ایک مجلس کی تین طلاقیں اور قرآن

قرآن پاک میں طلاق سے متعلق جو آیتیں آئی ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے طلاق کا یہ قانون بندوں کو تنگی میں ڈالنے کے لیے نہیں دیا ہے ، یہ قانون آیا ہے تا کہ دور جاہلیت کی بے اعتدالیوں کو ختم کرے اور لوگوں کو طلاق کے سلسلے میں ایک نہایت حکیمانہ اور منصفانہ ضابطے کا پابندکرے ۔

دور جاہلیت میں عورتوں کا بری طرح استحصال ہوتا تھا۔ مرد عورت کو طلاق دیتا ، عدت پوری ہونے سے پہلے اس سے رجوع کرلیتا ۔ چند دنوں بعد پھر اسے طلاق دے دیتا۔ عدت ختم ہونے کو ہوتی تو پھر رجو ع کرلیتا ۔ اس طرح وہ طلاق دیتا رہتا ، عدت ختم ہونے سے پہلے رجوع کر تا رہتا ۔

یہ طلاق کا لا متناہی سلسلہ ہوتا ۔ جو عورت کے لیے ایک عذاب ہوتا ۔ نہ وہ بیوی ہی بن کر رہ پاتی ، نہ طلاق کی عدت پوری کرکے اس ظالم شوہر سے نجات ہی حاصل کرپاتی ۔

اسلامی شریعت جو انسانی زندگی سے مظالم کا خاتمہ کرکے انسانوں کو رحمت الہی سے ہمکنار کرنے آئی ہے ۔ جس کی خصوصیت ہی ہے مظلوموں کی اشک شوئی اور کمزوروں کی دل جوئی، اس نے طلاق کی تمام بے اعتدالیوں کا خاتمہ کردیا۔ زندگی بھر کی ان گنت طلاقوں کو ختم کرکے بس تین بار طلاق دینے کا اختیار باقی رکھا ۔

تین بار طلاق کا مطلب یہ ہے کہ ہر طلاق کے بعد عدت ہوگی، جس میں سے دوعدتوں میں شوہر اور بیوی دونوں کو یہ موقع حاصل ہوگا کہ وہ اپنے رویے پر غور کرلیں۔ اور سنجیدگی سے سوچ لیں کہ ان کے لیے بہتر روش کیا ہے؟ تیسری بار طلاق دینے پر سوچنے کا موقع ختم ہوجائے گا۔ اور اب بس ایک ہی راستہ ہوگا وہ یہ کہ عدت گزرنے کے بعد وہ دونوں ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہوجائیں۔چناںچہ فرمایا :

’’طلاق تو بس دوبار ہے ،پس بھلا ئی کے ساتھ روک لینا ہے، یا خوبصورتی کے ساتھ رخصت کردینا ہے۔‘‘ (البقرہ:۲۲۹)

طلاق تو بس دوبار ہے ، مطلب یہ ہے کہ بس دوبار ایسا ہوگا کہ طلاق دینے کے بعد آدمی کو رجوع کرنے یا نہ کرنے کا حق حاصل ہوگا ۔ اسے یہ حق حاصل ہوگا کہ عزت کے ساتھ عورت کو روک لے یا خوبصورتی سے رخصت کردے ۔البتہ تیسری بار طلاق دینے کے بعد رجوع کا حق نہیں حاصل ہوگا ۔

آدمی کو بس تین بار طلاق دینے کا حق ہوگا۔ ہر طلاق کی ایک عدت ہوگی ، اور یہ عدت طلاق دیتے ہی شروع ہوجائے گی۔ عدت کے دوران وہ جتنی بھی طلاقیں دے، وہ لغو ہوں گی۔ یعنی ان کا کوئی شمار نہیں ہوگا ۔ دوسرے لفظوں میں اگر اس نے یکبارگی تین یا اس سے زائد طلاقیں دیدیں تو وہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی ۔

قارئین کے اطمینان کے لیے یہاں یہ بتادینا مناسب ہوگا کہ طلاق کی عدت کے سلسلے میں امام ابن تیمیہؒ کا یہی نقطۂ نظر ہے، جو فتاوی شیخ الاسلام میں تفصیل سے مذکور ہے۔

یہ بات ذہن میں رہے کہ طلاق کے معنی منہ سے لفظ طلاق ادا کرنے کے نہیں ہیں ، بلکہ بیوی کو چھوڑدینے کے ہیں ۔ الطَّلاَقُ مَرَّتَان کا صحیح مفہوم یہ ہوگا کہ بیوی کو چھوڑدینے پھر رجوع کرلینے کا حق بس دوبار ہوگا ۔ یہ چھوڑنا لفظ طلاق کے ذریعہ بھی ہوسکتا ہے ، یا کسی بھی ایسے قول سے ہوسکتا ہے جو اسے چھوڑدینے کا مفہوم اد ا کرتا ہو ۔ گویا اصل قابل لحاظ چیز بیوی کو چھوڑ دینا ہے ، اس چھوڑ دینے کے لیے چاہے آپ کوئی لفظ ایک بار استعمال کریں ، یا وہی لفظ سوبار استعمال کریں ۔ اس سے معاملے کی نوعیت پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔

یہ نقطۂ نظر بہت سی الجھنوں کا حل

بلاشبہ یہ نقطۂ نظر بہت سی سماجی الجھنوں کا حل ہے۔ مثال کے طور پراگر کوئی شخص شراب پی کر نشہ سے بدمست ہوجائے۔ اور نشہ کی حالت میں بیوی کو تین طلاق دے دے تو کچھ فقہاء کے نزدیک یہ طلاق نہیں ہوگی، اس لئے کہ اس نے عقل وہوش کی حالت میں طلاق نہیں دی ہے ۔

فقہائے احناف کے نزدیک یہ طلاق معتبر ہوگی۔ اور یہ رشتۂ زوجیت ہمیشہ کے لیے منقطع ہوجائے گا۔ انہوں نے حالت طلاق میں اس کے عقل وہوش سے عاری ہونے کا اعتبار نہیں کیا۔ ان کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ اس نے شراب پی کر خدا کی نافرمانی اور حکم شرع کی خلاف ورزی کی ہے ۔ لہٰذا یہ اس کی سزا ہے ۔

اس پر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شراب نوشی کی سزا شریعت میں بال بچوں سے محرومی تو نہیں ہے ۔ پھر کون ہوتا ہے شرابی کے لیے یہ سزا تجویز کرنے والا ؟

دوسرا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ شریعت کی خلاف ورزی تو شراب پینے والے نے کی ہے، اس کی بیوی ، یا بال بچوں نے تو نہیں کی ہے ۔ اب اگر یہ سزا ہے تو یہ سزا بس مجرم تک محدود رہنی چاہیے ۔ بال بچوں کو تو اس کی سزا نہیں ملنی چاہیے۔

جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ اس سزا کی جتنی چوٹ اس شرابی کو پہنچے گی، اس سے زیادہ ،کئی گنا زیادہ چوٹ اس کے بال بچوں کو پہنچے گی ۔جبکہ اس میں ان کا کوئی قصور نہیں ہے، بلکہ یہاں بہت حد تک اس کا بھی امکان ہے کہ اس کی دین دار اور خدا ترس بیوی نے اسے شراب نوشی پر ملامت کی ہو، یا کرتی رہی ہو، اس پر اس کے شوہر نے،جب کہ وہ نشے سے مخمور اور عواقب سے بے پروا تھا اس نے اس پر طلاقوں کی اندھا دھند فائرنگ (Firing) کردی ہو ۔

یہاں قرآن پاک کی روشنی میں طلاق کا جو نقطۂ نظر پیش کیا گیا ہے، اس کے لحاظ سے اگر فقہائے احناف کی بات بھی مان لی جائے کہ نشہ کی حالت میں بھی طلاق واقع ہوجائے گی، اور یہ اس کے لیے سزا ہوگی، تو اس سے اس کے بیوی بچوں کو کوئی ناقابل تلافی نقصان نہیں پہنچے گا، اس لیے کہ یہ ایک ہی طلاق شمار ہوگی، جس کے بعد شوہر کو اپنی اس حرکت سے توبہ کرلینے اور بیوی سے رجوع کرلینے کا موقع باقی رہے گا ۔

اسی طرح ایک شخص کبھی غصہ سے بری طرح مغلوب ہوجاتا ہے، اس طور سے کہ اسے کچھ بھی ہوش نہیں رہتا کہ وہ کیا بک رہا ہے ، اسی حالت میں وہ بیوی کو تین یا اس سے زائد طلاقیں دے دیتا ہے۔

ایسے مغلوب الغضب انسان کی طلاق ہوگی یا نہیں ؟ کچھ فقہاء کے نزدیک وہ طلاقیں ہوجائیںگی اور بیوی عدت گزار کے ہمیشہ کے لیے اپنے شوہر سے الگ ہو جائے گی۔ کچھ دوسرے فقہاء کے نزدیک یہ طلاقیں نہیں ہوں گی۔

جن فقہاء کے نزدیک یہ طلاقیں واقع ہوجائیں گی، اس نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو یہ بس ایک طلاق رجعی ہوگی، جس کے بعد اس مغلوب الغضب شوہر کے لیے اس کا موقع باقی رہے گا کہ وہ آیندہ کے لیے محتا ط ہوجائے اور بیوی سے رجوع کرکے اپنے تعلقات بحال کرلے ۔

یہ چند باتیں عرض کی گئیں محض قرآنی نقطۂ نظر اور اس کی حکمتوں کی وضاحت کے لیے۔ ورنہ ظاہر ہے یہاں اس سلسلہ کے فقہی اختلافات کے درمیان محاکمہ (Judging) مقصود نہیں۔ البتہ یہ خواہش ضرور ہے کہ مسلمان قرآنی نقطۂ نظر کو سمجھیں اور قرآن نے طلاق کا جو خوبصورت طریقہ بتا یا ہے، بوقت ضرورت اسی طریقہ پر کار بند ہوں ۔

اگر وہ قرآنی طریقہ پر کار بندہوتے ہیں، توانہیں ان الجھنوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کہ تین طلاقیں ایک مانی جائیں یا تین مانی جائیں ۔ اسی طرح وہ ان بے شمار پیچیدگیوں اور مصیبتوںسے نجات پاجائیں گے ، جو جذباتی انداز سے طلاق دینے کے نتیجے میں لوگوں کو پیش آتی ہیں، اور زندگی بھر خون کے آنسو رلاتی ہیں!

مسلمانوں کے ایک بڑے طبقہ میں یہ تصور پایا جاتا ہے کہ جب تک تین طلاقیں نہ دی جائیں طلاق مکمل نہ ہوگی۔ غالبایہی تصور ہے جو انہیں اس بات پر مجبور کرتا ہے کہ وہ یکبار گی یا وقفہ وقفہ سے تین طلاقیں دے دیں۔

یہ تصور احکام شریعت سے ناواقفیت کا نتیجہ ہے ۔ اگر کوئی اپنی بیوی سے گلوخلاصی چاہتا ہے، تو اس کے لیے اتنا کافی ہے کہ اسے ایک طلاق دے دے ۔ ایک طلاق دینے سے ہی عورت کی عدت شروع ہوجائے گی۔ عدت گزرجانے سے زوجیت کا تعلق ختم ہوجائے گا۔ دونوں ایک دوسرے سے آزاد ہوجائیں گے ۔

شیئر کیجیے
Default image
محمد عنایت اللہ اسد سبحانی