خانگی زندگی کے بارے میں ہدایات

جس طرح قرآن وحدیث میں ان عبادات کے سلسلے میں تفصیلی احکام بیا ن ہوئے ہیں، ٹھیک اسی طرح انسان کی خانگی زندگی کے بارے میں بھی بہت تفصیل سے ہدایات دی گئی ہیں۔قرآن و حدیث میں عبادات کے بعد سب سے زیادہ تفصیل انسان کی خانگی زندگی کے متعلق ہے۔اس کے علاوہ کسی دوسرے شعبۂ حیات کی اتنی تفصیل نہیں ہے۔ نکاح کی ترغیب دی گئی اور اس کا طریقہ بتایا گیا ۔محرمات کی تفصیل بتائی گئی جن سے نکاح نہیں ہوسکتا۔نکاح کے بعد میاں بیوی کے درمیان خوش گوار تعلقات کیسے ہوں ؟میاں بیوی کے حقوق اور ذمہ داریاں کیاہیں؟کبھی ان کے درمیان طلاق کی نوبت آئے تو اس کا صحیح طریقہ کیاہے؟ طلاق کے بعدعورت کی عدت کتنی ہوگی ؟ نان و نفقہ کیاہے اور اس کے شرائط کیاہیں؟ خلع، وصیت ، ہبہ اور وراثت کیا ہے اور اس کا طریقہ کیاہے؟یہ تمام باتیں قرآن میں بہت تفصیل سے بیان ہوئی ہیں اوراحادیث میں بعض مسائل کی مزید وضاحت پائی جاتی ہے۔ اگر کوئی بات وضاحت طلب نہیں ہے تو علماء اور فقہاء کرام نے اس کی وضاحت کی ہے۔ نماز روزے کی طرح ان احکام کی پابندی کی تاکید کی گئی ہے ۔

خانگی احکام و ہدایات سے غفلت

ہم میں سے جو لوگ نماز روزہ وغیرہ کے پابند ہیں اور اس کا اہتمام کرتے ہیں ،وہ بھی ان احکام کے تعلق سے غفلت برت جاتے ہیںیا ان سے کوتاہی ہونے لگتی ہے ۔ اس کی اہمیت وہ اس طرح محسوس نہیں کرتے جس طرح نماز روزہ جیسی عبادت کی محسوس کرتے ہیں۔

قرآن مجید میں احکامِ طلاق کے بیان کے بعد کہا گیا:

’’یہ اللہ کے حدود ہیں، ان سے آگے نہ بڑھو۔ جو لوگ اللہ کے حدود سے تجاوز کرجاتے ہیں وہ ظالم ہیں۔‘‘ (البقرۃ:۹۲۲)

قرآن و حدیث کی اصطلاح میں ظالم وہ ہے جو اللہ کے بتائے ہوئے قانون کو توڑ دے اور اس سے آگے بڑھ جائے۔

سورئہ نساء میں وراثت کے احکام بہت تفصیل سے بیان ہوئے ہیںاور بتایا گیا ہے کہ وراثت میں ماں، باپ، بیوی، بچوں اور بھائی، بہن کا کیا حق ہے ؟بعض مسائل کی وضاحت احادیث میں موجود ہے۔ احکامِ وراثت کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے: تلک حدود اللہ یعنی اللہ نے یہ حدود متعین کردیے ہیں ۔ تمہاری وراثت اسی کے اندر اور اسی کے مطابق تقسیم ہونی چاہیے۔جولوگ ان احکام کی پیروی کرتے ہیں ان کے بارے میںاسی آیت میں آگے فرمایا:

’’جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اللہ تعالیٰ اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔‘‘ (النساء:۱۳)

اس کے برخلاف جولوگ ان احکام کی خلاف ورزی کریں گے ان کے بارے میںفرمایا:

’’جو کوئی احکامِ خداوندی کی خلاف ورزی کرے گااللہ تعالیٰ اسے جہنم میں ڈالے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسواکن عذاب ہے۔‘‘ (النساء:۱۴)

اللہ کے حدود توڑنے کی سزا یہ بتائی گئی ہے کہ آدمی ہمیشہ جہنم میں پڑارہے گا۔ قرآن میں کبھی کبھی ہمیشہ کا لفظ لمبی مدت کے لیے بھی آتاہے۔ اگر کوئی آدمی مسلمان ہے تو اپنی سزا بھگتنے کے بعد نجات پاجائے گا۔ قرآن یہاں کہہ رہا ہے کہ تمہاری وراثت اسی طرح تقسیم ہونی چاہیے جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ ظاہر ہے کہ آدمی جب مرجاتاہے تبھی اس کی وراثت تقسیم ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ میت سے نہیں پوچھے گا، بلکہ ان لوگوں سے پوچھے گا جومیت کے وارث تھے کہ بیوی ، بچے، ماں، باپ اور بھائی، بہن کا جو حق تھا وہ کیوں ہڑپ کر گئے۔ اس کی تقسیم میں تم نے کوتاہی کیوں کی؟ اللہ تعالیٰ نے ان احکام کے تعلق سے اتنی تنبیہ کیوں کی ہے؟اس پر آدمی کو غور وفکر کرتے رہنا چاہیے ،تاکہ وہ ان احکام کی ادائیگی میں کوتاہی سے بچارہے۔

سورئہ طلاق میںطلاق کے احکام بیان ہوئے ہیں اور اس کی کچھ تفصیل بھی آئی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا:

’’کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رب اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بری طرح سزادی۔ انہوں نے اپنے کیے کامزہ چکھ لیا اور انجام کا ر ان کاگھاٹاہی گھاٹا ہے۔ اللہ نے (آخرت میں) ان کے لیے سخت عذاب مہیا کررکھا ہے، پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگوجو ایمان لائے ہو۔‘‘ (الطلاق:۸-۱۰)

اللہ کی نافرمانی کوئی معمولی چیز نہیںہے۔ جب کوئی بستی یا جماعت سرکشی کا رویہ اختیار کرتی ہے تو اللہ تعالیٰ اسے سخت عذاب سے دوچار کرتاہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو کتاب نازل کی ہے اس میں ہماری ہدایت کا سارا سامان موجود ہے۔ اس نے اس میں وہ تمام تفصیلات بیان کردی ہیں جن سے یہ پتہ چلے کہ کون سا راستہ سیدھا ہے اور کون سا راستہ غلط؟

پرسنل لا پر مسلمانوں نے ہر دور میں عمل کیا ہے

نکاح، طلاق، خلع ،عدت، نان ونفقہ،وراثت، ہبہ اور اوقاف، اس نوع کے بعض اور مسائل کو آج کی اصطلاح میں پرسنل لا کہاجاتاہے۔ ان پر مسلمانوں کے تمام ادوار میں عمل ہوتا رہا ہے۔ جب سے یہ احکام نازل ہوئے ہیں مسلمان اس پر عمل کرتے رہے ہیں۔ اگر کسی بھی معاملہ میں غلطی ہوئی ہے تو لوگوں نے غلطی تسلیم کی ہے اور اس کے اصلاح کی کوشش کی ہے ۔ جب کسی گروہ یا فرد نے غلطی پر اصرار کیا توامت نے اس سے دوری اختیار کی ہے ۔ چاہے مسلمان اقتدار میں رہے ہوں یا نہ رہے ہوں ،اقلیت میں رہے ہوں یا اکثریت میں، کوئی دور ایسا نہیں گزرا کہ مسلمانوں نے اس پر عمل نہ کیاہو۔ امید ہے آئندہ بھی مسلمان اس کے پابند رہیں گے اور اس راہ کی رکاوٹوں کو دور کرنے کی سعی کریں گے۔l

شیئر کیجیے
Default image
مولانا سید جلال الدین عمری