) توان سارے الفاظ سے ایک ہی بار طلاق ہو گی۔

قرآن پاک سے ان کی ایک دلیل اور بھی ہے، وہ کہتے ہیںکہ طلاق کے تذکرے کے بعداﷲ تعالی نے فرمایاہے:

’’جواﷲ تعالی کا تقوی اختیار کرے گا،اس کے لیے اس مصیبت یا اس تنگی سے نکلنے کی راہ کھول دے گا،اور اسے اپنا فضل عطا فرمائے گا اس طور سے ، کہ وہ اس کا تصور نہیں کرسکتا۔‘‘ (سورہ طلاق:۲،۳)

اسی طرح طلاق کے حدود بیان کرنے کے بعد فرمایا:

’’ تمہیں نہیں معلوم،بہت ممکن ہے کہ اس کے بعد اﷲ تعالی پھریکجا ہوجانے کی کوئی صورت یا کوئی سبیل پیدا کردے!‘‘ (سورہ طلاق:۱)

اب اگرتینوں طلاقیں واقع ہوجائیں ایک ہی لفظ سے، یا کئی الفاظ سے،تو پھر اس تنگی یا اس پریشانی سے نکلنے کا راستہ (مخرج) کہاں رہ جا تا ہے؟ جس کا آیت میں وعدہ کیا گیا ہے۔ اور کیونکر ان دونوں کے دلوں میں نئے سرے سے محبت،اور دوبارہ یکجا ہوجانے کی کوئی سبیل پیدا ہوسکتی ہے؟

جب قرآن پاک سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ طلاق یک با رگی ہوتی ہی نہیں ہے، تو روایات کا مسئلہ آسان ہوگیا، شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒان روایات کو ترجیح دیتے ہیں، جوقرآنی تصریحات سے ہم آہنگ ہوتی ہیں، رہیں وہ روایات جو قرآنی تصریحات سے ہم آہنگ نہیں ہوتیں توانہیں وہ بے تکلف چھوڑ دیتے ہیں۔

حدیث رکانہؓ بن عبد یزید

چناںچہ مسند احمدؒ کی اس روایت کو وہ اہمیت دیتے، اور اس سے استدلال کرتے ہیں، کہ حضرت رکانہؓ بن عبد یزیدنے اپنی بیوی کو ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دیں، بعد میں انہیں اس کا شدید غم ہوا،رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا: کس طرح طلاق دی تھی، انہوں نے عرض کیا: تین طلاقیں دی تھیں۔ آپ نے پوچھا: ایک ہی مجلس میں دی تھیں؟ انہوں نے عرض کیا: جی ہاں،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تب توایک ہی طلاق ہوئی۔ (مسنداحمد۔مسند عبد اﷲ بن عباس بن عبد المطلب: ۱ – ۲۶۵ -۲۳۸۷)

امام موصوفؒ فرماتے ہیں ، جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مجلس کی تین طلاقوں کو ایک ہی طلاق مانا،تواگر ایک ہی لفظ سے تین طلاقیں دی جائیں، تو وہ بدرجۂ اولی تین کے بجائے ایک شمار ہوںگی۔

یہ تو طلاق بدعی،یاطلاق حرام کی پہلی حالت ہوئی، یعنی وہ حالت جس میں یک بارگی تین طلاقیں دی جائیں، چاہے ایک ہی لفظ سے، چاہے کئی الفاظ سے۔

دوسری حالت: طلاق کی دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ ایک ہی مجلس میں یک بارگی تین طلاقیں دینے کے بجائے وقفے وقفے سے تین طلاقیں دی جائیں،اس حالت میں بھی ایک ہی طلاق ہوتی ہے،اس حالت میں ایک ہی طلاق ہونے کی بھی وہی دلیلیں ہیں،جو پہلی حالت کے ضمن میں بیان کی گئیں۔حدیث رکانہ ؓ تو اس کی نہایت واضح دلیل ہے۔

تیسری حالت: طلاق کی تیسری حالت یہ ہوتی ہے، کہ تین طلاقیںایک مجلس میں تو نہیں، مگرایک ہی طہر میں دی جائیں، امام ابن تیمیہؒ اس طلاق کو بھی طلا ق بدعی کا نام دیتے ہیں،اس صورت میں جتنی بھی طلاقیں دی جائیں گی، ان کی رائے میںوہ سب ایک ہی شمار ہو ں گی۔

حتی کہ اگردو سرے طہراور تیسرے طہر میںبھی، جس میں طلاق دینے والے نے رجوع نہیں کیا ہے، وہ طلاقیں دیتا ہے، تووہ ایک ہی طلاق رہے گی۔

ہرطلاق کی مستقل عدّت

مختصر یہ کہ امام ابن تیمیہ کی تحقیق کے مطابق تینوں طلاقوں میں سے ہر طلاق کی مستقل عدت ہوتی ہے، اگر ایک طلاق کی عدت شروع ہوجائے، تواس عدت کے دوران کسی نئی طلاق کی گنجائش نہیں ہوتی،اوراگربے وقوفی یا کم علمی کی وجہ سے عدت کے دوران کوئی شخص نئی طلاق دے دے،تو وہ بے اعتبار ہوگی، اس طلاق کا شمار نہیں ہوگا۔

اگر عورت حالت عدت میں ایک طہر سے گزر کر دوسرے طہر میں،پھر تیسرے طہر میں داخل ہوجائے، یہاں تک کہ اس کی عدت پوری ہوجائے، اور شوہرعدت پوری ہونے سے پہلے اس سے رجوع نہ کرے،تو وہ عورت بائن ہوجائے گی۔

اب اگر دونوں آپس میں صلح وصفائی کر کے پھر سے باہم ازدواجی زندگی گزارنا چاہیں،تو وہ تجدید نکاح کے بعد دوبارہ ایک ساتھ ازدواجی زندگی گزارسکتے ہیں، مگر اب اس شوہر کے پاس بس دو طلاقوں کا حق رہ جائے گا ۔

اب اگر دوبارہ ان دونوں میں اَن بَن ہوجاتی ہے، اور دوبارہ طلاق کی نوبت آجاتی ہے،تو ایک ہی طلاق سے عورت کی عدت شروع ہوکر ختم ہوجائے گی، لیکن اگر اس نے عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیا، تو اسے رجوع کرنے کا اختیار حاصل ہے، لیکن ان دونوں صورتوں میں، یعنی وہ رجوع کرے یا نہ کرے، اس کے پاس اب ایک ہی طلاق کا حق باقی رہے گا، اس کو وہ جب چاہے استعمال کرسکتا ہے،مگر تیسری بارطلاق دینے کے بعد نہ وہ دوران عدت عورت سے رجوع کرسکتا ہے،نہ عدت ختم ہوجانے پر تجدید نکاح کرسکتا ہے۔

اس عورت کواب اگرنکاح کی ضرورت ہو،تو وہ کسی دوسرے شخص سے نکاح کرسکتی ہے،اپنے سابق شوہر سے نکاح نہیں کرسکتی،الا یہ کہ یہ دوسرا شوہراس کے ساتھ کچھ عرصہ گزارنے کے بعد خود اپنی کسی مجبوری کے نتیجہ میں اسے طلاق دے دے،ایسی صورت میں وہ اپنے سابق شوہر سے دوبارہ نکاح کرسکتی ہے۔

طلاق او ر طلاق کی عدت کے باب میں یہ ہے امام ابن تیمیہ کا نقطۂ نظرجوفتاوی ابن تیمیہ: (جلد ۳، صفحہ ۳۸-۱۳۰) میں دیکھا جاسکتا ہے۔اسی طرح شیخ محمد ابو زھرہؒ کی کتاب: (ابن تیمیۃ۔ حیاتہ وعصرہ۔آراؤہ وفقہہ۔ طبع اول۔ دار الفکر العربی ) میں صفحہ:۴۱۹۔۴۲۴ میں دیکھا جاسکتا ہے۔

امام ابن تیمیہ کا یہ نقطۂ نظر گرچہ ائمۂ اربعہؒ کے نقطہائے نظرسے مختلف ہے، لیکن ہے بہت ہی جاندار و شاندار، اور بہت ہی وزن دار، کیونکہ اس کا مأخذ اول قرآن پاک ہے، آیت کے الفاظ ا ور آیت کے سیاق سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے، کہ امام ابن تیمیہؒ اس رائے میں تنہا نہیں ہیں،امام ابن قیمؒ بھی یہی رائے رکھتے ہیں، اور اس کے پرزور حامی ہیں،زاد المعادمیں انہوں نے اس موضوع پر نہایت مفصل اور مدلل گفتگو کی ہے۔

(امام ابن قیمؒ۔ زاد المعاد فی ھدی خیر العباد: ۵۔ ۵۹۲)

ان کے علاوہ بھی علماء کرام کی ایک جماعت ہے جو اس مسئلے میں ان کی ہم نوا ہے، ان میں شیخ ابن زنباغؒ، شیخ محمد بن بقیؒ، شیخ محمدؒ بن عبد السلام،شیخ اصبغؒ بن حباب خصوصیت سے قابل ذکر ہیں،یہ چاروں مؤخر الذکر علماء قرطبہ سے تعلق رکھتے تھے،اور اپنے علم وفضل میں معروف تھے۔ مصر کے نہایت قد آور عالم امام ابوزہرہؒ نے بھی اپنی تفسیر(زھرۃ التفاسیر) میں تفصیل سے اس موضوع پر گفتگو کی ہے،اور اسی رائے کو ترجیح دی ہے۔

(امام ابوزھرہؒ۔ زھرۃ التفاسیر،سورۂ بقرہ، مجلددوم: ۱؍۷۷۱۔۷۷۳،دارالفکر العربی)

الطلاق مرّتان کا صحیح مفہوم

قرآن پاک میں آیا ہے: (الطلاق مرّتان) اس میں ایک تو ( مرّتان) کے لفظ پر غور کرنا چاہیے، جس کی طرف امام ابن تیمیہ ؒنے توجہ دلائی ہے،اور اس میںاستدلال کا جو پہلو ہے،اس کی وضاحت کی ہے۔ یہ بہت اہم ، اور بہت ہی واضح نکتہ ہے،جس کی طرف فقہائے کرام کا ذہن نہیں گیا۔

کسی نماز کے وقت آدمی ایک وضو کرے،یا سو وضو کرے، وہ ایک ہی وضو ہوگا۔ایک وقت میں،یا ایک بار میں آدمی جتنی بار بھی آیت سجدہ پڑھے ،وہ ایک ہی سجدہ شمار ہو گا، اور پڑھنے والے پر ایک ہی سجدہ عائد ہوگا۔حج کے موقع پرآدمی میدان عرفہ میںایک منٹ رہے،یا ایک گھنٹہ رہے، یابارہ گھنٹے رہے ، وہ ایک ہی وقوف مانا جائے گا۔

ایک وقت میں، یا ایک بار میں آدمی جتنی بھی روٹیاں کھالے،وہ ایک ہی کھانا،یا ایک ہی بار کا کھانا مانا جائے گا۔کسی سے ایک بار ملاقات ہو،چاہے وہ ایک منٹ کی ملاقات ہو،یا دس گھنٹے کی، وہ ایک ہی ملاقات مانی جائے گی۔

کہیں کوئی گفتگو کرتا ہے،وہ گفتگوچاہے ایک منٹ کی ہو، یا پانچ گھنٹے کی، وہ ایک ہی گفتگومانی جائے گی۔کسی معاملے میں آدمی قسم کھاتا ہے،وہ ایک وقت میں، یا مختلف اوقات میںچاہے جتنی قسمیں کھائے، شریعت کی رو سے وہ ایک ہی قسم مانی جائے گی،اور اگر وہ حانث (قسم توڑنے والا) ہوگا، تو اس پر ایک ہی قسم کا کفارہ واجب ہوگا۔

یہی حال طلاق کا ہے،ہر طلاق کا ایک دائرۂ اثر،یا اس کی ایک مدت عمل ہوتی ہے،اس دائرے ، یا اس مدت میں جتنی بھی طلاقیں دی جائیں، وہ سب ایک ہی شمار ہوں گی۔

لفظ طلاق کا مفہوم

ثانیاً : لفظ طلاق کے مفہوم پر غور کرنا چاہیے۔عربی زبان میں طلاق کا لفظ اصلاً زبان سے لفظ طلاق ادا کرنے کے معنی میں نہیں آتا، یہ اس لفظ کا مجازی استعمال ہوتاہے، حقیقی نہیں ۔

امام زبیدی فرماتے ہیں:

طلاق المرأۃ یکون بمعنیین:أحدھما حلّ عقدۃ النکاح،و الآخر بمعنی الترک والارسال (تاج العروس: ط ل ق)

’’عورت کو طلاق دینے کے دو مطلب ہو تے ہیں:ایک مطلب ہوتا ہے نکاح کی جو گرہ لگائی گئی ہے، اسے کھول دینا۔دوسرا مطلب ہوتا ہے، اسے چھوڑدینا، اور چلتا کردینا۔‘‘

علامہ ابن منظورکہتے ہیں:

طلاق المرأۃ: بینونتھا عن زوجہا۔ وطلقت البلاد: فارقتھا۔ وطلّقت القوم: ترکتہم۔ (لسان العرب: طلق)

’’عورت کی طلاق کا مطلب ہوتا ہے:اس کا اپنے شوہر سے جدا ہوجانا۔کسی بستی، یا کسی ملک کو طلاق دینے کا مطلب ہوتا ہے، وہاں سے کوچ کرجانا۔کسی گروہ یا کسی قوم کو طلاق دینے کا مطلب ہوتا ہے، اس قوم یا اس گروہ سے کنارہ کش ہوجانا۔‘‘

گویا طلاق کا اصل مطلب ہوتا ہے،نکاح کی گرہ کھول دینا،نکاح کے رشتے کو ختم کردینا،عورت کو چھوڑدینا، اسے اپنے گھر سے رخصت کردینا۔

اس لحاظ سے دیکھا جائے،تو (الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ) کا صحیح مفہوم ہوگا: عورت کے رشتۂ نکاح کو ختم کرنے، اور اسے چھوڑ دینے، پھر اسے روک لینے یا رخصت کردینے کا اختیار بس دوبار ہوگا،تیسری بار اگرچھوڑاتو پھر اسے روکنے کا اختیار نہیں رہ جائے گا۔

جہاں تک زبان سے لفظ طلاق کی ادائیگی کا تعلق ہے، تو وہ کوئی گننے کی چیز نہیں،بار بار زبان سے دہرانے کی چیز بھی نہیں۔ایک بار وہ بیوی سے کہے:(میں نے تمہیں چھوڑدیا)یا (میں نے تمہیں طلاق دے دی) یا یہی جملہ تین بار، یا دس بار، یا سوبارکہے، ہر صورت میں مطلب ایک ہی ہوگا۔

آیت کا سبب نزول

آیت کا سبب نزول سامنے رہے،تو اس سے بھی آیت کا مفہوم سمجھنے میں آسانی ہوگی۔

حضرت عروہ ؒحضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ دور جاہلیت میںآدمی اپنی بیوی کوجتنی چاہتا طلاقیں دیتا، پھر اس سے رجوع کرلیتا، سویا سو سے بھی زیادہ طلاقیں دیتا اور عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کرلیتا۔ چناںچہ مدینے میں اسی طرح کا ایک واقعہ پیش آیا، ایک شخص نے اپنی بیوی سے کہا:

(اﷲ کی قسم میں تمہیں اس طرح نہیں چھوڑوں گا،کہ تم مجھ سے جدا ہوجاؤ،اور نہ تمہیں اپنے ساتھ رکھوں گا!بیوی نے کہا: وہ کیسے ؟ شوہر نے کہا: میں تمہیں چھوڑتا رہوں گا، اور جب جب عدت ختم ہونے کو ہوگی،رجوع کرلیا کروں گا ۔ ہمیشہ ایسا ہی کرتا رہوں گا!)

وہ عورت ام المؤمنین حضرت عائشہ ؓکے پاس آئی، اور ان سے شکایت کی،ام المؤمنین نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے اس واقعہ کا ذ کر کیا، سن کر آپ خاموش رہے، کوئی جواب نہیں دیا۔اتنے میں یہ آیت آگئی: (الطَّلاَقُ مَرَّتَانِ فَإِمْسَاکٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِیْحٌ بِإِحْسَانٍ۔

(امام حاکم،المستدرک۔ من سورۃ البقرۃ: جلددوم؍ ۳۰۷۔۳۱۰۶، دارالکتب العلمیۃ۔ بیروت)

گویا دور جاہلیت میںعورتوں کو ستانے کا یہ بھی ایک وحشیانہ انداز تھا، عورت کو مدتوں کے لیے چھوڑ دیتے، پھر رجوع کرلیتے،پھر چھوڑدیتے، پھر رجوع کرلیتے، ظلم کایہ سلسلہ زندگی بھرجاری رہتا،کبھی ختم ہونے کا نام نہ لیتا،اس طرح عورت کی پوری زندگی عذاب بن کر رہ جاتی،نہ وہ اس شوہر کی ہوپاتی، نہ اس سے چھٹکارا پاکر کسی اور کی ہوپاتی،وہ اسی طرح گُھٹ گُھٹ کے جان دے دیتی۔

قرآن نے اس ظلم کو ختم کیا، طلاق کے باب میں شوہر کی اس بے قید آزادی کو محدود کیا،اسے بس دوبار رجوع کرنے کا اختیار دیا،اب اگر وہ تیسری بار طلاق دیتا ہے تو اس کے لیے رجوع کا کوئی موقع نہیں رہ جاتا۔

گویا طلاق کا یہ قانون دراصل عورت کی حمایت، اس کی عزت وآبرو کی حفاظت اور اس کی اشک شوئی کے لیے آیا ہے، یہ خاندانوں کو جوڑنے اور گھروں کو بسانے کے لیے آیا ہے، بنے بنائے خاندانوں کو بکھیرنے اور بسے بسائے گھروں کو اجاڑنے کے لیے نہیں آیا ہے!

طلاق کی یہ روح ہمارے سامنے رہے،تو اس سلسلے کی ساری حیرانی ختم ہوجاتی ہے،اور اس باب میں امام ابن تیمیہؒ کا جو نقطۂ نظر ہے،اس کی حقانیت روز روشن کی طرح واضح ہوجاتی ہے۔

حضرت عمرؓ اورتین طلاقوں کا نفاذ

جہاں تک روایت عمر ؓ کا تعلق ہے،جس کا خلاصہ یہ ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں، حضرت ابوبکر صدیقؓ کے زمانے میں، اور حضرت عمرؓفاروق کی خلافت کے ابتدائی دوسالوں میں تین طلاق ایک ہی طلاق مانی جاتی تھی،پھرحضرت عمرؓ نے یہ کہہ کر تین طلاقوں کو تین قرار دے دیا، کہ لوگ طلاق کے معاملے میں جلد بازی سے کام لے رہے ہیں، سوچ سمجھ کے طلاق نہیں دے رہے ہیں۔(صحیح مسلم۔ باب طلاق الثلاث: ۴؍ ۱۸۳، ۳۷۴۶، دار الجیل۔بیروت)

جہاں تک اس روایت کا تعلق ہے، تو یہ روایت اس باب میں توبالکل واضح ہے کہ عہد رسالت اور عہد صدیقی اور عہد فاروقی کے ابتدائی دو سالوں میں زبان سے کہی ہوئی تین طلاقیں ایک ہی طلاق مانی جاتی تھیں، مگر اس باب میں یہ روایت قطعاً واضح نہیں ہے کہ خلافت راشدہ کے اگلے سالوں میں زبان سے کہی ہوئی تین طلاقیں تین ہی شمار ہونے لگی تھیں، جس کے بعد عورت لازماً شوہر سے الگ ہوجاتی تھی، اور ان دونوں کے درمیان صلح ومصالحت کی تمام راہیں بند ہوجاتی تھیں!

یہ بات اس وجہ سے واضح نہیں ہے، کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ثابتہ کو چھوڑکر مصلحتاً کوئی دوسرا طریقہ اپنانے کے لیے جیسی واضح، روشن اور مضبوط بنیاد درکار تھی، اس طرح کی کوئی بنیاد وہاں موجود نہیں تھی۔ جب کہ یہاں مسئلہ سنت رسول کا بھی نہیں، بلکہ قرآنی آیت کا ہے، جہاں اجتہاد کا کوئی دخل نہیں۔

پھراحکام شریعت پر عمل کرنے میں اگرلوگوں سے غلطی یا کوتاہی ہورہی ہو،تو ا میر المؤمنین کا فرض ان کی اصلاح وتربیت ہے،نہ کہ انہیں تنگی میں ڈالنا، اور شریعت کی دی ہوئی سہولتوں سے یکسر محروم کردینا۔

بالفرض حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس وقت کسی وجہ سے یہی مناسب سمجھا کہ لوگوں پر اس معاملے میں سختی کی جائے تو کیا یہ سختی ا نہی لوگوں کے لیے ہوگی جو اس وقت اپنی غلط روی کی بنا پر اس سختی کے سزاوار تھے، یا اس غلطی کا خمیازہ قیامت تک آنے والے تمام مسلمانوں کو بھگتنا ہوگا اور یہ وقتی تنبیہ مستقل اوردائمی قانون کی شکل اختیار کرلے گی؟

حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کبھی بھولے سے بھی اس طرح کا اقدام نہیں کرسکتے تھے، جو ان کے نام نامی سے منسوب کیا گیا ہے، اور بفرض محال اگر کرتے بھی، تو فقہائے صحابہؓ کبھی اس کی تائید نہیں کرسکتے تھے۔

پھر حضرت عمرؓ کا دوراسلامی کلچر، اسلامی تہذیب، اسلامی اخلاق اور اتباع شریعت کے اعتبار سے ایک مثالی دور مانا جاتا ہے، اس دور میں وہ آزاد روی، حقوق نسواں کی وہ پامالی اور احکام شریعت سے وہ لاپروائی ہرگز نہیں پائی جاتی تھی، جس کا احساس اس روایت سے ہوتا ہے۔ صاف محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی بنائی ہوئی کہانی ہے، جو کسی سوچی سمجھی اسکیم کے تحت بنائی گئی ہے!lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر عنایت اللہ اسد سبحانی

تبصرہ کیجیے