کاش

انھیں میں بہن کہوں، نند کہوں یا بھاوج کہوں یہ ان تمام رشتوں سے اعلیٰ ترین ہیں۔ یہ وہ کلمات ہیں جو بیگم نواب صاحبہ نے بھری محفل میں اپنی کوٹھی پر منعقد معزز خواتین کی مجلس میں کہے تھے جو ان کے فرزند ارجمند کی آئی اے ایس امتحان میں کامیابی کی خوشی میں سجائی گئی تھی۔ یہاں وہ اپنے جذبات پر قابو نہ پاسکیں، سسکیاں لیتی ہوئی بتائے جا رہی تھیں۔ وہ دن بھلا میں بھول سکتی ہوں جب آج سے تقریباً پچیس سال قبل یہی لخت جگر دماغی بخار میں مبتلا ہوا ہے۔ آپ سبھی جانتے ہوں گے اس خطرناک مہلک مرض سے نہ جانے کتنے معصوم لقمہ اجل اور کتنے ہمیشہ کے لیے معذور ہوگئے۔ ہم نے دولت پانی کی طرح بہائی، ڈاکٹر لاچار اور بے بس تھے۔ ڈاکٹروں نے بتایا صرف چند گھنٹوں کے مہمان ہیں۔ اس جاں کنی کے وقت یہی محترمہ فرشتہ کی طرح آئیں۔ میرے لعل کو اپنے کلیجہ سے لگایا اور مجھے دلاسا دیا، اللہ تبارک و تعالیٰ پر بھروسہ رکھیں وہ ضرور شفائے کاملہ دے گا۔ وہ شام کے سات بجے سے مسلسل کلام پاک کی تلاوت کرتی اور پانی پر دم کر کے اپنے پلو بھگو کر بچے کے جسم کو پونچھتی رہیں۔ یہ عمل ساری رات جاری رہا نہ جانے کتنے سجدے کیے، میں حسرت بھری نظروں سے بت بنی دیکھتی رہی۔ وقت فجر وہ بارگاہ الٰہی میں گڑگڑا کر دعا کر رہی تھیں۔ حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم پر صلوٰۃ و درود کے ساتھ آپ کے وسیلے سے سجدہ ریز ہوکر دعائیں کر رہی تھیں۔ فجر کا وقت تھا کہ بچے میں حرکت محسوس ہوئی۔ جو گزشتہ کئی دنوں سے بے حس و حرکت تھا اور پھر رونے لگا۔ انہوں نے سجدہ سے سر اٹھایا اور خوشی خوشی بچے کو میری طرف بڑھایا تاکہ ماں کا دودھ پی سکے۔ پر میری قسمت ایسی کہاں، اجازت پاکر اپنے سینے سے لگایا اور دودھ پلاتی رہیں۔

ان محترمہ نے کچھ کہنے سے قبل اہل مجلس کو بتایا بیگم صاحبہ نے وعدہ وفا نہ کیا اور عہد توڑ دیا۔ میں نے انہیں قسم دی تھی کہ اس معمولی واقعہ کا ذکر کبھی اور کہیں نہ کرنا، ہاں ماں دل کے ہاتھوں مجبور ہوتی ہے اور جذبات میں بہہ گئیں۔

سچ تو یہ ہے بیگم صاحبہ کا ہم پر جو احسان عظیم ہے اس کے مقابلہ میں یہ بہت ہی ہیچ ہے، ہم بھی بھلا وہ دن کیسے بھول سکتے ہیں جب ہم فساد میں لٹے پٹے بچے کو سینے سے لگائے بے یار و مددگار شدید گرمی میں بہ حالت روزہ وہ بھی بن سحر بھٹک رہے تھے۔ صاحب خانہ نے رحمت کے بادل کی طرح ہمیں آسرا دیا، افطار کروایا پھر ہمیں سحر کے دسترخوان پر اپنے پہلو میں بٹھا کر …یہ کہتے ہوئے بے تحاشہ رو پڑیں پھر سنبھل کر کہا جانتے ہو وہ کون سی رات تھی وہی جو ہزار ماہ سے عظمت والی شب قدر تھی۔

یہ فیصلہ میں اہل مجلس پر چھوڑتی ہوں، بتائیں بھوکے پیاسے بے یار و مددگار روزہ داروں کو افطار و طعام اور سحری کرانا عظیم ہے یا یہ معمولی سا عمل۔ اللہ نے شفا دی اس میں میرا کیا؟ یہ سننا تھا بیگم صاحبہ روتے روتے بے حال ہوئیں اور آنسوؤں کی جھڑی دونوں طرف لگی ہوئی تھی۔ بغل گیر ہوئے، یوں ساری محفل بھی خوشیوں کے آنسوؤں میں بہہ رہی تھی۔

کاش! ہر خاتون میں ایسا جذبہ ایمانی ہو تو سارا ماحول ہی بدل جائے۔ آمین

شیئر کیجیے
Default image
محمد مصطفی علی انصاری