ناخواندگی

ایک قدم ناخواندگی کو مٹانے کی طرف

تاریخ اسلام کا ایک اہم واقعہ ہے کہ ایک مرتبہ اللہ کے رسولﷺ نے مسجد نبوی میں صحابہ کرام سے خطاب فرمایا اور لوگوں کو علم سیکھنے اور پڑھنا لکھنا سیکھنے کی تلقین فرمائی۔ اس خطاب میں آپؐ نے بعض قبائل کا نام لے کر سخت لہجے میں فرمایا کہ فلاں فلاں قبائل کے لوگ لکھنے پڑھنے کی طرف توجہ نہیں دے رہے ہیں اور اگر انہوں نے ایک معینہ مدت کے اندر یہ کام نہ کیا تو انہیں سزا دی جائے گی۔ اس کے بعد کیا تھا کہ پوری اسلامی ریاست میں علم سیکھنے اور لکھنے پڑھنے کی مہم شروع ہوگئی۔ تاریخ میں یہ بھی موجود ہے کہ حضرت عمر بن خطابؓ خلیفہ ثانی نے اپنے عہد خلافت میں اس کام کے لیے مبلغین بھیجے۔ اللہ کے رسول کی اس تعلیمی مہم کے نتیجے میں اور حضرت عمرؓ کی اس کوشش کے بعد اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اسلامی ریاست میں لکھنے پڑھنے والوں کا تناسب کہاں تک پہنچ گیا ہوگا۔ اندازہ لگایا جاتا ہے کہ مسلم معاشرہ صد فیصد خواندگی کے ہدف کو حاصل کر چکا ہوگا۔

یہ بات اس امت کے مزاج سے بالکل میل کھاتی ہے جس کی ابتداء ہی اقراء باسم ربک الذی خلق سے ہوتی ہے۔ اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ ناخواندگی اور جہالت اسلام اور مسلم معاشرے کے شایان شان نہیں اور امت مسلم کے ہر فرد کو تعلیم یافتہ یا کم از کم خواندہ ہونا چاہیے۔ یہی بات اللہ کے رسول کے اس قول سے بھی ثابت ہوتی ہے جس میں آپ نے فرمایا تھا ’’طلب العلم فریضۃ علی کل مسلم‘‘ اور کل مسلم میں مرد و خواتین دونوں شامل ہیں۔

اللہ کے سولؐ کی اس مہم کو دیکھتے اور آپؐ کے اس قول کو پڑھتے، جس میں علم کے حصول کو ہر مسلم مرد و خاتون کا فریضہ قرار دیا گیا ہے تو اندازہ ہوتا ہے کہ علم کا حصول بھی عبادت سے کچھ کم اہم نہیں اور یہ کہ علم سیکھنا اور سکھانا بھی خود ایک بڑی عبادت ہے۔ روزہ، نماز، زکوۃ اور حج جیسی عظیم عبادت کے شوقین بھلا علم سیکھنے اور سکھانے کی عبادت سے غافل کیسے ہوسکتے ہیں۔ مگر افسوس کہ امت میں اس اہم فریضہ سے غفلت پائی جاتی ہے اور اسی غفلت کا نتیجہ ہے کہ آج امت تعلیم کے میدان میں پسماندہ ہے۔

ہندوستانی مسلمانوں کے سلسلے میں اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ وہ اس میدان میں ہندوستان کے پسماندہ طبقوں سے بھی زیادہ پسماندہ ہیں جب کہ حکومت گزشتہ دہائیوں سے ہندوستانی سماج سے ناخواندگی کے خلاف مہم چھیڑے ہوئے ہے اور ہزاروں کڑور روپے اہل وطن کی خواندگی مہم پر صرف کر رہی ہے۔ اور مسلمان بھی بہ حیثیت شہری اس خواندگی مہم کا حصہ ہیں اور انہیں ہونا چاہیے۔ خاص بات یہ ہے کہ اس سرکاری تحقیق کے بعد کہ مسلمان پسماندہ ہیں مسلم سماج کو خود آگے بڑھ کر ناخواندگی کے اس دھبہ کو مٹانے کی کوشش کرنی چاہیے کیوں کہ جہالت اور ناخواندگی ایک داغ ہے، ایک گالی ہے اور ایک عیب ہے جسے مسلم سماج کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرنا چاہیے۔ یہ نہ اس امت کے شرعی مزاج سے میل کھاتی ہے اور نہ ہمیں وقت اور حالات کے مطابق جینے کا اہل چھوڑتی ہے۔

اس پوری تمہید کا مقصد یہ ہے کہ مسلم سماج کو حکومت کی ناخواندگی کے خلاف اس مہم سے جوڑا جائے، جس نے نئے انداز میں مہم کو آگے بڑھانے کا منصوبہ بنایا۔ـ یہ منصوبہ تھا ناخواندہ بالغان کو کلاس روم یعنی پڑھنے لکھنے کی جگہ پر لے آنے کا ہے۔

۲۰۰۹ء میں جب یوپی اے حکومت نے اس مہم کا نئے سرے سے آغاز کیا تو حسب سابق لوگوں نے کوئی خاصا دلچسپی نہیں لی۔لیکن متعلقہ محکمہ کے ایک عبقری خیال نے اس مہم میں نئی روح پھونک کر اسے بامعنی بنا دیا۔ یہ خیال تھا کہ حکومت ان افراد کو باقاعدہ سرٹیفکٹ دے گی جو خواندگی مہم کے ذریعے ناخواندگی کو خیر باد کہہ دیں گے۔ ’’شاکشر بھارت‘‘ نام کی اس مہم کا ہدف تھا کہ ۲۰۱۷ تک ملک میں خواندگی کی شرح کو اسی فیصد تک لانا ہے اور مرد و خواتین کے درمیان خواندگی کی تفریق محض دس فیصد تک لے آنا تھا۔ واضح رہے کہ ۲۰۰۱ء کے نیشنل پا پولیشن سروے کے مطابق بالغ خواتین میں خواندگی کی شرح پچاس فیصد یا اس سے بھی کم تھی۔ اس حیثیت سے اس مہم کا خاص ہدف بھی خواتین ہی تھیں۔ اور یہ بھی حقیقت ہے کہ ملک کے ناخواندہ افراد کی تعداد دیہی ہندوستان ہی میں بستی ہے۔

اس مہم کو چلانے والے ادارے نیشنل لٹریسی مشن اتھارٹی نے سرٹیفکٹ دینے کے لیے ایک امتحان منعقد کرنے کی روایت شروع کی اور طے کیا کہ جو لوگ اس امتحان کو پاس کرلیں گے انہیں خواندگی کی سند دی جائے گی۔ اس چیز نے لوگوں کو حوصلہ دیا اور وہ اس مہم سے جڑنے لگے۔

اس مہم نے شروع میں عوام کے لیے ۳۰۰ گھنٹے کا کتابی ماڈلول تیار کیا تھا۔ لیکن جیسے جیسے اس کے پاس وسائل ہوتے گئے اس نے آڈیو ویزول ذرائع کا استعمال کرتے ہوئے اسے کم کر کے ۵۰ گھنٹے تک پہنچا دیا۔ او راب وہ لوگ جو مذکورہ ادارے کے مراکز میں آکر لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں وہ محض پچاس گھنٹوں میں اپنا ہدف حاصل کرتے ہوئے اسے کم کر کے محض پچاس گھنٹے تک لے آئے ہیں اور اب وہ لوگ جو مذکورہ ادارے کے مراکز میں آکر لکھنا پڑھنا سیکھتے ہیں وہ محض پچاس گھنٹوں میں اپنا ہدف حاصل کرسکتے ہیں۔ ان سنٹر میں وقت گزارنے کے بعد ہر فرد کو ایک امتحان پاس کرنا ہوتا ہے جو ہر سال ۱۵؍ مارچ کو ضلعی سطح پر منعقد کیا جاتا ہے۔ اس امتحان میں کامیابی کے لیے کم از کم چالیس فیصد نمبرات حاصل کرنا ضروری ہوتا ہے اور جو لوگ یہ نمبرات حاصل نہ کرسکیں وہ اگلے سال بھی امتحان دے سکتے ہیں۔ خاص بات یہ ہے کہ کوئی فرد ان سنٹرس میں جائے بنا بھی اپنا رجسٹریشن امتحان کے لیے کراسکتا ہے او راس میں شریک ہوسکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی فرد اپنے گھر میں لکھنا پڑھنا سیکھے اور امتحان سنٹر میں رجسٹریشن کرا کر امتحان پاس کرلے تو وہ بھی خواندگی سند کا حق دا رہوتا ہے۔

اس بنیادی خواندگی امتحان میں جو صلاحیت مطلوب ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ کوئی فرد بلند آواز سے پڑھنے کی صلاحیت رکھتا ہو، املاء لکھنے کا اہل ہو اور گنتیوں کو پڑھنے ، لکھنے اور بولنے کی صالحیت رکھتا ہو۔ مذکورہ امتحان ہر سال ۱۵؍ مارچ کو دس بجے سے شام پانچ بجے تک چلتا ہے۔ جوتین گھنٹے کا ہوتا ہے۔ خواہش مند کسی بھی وقت اس میں شریک ہوسکتا ہے۔ اس اس اسٹڈی میٹریل ملک کی تیرہ زبانوں اور ۲۶ بولیوں میں مختلف شکلوں میں دستیاب ہوتا ہے اور ملک کے ۴۱۰ اضلاح میں اس کے 1.53 لاکھ سے زیادہ مراکز ہیں۔

۲۰۱۰ میں پہلی مرتبہ جب یہ امتحان منعقد کیا گیا تو اس میں صرف 5,80,000 ناخواندہ لوگوں نے شرکت کی جب کہ محض چار سال بعد ۲۰۱۴ میں یہ تعداد ۴۱ لاکھ ہوگئی اور اس ماہ ہونے والے امتحان میں ایک کروڑ افراد کی شرکت متوقع ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے جو لوگ اس راستے سے خواندگی کا سفر طے کر رہے ہیں ان کا شوق بڑھتا جا ہا ہے او وہ مزید تعلیم کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ چناں چہ یہ بات حوصلہ افزاء ہے کہ کہ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اوپن اسکولنگ میں ۲۰۱۰ کے بعد 4.33 کروڑ لوگوں نے امتحان دیے، ان میں 3.13 کروڑ لوگ وہ ہیں جو اس ٍمشن کا حصہ تھے۔

یہ صورتِ حال دلچسپ، مفید اور حوصلہ افزا ہے کہ ملک میں خواندگی بڑھ رہی ہے۔ اور اس بڑھتی خواندگی کا حصہ بنتے ہوئے اور موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مسلم مرد و خواتین کو بھی آگے آنا چاہیے اس لیے کہ علم و حکمت ان کی میراث اور ان کے دین کا حصہ ہے۔ یہ بات بھی لکھنا ضروری ہے کہ اب کیوں کہ یہ موقع جاچکا مگر پورا ایک سال باقی ہے۔ اس ایک سالہ مدت میں مسلم سماج میں اس مہم کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔ جو لوگ باشعور ہیں ان کی ذمہ داری بلکہ قومی اور ملی فریضہ ہے کہ وہ مسلم عوام کو خاص طور پر اور ملکی عوام کو عام طور پ اس سلسلے میں باخبر کریں تاکہ ملک و ملت سے ناخواندگی کی لعنت کو دور کیا جاسکے۔ جو لوگ اس سلسلے میں مزید معلومات کے خواہش مند ہیں وہ نیشنل ٹریشی مشن اتھارٹی کی ویب سائٹ یا وزارت فروغ انسانی وسائل سے مزید معلومات حاصل کر سکتے ہیں۔

شیئر کیجیے
Default image
شمشاد حسین فلاحی

تبصرہ کیجیے