5

شادی سے قبل کونسلنگ

درخشاں (نام بدل دیا گیا ہے) نامی ایک خوب صورت اور پڑھی لکھی لڑکی کو اس کے والدین میرے پاس لے کر آئے۔ وہ شادی کے لئے ہرگز تیار نہیں تھی۔ عام طور پر اس کی وجہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ لڑکی رشتہ سے خوش نہیں ہے۔یا کسی اور سے شادی کرنا چاہتی ہے یا اور تعلیم حاصل کرنا یا کیریر کو آگے بڑھانا چاہتی ہے۔ لیکن درخشاں کا ان میں سے کوئی بھی مسئلہ نہیں تھا۔اس کی انجینئرنگ مکمل ہوچکی تھی ۔ اب نہ اسے مزید پرھائی سے دلچسپی تھی اور نہ وہ نوکری کرنا چاہتی تھی۔وہ کسی سے بھی شادی نہیں کرنا چاہتی تھی۔ والدین کے لئے یہ فطری طور پر پریشانی کی بات تھی۔

درخشاں کے اس انکار کی وجہ وہی اندیشے تھے جو اس عمر کی اکثر لڑکیوں میں پائے جاتے ہیں۔ درخشاں نے مجھ سے کہا کہ ’’ میری شادی شدہ سہیلیوں نے بتایا کہ تنہا رہنا ہی بہتر ہے۔اس طرح ہی زندگی کو زیادہ بہتر طریقے سے انجوائے enjoy کیا جاسکتاہے۔ میری سہیلیاں ہمیشہ اپنے شوہروں کی شکایت کرتی ہیں،ان کے غلط رویوں کا ذکر کرتی ہیں اور مجھ سے مشورہ بھی مانگتی ہیں۔ یہ ساری باتیں مجھے پریشان کرتی ہیں اور شادی سے خوف دلاتی ہیں۔ میں شادی کے خلاف نہیں ہوں مگر مجھے ناخوش رہنے اور زندگی کا مزہ کھودینے سے خوف آتا ہے‘‘۔ اس نے مجھ سے یہ بھی پوچھا کہ یہ جو فلموں میں دکھاتے ہیں کہ کیسے بعض جوڑےCouples ایک دوسرے سے شادی کرنے کے لئے تڑپتے ہیں ۔ اور بعد میں ایک دوسرے پر جان چھڑکتے ہیں،کیا یہ سب حقیقت میں بھی ہوتا ہے؟

یہ سوال ہر غیر شادی شدہ عورت کے ذہن میں آتا ہے۔ اورچند لڑکیوں میں شادی کے بعد کے ممکنہ حالات کا خوف ہی شادی کرنے کے قدرتی جذبے پر حاوی ہو جاتا ہے۔ وہ شادی کے لئے تیار بھی ہوتی ہیں تو سخت اندیشوں کے ساتھ۔زندگی کا سب سے اہم اور خوب صورت دن، یعنی شادی کا دن، وہ سخت دبائو اور تنائو کی حالت میں گذارتی ہیں۔ خوف اور اندیشوں کا بوجھ لئے اپنے شریک زندگی کے گھر میں داخل ہوتی ہیں۔

اس کی وجہ کیا ہے؟ اس وجہ کو ہم سمجھ جائیں تو شاید ازدواجی زندگی کے بیشتر مسائل پر قابو پالیں اور اپنے معاشرہ کو ازدواجی تنازعات کی لعنت سے پاک کرنے میں بھی کامیاب ہوجائیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ ایک لڑکی کو اپنے اطراف و اکناف میں بہت کم خوش و خرم اور پرجوش جوڑے نظر آتے ہیں۔ ہمارے سماج میں بہت سی عجیب باتیں پختہ روایات کا درجہ اختیار کرچکی ہیں۔ ساس بہو کی چپقلش یہ فلم اور ادب سے لے کر گھریلو گپ بازیوں تک ، ہر جگہ کا روایتی موضوع بن چکا ہے۔ یہ سب ملاکر یہ یقین لڑکی کے اندر پیدا کردیتے ہیں کہ ساس ایک نہایت ظالم مخلوق کا نام ہے۔

اللہ تعالی نے ہمارے دماغ کے دو اجزا بنائے ہیں۔ ایک شعور Conscious Mindاور دوسرے لاشعور Unconscious Mind۔ شعور دماغ کا وہ حصہ ہے جس پر ہمارا کنٹرول ہوتا ہے۔ جس سے کام لے کر ہم فیصلے کرتے ہیں، سوچتے ہیں اور مسائل حل کرتے ہیں۔ یہیں ہماری شارٹ ٹرم میموری ہوتی ہے جس کی مدد سے ہم چیزوں کو یاد کرتے ہیں۔ اس کے بالمقابل لاشعور دماغ کو وہ حصہ ہے جس پر ہمارا کنٹرول نہیں ہوتا۔ یہیں ہماری عادتیں ہوتی ہیں،چال ڈھال ہوتی ہے، جذبات ہوتے ہیں۔ ہمارے رویے اورمزاج کی کیفیات بھی اسی سے برا ٓمد ہوتی ہیں۔

پیدا ہونے سے پہلے سے یعنی شکم مادر کے اندر سے اب تک، جو کچھ باتیں ہم سنتے، دیکھتے، محسوس کرتے اور تجربہ کرتے آئے ہیں، وہ سب ہمارے لاشعور میں محفوظ ہوتی جاتی ہیں اور ہمارے رویوں اور عادتوں کو جنم دیتی ہیں۔ بچپن کا ایک ناخوشگوار تجربہ، ہمیں یاد بھی نہیں رہتا، لیکن ہمارے لاشعور میں محفوظ رہتا ہے، اور اس نامعلوم تجربہ کی وجہ سے زندگی بھر ہمارا مزاج چڑچڑا اور غصیلا بن جاتا ہے۔ہماری ہر عادت، ہر رویہ اور شخصیت کا ہر پہلو اسی طرح تخلیق پاتا ہے۔ اچھے رویہ کے لئے ضروری ہے کہ لاشعور کی اچھی پروگرامنگ ہو۔

اب اگر کوئی لڑکی اپنے لاشعور میں یہ تصور لے کر سسرال میں قدم رکھے کہ ساس، نند، جٹھانی یہ سب نہایت ظالم لوگوں کے نام ہیں۔ خوشی میکہ ہی میں ملتی ہے، سسرال تو مشقت اور آزمائش کی جگہ ہے،تواس کا لازمی نتیجہ یہ نکلے گا کہ وہ سسرال اور سسرالی رشتہ داروں سے متعلق ہر معاملہ کو خوف اور شک کے زاویہ ہی سے دیکھے گی۔ نند کی چھوٹی غلطی بھی بہت بڑی نظر آئے گی۔ جن باتوں پر ماں ہمیشہ ٹوکتی تھی، انہی میں سے کسی بات پر ساس کچھ کہہ دے تو یہ بڑا ظلم محسوس ہوگا۔

( اس طرح کے غلط تصورات ساس کے دماغ میں بھی ہوتے ہیں اور اس کا بہو کے ساتھ رویہ واقعتاً بھی خراب ہوسکتا ہے لیکن اس وقت چونکہ ہمارا موضوع لڑکیوں کی کونسلنگ ہے، اس لئے اس کا ذکر نہیں کا جا رہا ہے)۔ ان لاشعوری تصورات کا اثر اس کے رویے پر پڑے گا۔ وہ سسرال میں کسی کو اپنا سمجھے گی ہی نہیں، اور لاشعور میں موجود غیریت کا یہ احساس اس کی آواز، لہجہ، حرکات و سکنات اور اس کے عمل،ہر چیز سے ظاہر ہوگا۔ ایک طرف کی سرد مہری، دوسری طر ف بھی سرد مہری کو فروغ دیتی ہے۔ اگر آنے والی بہوکے رویوں سے مستقل ناپسندیدگی اور غیریت ظاہر ہورہی ہو تو سسرال والے،محبت و اپنائیت کا جذبہ بھی رکھتے ہوں تو یہ جذبات بھی دھیرے دھیرے معدوم ہوجاتے ہیں اور بہت جلد دو طرفہ تلخیوں کے دور کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اس کے نتیجہ میں نہ صرف سسرالی رشتہ داروں سے بلکہ شوہر سے بھی تنازعات شروع ہوجاتے ہیں۔میرے پاس جو کیس آتے ہیں، ان کی روشنی میں، میں یہ بات پورے وثوق کے ساتھ کہہ سکتی ہوں کہ اکثر ناکام شادیوںکی ناکامی کے عوامل ، لڑکی یا لڑکے کے ماں باپ ان کی شادی سے بہت پہلے پیدا کرچکے ہوتے ہیں۔ لڑکی کے ماں باپ، اس کا ایسا ذہن بناچکے ہوتے ہیں کہ وہ ایک اچھی بیوی یا اچھی بہو کا کردار ادا کرنے کے لائق ہی نہیں رہتی۔ یا لڑکے کے ماں باپ اور دوست احباب، اس کا ایسا لاشعور بناچکے ہوتے ہیں کہ وہ اپنی بیوی کو خوش رکھنے کی نفسیاتی اور جذباتی لیاقت ہی سے محروم ہوچکا ہوتا ہے۔

اس لئے خاندانی زندگی کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ دولہا اور دلہن کو ایک تربیتی کورس سے گذارا جائے۔ آج کل معمولی معمولی کام بھی ٹریننگ کے بغیر حوالے نہیں کئے جاتے۔ عقد نکاح تو ایک بہت بڑا کام ہے۔ اس کے ذریعہ سماج کا ایک نہایت اہم ادارہ یعنی خاندان وجود میں آتا ہے۔ ایک کم عمر اور ناتجربہ کار لڑکی اور ایک نوعمرلڑکا، مل کر ایک ایسے ادارہ کا نظام سنبھال رہے ہوتے ہیں جس کی معاشرہ میں بڑی اہمیت ہے۔ اس لئے ضروری ہے کہ ان کو تربیت کے عمل سے گذارا جائے۔آج کل دیگر غیر مسلم سماجو ں میں اس طرح کے کورس اور شادی سے قبل کونسلنگ کا عمل بہت رواج پاچکا ہے۔ کونسلنگ وغیرہ کے جوکورس میں نے کئے ہیں، ان میں میرا ایک ہم جماعت عیسائی پادری(فادر) تھا، جو چرچ میں ازدواجی کونسلنگ کے کام پر معمور تھا۔ اسے چرچ نے دنیا کے کئی ملکوں میں بھیج کر مہنگے کورس کرائے تھے۔ان کے ذریعہ معلوم ہوا کہ چرچ میں کونسلنگ اور خاندانی زندگی کی ٹریننگ کا بہت پائیدار نظام بھی ہے اور عیسائی معاشرہ میں اس کی مستحکم روایات بھی۔ چرچ کی باقاعدہ ٹریننگ کے بغیر کوئی عیسائی جوڑا اپنی ازدواجی زندگی شروع نہیں کرتا۔اسلام تو خاندانی زندگی کے سلسلہ میںبہت تفصیلی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ہمارے علماء نے لکھا ہے کہ اگر آپ کوئی کام کررہے تو اس کام سے متعلق شریعت کا علم حاصل کرنا فرض ہوجاتا ہے۔ اس لحاظ سے ازدواجی زندگی کے آغاز سے پہلے، شریعت کی اس سے متعلق تعلیمات کو جاننا فرض ہے اور یہ سماج کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس کا مناسب انتظام کرے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ شادی سے قبل کونسلنگ کا مستحکم نظام ہمارے سماج میں رائج ہو۔شادی سے قبل کونسلنگ کے اس پروگرام میں درج ذیل امور کا احاطہ ہونا چاہیے۔

۱۔ سب سے پہلی ضرورت تو یہ ہے کہ لڑکیوں کو اور لڑکوں کو ازدواجی زندگی کے اسلامی احکام بتائے جائیں۔ انہیں بتایا جائے کہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام ہیں۔ہمارے سماج اور خاندان کی روایتوں کا یہ مقام نہیں ہے کہ انہیں شریعت کے احکام پر فوقیت دی جائے۔ خاندانی روایتوں کا لحاظ ہونا چاہیے، لیکن شریعت کے دائرہ کے اندر۔ جہاں روایت اور شریعت میں ٹکرائو ہو، وہاں شریعت کی بات ہی ماننی چاہیے۔یہی ہمارے ایمان کا تقاضہ ہے۔ اس کے بعد ان کو تفصیل سے شوہر کے حقوق، بیوی کے حقوق،شوہر کی ذمہ داریاں ، بیوی کی ذمہ داریاں، خاندان کے دیگر افراد کے حقوق اور ذمہ داریاں، بچوں کے حقوق، تنازعات اور ان کے حل کے طریقے وغیرہ کے سلسلہ میں اسلامی احکام بتائے جائیں اور ذہن نشین کرائے جائیں۔ ہوسکے تو اس کا امتحان بھی لیا جائے۔ جو لوگ یہ کورس پڑھا نا چاہیں وہ حجاب کے اس خصوصی شمارہ میں بھی اس موضوع پر بہت سے مفید مضامین پائیں گے۔ ان کے علاوہ درج ذیل کتابوں سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔حقو ق الزوجین (مولانا مودودی)، اسلام کے عائلی قوانین(مولانا عروج قادری)، اسلام کا عائلی نظام(مولانا سیدجلال الدین عمری)۔

۲۔ دوسری ضرورت یہ ہے کہ ان کے لاشعور کی صحیح تربیت کی جائے۔ ان کے غلط تصورات کو چیلنج کیا جائے۔ ازدواجی زندگی کا بہت خوبصورت، رومان پرور، دلکش و دل ربا نقشہ ان کے ذہن میں بٹھایا جائے۔ اور واقعہ یہ ہے کہ یہ رشتہ ہے بھی بہت خوبصورت اور بہت پر لطف۔زندگی کی بہار اور اس کی بے شمار مسرتیں، اس رشتہ سے وابستہ ہیں۔ اسی لئے تو قرآن نے اسے سکون، رحمت اور مودت کا گہوارہ قرار دیا ہے۔(اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرواور تمہارے درمیان محبت و الفت پیدا کردی)تربیت دینے والی کونسلر کی ذمہ داری ہے کہ وہ کوشش کرے کہ سسرال کی نئی زندگی کو لڑکی ایک خوب صورت اور پر لطف ایڈونچر کے طور پر لے۔لڑکیاںاس مثبت تصور کے ساتھ سسرال میں قدم رکھیں گی تو بدمزاج سسرالی رشتہ داروں کے بھی دلوں کو جیت لیںگی۔ ممکنہ سسرالی رشتہ داروں کا تعارف کرایا جائے۔ آج الحمد للہ ہمارے مسلم سماج میں ایسی ساسوں کی کمی نہیں جو بہو وں پر مائوں کی طرح ہی پیار لٹاتی ہیں۔ ایسی مثالیں سامنے لائی جائیں۔لڑکے کے ذہن کے تصورات کو درست کیا جائے۔اس کے ذہن میں بیوی کا تصور اگر ایک ہمہ مقصدی خادمہ کا ہے تو اس تصور کو درست کیا جائے۔ اسے بتایا جائے کہ بیوی کا مطلب کیا ہے؟ شریعت نے اسے کیا مقام اور کیا حقوق دیئے ہیں۔ مختصر یہ کہ ٹریننک پروگرام میں لاشعور کی اس طرح تربیت کی جائے کہ شوہر اور بیوی نہایت مسرت اور جوش و ولولہ کے ساتھ لیکن درست اور حقیقت پسندانہ تصورات کے ساتھ اپنی نئی زندگی کا آغاز کرسکیں اورنہایت خوشگوار ماحول میں ایک نئے خاندان کا سنگ بنیاد نصب ہوسکے۔ اس کے لئے کوچ کو بہت سے واقعات سنانے ہوں گے۔ اسکرین پر کچھ ویڈیوز بھی دکھائے جاسکتے ہیں۔ ان سے بات کرنی ہوگی اور ان کے ذہن کو بناناہوگا۔

۳۔ ایک ضرورت یہ بھی ہے کہ لڑکوں اور لڑکیوں کو شادی سے متعلق صحیح فیصلہ کے لئے تیار کیا جائے۔ آج بھی ہمارے معاشرہ میں لڑکیاں بھی اور لڑکے بھی، شادی سے متعلق فیصلہ کرنے کی لیاقت کم ہی رکھتے ہیں۔ وہ اگر خود اپنی ہونے والی دلہن (یادولہے)کا انتخاب کرتے ہیں تو اس کی وجہ کوئی سوچا سمجھا فیصلہ نہیں ہوتا بلکہ وقتی جذباتی محرکات ہوتے ہیں جو اکثر پچھتاوے ہی کا سبب بنتے ہیں۔ اکثر صورتوں میں لڑکیاں ہی نہیں لڑکے بھی فیصلہ مکمل طور پر ماں باپ پر چھوڑدیتے ہیںاور بعد میں خو د بھی پچھتاتے ہیں اورماں باپ سے بھی شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔

اسلام نے شادی میں لڑکے اور لڑکی کی رائے کو بہت اہمیت دی ہے۔ ایجاب و قبول اصل میں انہی کے درمیان ہوتا ہے۔ اس لئے یہ فیصلہ اصلاً انہی کو کرنا ہے۔ کونسلنگ کا ایک مقصد یہ ہو کہ اس فیصلہ کے لئے ان کو تیار(Empower) کیا جائے۔اس کے لئے درج ذیل مشورے مفید ہوسکتے ہیں۔

۱- لڑکیوں سے (اور لڑکوں سے بھی) یہ پوچھا جائے کہ وہ اپنے شریک حیات کو کیسا دیکھنا چاہتے ہیں؟ اس سلسلہ مین ان کی ترجیحات کیا ہیں؟ انہیں اس پر سوچنے کی مشق کرائی جائے اور کہا جائے کہ وہ جو کچھ سوچ رہے ہیں، اُسے قلم بند کرلیں۔ اسلام نے دین کو ترجیح دینے کا حکم دیا ہے، لیکن ذاتی ذوق اور پسند کے لحاظ سے دیگر معیارات کا بھی لحاظ رکھا ہے۔ آپ اپنے آپ کو اور اپنے مزاج، ذوق اور مصروفیات کو سامنے رکھ کر سوچیے کہ شریک حیات کیسا یا کیسی ہونی چاہیے؟ عمر؟ قد؟ حسن؟ تعلیم؟ مزاج و شخصیت؟ کلچر، وطن وغیرہ؟ پیشہ؟ ان سب حوالوں سے سوالات کرکے ان کی مدد کیجئے۔

۳- انہیں کہیے کہ اب اس فہرست میں ترجیحات کا تعین کیجئے۔ کونسی باتیں ایسی ہیں جن پر کوئی مصالحت نہیں ہو گی اور کونسی باتیں ہیں جن پر مصالحت ہوسکتی ہے۔ اگر ان کی باتیں غیر عملی اور خیالی ہیں تو ا ن کی کونسلنگ کیجئے۔خوابوں کی دنیا سے انہیں حقیقت کی دنیا میں لے آیئے۔ یہاں تک کہ ان کی نہایت معقول، حقیقت پسند لسٹ تیار ہوجائے۔اسی طرح ایک منفی لسٹ بھی تیار ہونی چاہیے۔ یعنی وہ کیا باتیں ہیں جو آپ اپنے شریک حیات میں بالکل دیکھنا نہ چاہیں؟ اس منفی لسٹ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے۔ اکثر ایسی باتیں ہی میاں بیوی کے درمیان سرد مہری کا سبب بنتی ہیں۔ اس لئے شادی سے پہلے ہی ان کے بارے میں ذہن صاف ہواور اس کی بنیاد ہی پر شریک حیات کا انتخاب ہو تو زیادہ بہتر ہے۔

ہماری ہر پسند کا ہمیشہ لحاظ ہو یہ ممکن نہیں رہتا۔ لڑکیوں کا رشتہ یوں بھی ہمارے معاشرہ میں عام طور پر مشکل ہی سے طے ہوپاتا ہے۔ اس لئے ان کو ضروری مصالحت compromise کے لئے بھی تیار کرنا چاہیے۔ لیکن ایسا بھی نہ ہو کہ لڑکی کی کو ئی چوائس ہی نہ ہو۔ اس کی ترجیحات اور اس کی چوائس، اس کو بھی اور اس کے ماں باپ کو بھی معلوم تو ہونی چاہیے اور جس حد تک ممکن ہو، اُس کا لحاظ بھی رکھا جانا چاہیے۔

۴-ا ن کو دماغ کو سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنے کے لائق بنایئے۔ شادی کا فیصلہ ایک دوررس فیصلہ ہے۔ یہ لڑکے اور لڑکی کی بقیہ زندگی کا رخ متعین کرنے والا اور زندگی کے بیشتر حصہ کو متاثر کرنے والا فیصلہ ہے۔ ایسا فیصلہ وقتی جذبات کے دبائو میں نہیں کیا جاسکتا۔ سوچ سمجھ کر ہی کیا جانا چاہیے۔ والدین کی رائے کو اہمیت دینی چاہیے کہ وہ اس کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور تجربہ کار لوگوں میں ہمارے سب سے زیادہ خیر خواہ ہیں۔لڑکی جن لوگوں کی رایوں پر اعتماد کرتی ہے، جن سے قربت محسوس کرتی ہے اور جن کے سامنے بے تکلف اپنی بات کہہ سکتی ہے، ان سے بھی اسے مشورہ کرنا چاہیے۔ عام طور پر یہ ماں ہی ہوتی ہے لیکن بعض اوقات بہن، بھائی، بھاوج، لڑکی کی کوئی سہیلی وغیرہ کو بھی یہ مقام مل جاتا ہے۔ ان سے مشورہ کی ہمت افزائی کرنی چاہیے۔لیکن بہر حال فیصلہ لڑکی یا لڑکے کا ہونا چاہیے۔اس سلسلہ میں والدین سے بات کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہونی چاہیے۔ اگر ایسی ہچکچاہٹ ہو تو کونسلر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اسے دور کرے اور شادی کے مسئلہ پر لڑکے یا لڑکی کے اپنے والدین اور بھائی بہنوں سے صاف اور بے تکلف گفتگو کی راہ ہموار کرے۔

۵- اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ شادی کے بعد شوہر کے ساتھ مل جل کراسلام کے بتائے ہوئے شورائی طریقہ سے فیصلے کرنے کی بھی انہیں ٹریننگ دی جائے۔ نکاح کے بعد اب شوہر یا بیوی اکیلے نہیں رہے ۔ وہ ایک ٹیم بن گئے ہیں۔ دونوں کی زندگی ہی نہیں، بلکہ زندگی کے سارے مراحل اور مسائل ایک دوسرے کے ساتھ وابستہ ہوگئے ہیں۔ دونوں کو مل کر طئے کرنا ہے کہ انہیں زندگی کیسے گذارنی ہے؟ ان کا گھر کیسا ہوگا؟ کس کی کیا ذمہ دار ی ہوگی؟ آئندہ پانچ سالوں میں اور دس سالوں میں وہ کہاں پہنچنا چاہیں گے؟ وغیرہ۔ بعد میں بچے ہوں گے تو بچوں سے متعلق فیصلے بھی دونوں کو مل جل کر اسلامی شورائیت کے تقاضے نبھاتے ہوئے کرنے چاہئیں۔ دونوں مل جل کر طئے کریں گے اور مل جل کر اپنے فیصلوں کو نافذ کرنے کی کوشش کریں گے تو ان شاء اللہ تنازعات کا امکان کم سے کم ہوگا۔ اس لئے یہ ٹریننگ دینا بہت ضروری ہے۔ہمارے سماج میں اس ٹریننگ کی زیادہ ضرورت لڑکوں کو ہے لیکن لڑکیوں کو بھی ہے۔

۶- کامیاب زندگی کے لئے اُس چیز کی بڑی ضرورت ہے جسے آج کل جذباتی ذہانت کہا جاتا ہے۔ امریکی ماہر نفسیات ڈینیل گولمین نے بیس سال پہلے ثابت کیاتھا کہ زندگی میں کامیابی کے لئے ذہانت IQ سے زیادہ جذباتی توازنEQ کی اہمیت، یا اس بات کی اہمیت ہے کہ و ہ اپنے اور دوسروں کے جذبات کو شعور کے ساتھ کتنا سمجھتے ہیں؟کیسا رویہ اختیار کرتے ہیں؟ سماجی پیچیدگیوں کا کیسے سامنا کرتے ہیں؟ جذبات کو کیسے قابو میں رکھتے ہیں اور کیسے اپنے اور لوگوں کے جذبات کا اس طرح لحاظ رکھتے ہیں کہ اس کے نتیجہ میں ہمارے فیصلے اور اقدامات درست اور مطلوب نتائج کے حصول کا ذریعہ بنیں۔ اپنے اور دوسروں کے جذبات کو سمجھنے اور انہیں manage کرنے کی صلاحیت کا نام جذباتی ذہانت ہے۔ اس کے سلسلہ میں بھی ٹریننگ کے ماڈیولز عام طور ہر اچھے کوچ اور کونسلر کے پاس موجود ہوتے ہیں۔شادی کے نہایت اہم مرحلہ میں، جس کا گہرا تعلق جذبات سے ہے، اگر دولہا اور دلہن کو جذباتی ذہانت کے ضروری کورس سے گذارا جائے تو ان شاء اللہ، اس کے بھی مفید نتائج بر آمد ہوں گے۔

۷- ایک اہم ضرورت کمیونکیشن کی ہے۔میرا تجربہ یہ ہے کہ شادی شدہ زندگی کے مسائل کا ایک بڑا سبب ناقص کمیونکیشن ہوتا ہے۔دونوں میں سے کسی کے دل میں کوئی کدورت نہیں ہوتی، محبت ہی ہوتی ہے۔ لیکن اس کیفیت کی ترجمانی زبان نہیں کرپاتی۔لہجہ اور زبان کا تیکھا پن رشتوں میں زہر گھول دیتا ہے۔ غیر واضح اور مبہم کمیونکیشن غلط فہمیاں پیدا کرتا ہے اور رشتوں میں دراڑیں ڈالتا ہے۔بات کرنے میں ہچکچاہٹ ، تال مٹول اور تاخیر،غلط فہمیاں بھی پیدا کرتی ہے اور فریقین کو الگ الگ اور ایک دوسرے سے جدا دائروں میں پہنچادیتی ہے۔ اچھے، پاکیزہ اور صحت مند جذبات کا پر جوش اظہار نہ ہو تو ان کی وہ غیر معمولی طاقت ضائع ہوجاتی ہے جس کے ذریعہ وہ رشتوں کو بے پناہ مضبوطی عطا کرسکتے تھے۔ دولہا اور دلہن کو ان سب کی تربیت ملنی چاہیے۔ ایک اچھے ٹریننگ پروگرام میں مشقوں، مثالوں اور کیس اسٹڈیز وغیرہ کے ذریعہ دولہا اور دلہن کو اس لائق بنادینا چاہیے کہ وہ جب بھی بولیں تو ان کے درمیان رشتہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا جائے۔ نہ صرف آپس میں، بلکہ سسرالی رشتہ داروں سے بھی بات کریں تو کمیونکیشن تعلق کو مضبوط تر ہی کرے۔

۸۔ آخری بات یہ ہے کہ شوہر اور بیوی کو یہ بھی معلوم ہو کہ ان کے رشتہ پر اثر انداز ہونے والے عوامل صرف وہ خود اور ان کے قریبی رشتہ دار ہی نہیں ہیں۔ سب سے طاقتور عامل، رب کائنات کی ذات ہے۔ انہیں خدا سے رجوع کرنے کی تربیت بھی ملنی چاہیے۔ رشتہ کا انتخاب استخارہ کرکے کریں۔ شادی کے بعد بھی ہر اہم فیصلہ سے پہلے استخارہ کریں۔ شوہر بیوی کے لئے اور بیوی شوہر کے لئے دعا کرے۔ ایک دوسرے کے لئے دعا محبت بڑھاتی ہے اور تلخیوں کو مٹادیتی ہے۔ سونے سے پہلے شوہر بیوی پر اور بیوی شوہر پر وہ دعائیں اور آیات پڑھ کر پھونکے جو سنت سے ثابت ہے۔کبھی کبھی مل کر دعا کریں۔ جب بھی کوئی مشکل ہو، کوئی تنازعہ ہو یا رشتہ کسی مشکل سے دوچار ہو تو سب سے پہلے خدا سے مدد مانگی جائے۔ ایک مسلمان کی سب سے بڑی قوت ، دعا ، خدا پر ایمان اور اس سے تعلق کی قوت ہی ہے۔یہ قوت ازدواجی رشتہ میں بھی پوری طرح استعمال ہونی چاہیے۔

درج ذیل باتوں کی ضروری تربیت بھی اس ٹریننگ کورس کا حصہ ہونا چاہیے۔

۱- معاف کرنے کی تربیت دینا۔معاف کرنا اور معافی چاہنا یہ دونوں مزاج کی بڑی اہم خصوصیات ہوتی ہیں۔ رشتوں کی مضبوطی میں اس کا بڑا اہم کردار ہوتا ہے۔ بہت سے لوگوں کے اندر یہ صلاحیت نہیں ہوتی۔ اس مرحلہ پر اس کی اہمیت بھی لڑکوں اور لڑکیوں کو معلوم ہونی چاہیے اور اس کی صلاحیت بھی ان کے اندر پیدا ہونی چاہیے۔معافی چاہنا صرف بے جان جملہ کا نام نہیں ہے، ایک رویہ کا نام ہے۔( اس کی تفصیل میرے اگلے مضمون میں آرہی ہے)

۲-شکر گزاری سکھائیں ۔ دولہا اور دلہن کو سکھائیں کہ کیسے ایک دوسرے کے لئے، گھر والوں کے لئے اور خدا کے لئے شکر گذاری کے جذبات پروان چڑھائے جاسکتے ہیں۔جس چیز کو آج کل مثبت طرز فکر Positive Mental Attitudeکہا جاتا ہے اس کا سب سے خوبصورت مظہر اسلام میں شکر کا تصور ہے۔

۳- خوش رہنا سکھائیں ۔ دولہا اور دلہن اپنی زندگی کے سب سے پر مسرت دور کا آغاز کررہے ہیں۔ انہیں سکھایئے کہ کیسے وہ ان لمحات کو یادگار بناسکتے ہیں۔ چھوٹی موٹی کمزوریوں کو نظر انداز کرنا اور ایک دوسرے کی شخصیتوں کے حسین پہلووں پر نظریں جمادینا، یہی پائیدار ازدواجی رشتہ کا اصل راز ہے۔ اسی سے یہ رشتہ محبت و مودت اور سکون و طمانیت کا گہوارہ بن جاتا ہے۔

۴۔ اس کے ساتھ ساتھ، لڑکے اور لڑکی کو اس کی تربیت بھی ملنا چاہیے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے کیسے باعث کشش بن سکتے ہیں۔ لڑکی کے لئے سنگھار سنوار صرف شادی کے دن کے لئے نہیں ہے اور نہ پارٹیوں کے لئے ہے۔ اسے سب سے زیادہ ،شوہر کے لئے سنورنا چاہیے۔ شوہر کو بھی پر کشش بنے رہنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ کشش کا تعلق جسمانی محاسن سے بھی ہے لیکن اس سے زیادہ باطنی محاسن سے ہے۔ گفتگو ، لب و لہجہ اور رویہ کا حسن زیادہ دیر پا کشش پیدا کرتا ہے۔

۴۔ لڑکیوں کو بتائیں کہ ہر رشہ منفرد ہوتا ہے۔ ماں اور ساس کے درمیان موازنہ کی عادت صحیح نہیں ہے۔ ماں کی محبت اور ساس کی محبت کی نوعیت میں ویسا ہی فرق ہوتا ہے جیسے باپ کی محبت اور بھائی کی محبت میں فرق ہوتا ہے۔ محبت کی نوعیت الگ ہو تو یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ساس کو اس سے لگائو نہیں ہے۔اسی طرح کا معاملہ ہر سسرالی رشتہ کا ہے۔ ہر گھر کا اپنا کلچر ہوتا ہے۔ اس کے اچھے پہلو بھی ہوتے ہیں اور خراب بھی۔ گھروں کے کلچر اور روایتوں کے بے جا موازنہ سے بھی بچنا چاہیے۔

۵- لڑکی کو شوہر کے مال کی قدر کی عادت ہونی چاہیے۔ اس کے پیشہ اور مصروفیت کی بھی قدر ہونی چاہیے۔ اسی طرح لڑکے کو اپنی بیوی کی قربانیوں، مشقتوں اور کام کی قدر ہونی چاہیے۔

ایک اچھا ٹرینر جو اسلام کی تعلیمات سے بھی واقف ہو اور کوچنگ کی جدید تکنیکوں سے بھی، وہ ان سب باتوں کا لحاظ کرتے ہوئے ایسا ٹریننگ کورس ڈیزائن کرسکتا ہے جو مفید بھی ہو اور نہایت دلچسپ بھی۔ کہانیوں، قصوں، مشقوں، کیس اسٹڈیز اور این ایل پی وغیرہ کی دلچسپ و موثر تکنیکوں کے ذریعہ اسے لڑکے اور لڑکی کے اندر ضروری تبدیلی کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔ جو خواتین یہ کام کرنا چاہیں ، وہ مجھ سے بھی ، اس کی اور تفصیلات حاصل کرسکتی ہیں۔

(مصنفہ ماحولیاتی سائنس میں پی ایچ ڈی اور تربیت یافتہ فیملی کوچ ہیں)

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر نازنین سعادت

تبصرہ کیجیے