میان بیوی

مثالی بیوی

رشتۂ ازدواج اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور زبردست نشانی بھی۔ موجودہ دور میں خاندانی نظام انتشار کے اتنائی بدترین حالات سے گزر رہا ہے جسے مغربی مفکر Great Disruption سے تعبیر کر رہے ہیں۔

ٹوٹتے بکھرتے خاندان سنگل پیرنٹس کے تصورات، ماں کی آغوش کو ترستے بچپن، انا کی بھینٹ چڑھتے رشتے۔ یہ دور حاضر کا عذاب ہے جو انسانوں پر مسلط ہے۔

خاندانی نظام کی مضبوطی کے لیے ضروری ہے کہ شوہر اور بیوی اپنی اپنی ذمے داریوں سے نہ صرف واقف ہوں بلکہ موجود سے مطلوب کی طرف ہر دن پیش قدمی کریں۔ مثالی بیوی اور شوہر خیالی خاکے نہ ہوں بلکہ عملی زندگی کا حصہ بن جائیں۔ مثالی بیوی اور مثالی شوہر کی تلاش سے بہتر ہے کہ دونوں فریق خود مثالی بننے کی پہل کریں۔ اگر یہ نہ ہو تو پوری زندگی تجرد کی بسر ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے۔

فرانسیسی سیاست دان رابرٹ شومان تمام عمر کنوارا رہا۔ ایک موقعے پر کسی اخبار کے نمائندے نے ان سے کنوارے پن کی وجہ معلوم کی۔ اس نے کہا: میں تمام عمر ایک مثالی بیوی کی تلاش میں رہا۔ اخباری نمائندے نے کہا: کیا آپ کو ایسی بیوی ملی، شوماں نے جواب دیا جی ہاں! مل گئی تھی مگر وہ خود ایک مثالی شوہر کی تلاش میں تھی۔

انگریزی میں کہاوت ہے کہ:

An Ideal wife is any women who has an ideal husband

مغربی دنیا مثالی بیوی اور شوہر کا کوئی مثالی عالمی تصور نہیں پیس کرسکی لیکن اسلام نے رشتہ ازدواج میں منسلک دونوں فریقوں کے لیے بھرپور رہ نمائی کی ہے۔ قرآن، سیرت، اسلامی تاریخ اور احادیث کا مطالعہ ہمیں مثالی بیوی کے اوصاف سے واقف کرواتا ہے۔

مثالی بیوی کا قرآنی تصور

’’جو نیک بیویاں ہیں وہ مردوں کے حکم پر چلتی ہیں۔‘‘ (النساء:۳۴)

اور ان کی عدم موجودگی میں ان کے مال اور اپنی آبرو کی حفاظت کرتی ہیں۔

یہ تین صفتیں ایک عورت کو مکمل مثالی بیوی بناتی ہے۔

(۱) صالحات: نیک (بیویاں)

نبیﷺ نے فرمایا:عورت سے چار چیزوں کے سبب نکاح کیا جاتا ہے۔

۱- اس کے مال کی وجہ سے

۲- اس کے حسب ونسب کی وجہ سے

۳- اس کے دین داری کی وجہ سے

۴- حسن و جمال کی وجہ سے

’’لیکن دیکھو! تم دین دار عورت سے نکاح کرنا اللہ تمہیں خوش رکھے۔‘‘ (بخاری)

ایک عورت اس وقت تک مثالی بیوی نہیں بن سکتی جب تک کہ اس کے اندر نیکی کی صفت پیدا نہیں ہوجاتی اور اس کا تعلق اپنے رب سے مضبوط نہیں ہوتا، جو انسان اپنے رب کا حق ادا نہیں کر سکتا، وہ یقینا مخلوق کا حق بھی ادا نہیں کر سکتا۔ اسی لیے آیات میں سب سے پہلے ’’صالحات‘‘ کا ذکر کیا ہے کہ ایک عورت صالحہ نہیں ہوگی تو وہ ’’قانتات‘‘ (اپنے شوہر کی فرماں بردار) نہیں ہوسکتی۔

مثالی بیوی بننے کے لیے ضروری ہے کہ اللہ تعالیٰ سے تعلق کو مضبوط کیا جائے۔ فرائض اور واجبات کی پابندی، ذکر و اذکار کا کثرت سے اہتمام کیا جائے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ صحابیات جنھوں نے بہترین بیویوں کا کردار ادا کیا، جن کے کرداروں کو بحیثیت بیوی کے صفحہ قرطاس پر محفوظ کرنے والوں نے ذریں الفاظ میں محفوظ کیا۔ ان کا تعلق اپنے پروردگار سے بلا کا مضبوط تھا۔ نہ صرف اپنا تعلق انھوں نے اللہ سے قائم کیا بلکہ بعض اوقات ان کی نیکی کی وجہ سے مرد بھی مشرف بہ اسلام ہوئے۔

حضرت انسؓ کہتے ہیں کہ: حضرت ابو طلحہؓ نے ام سلیم کو نکاح کا پیغام بھیجا تو ام سلیم نے کہا کہ اگر تم اسلام قبول کرلو تو میں تم سے نکاح کرلوں گی۔ ابو طلحہ نے اسلام قبول کرلیا اور یہ ہی ان کا مہر قرار پایا۔یہ وہ نیک کردار خاتون تھی جن کی نیکی کی وجہ سے ابو طلحہؓ جیسے جری انسان اسلام کی گود میں آئے۔

زیادہ دعاؤں کا اہتمام کرنا

’’پروردگار! ہمیں ہمارے جوڑوں کی طرف سے اور ہماری اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔‘‘

خدانخواستہ کسی وجہ سے اگر شوہر ناراض ہوجائے، تو سب سے پہلے اللہ سے رجوع کرنا چاہیے۔ دو رکعت نماز پڑھ کر ناراضگی کی دوری کے لیے دل کی گہرائیوں سے دعا کرنی چاہیے۔ یقینا یہ دعا اللہ تعالیٰ رد نہیں کرے گا۔ صلح کے لیے لرزائے گئے ہاتھوں کو اللہ رد نہیں کرتا۔ اپنی غلطیاں اور کوتاہیاں یاد کر کے اپنے رب سے معافی مانگی جائے۔

اگر شوہر بیوی کو نظر انداز کرتا ہے تو اس کے لیے بھی اللہ سے رجوع کرنا چاہیے۔ انسانوں کے دل اللہ کی انگلیوں کے بیچ میں ہیں، وہ جس طرف چاہتا ہے پلٹتا ہے، شوہر کے دل کو اپنی طرف پلٹنے کے لیے دعا کرنی چاہیے۔

بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ بیوی اپنے شوہر کے سلسلے میں بہت مثبت ہوتی ہے پھر بھی شوہر بے قصور غصہ دکھاتے یا نظر انداز کرتے ہیں۔ ایسی باتوں سے دل برداشتہ نہیںہونا چاہیے۔ اپنی اچھائیاں اور عنایتیں باقی رکھنی چاہئیں بلکہ اور زیادہ مثبت طریقہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ کام بہت سخت ہے لیکن ایک خدا ترس خاتون کے لیے بالکل بھی نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ انسانوں کو اسی کے ہاتھوں توڑتا ہے جس سے وہ سب سے زیادہ محبت رکھتا ہے۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:’’ہم نے بعض کو بعض کے لیے آزمائش بنا دیا ہے۔‘‘

ہوسکتا ہے شوہر کا یہ غیر مناسب رویہ اور بے رخی سے اللہ تعالیٰ کچھ سکھانا چاہتے ہوں۔ اللہ کی رحمت سے مایوس نہیںہونا چاہیے۔ ہر حال میں اس کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔

قانتات: (اپنے شوہر کی فرماں بردار)

قانتات کے معنی ہوتے ہیں، عاجزی کے ساتھ مسلسل فرماں برداری کرنے والی، ہر حال میں فرماں برداری کرنے والی۔

عام حالت میں یہ ہوتا ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے سے خوش اور مطمئن ہوتے ہیں، لیکن ہر بار ایسا نہیں ہوتا کہ شوہر اور بیوی ہمیشہ اچھے موڈ میں ہی ہوں۔ دونوں میں سے کوئی ایک ضرور ناراض ہو سکتا ہے۔ اگر بیوی کسی وجہ سے شوہر سے ناراض بھی ہو جائے تو بھی جو صفت ایک مثالی نیک بیوی کی بتائی گئی ہے کہ ’’قانتات‘‘ ہر حال میں اپنے شوہر کی فرماں برداری کرتی ہے چاہے وہ اپنے شوہر سے کسی وجہ سے ناراض ہی ہو ، چاہے اس وقت دل اپنے شوہر کی بات ماننے کو نہیں بھی کہہ رہا ہو یا انا پر ضرب پڑ رہی تب بھی شوہر کی بات ماننی ہے۔ الا یہ کہ شوہر خدا کی ناراضگی کے کام کرنے کو کہے۔

نبیؐ نے فرمایا:’’ بہترین بیوی وہ ہے کہ جب شوہر اس کو دیکھے تو خوش ہوجائے وہ اس کو حکم دے تو پورا کرے۔اس کے نام پر قسم کھائے تو اس کی قسم پوری کرے۔‘‘

ایسا ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ شوہر سے کسی چیز کی فرمائش کی جائے اور وہ پورا نہ کر سکے تو اس کی نافرمانی شروع کر دی جائے۔

نبیﷺ نے فرمایا:دو آدمی ایسے ہیں جن کی نمازیں ان کے سروں سے اوپر نہیں اٹھتیں ایک بھاگا ہوا غلام جب تک اپنے آقا کے پاس لوٹ نہ آئے۔ دوسری وہ نافرمان بیوی جب تک کہ اپنے شوہر کی فرماںبرداری نہیں کرتی۔

ایک طویل حدیث جس کا مختصر مفہوم ہے۔ آپؐ نے فرمایا تمہارا شوہر تمہاری جنت بھی ہے اور جہنم بھی ہے۔اور ایک موقع پر آپؐ نے ارشاد فرمایا:

اللہ تعالیٰ کسی ایسی عورت کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھے گا جو اپنے شوہر کی قدردان نہ ہو، جب کہ وہ اس سے بے نیاز بھی نہیں ہوسکتی۔ آپﷺ نے یہ بھی فرمایا:بیوی اپنے شوہر کے معاملے میں کسی اور کی بات نہ مانے (اپنے والدین کی بھی نہیں)۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ شوہر جب خوش حال اور مالدار ہو تب بیوی اپنے شوہر کی خوب خدمت بجا لاتی ہے، فرماں بردار بنی ہوئی ہوتی ہے، لیکن جوں ہی میاں کی جیب تنگ ہوتی ہے بیوی کی خدمت گزاری و فرماں برداری رفو چکر ہو جاتی ہے۔ مزید یہ کہ شوہر کو معاشرے کی سختی، گھر کے اخراجات کی فکر لگی ہوئی ہوتی ہے۔ اس پر بیوی کی بے رخی آگ میں گھی کا کام کرتی ہے۔ لیکن مثالی بیوی جس میں قانتات کی صفت ہوتی ہے وہ اپنے شوہر کا ہر لحاظ سے سہارا بنتی ہے۔ اس کی نظر شوہر کے جیب پر نہیں بلکہ اس کے دل پر ہوتی ہے۔

اس بات کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہیے کہ مرد کی انا عورت سے دو گنی ہوتی ہے اس کی انا اور غیرت کو کبھی بھی چیلنج نہیں کرنا چاہیے۔

خدا نہ کرے اگر کسی وقت ان بن ہو بھی جائے تو ایک اچھی اور مثالی بیوی کو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر سے ہار مان لے۔ اس وقت ہار شوہر کے دل کو جیتنے کا سبب بنتی ہے۔ ایک مثالی بیوی اپنے آپ کو شوہر سے بہتر اور برتر ثابت کرنے کے درپے نہیں ہوتی بلکہ وہ ہر محاذ پر شوہر سے ہار جاتی ہے اور یہ ہار ہی اصل میں اس کی جیت کا سامان ہوتا ہے۔ وہ خود کو ہار کر در اصل اپنے شوہر کو جیت رہی ہوتی ہے۔

حافظات

مثالی بیوی کی تیسری خوبی یہ ہے کہ وہ ’’حافظات‘‘ ہوتی ہے۔ شوہر کی غیر موجودگی میں اس کے مال و اولاد اور اپنی آبرو کی حفاظت کرنے والی اور اپنے شوہر کے رازوں کی حفاظت کرنے والی ہوتی ہے۔

حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’بیوی اپنے خاوند کے اجازت کے بغیر خرچ نہ کرے۔‘‘ کسی نے عرض کیا: یا رسول اللہﷺ! کیا کھانا بھی؟ فرمایا، ہاں! کھانا تو ہمارا بہترین سرمایہ ہے۔

بڑی رقم خرچ کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے۔ شوہر کی مرضی کے بغیر۔ البتہ چھوٹی موٹی رقم یا خیرات دی جاسکتی ہے۔ لیکن بڑی رقم شوہر کی اجازت کے بغیر فی سبیل الہ بھی نہیں دینی چاہیے۔

بعض اوقات خواتین کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ شوہر کی اجازت کے بغیر مال میکے کے رشتے داروں پر خرچ کرتی ہے اور شوہر کے استفسار پر بڑی مہارت سے جھوٹ بولتی ہے۔ ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ حرکت میاں بیوی کے رشتوں کو کمزور کر دیتی ہے۔

اگر شوہر یہ پسند نہیں کرتا کہ کوئی اس کی اجازت کے بغیر گھر پر آئے تو چاہیے کہ وہ اپنے شوہر کے مزاج کا خیال رکھے۔

مثالی ’’حافظات‘‘ بیویاں اپنے خیالوں اور نگاہوں کی بھی محافظ ہوتی ہیں۔ اپنے شوہر کے علاوہ کوئی نہ ان کی نگاہوں میں جچتا ہے اور نہ خیالوں میں کسی کا گزر ہوتا ہے۔

ایک مرتبہ نبیؐ کی محفل میں اس بات پر گفتگو ہوئی کہ دنیا کی سب سے بہترین عورت کون سی ہے۔ حاضرین محفل میں سے سب نے اپنی اپنی آرائے پیش کی۔ حضرت علیؓ کسی کام سے اپنے گھر تشریف لے گئے اور اپنی زوجہ محترمہ حضرت فاطمہؓ سے اس بات کا تزکرہ کیا۔ تو حضرت فاطمہؓ نے فرمایا ’’میں بتاؤں دنیا کی سب سے بہترین عورت کونسی ہے؟‘‘ حضرت علی نے کہا ضرور بتائیں۔ حضرت فاطمہ کہنے لگیں: ’’دنیا کی سب سے بہترین عورت وہ ہے جو نہ خود کسی مرد کی طرف دیکھے اور نہ کوئی غیر مرد اس کی طرف دیکھے۔ حضرت علیؓ واپس تشریف لائے اور آپؐ سے ذکر کیاتو آپ نے فرمایا ’’فاطمہ میرے جگر کا ٹکڑا ہے۔‘‘

شوہر کے رازوں کی بھی حفاظت کرنی چاہیے۔ خاص طور پر بیڈ روم کی باتوں کو اپنے قریب ترین رشتے داروں یا سہیلیوں سے بھی نہیں کرنا چاہیے۔ اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان مردوں اور عورتوں پر لعنت بھیجی ہے جو اپنی مخصوص باتوں کو دوسروں سے شریک کرتے ہیں۔

قرآن مجید نے میاں بیوی کے تعلقات کا نہایت اعلیٰ تصور دیا ہے وہ یہ کہ تمہاری بیویاں تمہارا لباس اور تم ان کے لباس ہو۔

میاںبیوی ایک دوسرے کے لباس ہیں، اگر کوئی عورت اپنی ناراضی کی وجہ سے شوہر کے رازوں کو یا برائیوں کو دوسروں کے سامنے بیان کرتی ہے تو گویا وہ خود اپنا لباس بھاڑ رہی ہوتی ہے۔ یا سر عام داغ دار کر رہی ہوتی ہے لیکن ایک مثالی بیوی ہر حال میں اپنے لباس شوہر کے رازوں کی حفاظت کرتی ہے۔ نہ خود اس کو داغ دار کرتی ہے اور نہ دوسروں کو ایسا موقع دیتی ہے کہ اس کے لباس پر کوئی کیچڑ اچھالے۔

نبیؐ نے فرمایا: کیا تمہیں بہترین جنتی عورتوں کے بارے میں بتاؤں، ہم نے عرض کیا: ضرور! اے اللہ کے رسول۔ فرمایا ہر ایسی عورت جو زیادہ محبت کرنے والی ہو۔ زیادہ بچے پیدا کرنے والی ہو، جب اس کا شوہر غصہ ہو تو کہے:

’’میرا ہاتھ تمہارے ہاتھ میں ہے۔ اب میں پلک نہیں جھپکاؤں گی جب تک تم مجھ سے راضی نہ ہو جاؤ۔‘‘ (طبرانی)

شیئر کیجیے
Default image
فرحت الفیہ (جالنہ)

تبصرہ کیجیے