اچھا اور مثالی خاندان

اچھا اور مثالی خاندان ہم اس کو کہیں گے جہاں سب ایک دوسرے کو سمجھتے ہوں اور اچھے لگتے ہوں۔ نہ کہ آنکھ میں کانٹا بن کر چبھتے ہوں اور سب ایک دوسرے کو نیچا دکھانے میں لگے ہوں اور برے لگتے ہوں۔ مثالی خاندان وہ ہے جہاں شوہر اپنی بیوی سے ٹوٹ کر محبت کرتا ہو کہ وہ جان جاناں ہے اور بیوی اپنے شوہر کو سر کا تاج اور راحت قلب گردانتی ہو۔ شوہر گھر میں داخل ہو تو بیوی محسوس کرے کہ ہوا کا ایک ٹھنڈا جھونکا آیا اور شوہر خوش ہوجائے کہ اسے اس کے دل کا سرور میسر آیا۔ مثالی خاندان وہ ہے جہاں ماں باپ سے بے تکلف اپنے دل کی باتیں بیان کر پاتے ہوں ، ان سے کھیلتے ہوں اور بے ادبی اور تو تکرار سے ان کی زندگی پاک ہو۔ ماں باپ بھی اپنے بچوں کی نیکیوں، خوبیوںاور صلاحیتوں کے دلدادہ ہوں اور ان کا گھر جنت کے پھولوں کی مہک سے جنت نما ہوجائے۔

اچھا اورمثالی گھر وہ بھی ہے جس میں بہو گھر کی رانی بن کر جئے نہ کہ نوکرانی۔ اسی طرح ساس گھر کی آب و تاب اور شان و شوکت ہو اور زندگی کے مختلف شعبوں میں اس کے تجربات کو ایک سرمایہ گراں مایہ مانا جاتا ہو۔

اس طرح کا گھرانہ یوں ہی وجود میں نہیں آ جاتا بلکہ اس کے پیچھے ایک تمنا، منصوبہ اور محنت ہوتی ہے۔ آپ بھی اگر چاہتی ہوں کہ آپ کا گھر بھی اچھا اور مثالی بنے تو درج ذیل نکات پر غور کریں۔

زوجین کے درمیان محبت

اللہ کی کرشمہ سازی ہے کہ اس نے میاں بیوی کے دلوں میں محبت کا بیج بویا۔ اس بیج کو پروان چڑھائیں اور برگ و بار لانے کے قابل بنائیں یا اسے خشک بنا کر چورا چورا کردیں یہ ہمارا اختیار ہے۔

’’ اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی ۔ یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں ۔ ‘‘ (الروم:۱۲)

محبت ایک شعوری اور اختیاری عمل ہے جس میں ایک فرد اپنی شریک حیات کی بھلائی خوشی اور ترقی چاہتا ہے اور یہ ایک روحانی عمل ہے۔ دوسروں کو محبت دینا دراصل اپنے آپ سے محبت کرنے کے مترادف ہے اور جو اپنے زوج سے نفرت کرتے ہیں درحقیقت وہ اپنے آپ سے متنفر ہوتے ہیں مگر انہیں اس بات کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ لازم ہے کہ جو اپنے آپ سے محبت نہیں کرتا اس کے اندرون میں محبت کے سوتے خشک ہو چکے ہوتے ہیں۔

جہاں محبت ہوتی ہے وہاں اعلی ترین درجہ کا باہمی اعتماد اور یقین ہوتا ہے۔ اس بات سے انکار نہیں کہ زندگی میں نشیب و فراز ضرور آتے ہیں مگر جہاں محبت ہوتی ہے وہاں اتنی ذہنی پختگی ہوتی کہ سمجھ داری سے ان معاملات سے نمٹنے کا سلیقہ بھی ہوتا ہے۔ آخر یہ بھی تو حقیقت ہے کہ مسائل کا طوفان امڈتا ہے تو عورت کے لئے مرد ایک مضبوط قلعہ اور عورت مرد کے لئے پریشانیوں کے مقابلے میں ایک آہنی دیوار ہوتی ہے۔

محبت کے لئے ہر دن شعوری عمل کرنا ہوتا ہے اور یہ نہیں کہ میاں بیوی ہوں تو لازما ویسے ہی میسر آجائے جیسے جہیز کا سامان ہاتھ لگ جاتا ہے۔

محبت کے فروغ میں بستر کے امور کو بڑا دخل ہے۔

بچوں کی تعلیم و تربیت

بچے کسی بھی گھر کی رونق ہوتے ہیں اور ماں باپ کے لئے دنیا اور آخرت کا سرمایہ ہوتے ہیں۔ اس عظیم الشان نعمت کی قدر ہو اور ماں باپ کو پیرنٹنگ کا سلیقہ آتا ہو۔ کچھ ماں باپ کو تربیت کا بھوت سوار ہوتا ہے اور ان سے ان کا بچپن چھین کر ان کو ’’سنجیدہ‘‘، ’’پختہ‘‘ اور جبری اور مصنوعی ’’دیندار‘‘ بنانے کی سعی لاحاصل میں لگ کر ان کے دلوں میں وحشت پیدا کردیے ہیں اور ایسے بچے ردعمل کا اظہار کرنے لگتے ہیں اور آگے چل کر تعلقات کشیدہ ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس کے برعکس بھی ایک صورتحال ہوتی ہے جہاں ماں باپ اس فکر سے آزاد ہوتے ہیں کہ کندہ نا تراشیدہ کی صورت گری میں ان کا بھی کوئی رول ہوتا ہے۔ بچوں کی تربیت کا عمل ان دو انتہاؤں کے درمیان ہے۔ پتھر کو ہیرا بنانے کا کام ایک فطری انداز میں ہونا چاہیے جس میں اس بات کا لحاظ رکھا جائے کہ اس عمل کے دوران کوئی ہلکا سا بال بھی پڑنے نہ پائے۔ یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے۔

ایک اہم بات یہاں نوٹ کراتے چلوں کہ بچوں کی تربیت میں اکثر حکم، زور، ڈانٹ اور مطالبات کا منفی اثر پڑتا ہے اور ماں باپ کا عمل اور نمونہ ان پر گہرے اور دائمی اثر چھوڑتا ہے۔ ماں باپ اگر با مقصد زندگی گذار رہے ہیں، اسلام کا نمونہ پیش کر رہے ہیں، اعلی اخلاق سے مزین ہیں، سماج سے مربوط ہیں اور انسانوں کی خدمت میں لگے ہوئے ہیں تو گھر میں موجود فضا بچوں کی ذہن سازی کے لئے ایک خاموش دعوت ہے۔

ایک اچھے اور مثالی گھر میں والدین اور اولاد کے مابین تعلقات میں کشیدگی نہیں ہوگی بلکہ محبت اور خلوص، پیار اور قدردانی کی کارفرمائی ہوگی۔ بچوں کی فطرت چاہتی ہے کہ ماں باپ ان سے اچھی اچھی باتیں کریں، کہانیاں سنائیں، لوریاں گائیں اور ان کے ساتھ کھیلیں۔

بچے جب بڑے ہونے لگیں تو اس وقت انہیں کچھ بنیادی باتیں بتائیں جو ان کے لئے زندگی کا سرمایہ بن جائیں۔ اس سلسلے میں قرآن ہمیں بتاتا ہے :

’’ یاد کرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کر رہا تھا تو اس نے کہا بیٹا ! خدا کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا ، حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے۔ ‘‘

لقمان حکیم نے اپنے بچے کی تربیت میں جن نکات پر مشتمل گفتگو کی، اس کا تذکرہ قرآن مجید کی سورہ لقمان میں آیات 11 -19 میں ہے وہ امور حسب ذیل ہیں

1- عقیدہ : خداکے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا کیوں کہ یہ سب سے بڑا گناہ ہے۔

2-ماں باپ کا احترام : جو بچے خدا کے اطاعت گذار اور ماں باپ کے فرمانبردار بن گئے انہوں نے دونوں جہاں کی کامیابی پالی۔

3- تقوی: خدا کی صفات کا استحضار خصوصاً یہ کہ وہ بندوں کو ہر آن دیکھتا ہے اور اس سے چھپنا ممکن نہیں۔

4- عبادات : خدا کی اطاعت سکھائی جائے جس میں پہلا نمبر نماز کا آتا ہے۔

5-امر بالمعروف اور نہی عن المنکر: دنیا میں جینے کا ایک مقصد ہونا چاہیے اور سب سے اعلی و ارفع مقصد یہ ہے کہ دنیا کو خیر کی طرف دعوت دی جائے اور برائیوں کو مٹایا جائے ۔

6- اچھے اوصاف : صبر کی صفت ہو۔ انسان بیزار، مغرور و متکبر اور بڑائی پسند اور خود پسند نہ بنے۔ اس کے برعکس اعتدال پسند اور نرم گفتار بنے۔

بچے اچھے اخلاق کے حامل بن جائیں تو اس سے بہتر اور خوشحال گھرانہ اور کونسا ہو سکتا ہے ؟

انسانوں سے بہترین تعلقات :

اچھے گھر کی تیسری خوبی یہ ہے کہ تمام رشتوں سے حسب مراتب احسن درجے کے تعلقات پائے جائیں۔ ہر رشتہ قابل احترام ہے یہ بات سب پر واضح ہو اور جب یہ تصور عمل میں ڈھلے گا تو آپ کا گھر خاندان کا مرکزی گھر بن جائے گا۔ اہل خاندان کے لئے آپ اور آپ کے گھر کے بچے اور بڑے، خواتین اور مرد مرجع خلائق بن جائیں گے۔ آپ کا گھر مہمانوں کے لئے اترنے کی جگہ ہوگی۔ یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ مہمان کی آمد خدا کی رحمت و برکت کا سبب ہے اور ان کی دعائیں گھر میں آنے والی بلاؤ ں کو ٹال دیتی ہیں۔ بلاؤں، مصیبتوں اور بیماریوں سے پاک گھر کون نہیں چاہتا مگر اس کا نسخہ اپنانے کے لئے وسعت قلب اور انسانوں سے محبت چاہئے۔ بعض لوگوں کو گھر اور نام بڑا ہوتا ہے مگر افراد خاندان آدم بیزار ہوتے ہیں اور ایسے لوگ اکیلے جیتے ہیں اور اکیلے ہی مرتے ہیں۔ دنیا میں جیتے ہیں مگر مُردوں میں شمار کے لائق ہوتے ہیں اور مرتے ہیں تو دنیا یوں محسوس کرتی ہے کہ وہ کبھی جئے ہی نہیں۔

اچھا اور مثالی گھر بنانے میں رشتہ داروں کے علاوہ دوست احباب اور پاس پڑوسیوں سے بھی بہترین اور خوش گوار تعلقات ہونے چاہئیں۔ سب آپ سے بھلائی اور خیر ہی کی امید رکھتے ہوں اور آپ پر یہ وعید صادق نہ آتی ہو:

’’تم نے دیکھا اس شخص کو جو آخرت کی جزا و سزا کو جھٹلاتا ہے۔ وہی تو ہے جو یتیم کو دھکے دیتا ہے۔ اور مسکین کا کھانا دینے پر نہیں اکساتا۔ پھر تباہی ہے ان نماز پڑھنے والوں کے لیے۔ جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں، جو ریاکاری کرتے ہیں۔ معمولی ضرورت کی چیزیں لوگوں کو دینے سے گریز کرتے ہیں۔(الماعون:۱،۲)

شیئر کیجیے
Default image
ا یس- امین الحسن