طلاق کا قرآنی طریقہ

ہم مسلمانوں کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ طلاق کا یہ نظام معاشرے کے لیے ایک بڑی نعمت ہے۔ اپنے ہی سماج میں ذرا نگاہ دوڑا کر دیکھئے کہ جہاں میاں بیوی کے درمیان نباہ کی صورت نہیں بن پاتی اور وہ طلاق کی نعمت سے محروم ہیں وہاں زندگی کس قدر اذیت ناک ہوتی ہے۔ ہر لمحہ عذاب اور ہر دن جہنم کا دن ہوتا ہے اور کبھی مرد اس عذاب سے چھٹکارے کے لیے تڑپتا ہے تو کبھی عورت اس سے نجات کی راہ ڈھونڈنے میں سر پھوڑتی نظر آتی ہے۔ جن معاشروں میں طلاق کو ناممکن حد تک مشکل بنا کر عدالتی نظام کے سپرد کیا گیا ہے وہاں سالوں سال لوگ عدالتوں کے چکر کاٹتے اور اپنی جوانیاں گھلاتے رہتے ہیں۔ کہیں ایسا ہے کہ طلاق کے خواہش مند کو اس کی بھاری مالی قیمت چکانی پڑتی ہے اور وہ دیوالیہ ہو جاتا ہے خواہ مرد ہو یا عورت۔ جب ایک ساتھ زندگی گزارنا مشکل ہو جاتا ہے اور طلاق کا حصول بھی دشوار نظر آتا ہے تو کہیں مرد خود کشی کرتے ہیں تو کہیں عورت خود ہی اپنی جان لے لیتی ہے، کہیں شوہر کو اس کی سسرال والے قتل کر دیتے ہیں تو کہیں عورت کو سسرال میں قتل کر دیا جاتا ہے۔

طلاق زندگی کو مشکل کے بجائے آسان اور ناخوش گوار سے خوش گوار بنانے کی خدائی ترکیب ہے کہ نباہ نہ ہونے کی صورت میں مرد و عورت ایک دوسرے سے الگ ہوجائیں اور اپنے اپنے مطابق بہتر زندگی کی تلاش کرسکیں۔ حلال چیزوں میں طلاق کے ناپسندیدہ ہونے کا مطلب یہ ہے کہ دین بنیادی طور پر رشتوں کو جوڑنے اور بہتر بنانے کا حامی ہے لیکن اگر ایسا نہ ہو سکے تو طلاق کی نعمت ان کے لیے موجود ہے کہ وہ اسے بہ حسن و خوبی استعمال کرتے ہوئے اپنے اپنے راستے الگ کرلیں اور اذیت کی زندگی سے خود کو نکال لیں۔ لیکن افسوس کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں نے اسے اپنی بے دینی، لاعلمی اور بدعملی کے سبب اپنے لیے عذاب اور سماج کے لیے تضحیک و تنقید کا موضوع بنا دیا ہے۔ اس چیز نے عام سماج کو یہ تاثر دیا ہے کہ مسلمانوں میں طلاق، طلاق، طلاق کہہ کر عورت کو جو ’’پتھر مارے‘‘ جاتے ہیں وہ عورت پر ظلم ہے اور یہ ظلم اگرچہ ایک جاہل اور بے دین فرد کرتا ہے مگر وہ اسلام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے، جب کہ دین میں ایسا کچھ نہیں۔ وہاں تو بہ سہولت مرحلہ وار اور منصوبہ بند طریقے سے بہ حسن و خوبی انجام دینے کا راستہ تجویز کیا گیا ہے مگر لوگ طلاق کا غلط طریقہ اختیار کر کے خود اپنے اوپر بھی ظلم کرتے ہیں اور عورت اور اسلام پر بھی زیادتی کے مرتکب ہوتے ہیں۔

قرآن مجید نے طلاق سے پہلے کے مراحل کو سورۂ نسا کی آیت ۳۴،۳۵ میں بیان فرمایا ہے۔ ان آیات میں طلاق سے بچنے اور رشتوں کو نبھانے کے لیے چار باتیں بتائی آگئی ہیں:

۱- سمجھانا بجھانا

۲- خواب گاہوں میں علیحدگی اختیار کرنا

۳- تادیبی مار (جس کے بارے میں حدیث میں وضاحت ہے کہ تادیبی ہوگی تعذیبی نہیں)

۴- ثالثی

شروع کی تین ہدایات ایسی ہیں جن کا تعلق شوہر بیوی کے درمیان ہے جب کہ چوتھی بات کا تعلق خاندان اور معاشرے سے ہے۔ اور یہ چاروں ہدایات بھی مرحلہ وار ہیں۔ شروع میں اس بات کی کوشش ہے کہ دونوں کا معاملہ باہمی افہام و تفہیم سے حل ہوجائے اگر نہ ہوسکے تو اہل خانہ مداخلت کریں۔ قرآن نے کہا ’’اگر وہ دونوں اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا۔‘‘

قرآن پاک سورہ بقرہ آیت ۲۳۰-۲۲۹ میں جہاں طلاق کا حکم ہے، واضح طور پر کہا گیا ہے:

’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں، انہیں نہ پھلانگو اور جو اللہ کی مقرر کردہ حدود کو پھلانگتے ہیں دراصل وہی لوگ ظالم ہیں۔‘‘ اور آگے کہا گیا:

’’یہ اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں یہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کے لیے بیان کرتا ہے جو علم رکھتے ہیں۔‘‘ یہ وہ ظلم ہے جو ہم اللہ کی مقرر کردہ حدود کو نظر انداز کر کے خود اپنے اوپر، عورت پر اور پورے مسلم معاشرے پر کرتے ہیں۔

سورہ طلاق کی شروعات ان الفاظ میں ہوتی ہے:

ترجمہ: ’’اے نبی جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں ان کی عدت کے لیے طلاق دیا کرو اور عدت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ (زمانہ عدت میں) نہ تم انہیں ان کے گھروں سے نکالو اور نہ وہ خود نکلیں الا یہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور جو کوئی بھی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گا وہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا۔ تم نہیں جانتے، شاید اللہ اس کے بعد (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے جب وہ عدت کی مدت کے خاتمے کو پہنچیں تو یا تو انہیں بھلے طریقے سے (اپنے نکاح میں) روک رکھو یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہوجاؤ۔‘‘

قرآن مجید کی ان آیات پر غور کریں تو معلوم ہوگا کہ طلاق کوئی ایسی چیز نہیں کہ اسے جب اور جس حالت میں چاہا استعمال کرلیا بلکہ ایک ایسا عمل ہے جس کے لیے سوچ سمجھ اور ہوش و ہواس کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی بھی مطلوب ہے۔ چناں چہ فقہا نے لکھا ہے کہ طلاق عورت کو طہر اور پاکی کی حالت میں ہی دی جائے اور اس وقت بھی نہ دی جائے جب وہ حمل سے ہو اور اگر عورت کو ایسی حالت میں طلاق دی گئی تو اس کی عدت اس وقت ختم ہوگی جب وہ بچے کو جنم دے چکے، یہ بات صراحت کے ساتھ سورہ طلاق کی آیت تین میں کہی گئی ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی صراحت کے ساتھ کہی گئی ہے کہ طلاق کے وقت کم از کم دو قابل اعتماد افراد کو اس کا گواہ بنایا جائے ساتھ ہی رجوع کی صورت میں بھی دو گواہوں کی موجودگی ضروری ہے کہ معاشرہ جان لے کہ طلاق کے بعد زوجین نے رجوع کر لیا ہے۔

ہمارے معاشرے کی قرآن اور شرعی احکامات سے ناواقفیت کا عالم یہ ہے کہ لوگوں نے طلاق کو ’’ہزوا‘‘ یعنی مذاق بنا لیا ہے اور جب جی چاہا طلاق، طلاق، طلاق کہہ دیا اور بعد میں شرمندہ ہوتے ہیں کہ ہائے ہم نے یہ کیا کیا۔ اپنا گھر تباہ کرلیا اور پھر لوگوں سے فتوے مانگتے پھرتے ہیں کہ ’’شاید اللہ اس کے بعد بھی نباہ کی کوئی صورت پیدا کردے‘‘ غور کیجیے کہ غصہ اور جاہلانہ انداز کی طلاق کا تو ذکر ہی کیا کہ اس کے پیچھے نہ سوچ و فکر کی طاقت ہے اور نہ منصوبہ بندی، وہ تو منصوبہ بند طلاق کی صورت میں بھی نباہ کے امکانات اور واپسی کا راستہ کھلا رکھتا ہے۔ یہ تو خود ہماری جہالت ہے کہ اللہ کی رحمت کے دروزے ہم خود اپنے اوپر بند کرلیتے ہیں اور بعد میں پچھتاتے اور تڑپتے ہیں۔ قرآن صاف کہتا ہے کہ :

’’جب وہ عدت کی مدت کے خاتمے کو پہنچیں تو یا تو انہیں بھلے طریقہ سے روک رکھو (رجوع کرلو) یا بھلے طریقے سے ان سے جدا ہوجاؤ۔‘‘

اب بعض لوگ اس پر بحث کرتے ہیں کہ بہ یک وقت تین طلاقوں کو تین مانا جائے یا ایک تصور کیا جائے۔ یہ اختلاف فقہا کا اختلاف ہے اور قرآنی صراحتوں کی صورت میں اس اختلاف کی حیثیت بہت معمولی ہے کہ دورِ نبوی میں بیک وقت تین طلاق کا طریقہ رائج تھا ہی نہیں اور یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ نبی موجود ہو اور اس کے صحابہ اس کی موجودگی ہی میں قرآن کے صریح احکامات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بہ یک وقت تین طلاق جسے فقہا کی اصطلاح میں ’’طلاق بدعت‘‘ کہا جاتا ہے، اپنی بیویوں کو دیں۔ اور اگر یہ بدعت ہے تو رسولِ پاکﷺ کے قولِ صریح ’’کل بدعۃ ضلالۃ و کل ضلالۃ فی النار‘‘ … یعنی ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی جہنم میں لے جانے والی ہے‘‘ کے سبب اسے ختم کر دیا جانا چاہیے۔ مسلم معاشرے کی یہ کیسی ’’دینی سوچ‘‘ ہے کہ کچھ بدعتوں کو ختم کر دیا جائے اور کچھ کو ہم اپنے کندھوں پر ڈھوتے رہیں۔

نکاح اور طلاق محض الفاظ کا نام نہیں۔ یہ ایک عمل اور معاشرتی پروسس کا نام ہے جس طرح نکاح ایجاب و قبول کے عمل سے قائم ہوتا ہے اسی طرح طلاق بھی ایک عملی پروسس ہے جو انسانی زندگی میں وقوع پذیر ہوتا ہے، باوجود اس کے کہ اس عمل کے لیے الفاظ کا سہارا لیا جاتا ہے۔ یہ الفاظ زمان و مکان اور حالات کے درمیان (span of tirme) میں نافذ ہوتے ہیں اور یہ زمان و مکان اور حالات کا دائرہ ہمیں رجوع اور اصلاح کا موقع دیتا ہے۔ یہی بات ہے جو قرآن کی آیت سے واضح ہوتی ہے:

’’طلاق دو بار ہے۔ یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو اس میں سے کچھ بھی واپس لو۔‘‘(البقرۃ:۹۲۹)

الطلاق مرتان سے کیا بات واضح نہیں کہ ایک مرتبہ طلاق دی اور پھر محسوس کیا کہ نہیں چلو ساتھ رہ کر اچھی زندگی کی شروعات کرتے ہیں۔ اس طرح انہوں نے اپنی ازدواجی زندگی میں ایک مرتبہ طلاق کا حق استعمال کرلیا۔ لیکن حالات نہ بن سکے اور پھر طلاق کی نوبت آگئی۔ لیکن اس بار پھر فریقین نے نباہ کی کوشش کی اور چاہا کہ نہیں پھر مل کر کوشش کرتے ہیں کہ گھر نہ ٹوٹنے پائے اور رجوع کرلیا۔پھر ساتھ ساتھ رہنے لگے اور نباہ کی کوشش کی مگر افسوس کہ پھر نباہ نہ ہوسکا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دوبار طلاق ہوئی اور نباہ کی کوشش کی گئی مگر ممکن نہیں ہوسکا، پھر کیا کیا جائے؟

مطلب صاف ہے کہ دو بار طلاق ہوئی اور دوبار نباہ کی کوششیں ہوئیں مگر بات بن نہیں سکی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب زوجین کا ساتھ رہنا نہ تو ممکن ہے اور نہ ہی مناسب کہ وہ نباہ کی تمام شکلیں اپنے لیے بند پاتے ہیں۔ اس لیے اگر تیسری بار بھی علیحدگی ہوئی تو اب رجوع بے کار ہے اس لیے جائز بھی نہیں۔ اب دونوں کو اپنی اپنی راہیں الگ ہی کرلینی چاہئیں کہ دونوں ایک اچھی زندگی جی سکیں۔

ہم نے بار بار یہ بات کہی ہے کہ قرآن اور اس کا طریقہ کار علیحدگی کی بات کرتے ہوئے بھی اتحاد اور نباہ کی راہیں تلاش کرتا ہے اور امید دلاتا ہے کہ شاید نباہ کی صورت نکل آئے اور اس نباہ کے لیے دو مرتبہ تک علیحدگی کا موقع دیتا ہے اور اسی وقت علیحدگی کراتا ہے جب اتحاد اور نباہ کے امکانات معدوم ہوجائیں۔

آپ طلاق سے پہلے کے مراحل سے لے کر ’’الطلاق مرتان‘‘ (طلاق دو بار ہے) تک دیکھ لیجیے ہر مرحلے میں قرآن نباہ کے امکانات ہی تلاش کرتا ہے۔ مگر ہماری جاہلانہ روش ان امکانات کو تہس نہس کردیتی ہے۔

اللہ تعالیٰ نے طلاق ہی کے سیاق و سباق میں صاف طور پر فرمایا ہے:

’’اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ‘‘ اور پھر اپنی اس نعمت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:

’’اور بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے تمہیں کس نعمت سے سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔‘‘ (البقرۃ:۲۳۰)

بعد ِطلاق :قرآنی احکام

طلاق کے سلسلے میں قرآن مجید کا بنیادی منشا یہ ہے کہ زوجین نباہ کی ہر ممکن کوشش کریں اور اس سلسلے میں اگر ضرورت محسوس ہو تو اہل خاندان اور معاشرے کے ہوش مند اور ذمہ دار افراد بھی ان کی مدد کریں اور اگر یہ کوشش ناکام ہوجاتی ہے اور طلاق ہی حل نظر آتی ہے تو پھر قرآنی طریقے کے مطابق بتائے گئے وقت میں صرف ایک طلاق دی جائے۔ اس ایک طلاق کی صورت میں اب بھی رجوع اور ازدواجی زندگی کی امید اور امکان باقی رہتا ہے کیوں کہ دین علیحدگی سے زیادہ نباہ اور رشتے کو بنائے رکھنے کو ترجیح دیتا ہے۔ لیکن پھر بھی اگر ممکن نہ ہوسکے اور طلاق ہو ہی جائے تو قرآن کا مقصود اور اس کی ہدایات یہ ہیں کہ یہ علیحدگی اچھے اور خوش گوار انداز میں انجام پائے اور فریقین میں سے کسی کو بھی ضرر یا نقصان پہنچنے سے بچایا جائے۔ چناں چہ اسلام اور قرآن ما بعد طلاق کے مراحل میں بھی واضح رہ نمائی اور ہدایت دیتا ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام مراحل میں قرآن جس چیز کی بار بار تلقین کرتا ہے وہ ہے اللہ کا ڈر اور اس کا تقویٰ اختیار کرنا۔ اور یہاں علیحدگی کے بعد کے مرحلے میں پیش آمدہ حالات میں بھی قرآن یہی ہدایت کرتا ہے کہ لوگ اللہ کا تقویٰ اختیار کریں اور ایک دوسرے پر زیادتی اور ایک دوسرے کا حق مارنے سے بچیں۔

سورہ طلاق کی آیت ۲میں جہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ عدت مکمل ہونے کے بعد یا تو انہیں بھلے طریقے سے ساتھ رکھ لیا جائے یا بھلے طریقے سے الگ کر دیا جائے وہیں یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ:

’’جو اللہ کا تقویٰ اختیار کرتا ہے اس کے لیے اللہ تعالیٰ راستے بنا دیتا ہے اور اس کو ایسی ایسی جگہوں سے رزق دیتا ہے جہاں کا اس کو گمان بھی نہیں ہوتا۔‘‘

اس کے بعد کی آیات میں حاملہ اور غیر حاملہ کی عدت کی مدت بیان کرنے کے بعد فرمایا گیا کہ:

’’جو اللہ کا تقویٰ اختیا رکرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کے لیے اپنی جانب سے آسانیاں پیدا کر دیتا ہے۔‘‘

قرآن اس بات کی تاکید کرتا ہے کہ عورت عدت کی یہ مدت شوہر کے گھر پر ہی اسی کی کفالت میں اور خرچ پر گزارے گی اور اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اس دوران اسے نہ تو کوئی ضرر پہنچایا جائے گا اور نہ ہی انتقامی جذبے کے تحت اس کی زندگی کو تنگ کیا جائے گا۔ اس کو وہی رہائش اور معیارِ زندگی فراہم کیا جائے گا جس میں تم رہتے ہو اور کوئی تفریق نہ ہوگی۔

زوجین کے درمیان علیحدگی کی صورت میں سب سے پہلا مسئلہ بچوں کا پیدا ہوتا ہے کہ ان کا کیا ہوگا۔ قرآن اصولی طور پر بچوں کی کفالت اور پرورش کا ذمہ دار بھی مرد کو ہی بناتا ہے اور اسی کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے جملہ معاملات اور امور کا انجام دے اور ایسا اس لیے ہے کہ عورت جب دوسری شادی کرے تو بچے اس کی خوشگوار ازدواجی زندگی میں کسی قسم کی دشواری کا سبب نہ ہوں۔

چھوٹے بچوں یا دودھ پیتے بچوں کے سلسلے میں علیحدگی کی صورت میں قرآن واضح رہنمائی کرتا ہے کہ اگر مرد چاہے تو وہ پرورش کی خاطر یا دودھ پلانے کی خاطر انہیں ان کی ماں کے حوالے کر سکتا ہے مگر اس صورت میں مرد اس بات کا مکلف ہوگا کہ بچے کی ماں کے کھانے پینے اور اوڑھنے پہننے کا خرچ فراہم کرے۔

سورہ البقرۃ آیت نمبر ۲۳۲ میں فرمایا گیا:

اور مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ اس صورت میں بچے کے باپ کو انہیں معروف طریقے سے کھانا کپڑا دینا ہوگا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر بار نہ ڈالا جائے گا۔ نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے گا اور نہ باپ کو ہی اس کی وجہ سے تنگ کیا جائے گا۔‘‘

جب کہ سورہ طلاق کی آیت میں فرمایا گیا کہ:

’’آپس میں معروف کا معاملہ کرو اور اگر تنگ دستی ہو تو کوئی دوسری عورت دودھ پلائے۔‘‘

قرآن کے ذریعے دی گئی ہدایات سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ بچے کی وجہ سے نہ تو عورت کا استحصال کیا جانا چاہیے اور نہ اس کو بہانا بنا کر عورت کی جانب سے مرد کا استحصال ہو۔ مطلب صاف ہے کہ معاملات معروف طریقے سے اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کیے جائیں اور اس میں بھی معاشرے کے باشعور لوگ موجود ہوں۔ قرآن یہاں پر بھی اہل معاملہ کو فیاضی، تقویٰ اور حسن معاملہ کی لاَ تَنْسَوُا الْفَضْلَ بَیْنَکُمْ کہہ کر تاکید کرتا ہے۔

علیحدگی کی صورت میں دوسرا اہم مسئلہ مال اور جائداد کا آتا ہے۔ قرآن اس سلسلے میں بھی واضح ہدایت اور رہ نمائی دیتا ہے۔ سورہ نساء کی آیت ۲۰ میں ارشادِ ربانی ہے:

’’اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی لانے کا ارادہ ہی کرلو (یعنی طلاق ہو ہی جائے) تو پہلی بیوی کو خواہ تم ے ڈھیر سارا مال ہی کیوں نہ دے دیا ہو، اس میں سے کچھ بھی واپس نہ لو۔‘‘

اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو قرآن نے اسے بہتان اور اثم مبین بتایا ہے۔ اس سے آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو ایسی صورت میں حکم دیتا ہے کہ

’’اور جن خواتین کو طلاق دی گئی ہے انہیں مناسب طریقے سے کچھ مال دے کر رخصت کیا جائے اور یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔‘‘ (البقرۃ:۲۴۱)

اس پوری بحث سے جو بات کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے وہ یہ ہے کہ طلاق ایک انتہائی سنجیدہ معاشرتی مسئلہ ہے اور اسے یوں ہی انجام نہیں دیا جانا چاہیے بلکہ بہت سوچ سمجھ کر اور نباہنے کے تمام امکانات کو بروئے کار لاکر ہی انجام دیا جائے۔ اسی طرح یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ اس پورے پروسس میں فریقین اللہ کے خوف اور تقویٰ کی اسپرٹ کے ساتھ کام کریں۔ نہ تو مرد انتقامی جذبے سے مغلوب ہو اور نہ ہی عورت۔ کسی طرح کسی بھی صورت میں کسی بھی فریق کا استحصال نہ ہو۔ قرآن کی ہدایات سے یہ بات بھی واضح ہوجاتی ہے کہ بچوں اور مال و جائداد کے سلسلے میں بھی کسی فریق پر نہ تو زیادتی ہونی چاہیے اور نہ کسی کو اس کے حق سے محروم کیا جانا چاہیے۔

مسلم معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ جہاں پوری عملی زندگی میں وہ قرآنی ہدایات کے علم اور اس پر عمل سے خالی ہے وہیں اس طلاق کے سلسلے میں بھی قرآنی ہدایات سے بالکل دور ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ معاملات کو تقویٰ کی اسپرٹ سے خالی رہ کر انجام دیا جاتا ہے اور ایک دوسرے کا حق مارنے کی کوشش انتقامی جذبے کے تحت کی جاتی ہے۔ جب ایسا ہوتا ہے تو لوگ عدالتوں سے انصاف طلب کرتے ہیں جہاں انصاف کے لیے انہیں طویل مدت تک عدالتوں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں اور اس کے باوجود بھی یہ بات یقینی نہیں ہوتی کہ انہیں وہ انصاف حاصل ہوسکے گا جو قرآن دیتا ہے۔ اس پر مزید یہ ہوتا ہے کہ اسلام اور قرآنی ہدایات بدنام ہوتی ہیں اور ان لوگوں کو اسلام سے عداوت رکھتے ہیں بہت کچھ کہنے اور کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ ہندوستان کے موجودہ سیاسی حالات میں اس بات کو اچھی طرح دیکھا اور سمجھا جاسکتا ہے۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی