5

محبت کا سفر

ماں پھر کیا ہوا؟‘‘خاموشی پر میں نے فوراً سوال کیا۔

’’ہونا کیا تھا، میں تمھیں شہر لے آئی اور پھر ان کی کبھی شکل نہ دیکھی۔‘‘ ماں نے نفرت انگیزلہجے میں جواب دیا۔ ’’لیکن اماں ہم نے بھی تو ان سے رابطہ کرنے کی کوشش نہیں کی۔ ہو سکتا ہے تایا جان ایسے نہ ہوں ،جیسا ہم انھیں سمجھ رہے ہیں۔‘‘ ’’ارے پگلے،تو ابھی چھوٹا ہے ،تجھے کیا معلوم امیری غریبی کا فرق انسانی رشتوں کو کیسے کمزور کر دیتا ہے۔ تیری تائی بھلا کہاں برداشت کرتی…‘‘ ’’نا اماں ایسا نہیں سوچتے، ہمیں کیا معلوم تائی کیا چاہتی ہیں؟ اماں جس طرح امیری غریبی کا فرق رشتوں کو کمزور کرتا ہے، اسی طرح بدگمانی بھی رشتوں کو کمزور تر کر دیتی ہے۔‘‘

خدیجہ بیگم نے پلٹ کے بیٹے کو یوں دیکھا جیسے یقین کر رہی ہوں کہ اتنی گہری بات میں نے ہی کہی ہے۔ ’’اماں! اگر وہ ہم سے دور رہے، تو ہم نے بھی ان کے قریب جانے کی کوشش نہیں کی۔‘‘ ’’اچھا عادل، اب زیادہ عالم بننے کی کوشش نہ کرو۔ خبردار جو آج کے بعد ان کی وکالت کرنے کی کوشش کی، تجھے کیا پتا وہ کیسے ہیں؟ میں نے تو تجھے ان کی ہوا بھی نہیںلگنے دی۔ اتنے اچھے ہوتے، تو کسی سے پوچھ تاچھ کرتے ہم تک پہنچ ہی جاتے۔ بھرے شہر میں رہ رہے ہیں، کوئی ویرانے میں ڈیرہ نہیں ڈال رکھا۔ بڑا آیا تایا کی حمایت کرنے والا!‘‘ ’’اچھا اماں، آپ ٹھیک کہتی ہیں۔ ناراض نہ ہوں مجھ سے۔‘‘ مجھے سب کچھ گوارا تھا ،لیکن ماں کی ناراضی کا بوجھ نہیں اٹھا سکتا تھا۔ سو مزید بحث کرنا مناسب نہ سمجھا۔

مجھ کو معلوم تھا، بابا کی وفات کے بعد ماں نے مجھے بڑی مشقت سے پالا تھا۔ پرورش کے ساتھ ساتھ میرے اچھے مستقبل کی خاطر کیا کچھ نہیں کیا تھا۔ ایسے میں اپنوں کی بے رخی اور بھی دل دکھاتی ہے۔ اس سوچ نے مجھے کچھ افسردہ سا کر دیا۔میں فوراً ماں کے کمرے کی جانب بڑھا۔ وہ پرانی البم سے کچھ تلاش کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ آہٹ سن کر فوراً البم بند کیا اور مصنوعی غصے کا اظہار کرنے کی ناکام کوشش کرنے لگیں۔

’’میں کون سا کل ہی تایا سے ملنے جا رہا ہوں جو آپ اتنی برہم ہو رہی ہیں۔‘‘ انھوں نے کوئی جواب نہ دیا۔ میں نے خاموشی سے سر ان کی گود میں رکھ دیا۔ انھوں نے پھر بھی کسی ردعمل کا اظہار نہ کیا۔ ’’اماں! اس گھر میں آپ کے سوا کون ہے جس سے میں بات کروں؟ اگر آپ بھی مجھ سے ناراض ہو گئیں،تو…

میری بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ دھیرے دھیرے میرا سر سہلانے لگیںجو ایک طرح سے غصہ ختم ہونے کا اشارہ تھا۔ میں پرسکون ہو گیا۔ میں نجانے کن سوچوں میں گم تھا جب گرم پانی کا ایک قطرہ میرے ماتھے پر ٹپکا۔ میں نے چونک کر ماں کی طرف دیکھا۔

’’آپ رو رہی ہیں؟‘‘ ’’ارے نہیں تو۔‘‘ انھوں نے آنسوئوں سے تر چہرہ دونوں ہاتھوں سے رگڑ کر صاف کیا اور مسکرانے کی ناکام کوشش کرنے لگیں۔ میں خاموشی سے ان کے چہرے پہ اترے تاثرات کا جائزہ لینے لگا۔ ’’ویسے ہی آج کچھ گزری باتیں یاد آ گئی تھیں، تم پریشان نہ ہو۔‘‘ انھوں نے شاید میرے چہرے پر اترتے پریشانی کے تاثر کو محسوس کر لیا تھا۔ ’’اماں، کیا اپنے تلخ ماضی کو یاد کرنا کوئی معنی رکھتا ہے؟‘‘

’’ارے نہیں بیٹا، ایسی کوئی بات نہیں۔‘‘ ’’نہیں اماں ایسی ہی بات ہے، آپ کیوں خود کو اور مجھے اذیت دیتی ہیں۔‘‘ ’’چلو وعدہ، اب کبھی ان دکھ دینے والی باتوں کا ذکر نہیں ہو گا۔‘‘ ’’وعدہ۔‘‘ ’’ہاں پکا وعدہ۔‘‘ انھوں نے ایک بھرپور مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا۔ اماں نے پھر میرے ساتھ اس وقت کی کچھ خوشگوار یادیں تازہ کیں جب ابا جان ہمارے درمیان موجود تھے۔

٭٭

رات آدھی سے زیادہ گزر چکی تھی لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ ماں کے آنسو کی حرارت میں اب بھی اپنے ماتھے پر محسوس کر رہا تھا۔نجانے ماں کو اپنوں کی بے اعتنائی کا دکھ تھا یا یوں کٹ کر تنہا زندگی گزارنے کا! لیکن یہ بات تسلیم شدہ تھی کہ نفرت و بدگمانی کی جڑیں کافی مضبوط ہو چکی تھیں۔ میں کیا کروں؟ کیا ماں کی طرح دور رہ کرنفرت و بدگمانی کا سلسلہ آگے بڑھائوں یا محبت کے نئے سفر کا آغاز کروں؟ دونوں راہوں کے نتائج میرے سامنے تھے۔

ماں کی محبت نے مجھے کچھ اس طرح گھیر رکھا تھا کہ ہر شے مجھے انہی کی ذات سے وابستہ نظر آتی۔ میں بہت دیر تک دونوں راہوں میں سے کسی ایک کے انتخاب میں الجھا رہا۔ ذہن مجھ سے ایک ہی سوال کر رہا تھا: کیا تم بھی چیزوں کو اوروں کی نظر سے دیکھو گے، اسی طرز پر چلو گے جس پر سب چلتے ہیں… اچھوں کے ساتھ اچھے اور بروں کے ساتھ برے!یا اپنی انا مارکر اس راستے کا انتخاب کرو جس پر چل کر تمھیں کبھی پچھتاوا نہ ہو۔انھیں سوچوں میں گم نجانے کس لمحے میں نیند کی وادی میں اتر گیا۔

اب میری کوشش ہوتی کہ اماں سے کوئی ایسی بات نہ کروں جس میں ماضی کی تلخ یادوں کا ذکر آجائے۔ لیکن ماضی اور اپنوں سے لاتعلقی کے باوجود ان سے رشتہ برقرار رہا۔ میرا ذہن مسلسل کسی منطقی نتیجہ پر پہنچنے کی کوشش کر رہا تھا۔ مجھے گزشتہ شب پڑھی انگریز شاعر، ولیم بلیک کی نظم ’’ A PoisonTree‘‘ یاد آنے لگی۔ اس مختصر مگر بامعنی نظم میں ولیم بلیک نے ہمیں ایک اہم اخلاقی سبق دیا ہے۔ شاعر ہمیں بتاتا ہے کہ ایک مرتبہ وہ اپنے دوست سے ناراض ہو گیا۔ اس نے اسے ناراضی کی وجہ بتا دی اور یوں غلط فہمی دور ہو گئی۔

لیکن ایک بار اس سے ناراض ہوا، تو وجہ نہ بتائی۔ اس غلط فہمی نے شاعر کے دل میں اس کے خلاف نفرت کا بیج بو دیا۔ یہ نفرت ایک زہریلے پودے کے مانند پروان چڑھنے لگی۔ رفتہ رفتہ نفرت کے پودے نے درخت کی صورت اختیار کر لی۔ اس پر نفرت کا پھل لگا جسے چکھتے ہی دوست میری نفرت کی بھینٹ چڑھ گیا اور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

کئی طرح کے خیالات میرے ذہن کو گھیرے ہوئے تھے۔ روزانہ رات سونے سے قبل میرے سامنے کئی سوال ابھرتے۔ میں خود ہی ان کے جواب تلاش کرتا، پھر دلائل دیتا اور کبھی انھیں رد بھی کر ڈالتا۔ ’’عادل! خود کو نفرتوں کی بھینٹ مت چڑھانا، محبت کے بیج بونا جس سے زندگی بہت آسان ہوجاتی ہے۔‘‘ اپنے اندر سے ابھرنے والی اس آواز کو میں نظر انداز نہیں کر سکتا تھا۔

بی اے کا فائنل امتحان قریب تھا۔ دن رات اس کی تیاری کے لیے وقف تھے۔ ذہن میں ایک ہی دھن سوار تھی کہ امتحان میں شاندار کامیابی حاصل کر لوں۔ میری زندگی کی سرگرمیاں پہلے ہی محدود تھیں، اب محدود تر ہو گئیں۔

٭٭

لوگوں سے پتا پوچھتا میں اپنے آبائی گائوں پہنچ ہی گیا۔ اگرچہ اس سے میری کچھ زیادہ یادیں وابستہ نہ تھیں پھر بھی انسیت سی تھی جو میں ماحول میں محسوس کرنے لگا۔ ’’کیا ظفر صاحب کا یہی گھر ہے؟‘‘ ’’جی تھا اب نہیں۔‘‘ اجنبی نے مختصر جواب دیا۔ ’’کیا آپ مجھے بتا سکتے ہیں اب وہ کہاں رہتے ہیں؟‘‘ اجنبی نے چونک کر میری طرف دیکھا۔

تب مجھے اپنی حماقت کا احساس ہوا کہ میں نے اپنا تعارف تو کرایا ہی نہ تھا۔ ’’اچھا اچھا، آپ کیانی صاحب کے بیٹے ہیں، اللہ ان کی مغفرت فرمائے، بہت نیک انسان تھے۔‘‘ میرے مختصر تعارف پر وہ فوراً ابا جان کی نسبت سے مجھے پہچان گئے اور میرے ساتھ اظہار ہمدردی کرنے لگے۔ تھوڑی ہی دیر میں وہ مجھے ماضی کے کئی چھوٹے بڑے واقعات سنا چکے تھے۔ ان کے مطابق تایا جان کافی عرصہ پہلے شہر منتقل ہو چکے تھے۔

اب کبھی کبھار رہی ان کا آنا ہوتا۔ میں نے انھیںآنے کا مقصد بتایا اور تایا جان کے نام ایک پیغام لکھ کر ان کے حوالے کیا۔ انھوں نے ان تک پہچانے کی ذمہ داری خوشی سے قبول کر لی۔ چند ہفتوں ہی میں میرا تایا جان سے رابطہ ہو گیا۔ اور پھر اکثر فون پہ بات ہونے لگی۔ باہمی رابطے نے کئی غلط فہمیوں کو دور کر دیا۔ اور دلوں میں پیدا ہونے والی دوریاں کم ہونے لگیں۔آخر برسوں سے ٹوٹا تعلق استوار ہونے لگا۔ ان سب باتوں کی اماں کو خبر نہ تھی۔ میں کسی مناسب موقع کی تلاش میں تھا تاکہ ان کی غلط فہمیاں بھی دور ہو جائیں۔ مجھے یقین تھا، محبت کے اس سفر میں شریک ہونے کے لیے وہ کبھی پیچھے نہیں رہیں گی۔

٭٭

زین نے فون پر نتیجے کی خبر سنائی تو میں کود کر بستر سے باہر نکلا۔ اس سے پہلے کہ کمپیوٹر کھولتا، سر کیانی نے فون کر کے مجھے شاندار کامیابی کی خبر سنائی۔ میں بی اے کے امتحان میں اول آیا تھا۔اماں نے فوراً شکرانے کے نوافل ادا کیے اور میں سب سے مبارک بادیں وصول کرنے لگا۔ سبھی دوستوں سے فون پر رابطہ ہو گیا۔ ان کے پیغامات بھی وصول ہو رہے تھے۔ لیکن مجھے تایا جان اور خرم کے فون کا انتظار تھا۔ دل چاہ رہا تھا پہل کر ڈالوں لیکن کچھ سوچ کر خاموشی اختیار کیے رکھی۔

٭٭

تایا جان نے فون کیوں نہیں کیا؟ اور پھر خرم نے ایسا کیوں کیا؟ دن بھر انتظار کے بعد دل کئی سوال اٹھا رہا تھا۔ نہیں، مجھے بدگمان نہیں ہونا چاہیے، ہو سکتا ہے سچ وہ نہ ہو جو میں سوچ رہا ہوں۔ ایک آس اور امید تھی جو منفی خیالات کو رد کرنے لگی۔ نہیں، میں نفرت کے سلسلے مزید آگے نہیں بڑھنے دوں گا۔ اس بار بھی میں پہل کر ان سے ملنے خود چلا جائوں گا… یہ سوچتے ہوئے میں نجانے کس لمحے نیند کی وادی میں اتر گیا۔

اماں نے میری کامیابی کی خوشی میں سب ملنے جلنے والوں کی پرتکلف دعوت کا اہتمام کیا۔ سو گھر میں خوب رونق تھی۔ میں نے بھی خود کو مصروف کر رکھا تھا۔ لیکن ذہن کسی سوچ میں الجھا ہوا تھا۔ اچانک میری آنکھوں نے وہ منظر دیکھا جس کامیںنجانے کب سے میں منتظر تھا۔ ’’السلام علیکم۔‘‘ تایا جان کی آواز سن کر میں خوشی سے ساکت سا ہو گیا۔

’’آپ…‘‘ خوشی سے میں صرف اتنا ہی کہہ سکا اور پھر پھیلے بازو دیکھ کر ان کی جانب بڑھا اور لپٹ گیا۔ اماں اور تائی جان بھی ایک دوسرے سے محبت سے ملیں۔ کچھ گلے شکوے ہوئے۔ کچھ گزرے لمحوں کا ذکر چھیڑا گیا اور پھر باتوں ہی باتوں میں سب دوریاں مٹتی چلی گئیں۔ اماں جان اچانک ملنے والی اس خوشی پر حیران تھیں۔

خرم سے بے تکلف گفتگو ہوئی۔ سب کچھ اچھا لگ رہا تھا۔ اماں کے چہرے پر اترے سکون و اطمینان کے رنگ مجھے بھی خوشی سے نہال کر رہے تھے۔ تایا جان میرے لیے تحائف لے کر آئے تھے۔ آج کی شام خوشیوں سے بھرپور تھی۔ ہر چہرہ خوش اور دل مطمئن تھا۔ میرے لیے تو آج کا دن دہری کامیابی والاثابت ہوا۔ دل محبت کا سفر منتخب کرنے پر نازاں و مطمئن تھا۔lll

شیئر کیجیے
Default image
مسرت یاسمین

تبصرہ کیجیے