بجلی سے چلنے والی منشیات

حضور اکرمﷺنے اپنی احادیث میں قیامت کی جو نشانیاں بتائی تھیں ان میں یہ ذکر تھا کہ ’’گھر گھر میں عورتیں ناچیں گی اور فتنہ ہر گھر میں گھس جائے گا۔‘‘ آج ٹی وی سے زیادہ اس حدیث کا مصداق اور کوئی نہیں، جس کے ذریعے پورے سماج میں برائی پھیل رہی ہے۔ اور مسلم سماج سے برائی کے خلاف قوت مدافعت دن بہ دن کم ہوتی جا رہی ہے۔

قرآن میں شراب کے متعلق ذکر ہے کہ اس کے کچھ فائدے بھی ہیں لیکن اس کے نقصانات اس کے فائدوں سے زیادہ ہیں۔ اسی لیے شراب حرام ٹھہرائی گئی۔ تو کچھ یہی حال ٹی وی کا بھی ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ انسانی دماغ میں باطل کو حق ثابت کرنے کی بے پناہ صلاحیت موجود ہوتی ہے۔ یہ درست ہے کہ ٹی وی کے بھی فوائد ہیں اور اسے سماج اور معاشرے کی تعلیمی ترقی اور مختلف النوع بھلائیوں کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔ مسلم ممالک میں تلاوت قرآن اور کئی دیگر دینی پروگرام بھی پیش کیے جاتے ہیں۔ مگر اس کے بعد یہی کچھ ہوتا ہے۔ آج ٹی وی دیکھنے کا ہی یہ کرشمہ ہے کہ جن مسلمانوں نے Mel Gibson کی حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے متعلق فلم Passion of Christ دیکھی تو ان مسلمانوں نے فلم کے آخر میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو صلیب پر انتہائی تکلیف سے قتل ہوتے ہوئے دیکھ کر بہت آنسو بہائے حالاں کہ انہی مسلمانوں نے اگر قرآن کا اردو ترجمہ پڑھا ہوتا تو وہ سورہ النساء میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے متعلق پڑھتے۔

’’اور ان لوگوں نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو نہ تو قتل کیا اور نہ ہی صلیب پر چڑھایا بلکہ انہی کی صورت کے کسی دوسرے شخص کو۔‘‘

پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’اور حضرت عیسیٰ کو قتل نہیں کیا گیابلکہ ان کو اٹھا لیا اللہ نے اپنی طرف۔‘‘

ٹی وی اور خبریں

خبروں کے حصول کے لیے بھی ٹی وی کی افادیت محل نظر ہے۔ نیل پوسٹ مین امریکہ کا ایک بہت بڑا مفکر ہے اور نیویارک یونیورسٹی کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کا سربراہ ہے۔ اس نے اپنی کتاب How to watch TV News میں دلائل سے ثابت کیا ہے کہ ٹی دی پر خبریں دینے کا اصل مقصد صرف لوگوں میں سنسنی پھیلانا اور اشتہارات کا فروغ ہوتا ہے۔ اور تحقیق سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ جو لوگ اخبارات پڑھتے ہیں وہ ان لوگوں کے مقابلے میں جو ٹی وی پر خبریں دیکھتے ہیں کہیں زیادہ ملکی حالات سے باخبر ہوتے ہیں۔ کیوں کہ اخبارات میں خبر زیادہ تفصیل سے ہوتی ہے اور صفحے پر لکھی تحریر ٹی وی کی اسکرین کے مقابلے میں زیادہ بہتر ہوتی ہے۔

ٹی وی ڈرامے

ٹی وی ڈرامے جن کے انتظار میں لوگ بے چین ہوتے ہیں اور اپنی روز مرہ کی مصروفیات کو ان ڈراموں کے اوقات کے مطابق ڈھالتے ہیں کہ کہیں ڈرامہ مس نہ ہوجائے۔ یہ ڈرامے معیارِ زندگی بلند کرنے کا درس دے کر لوگوں میں محرومی پیدا کرتے ہیں (یعنی ہمارے پاس فلاں چیز نہیں) اور انہیں مادہ پرست بناتے ہیں، مرد اور عورت کا اختلاط دکھا کر سماج میں خوشحالی اور آزادی کا تاثر دیتے ہیں اور اپنی مذہبی اقدار اور معاشرتی روایات غیر محسوس طریقے سے بغاوت سکھاتے ہیں۔

نقصانات کا سائنسی تجزیہ

امریکہ کے اربابِ فکر و نظر نے ٹی وی کے نقصانات کا سائنسی تجزیہ کر کے بہت سی کتابیں لکھی ہیں: ان میں نیل پوسٹ مین کی کتاب Amusing Overselves to Death، جیری سینڈر کی کتاب Four Arguments for Elimination of Television اور میری ون کی کتاب The Plug-in Drugs (یعنی بجلی سے چلنے والے منشیات) شامل ہیں۔ جیری مینڈر کی تو اپنی اشتہارات کی کمپنی تھی جس کی اس نے پندرہ سال صدارت کی اور پھر ٹی وی کے کاروبار سے توبہ کی اور گھر کا بھیدی ہونے کی حیثیت سے ٹی وی اور کمپیوٹر کی سیاہ کاریوں کے متعلق ایک تحریک شروع کی۔ اسی طرح جین ہیلی ایجوکیشن سائکا لوجی میں Ph.D ہے اور اسے اس میدان میں پینتیس سالہ تجربہ ہے۔ ان تمام محققین کی تحقیق کی بنیاد پر مندرجہ ذیل نکات سامنے آتے ہیں:

ٹی وی اسکرین پر مناظر یا تصاویر سیکنڈ کی تیسویں حصے سے زیادہ تیزی کے ساتھ حرکت کرتے ہیں، جس کی وجہ سے دماغ میں ان کو جانچنے اور پرکھنے کی صلاحیت نہیں ہوتی اور انسانی دماغ کی اچھائی برائی کی تمیز کے بغیر ان کو اپنے اندر جذب کرلیتا ہے۔ اسے Passive Receptance کہتے ہیں۔

۱- امریکہ میں اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ ایک عام امریکی شہری ہفتے میں تیس گھنٹے ٹی وی دیکھتا ہے۔ جب کہ والدین اپنے بچوں کو روزانہ پندرہ منٹ سے بھی کم وقت دیتے ہیں۔ چوں کہ سارے ممالک ہر چیز میں امریکہ کی اندھی تقلید کرتے ہیں اس لیے اس معاملے میں والدین کا حال بھی یہی ہو جائے گا۔

۲- پچھلے بیس سالوں میں جیسے جیسے بچوں میں ٹی وی کا دیکھنا عام ہوا ہے اسی رفتار سے امتحانوں میں بچوں کی کارکردگی بد سے متاثر ہے۔

۳- ٹی وی دیکھنا چوں کہ ایک Passive مشق ہے اس لیے اس کی وجہ سے لوگوں میں سستی کی طرف میلان پیدا ہوتا ہے۔

۴- ماہرین نفسیات کی کئی سالوں کی تحقیق کا نچوڑ ہے کہ لوگ جب ٹی وی پروگرام (ڈرامے اور فلمیں) دیکھتے ہیں تو وہ ان ڈراموں میں پیش کیے گئے حالات کو لاشعوری طور پر اپنی روز مرہ زندگی پر نافذ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لوگوں میں جذباتیت کا رجحان، ایک دوسرے کے لیے غصہ اور حسد، سب کو بھڑکانے میں ٹی وی کا بہت دخل ہے۔

۵- ٹی وی اور کمپیوٹر جب چلتے ہیں تو ان کی اسکرین میں سے شعاعیں، Cathode Rays نکلتی ہیں اور یہ شعاعیں ہمارے دماغوں میں پیدا ہونے والی شعاعوں Gamma Rays پر غالب آجاتی ہے۔ اس کے نتیجے میں دماغ میں پیدا ہونے والی نیورو کیمیکل میں تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اس کے مہلک اثرات چھوٹے بچوں اور ماں بننے والی خواتین پر پڑتے ہیں۔ چھوٹے بچوں میں توجہ مرکوز کرنے میں کمی کی بیماری "Attention Deficit Syndrome” میں سب سے زیادہ دخل ٹی وی کا ہے۔ اگر بچہ والدین کو تنگ کر رہا ہو تو ٹی وی کے آگے بٹھانے سے بچہ وقتی طور پر تو چپ ہوجاتا ہے مگر اس کی قیمت بعد میں دینی پڑتی میں۔

۶- بیری سینڈر نے اپنی کتاب In the Abscence of Sacred میں بتایا ہے کہ کنیڈا کے ایک شہر میں ریڈا نڈین قبائل آباد ہیں۔ جن کا رہن سہن مسلمان معاشرے جیسا تھا یعنی بزرگوں کا احترام اور معاشرتی روایات مضبوط تھیں۔ وہاں کے سفید فام حکمرانوں نے ریڈ انڈین لوگوں کو اپنے جیسا بنانے کے لیے کوششیں کیں مگر ناکام رہے۔ آخر انہوں نے ان ریڈ انڈین قبائل کو مفت ٹی وی تقسیم کیے اور وہاں کے ٹی وی چینل پر اسی طرح کے پروگرام نشر کیے (جس طرح کے پروگرام ایشیائی ممالک میں دکھائے جاتے ہیں) پھر کیا تھا کہ بیس سالوں کے اندر اندر ریڈ انڈین قبائل کا معاشرتی نظام تبدیل ہوگیا۔ ان کے نوجوانوں میں بے راہ روی پھیلنا شروع ہوگئی اور نوجوانوں نے اپنے والدین کے خلاف بغاوت کردی۔ جو کام دوسرے ذرائع نہ کرسکے وہ ٹی وی نے بڑی کامیابی سے کردیا۔

۷- ٹی وی کی ماں یعنی کمپیوٹر کا بچوں کو سکھانا اور بچوں کا انٹرنیٹ پر Chatting کرنا ایک قابلیت سمجھی جاتی ہے۔ حالاں کہ اصل قابلیت تعلیم اور مطالعہ کتب سے آتی ہے۔ کمپیوٹر تو برطانیہ اور امریکہ میں بن مانس بھی چلا لیتے ہیں۔

ٹی وی چھوڑنا ممکن ہے؟

شروع شروع میں جب ٹی وی کوئی فرد چھوڑ دے تو سخت بے چینی ہوتی ہے کیوں کہ یہ ایک قسم کا نشہ ہے جسے میری ون نے بجلی سے چلنے والی منشیات Plug-in Drug کہا ہے۔ جب کسی نشہ آور چیز کو چھوڑیں تو Withdrawl sysptomsضرور ہوتی ہے۔ لیکن یقین جانئے کہ آپ ایک مہینہ ٹی وی چھوڑیں تو اس کے بعد آپ کا ٹی وی دیکھنے کو دل نہیں چاہے گا۔ اللہ اور حضورﷺ سے آپ کو اگر محبت ہے تو ان کی خاطر اپنا وقت ٹی وی پر برباد کرنا چھوڑ دیں۔

حضورﷺ نے فرمایا ہے: ’’جو اللہ کی خاطر کوئی چیز چھوڑتا ہے تو اللہ اس کے بدلے میں اس سے بہتر چیز اس بندے کو عطا فرما دیتا ہے۔‘‘

ہم ٹی وی اپنی زندگی سے نکال دیں تو اس کے متبادل بہت سے مشغلے ہیں: مثلاً

۱- میاں بیوی میں سے کوئی ایک اسلامی کتاب کو پڑھے اور دوسرا اس کو سنے۔

۲- خود اسلامی کتاب پڑھنا اور جب دوسری بہنوں سے ملاقات ہو تو اس کتاب کے متعلق گفتگو کرنا۔

۳- بچوں کو اسلامی کہانیاں سنانا۔ یہ بات بہت چھوٹی معلوم ہوتی ہے مگر بیسویں صدی کے عظیم سائنس داں آئن اسٹائن نے ایک مرتبہ کہا تھا:

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کا بچہ ذہین بنے تو آپ اسے کہانیاں سنائیں۔

کثرت حق کا معیار نہیں ہوتی۔ قرآن پاک میں ہے: ’’ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنی کشش والی کیوں نہ معلوم ہو۔ پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو، اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو۔

جب تاتاریوں نے بغداد کی اینٹ سے اینٹ بجائی اور لاکھوں مسلمانوں کو قتل کیا تو اس وقت لگتا تھا کہ اب اسلام نہیں اٹھ سکے گا لیکن اس حادثے میں جو خواتین زندہ بچ گئیں انہی کی کوششوں سے وحشی تاتاریوں نے اسلام قبول کرلیا۔ آج پھر اسلام کو ایسی خواتین کی ضرورت ہے۔

مسلم خواتین کو چاہیے کہ وہ ٹی وی پر وقت ضائع کرنے کی بجائے گھر میں درس قرآن اور مطالعہ حدیث کا اہتمام کریں۔ اپنے بچوں کو صحابہ کرام کی سوانح عمریاں سنائیں۔ یہ بات ہمیں بہت چھوٹی نظر آتی ہے لیکن اس کے بچوں کے ذہنوں پر بہت گہرے نقوش پڑتے ہیں۔ مشہور امریکی سائکا لوجسٹ Scott pack نے اپنی کتاب The Road Less Travelled میں لکھا ہے کہ بچوں اور نوجوانوں پر سوانح عمریوں کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے کیوں کہ وہ غیر شعوری طور پر کسی نہ کسی Role Model کو ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں۔ جب ہم اپنے بچوں کو اسلامی رول ماڈل مہیا نہ کریں تو وہ اپنی ذہنی ضرورت کی وجہ سے ٹی وی یا فلموں سے کسی ایکٹر کو یا کسی کھلاڑی کو اپنا رول ماڈل بنا لیتے ہیں اور پھر اسی کی طرح بننے میں اپنی صلاحیتیں لگا دیتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر گوہر مشتاق