5

پہلے یہ چند باتیں!

سال 2017 تین طلاق کے اشو کی نذر ہوگیا۔ اتر پردیش کے ریاستی انتخاب سے لے کر سپریم کورٹ کا طلاق بدعت کے خلاف فیصلہ آنے تک اور حقیقت میں اس کے بعد بھی، یہ موضوع ملک بھر میں زیر بحث رہا۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ آجانے کے بعد جس انداز میں میڈیا نے اس پر بحث کی اس سے ایسا لگتا تھا کہ یہی ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور اب جب کہ سپریم کورٹ نے اسے ختم کردیا ہے ملک کا ہر مسئلہ حل ہوجائے گا۔ کرپشن رخصت اور فرقہ واریت کا خاتمہ ہوجائے گا، نوٹ بندی اور GST کے سبب پٹری سے اتری معیشت بالکل سدھر جائے گی اور ملک میں سب کچھ ٹھیک ٹھاک ہوجائے گا۔ کاش ایسا ہوجاتا اور ملک سکون کی سانس لے سکتا۔ مگر ایسا ہوا نہیں کیوں کہ یہ تو مختلف مسائل سے جوجھتے عوام کی توجہ ملک کے اصل مسائل سے ہٹانے اور ملک کے عوام کے ذہنوں میں فرقہ واریت کا زہر گھولنے اور اسلام ومسلمانوں کے نظام حیات کو ہدف تنقید بنانے کا ایک آلۂ محض تھا۔

سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے سے پہلے اور آنے کے بعد بھی مسلم علماء اور لیڈران کی روش اور ان کے بیانات ہرگز قابل اطمینان نہیں رہے۔ اکثریت نے اس پورے اپنے ایپی سوڈ کو شریعت میں مداخلت او رمسلم پرسنل لا کے خاتمہ کی ابتداء قرا ردیا۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ملک میں مسلم پرسنل لا پر خطرات کے بادل چھائے ہوئے ہیں اور یہ کوئی نئی بات نہیں کیوں کہ دستور کی دفعہ 44 کی موجودگی تک ان خطرات کے چھٹ جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ لیکن تین طلاق کے اشو پر، جسے طلاق بدعت کہا جاتاہے، مسلم علماء کا ردِ عمل اور مسلمانوں کے ذہن میں اسے شریعت بنائے رکھنے کی پروپیگنڈہ مہم کسی بھی طرح حق بہ جانب نہیں کہی جاسکتی۔ مسلم پرسنل لا بورڈ اور ملک کے حنفی علماء طلاق بدعت کو طلاق شریعت ماننے اور لوگوں کو یہی باور کرانے پر کیوں مصر رہے ہیں اور آج بھی ہیں،یہ سمجھ میں نہیں آتا۔ قرآن و حدیث کی واضح ہدایات کے باوجود وہ مسلمانوں کی گردن پر بدعت کا جُوا کیوں باقی رہنے دینا چاہتے ہیں، یہ سوال کیوں مسلمانوں کے ذہن میں پیدا نہیں ہوتا، جب کہ شریعت (قرآن و حدیث) اس مسئلہ پر واضح ہیں۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہمارے معاشرے سے طلاق بدعت خود ہماری اپنی کوششوں سے ختم ہوجاتی اور اس کی نوبت ہی نہ آتی کہ عدالت کو اس میں مداخلت کرنی پڑے۔ مگر ایسا ہوا۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس کے بعد بھی تین طلاق کا یہ بدعی سلسلہ ختم نہیں ہوا اور ابھی تک بیک وقت تین طلاق کے واقعات رپورٹ ہورہے ہیں۔ اس کا مطلب صاف ہے کہ مسلمان جس جہالت، لاعلمی اور بے دینی کی گہری کھائی میں پڑے ہوئے ہیں اس سے نکالنے کی کارگر کوشش نہیں ہوئی اور ابھی اس میں کامیابی کے لیے سخت اور طویل جدوجہد درکار ہے۔

ہم نے اس سے پہلے بھی کہا تھا کہ شاہ بانو کیس کو، جس نے مسلم پرسنل لا اور مسلمانوں پر گہرے اثرات مرتب کیے تھے، اب اکتیس سال ہوچکے ہیں، ان اکتیس برسوں میں پوری ایک جنریشن پیدائش سے لے کر شعور کی اعلیٰ منزل تک پہنچ گئی۔ 1986 اور اس کے بعد پیدا ہونے والے بچے آئی اے ایس اور آئی پی ایس بن گئے، ڈاکٹر اور انجینئر بن گئے اور سرکاری وغیر سرکاری اداروں میں اعلیٰ ترین عہدوں پر فائز ہیں۔ انھوں نے خوب علم حاصل کیا اور ہم نے ان کو علم حاصل کرنے کے مواقع فراہم کیے ۔ ہم نے انھیں اعلیٰ افسر، کامیاب تاجر اور اچھا ٹیکنوکریٹ بنایا اور وہ بن گئے مگر ہم انھیں اچھا مسلمان اور ایک اچھی مسلم اور اسلامی فیملی کا ممبر یا سربراہ بنانے میں کامیاب نہ ہوسکے۔ کامیاب ہوتے بھی کیسے؟ ہم نے اس جہت میں کوشش ہی نہیں کی ۔ اگرہم اپنا مستقبل روشن کرنے کی طرف توجہ دیے بغیر اندھیروں سے نجات کی خواہش کریں تو یہ جائز کیسے ہوسکتا ہے۔

اس سلسلے کے بہت سے تلخ حقائق ہیں جن کا ذکر کرنا خود اپنے دامن میں کیچڑ جمع کرنے کی طرح ہے۔ اس لیے ان کا ذکر نہیں کرتے کہ ہر حقیقت کا اظہار ضروری نہیں، خاص طور پر اس صورت میں جب کہ وہ تلخ ہو۔ مگر اتنا ضرور سمجھ لیں کہ دین کے ترجمان خود دین کے استہزاء کے مرتکب قدم قدم پر دکھائی دیتے ہیں۔ کم از کم اتنا تو ہر کوئی جانتا ہی ہے کہ یہ لوگ حقیقی دین کی ترجمانی میں ناکام رہے ہیں۔

سیاسی پارٹیاں اور حکومتیں تو ہر کام سیاسی مفادات کی جوڑ گھٹاکے اصول پر کرتی ہیں اور کررہی ہیں مگر کیا ہم اور ہماری قیادت اس سے پاک ہے۔ یہ بھی سوال اب اٹھنے لگا ہے، کیوں کہ مسلمانوں میںسیاسی شعوراور دینی بیداری کسی نہ کسی حد تک بڑھی ہے۔ لوگ ان سب معاملات اور پروپیگنڈے کے نتیجہ میں قرآن و حدیث کی طرف رجوع کرنے لگے ہیں اور یہ شر کے بطن سے پیدا ہونے والا خیر ہے جس میں ہمارا اور ہماری قیادت کا کوئی خاص رول نہیں ہے۔

نکاح کی بنیاد پر خاندان بنتا اور رشتے قائم ہوتے ہیں جب کہ طلاق کے سبب خاندان ٹوٹتا اور رشتے بکھرتے ہیں۔ حجاب اسلامی ایک ایسا فیملی میگزین ہے جو خاندان کے استحکام، رشتوں کی مضبوطی اور انھیں اسلامی بنیادوں پر استوار کرنے کا پیغام بر ہے۔ اس لیے ضروری محسوس ہوا کہ اس موقع پر مسلم سماج میں خاندان کی دینی بنیادوں پر استواری کی خاطر اس مسئلے پر بیداری کے لیے خصوصی شمارہ شائع کیا جائے اور یہ شمارہ اب آپ کے ہاتھوں میں ہے۔ کوشش کا مرکز نظر آپ کے سامنے ہے کہ مسلم خاندان کو اسلامی خطوط پر چلتے ہوئے زندگی گزارنے کا سلیقہ سکھایا جائے۔ اس لیے اس شمارے میں یہ بات واضح نظر آئے گی کہ ہم نے اس میں ازدواجی زندگی کی اصلاح اور خوش گواری کے لیے بھرپور مواد جمع کیا ہے جو دینی رہنمائی اور اخلاقی ومعاشرتی اقدار کے اعلیٰ ترین پیمانوں پر کھرا اترے گا۔اور اگر ازدواجی زندگی میں نوبت فراق (بدقسمتی سے) آئی ہے تو اسے احسن طریقے سے انجام دینے کی وہ فکر بھی شامل ہے جسے قرآن نے بہت زور دے کر پیش کیا ہے اور ان سارے مراحل میں تقویٰ، پرہیزگاری، احسان اور ایثار کی تلقین کی ہے۔

تمام تر مطالعے کے بعد اور حالات کا جائزہ لینے کے نتیجہ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ مسلم سماج میں اصلاحِ فکر وعمل کی شدید ضرورت ہے بلکہ یہی اصل ضرورت ہے۔ اگر مسلمان اسلامی تعلیمات کو اپنی عملی زندگی میں جاری و نافذ کریں تو یہ مسائل جو آج منھ کھولے کھڑے ہیں اور لگتا ہے کہ ہماری زندگی اور تشخص کو نگل جائیں گے، ختم ہوجائیں گے۔ اگر ہم شریعت پر خود عمل کریں تو ہمارے سماج میں انصاف و عدل قائم ہوگا اور دوسروں کے لیے مثال بنے گا اور شریعت پر عمل کرنے سے ہمیں دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی قانون روک نہیں سکتا۔

اس شمارے میں جہاںہم نے مسلم پرسنل لا اور یونیفارم سول کوڈ پر بحث کی ہے وہیں مسلم سماج میں بیدار ی پر بھی تحریریں شامل کی ہیں اور اسلام کے نظریہ صنفی مساوات کو بھی واضح کیا ہے جو ہنوز ہم سے عملی تطبیق کا طلب گار ہے۔ اسی طرح مختلف گوشوں پر طلاق کے منفی اثرات کا ازالہ کیسے ممکن ہو ، اس پر بھی تحریریں شامل کی ہیں۔ اس شمارے میں مختلف امور پر کونسلنگ کا گوشہ بھی خاص اہمیت کا حامل ہے جس کی ہمارے سماج میں بڑی ضرورت ہے۔ اگر زوجین کی مناسب انداز میں مناسب موقعوں پر کونسلنگ ہونے لگے توبہت سے خاندانوں کو ٹوٹنے سے بچایا جاسکتا ہے۔ اس سلسلہ میں ہم یہ کہنا چاہیں گے کہ حجاب اسلامی پڑھنے والے بہن بھائی اس فن پر ذاتی طور سے دست رس حاصل کریں اور سماج کی ایک بڑی ضرورت پوری کرکے اللہ کے یہاں زبردست اجر کے حقدار بننے کی کوشش کریں۔

اخیر میں ان تمام احباب اور قلم کاروں کا شکریہ لازم ہے جنھوں نے ہماری درخواست پر ہمارے دیے گئے موضوعات پر مضامین تحریر فرمائے۔ برادر عزیز محی الدین غازی ، بہن ڈاکٹر نازنین سعادت، برادر سعادت اللہ حسینی اور امین الحسن صاحب کا خاص شکریہ کہ ان حضرات کی تحریریں ہماری نظر میں اس شمارے کی جان ہیں۔ ان کے علاوہ ان تمام بہن بھائیوں کے شکر گزار ہیں جنھوں نے اس میں مختلف النوع تعاون پیش کیا۔ ان میں سرِ فہرست عزیزہ سلمیٰ نسرین (آکولہ) ہیں۔ اور ہاں ان مضمون نگار حضرات سے معذرت چاہوں گا جن کے مضامین کسی بھی وجہ سے اس شمارے میں شامل نہ ہوسکے۔ ان حضرات سے وعدہ ہے کہ آئندہ شماروں میں انھیں شائع کیا جائے گا۔

ہم نے اس اشاعت کو بہتر سے بہتر بنانے کی کوشش کی ہے، اس میں کس حد تک کامیابی ہوئی اس کا فیصلہ تو قارئین ہی کریں کے اور ہم انتظار کریں گے آپ کی رائے کا۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے