طلاق ایک سماجی ضرورت

اسلام نے نہ صرف مسلمانوں کو نکاح کی ترغیب دی ہے ، بلکہ اس کے سلسلے میں ایسے اصول اور ایسے ضابطے دیے ہیں کہ اگر مسلمان ان کی پابندی کریں ، تو اپنی عائلی زندگی میں کبھی الجھنوں کا شکار نہ ہوں ۔ کبھی خاندانی اختلافات سے دوچار نہ ہوں ۔ ان کی زندگی نہایت پر مسرت اور خوش گوار زندگی ہو ، الفت اور محبت کی زندگی ہو ۔

اسلام نے نکاح کا یہ نظام بنایا ہی ہے اس اساس پر کہ شوہر کو بیوی سے ، بیوی کو شوہر سے سکون حاصل ہو ۔ نہ صرف یہ کہ ہر ایک کو دوسرے سے سکون حاصل ہو ، بلکہ وہ دونوں ایک دوسرے کے لیے سراپا سکون اور ذریعۂ سکون بن جائیں ۔اور یہ کوئی وقتی کیفیت نہ ہو ، بلکہ ایک دائمی کیفیت ہوجائے ۔ وہ ایک دوسرے کے لیے ایسا سکو ن بن جائیں کہ ایک دوسرے کے بغیر انہیں چین نہ آئے ۔

اسلام میں نکاح نام ہی ہے دائمی رفاقت کا۔ یہ دراصل دائمی رفاقت کا عہد وپیمان ہوتا ہے ۔ جب کسی مسلم خاتون کا آنچل کسی مسلمان مرد کے دامن سے باندھا جاتا ہے ، تو اس وقت باندھنے والوں کی یہی تمنا ہوتی ہے ، ان کی تمنا ہوتی ہے کہ اسے اس طرح مضبوط باندھا جائے کہ کبھی کھلے نہیں ۔

اسلام میں نکاح کی یہی روح ہے ۔ یہی وجہ ہے کوئی نکاح اگر متعین مدت کے لیے یا متعین مدت کی نیت سے ہو ، تو وہ اسلام میں جائز نہیں ۔

طلاق ایک سماجی ضرورت

لیکن اسلام اس احتمال کو بھی تسلیم کرتا ہے ، کہ یہ عہد محبت اور یہ پیمان رفاقت جو زندگی بھر کے لیے ہوا تھا ، زوجین یا ان میں سے کسی ایک کی غلطی سے ٹوٹ بھی سکتا ہے ۔

اسلام انسانوں کو پاکیز ہ محبت اور بے لوث الفت کی آخری بلندیوں تک لے جانا چاہتا ہے اور اس نے اس طرح کے اصول اور ضابطے بھی دیے ہیں کہ اگر لوگ سنجیدگی سے ان کا لحاظ کریں و وہ ان بلندیوں تک پہنچ بھی سکتے ہیں ۔

لیکن وہ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ ساری طبیعتیں یکساں نہیں ہوسکتیں۔ ضروری نہیں ہے کہ ساری طبیعتوں میں محبت اور ہم آہنگی پیدا ہوجائے اور وہ ہمیشہ قائم رہے۔ اس کا بہت امکان ہے کہ دوآدمی دائمی دوستی ورفاقت کا ہاتھ ملائیں، مگر کچھ دور ساتھ چلنے پر یہ محسوس کریں کہ یہ ساتھ بے جوڑ ہوگیا ہے ۔ اس کو نباہنا مشکل ہے۔

اب اگر یہ یقین ہوجائے کہ یہ رشتہ بے جوڑ ہوگیا ہے اور یہ ساتھ نبھنے والا نہیں تو ایسی صورت میں اسلام اس بات پر مجبور نہیں کرتا کہ اس رشتے کو باقی ہی رکھا جائے، البتہ وہ یہ تاکید ضرور کرتا ہے کہ یہ رشتہ جو اتنے لوگوں کی موجودگی میں اور اتنے حوصلوں اور ارمانوں کے ساتھ ہوا تھا اسے توڑنے میں جلد بازی نہ کی جائے۔ اسے توڑنے سے پہلے سو بار سوچا جائے اس کے بارے میں کوئی فیصلہ جذبات کی آندھی میں نہیں عقل وہوش کی روشنی میں کیا جائے ۔ پھر اگر اسے توڑنے کا ہی فیصلہ ہو ، تو جتنی محبت کے ساتھ اس خاتون کو اپنے گھر لائے تھے اتنی ہی ہمدردی اور خوش اخلاقی کے ساتھ گھر سے رخصت کیا جائے ۔

چناںچہ اس موقع کے لیے دین اسلام نے نہایت مفصل ہدایات دی ہیں ، اور وہ ہدایات اتنی بلند اور معیاری ہیں کہ اس دین کی عظمت کو تسلیم کرنے کے لیے کافی ہیں۔

آج دشمنان اسلام اسلام کے قانون طلاق کا مذاق اڑاتے ہیں ۔ وہ اسلام کو الزام دیتے ہیں کہ اس نے عورت کو عزت نہیں دی ہے ۔ اس نے طلاق دینے کا سارا اختیار مرد کو دے دیا ہے ۔ عورت کو مرد کے رحم وکرم پر چھوڑدیا ہے!

تو کیا یہ بات صحیح ہے ؟ کیا واقعی اسلام نے عورت پر ظلم کیا ہے ؟ کیا عورت مرد کے رحم وکرم پر چھوڑدی گئی ہے ؟ کیا عور ت مرد سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہے تو اس کے سامنے کوئی راستہ کھلا ہوا نہیں ہے ؟

اسلام کے ضابطۂ طلاق کی عظمت اور اس کی قدر و قیمت کو سمجھنا ہو ، تو پہلے یہ معلوم کیجئے کہ وہ دشمنانِ اسلام جو اسلام کے ضابطہ طلاق کا مذاق اڑاتے ہیں ،ان کا اپنا کیا حال ہے ؟ اور اس ضابطہ سے محرومی کی وجہ سے ان کا سماج کس مصیبت سے دوچار رہاہے ؟

طلاق جاہلیت زدہ سماج میں

پہلے سیکڑوں سال سے عیسائیوں کے ہاں یہ ضروری تھا کہ شادی کے لئے چرچ سے منظوری حاصل کریں۔ پھر وہ شادی چرچ کے ذریعے ہی انجام پائے۔ اور چرچ کے ذریعے جو شادی انجام پائے وہ کبھی ختم نہیں کی جاسکتی تھی۔ اس شادی کے ختم ہونے کی بس ایک ہی صوت تھی۔ وہ یہ کہ بیوی یا شوہر زنا کے کیس میں ملوث ہو۔

ایسا کیوں تھا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے ہاں انجیلوں میں یہی تعلیم تھی۔

انجیل متی باب ۱۹؍ میں ہے :

’’جس نے جرم زنا کے بغیر اپنی بیوی کو طلاق دیا ، اور دوسری عورت سے شادی کرلی ، اس نے زنا کیا ۔ اور جو کسی طلاق پائی ہوئی عورت سے شادی کرتا ہے ، وہ زنا کرتا ہے ۔‘‘

اسی طرح انجیل مرقس باب ۱۰؍ میں ہے :

’’جس نے اپنی بیوی کو طلاق دیا اوردوسری عورت سے شادی کرلی ، وہ مسلسل زنا کرتا ہے ،اور اگر کسی عورت نے اپنے شوہر کو طلاق دیدی ، اور دوسرے آدمی سے شادی کرلی تو وہ بھی مسلسل زنا کرتی ہے ۔‘‘

انجیلوں کی ان دھمکی آمیز تنبیہات کا اثر یہ تھا کہ عیسائیوں کے ہاں طلاق کا کوئی تصور نہیں تھا ، طلاق کا دروازہ ا ن کے ہاں بالکل بند تھا ۔

ثانیا : ان کے ہاں طلاق کی بس ایک ہی قابل لحاظ بنیاد تھی ۔ اور وہ تھی زنا کاری ۔اس صورت میں بھی شوہر اپنی بیوی کو یا کوئی بیوی اپنے شوہر کو خود طلاق نہیں دے سکتی تھی ۔ طلاق کے لیے ضروری تھا کہ وہ دونوں چرچ کی عدالت میں حاضر ہوں ۔ اور قاضی کے ذریعہ طلاق کی کارروائی انجام دیں ۔

ضروری تھا کہ شوہرقاضی کے سامنے برسر عام اپنی بیوی کی عزت کی دھجیاں اڑائے ، وہ سب کے سامنے یہ ثابت کرے کہ اس کی بیوی نے زنا کیا ہے ، یا عورت برسرعام اپنے شوہر کے منہ پر کالک لگائے ۔ ایوان کے سامنے یہ ثابت کرے کہ اس کے شوہر نے کسی دوسری عورت سے زنا کیا ہے ۔

زنا کے علاوہ کوئی بڑے سے بڑا جرم ہو ، یا کوئی بڑے سے بڑا ظلم ہو ،وہ طلاق کی بنیاد نہیں بن سکتا تھا ۔

یہ کتنا غیر عملی اور غیر اخلاقی نظام تھا ، جو چرچ کی سرپرستی میں یورپ میں رائج تھا ۔ شوہر اور بیوی کے باہمی تعلقات نہایت خراب ہوتے ۔ بسا اوقات ان کے درمیان اتنی نفرت ہوتی کہ وہ ایک دوسرے کی صور ت دیکھنا گوارا نہ کرتے ۔ وہ اپنے اپنے ٹھکانے الگ کرلیتے ۔ دس دس ،بیس بیس سال نہ ان کے درمیان کوئی بات چیت ہوتی ، نہ وہ ایک دوسرے کی شکل دیکھتے ۔ مگر چرچ کے رجسٹر میں وہ شوہر بیوی ہی ہوتے ۔ وہ اپنی اس حیثیت کے اعتراف پر مجبور ہوتے ۔

پھر ان کے قانون میں ایک سے زائد شادی کی اجازت تھی نہیں ۔ اس لیے وہ کوئی دوسری شادی بھی نہیں کرسکتے ۔

اب کوئی بھی سوچنے والا سوچ سکتا ہے کہ جب وہ شوہر بیوی بیس بیس،چالیس چالیس سال بلکہ پوری پوری زندگی ایک دوسرے کی شکل نہیں دیکھتے تھے ، اور دوسری شادی بھی نہیں کرسکتے تھے، تو پھر وہ کیا کیا نہ کرتے رہے ہوں گے ! اور کیا فرق رہ گیا ہوگا ان کے اور ان کے جانوروں کے درمیان؟ !

نہ جانے کتنی صدیاں گزرگئیں ، اور مغربی قومیں اس غیر عملی نظام کے جوے تلے سسکتی اوربلکتی رہیں ۔ جب پانی سرسے اونچا ہوگیا اور عذا ب برداشت سے باہر ہوگیا، تو اس کے خلاف آواز یں اٹھنی شروع ہوئیں، بالآخر اس نظام میں تبدیلیاں ہونی شروع ہوگئیں۔ آخری قانون جو ۱۹۷۰ میں اٹلی میں پاس ہوا ، اس میں طلاق کے اسباب میں خاصی وسعت آگئی ۔ چنانچہ درج ذیل صورتوں میں طلاق کی اجازت دیدی گئی :

۱) شوہر بیوی کے ساتھ یا بیوی شوہر کے ساتھ خیانت کرے ،یعنی دونوں میں سے کوئی بھی زنا کے کیس میں ملوث ہوجائے۔

۲) زوجین میں سے کسی ایک کو پندرہ سال یا اس سے زائد مدت کے لیے جیل کی سزا ہوجائے ۔

۳) زوجین میں سے کوئی ایک دوسرے کو قتل کرنے کی کوشش کرے ۔

۴) ان میں سے کسی کے بارے میں اولاد کو قتل کرنے یا انہیں اذیت پہنچانے کا ثبوت فراہم ہوجائے۔

۵) زوجین میں سے کوئی پاگل ہوجائے ۔

۶) شوہر اور بیوی پانچ سال یا اس سے زائد مدت تک ایک دوسرے سے بالکل الگ رہے ہوں۔ یہ پانچ سال کی مدت مسلسل ہو ، اس میں گیپ نہ ہوا ہو ، اور وہ دونوں طلاق پر رضامندہوں ۔

۷) وہ دونوں چھ سال بالکل ایک دوسرے سے الگ رہے ہوں ۔ اور طلاق پر رضامندہوں یا نہ ہوں۔

اس طرح قانون طلاق میں کچھ وسعت تو آگئی ، مگر پھر بھی کورٹ سے طلاق کی منظوری حاصل کرنا کوئی آسان کام نہیں تھا ۔ اس کارروائی میں بڑی پیچیدگیاں تھیں ۔ اور اس کے جو مصارف تھے ، اس کا بار اٹھانا سب کے بس کی بات نہ تھی ۔

لیکن اس کے باوجود اس سماج کے اندر اتنی گھٹن تھی ، کہ جس روز یہ قانون پاس ہوا ، اسی روز دس لاکھ درخواستیں طلاق کی داخل ہوگئیں ۔ یہ ان لوگوں کی درخواستیں تھیں جو عملاًاپنے شوہر یا اپنی بیوی سے علیحدگی کی زندگی گزاررہے تھے ۔ وہ مدتوں سے طلاق چاہتے تھے ، مگر چرچ کی چیرہ دستیوں کے سامنے بے بس تھے ۔

یہ ہے اس جاہلیت زدہ سماج کی ایک ہلکی سی جھلک جوآج اسلام کا مذاق اڑاتا ہے ۔ اور نہایت ڈھٹائی سے کہتا ہے اسلام نے طلاق کے معاملے میں عورتوں پر ظلم کیا ہے ۔ وہ سماج جس کی ساری بنیاد ہی ظلم پر قائم تھی ، اور قائم ہے وہ آج اس دین رحمت کو ظلم کا طعنہ دیتا ہے!

اس الزام میں کتنی سچائی ہے ، اس کا اندازہ کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اسلام کے نظام طلاق کو اچھی طرح سمجھیں ۔ اس وقت ہمیں اندازہ ہوگا کہ دین اسلام اللہ کی کتنی بڑی رحمت ہے ۔ اور اس نے ہمیں طلاق کے سلسلے میں جو احکام اور ضابطے دیے ہیں ، وہ کس قدر منصفانہ اورحکیمانہ ہیں ۔

طلاق کی شرعی حیثیت

شرعی لحاظ سے طلاق میں کوئی برائی نہیں ہے ، بلکہ طلاق کی اجازت اللہ کی رحمت ہے ۔ اللہ نے مرد عورت کو نکاح کے رشتے میں اس لیے نہیں پرویا ہے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو جھیلیں ، اور ایک دوسرے کے لیے عذاب بن جائیں ۔

یہ نکاح کا رشتہ اس لیے ہوتا ہے کہ مرد عورت ایک دوسرے سے سکون اور سکینت حاصل کریں ۔ اب اگر کبھی یہ رشتہ بے جوڑ ہوجائے ، اور طبیعتوں میں ہم آہنگی پیدا ہونے کی کوئی صورت نہ نکلے ، تو ایسی صورت میں شوہر اور بیوی کے لیے طلاق سے بڑھ کر کوئی نعمت نہیں ۔

پیچھے گزرچکا ہے کہ عیسائی سماج میں طلاق کی اجازت نہیں تھی ، جس کی وجہ سے وہاں کا سماج کیسا جہنم بن گیا تھا ۔ شوہر بیوی کس طرح ایک دوسرے کے لیے عذاب بن گئے تھے ۔ اورکس طرح لوگ وہاں حیوانوں کی زندگی بسر کرنے پر مجبور تھے ۔

اسلام دین فطرت ہے ۔ وہ کبھی انسانوں پر غیر فطری پابندیاں عائد نہیں کرتا ، وہ زوجین کو اس کی تاکید تو کرتا ہے کہ ایک دوسرے کے حقوق پہچانیں ،اور آپس میں الفت ومحبت کی زندگی بسر کریں ۔ اگر کسی سے کچھ کوتا ہی ہوجائے تو عفو ودرگزر سے کام لیں ۔ زیادہ سے زیادہ ایک دوسرے کو آرام پہچانے اور ایک دوسرے کا دل خوش رکھنے کی کوشش کریں ۔

مگر اس کے ساتھ ہی وہ اس بات کی بھی اجازت دیتا ہے کہ اگر طبیعتوں میں مناسبت نہ ہو ۔ اور باہم خوش گوار زندگی بسر کرنی ناممکن ہو، تو وہ ایک دوسرے سے علیحدہ ہوجائیں اور اپنے لیے کوئی اور شریک حیات یا رفیقہ ٔزندگی تلاش کرلیں ۔

اسلام میں طلاق کسی بھی درجہ میں ناپسندیدہ چیز نہیں ہے ۔ ناپسندیدہ چیز ایک دوسرے کے ساتھ بدسلوکی ،ناانصافی ،ظلم وزیادتی ، اوردلآزاری ہے ۔

اس سلسلہ میں ایک روایت آتی ہے جس کی عبارت کچھ اس طرح ہے :

أبغض الحلال الی اللّٰہ الطلاق۔

’’حلال چیزوں میں سب سے زیادہ ناپسندیدہ اور مبغوض چیز اللہ کے نزدیک طلاق ہے ۔‘‘

یہ روایت جتنی زیادہ مشہور ہے ، اتنی ہی زیادہ بے حقیقت ہے ۔ اس کا ایک راوی عبیداللہ بن ولید وصّافی ہے، جس کو بڑے بڑے محدثین نے رد کردیا ہے ۔ امام نسائی نے اس کو متروک الحدیث کہا ہے ۔ اور یحییٰ بن معین،ابوزرعہ اور دار قطنی نے کہا ہے کہ وہ ایک پیسہ کے برابر نہیں ’لیس بشئی‘ علامہ ناصر الدین البانی نے اس روایت کو موضوع روایتوں میں ذکر کیا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ روایت کسی طرح اس دین فطرت کے مزاج سے میل نہیں کھاتی ۔ طلاق اسلام میں کوئی بری چیز نہیں ہے ۔بشرطیکہ وہ معقول اسباب کے تحت ہو ۔ برائی جو کچھ ہے وہ ظلم وزیادتی اور عورت کے ساتھ بدسلوکی میں ہے ۔

قرآن پاک میں طلاق کا بہت تفصیل سے ذکر آیا ہے۔ اور بار بار آیا ہے ، مگر کہیں اس بات کا کوئی ہلکا سا اشارہ بھی نہیں ہے کہ وہ کوئی بری چیز ہے ۔ یا اللہ تعالی کے نزدیک نا پسندیدہ ہے ۔ البتہ اس بات کی تاکید ضرور ہے کہ طلاق کے کچھ آداب ہیں ، ان آداب کا ضرور خیال رکھا جائے ۔

کسی عورت کو طلاق دی جائے تو اس کے کچھ حقوق ہوتے ہیں ۔ وہ حقوق ضرور ادا کیے جائیں ۔

طلاق کا مطلب نفرت اور دشمنی نہیں ہے ۔ طلاق سے پہلے وہ بیوی تھی۔ طلاق کے بعد عدت پوری ہو جائے تو اب وہ بیوی تو نہیں ہے مگر اسلامی بہن ضرور ہے ۔ لہٰذا اسے ایک بہن کی طرح خوبصورتی اور خوش اسلوبی کے ساتھ رخصت کیا جائے ۔lll

شیئر کیجیے
Default image
محمد عنایت اللہ اسد سبحانی