مٹھی بھر زمین

گاؤں بھر میں گنے کی فصل، خاں صاحب کا میلہ یا جتن کی پہاڑیاں مشہور تھیں۔ ہر ایک کی اپنی شان اور اپنی تاریخ تھی۔ یا پھر ایک چیز جو ہر خاص و عام کی زبان پر تھی وہ تھی گبرو اور شیرو کی آپسی محبت! دونوں بھائی جڑواں تھے۔ ان کا بچپن اور پھر جوانی ایک ساتھ گزری ایک ہی لمبے چوڑے انگن میں۔ دونوں ہمراز و ہم نوا تھے ایسے کہ اپنے تو اپنے غیر بھی ان کو دیکھ کر رشک کرتے۔ باپ کی زندگی میں دونوں مل جل کر کھیت پر کام کرتے۔ گھر لوٹتے تو ساری بستی ان کے ہنسی و خوشی سے نہال ہوجاتی۔ دونوں ہی بھای بہت ملنسار اور دوسروں کے ہر بھلے برے میں شریک رہتے تھے۔ بابا نے دونوں کے لیے دلہنیں بھی ایک ساتھ ڈھونڈی تھیں۔ سیما اور روشنی بھی آپس میں بالکل سگی بہنوں کی طرح رہتی تھیں، جسے آپس میں جیٹھانی دیورانی کا رشتہ ہی نہ ہو۔ آس پڑوس کی بڑی بوڑھیاں سب ان کی مثال دے کر اپنی بیٹی بہوؤں کو سمجھایا کرتی تھیں۔

روشنی کی اللہ تعالیٰ نے پانچ سال میںتین بار گود بھری جب کہ سیما کے یہاں اللہ کی طرف سے تاخیر ہوئی لیکن سیما ہر وقت روشنی کے بچوں کو اپنے آنچل میں بھرے رہتی اور جب سیما خود ماں بن گئی تب بھی اس کی ممتا کا بٹوارا نہ ہوا۔ وہ اسی طرح سب بچوں کی ماں تھی۔ اپنے پرائے کی کوئی تقسیم نہ تھی۔ بابا جو تھے تناور درخت کی طرح سب کو اپنی شفقت کے سائے میں سمیٹے ہوئے۔ بستی کا ہر فرد بابا کے پاس اپنے معاملات میں صلاح مشورہ کے لیے پہنچ جاتا تھا اور بابا کی دانش وری اور مشورے سے الجھے ہوئے معاملات منٹوں میں سلجھ جاتے تھے۔ رامو کا بیٹا موہن جو شہر سے ایم کام کر کے لوٹا تھا۔ بابا کو بستی کا سپریم کورٹ کہتا تھا۔ بابا بھی موہن سے خاص محبت کرتے تھے۔ خاں صاحب کے میلے میں بابا پوری بستی کی دعوت کرتے تھے اور سب کو گنے کی رس کی بنی کھیر کھلاتے تھے۔ جو بابا خود اپنے ہاتھوں سے رات بھر آنگن میں بیٹھ کر تیار کرتے تھے۔ اس سوکھے میوے بھری کھیر میں بابا کے خلوص کی مٹھاس اور لذت ایسی گھلی رہتی تھی کہ سال بھر تک اس کا مزہ بستی کا ہر فرد اپنی زبان پر ہی نہیں بلکہ دل میں بھی محسوس کرتا تھا۔

لیکن تابناک دن کے بعد اندھیری رات کا آنا مقدر ہے۔ بستی کی خوشیوں پر بھی رات کی تاریکی چھا گئی۔ بابا ایک رات ایسے بیمار ہوئے کہ صبح نہ دیکھ سکے۔ بابا کے گزرنے کا سب سے زیادہ دکھ تو اس گھر کو ہوا جس نے ایک لمحہ کو بھی بابا کی آغوش سے جدا ہونے کا کبھی نہ سوچا تھا۔ گبرو، شیرو، سیما اور روشنی کے ساتھ ہی ان کے معصوم بچے بھی بھونچکا رہ گئے۔ ’’ہاں! موت سے تو چھٹکارا نہیں ہے اوپر والا ان کی آتما کو شانتی دے اب دنیا کے دھندے تو دھیان مانگتے ہی ہیں۔ چلو گبرو ہمت کرو شیرو تو تمہارے نقش قدم پر ہے اب رامو نے کھیت پر چلتے ہوئے گبرو کو سمجھایا۔ گبرو نے شیرو کی طرف دیکھا اور چلنے کا اشارہ کیا۔ دونوں بھائی بھاری دل اور لرزتے قدموں کے ساتھ کھیت کی طرف چلے جیسے کوئی شکست خوردہ جنگ سے لوٹتا ہے۔ پھر زندگی معمول پر آگئی۔ پیٹ کے تقاضے اپنے آپ کو منوا ہی لیتے ہیں۔ بچوں کی ضرورتیں اور رات دن کے ہنگامے آہستہ آہستہ غالب آنے لگے۔ مہنگائی بڑھتی جا رہی تھی۔ دنیا دیکھتے ہی دیکھتے بدلنے لگی۔ بدلتی رت کے آثار تو سمجھ میں آہی جاتے ہیں اور اس کی سدھ بدھ تو آدمی کر ہی لیتا ہے۔ لیکن بدلتی دنیا کے آثار گاوں والوں کی سمجھ میں نہ آرہے تھے۔ لہلہاتے کھیتوں پر پکی فیکٹریاں بنتی جا رہی تھیں۔ اب گاؤں والوں کو کھیت جوتنے اور فصل اگانے سے زیادہ فیکٹریوں کے مالکوں کو اونچے داموں کھیت بیچنے سے زیادہ لابھ تھا۔ ہر روز خبر آتی کہ بڑی کمپنی آرہی ہے۔ لوگ رات بھر میں کروڑ پتی اور ارب پتی بن رہے تھے۔ لیکن گاؤں کے بڑے بوڑھے خوش نہ تھے۔ ان کی دھواں دھواں آنکھوں میںلہلہاتے کھیتوں اور کھڑی فصل کی تصویریں تھیں۔ وہ دبی زبان سے منع کرتے رہ گئے۔ لیکن نوجوان پیڑھی کو سمجھانا ان کے بس کا نہ تھا۔

ادھر ایک مسئلہ یہ بھی تھا کہ بیج مہنگا ہو رہا تھا۔ کھاد اور مزدور نہ مل رہے تھے۔ اس لیے گاؤں والوں کو یہ سودا نفع کا معلوم ہو رہا تھا۔ لیکن انہیں کون سمجھاتا کہ فیکٹری سے نکلنے والا دھواں تمہارے بچوں کی بھوک نہ مٹا سکے گا۔ اور فیکٹری کا مال ملک کا پیٹ نہ بھر سکے گا۔ اناج اور فصل تم نہ پیدا کروگے تو کون کرے گا۔

ہر ایک نوٹوں کی گڈی میں بکاؤ ہو رہا تھا اور بھرے لہلہاتے کھیت منہ مانگے داموں بک رہے تھے۔ گاؤں میں جیسے قیامت آگئی تھی۔ ٹریکٹر کا شور، بلڈوزر کا عفریت کھیتوں کا سینہ چیر رہا تھا۔ دیکھتے ہی دیکھتے گاؤں کی شکل و صورت بدل رہی تھی۔ کھیت کھلیان کے ساتھ ہی بستی کے گھروں کی شکلیں بھی بدل رہی تھی۔

جوان شہروں کی طرف چل پڑے تھے۔ موہن نے سب سے پہلے اپنے کھیت فروخت کیے اور دو منزلہ بنگلہ بنوا کر اس میں AC لگوا لیا۔ ہر ایک اس کے بنگلہ اور AC کے درشن کرنے کے لیے چل پڑا ’’اوہو گھر بالکل کشمیر ہو رہا ہے۔ کتنا آرام ہے اس کرسی میں۔‘‘

’’اسے کرسی نہیں صوفہ کہتے ہیں‘‘ موہن کی گھر والی بڑے انداز سے ہنس کر بولی ’’چالیس ہجاّر کا منگوایا ہے سہر سے اور یہ گلدان دس ہجاّر کا ہے‘‘ وہ دس پر زور دیتی اٹھلاتی ہوئی لاؤنج کی طرف چل دی۔ آج نہ اس نے آنے والوں کو چائے کے لیے پوچھا اور نہ پانی کو نہ جانے یہ روایت کہاں چلی گئی۔ شاید نوٹوں کے گرمی محبت کو پگھلا رہی تھی۔ جب خوشحالی اور ترقی بغیر محنت کے مل جائے اور اس کے لیے جدوجہد، غور و فکر اور تگ و دو نہ کی جائے تو اس کی قدر و قیمت متعین کرنے میں روایات اور اقدار کی قربانی دینی پڑتی ہے کیوں کہ جب انسان کی فطرت میں ارتقا نہیں ہوتا تو بیرون کی تبدیلی اندرون کو تحت الثریٰ میں پھینک دیتی ہے۔ گاؤں کے بڑے بوڑھے سوچ کر ڈر جاتے تھے کہ یہ مفت کی ترقی ہم ہندوستانیوں کو راس آسکے گی یا یہ ہماری تہذیب اور روایات کے تاج محل کو زمین بوس کردے گی۔ کُھرّی کھاٹ پر بیٹھنے کے عادی محنت کش بدن جب اسپرنگ صوفوں میں دھنسیں گے تو کیا وہ اپنا توازن قائم رکھ پائیں گے اور جن ہاتھوں میں ابھی تک ہل و ڈونگر تھے وہ جب گولف کی اسٹک تھا میں گے تو کیا اس کے پینترے جان پائیں گے، گاؤں کی بہو بیٹیاں اور نوجوان جب ٹاپ اور جینز پہننا شروع کریں گے تو پھر ممتا بھرے آنچل سے محروم بچے دنیا میں ممتا اور آدرش کا پیغام کس طرح عام کر پائیں گے۔

کمپنیوں اور فیکٹریوں کے مالک چمچاتی کاروں میں پہلی کرن کے ساتھ ہی گاؤں میں داخل ہوتے۔ گاؤں کے نوجوان ان کاروں کے شیشوں میں اپنا مستقبل تلاش کر رہے تھے۔ ہر روز ایک کھیت کا سودا ہوتا۔ ہر شام ایک نیا گھرانہ اپنی قسمت کو روپیوں کی بھری گڈیوں میں داؤ پر لگا دیتا۔

اس دن گبرو جب اپنے گھر میں داخل ہوا تو اس کے دل نے بھی ایک فیصلہ کرلیا تھا۔ ٹاٹا سومو ملز کے مالک سے بات کر کے اس نے فیصلہ کرلیا تھا کہ وہ اپنے کھیت بھی ان کے ہاتھ بیچ دے گا۔ بس گھر والوں سے بات کر کے انہیں راضی کرنا تھا۔ آج تک گھر میں اس کا فیصلہ ہی آخری سمجھا جاتا تھا۔ سب اس کا احترام کرتے تھے کیوں کہ گھر میں بابا کی جگہ اسے مل گئی تھی۔

وہ آج جلد گھر لوٹ آیا تھا اور شیرو کا انتظار کر رہا تھا۔ آج اسے گھر کے ہر کونے سے کوفت ہو رہی تھی۔ آنگن میں گھومتے بچوں کے بدن پر چمٹے کپڑوں سے اسے گھن سی ہونے لگی۔ گھر کی عورتوں کو گھونگھٹ کاڑھے دیکھ کر اس کا من چاہا کہ ان کی عورتیں بھی ایسی ہوجائیں جیسے کل موہن کے یہاں ٹیلی ویژن پر اس نے نظارہ دیکھا تھا۔ آنگن میں پڑی چار پائی، لوٹے اور بالٹی ہر چیز سے اسے کوفت ہو رہی تھی۔

شیرو نے جب گبرو کے منہ سے کھیت بیچنے کی بات سنی تو اس کو دکھ کے بجائے بڑی کوشی ہوئی۔ اسے لگا جیسے بڑے بھیا نے اس کے دل کی بات چرا لی ہے۔ وہ رات بھر سہانے سپنے دیکھتا رہا۔ اس کے بچے اونچے اسکول میں پڑھ رہے ہیں وہ اور بھیا اپنی فیملی کے ساتھ ہوائی جہاز میں اڑ رہے ہیں ان کے پاس بھی عالی شان بنگلہ ہے۔ خوب صورت صوفے ہیں قیمتی پردے ہیں اور وہ سب کچھ، موہن کا گھر جس سے بھرا پڑا ہے۔ وہ بے کلی سے صبح کے نمودار ہونے کا انتظار کرتے ہوئے رات بھر سو نہ سکا۔

صبح کی پہلی کرن کے ساتھ حسب معمول گبرو بھیا کی آواز آنگن میں سنائی دی اور اس سے پہلے ہی بستی سے ٹریکٹروں کی آواز اور بلڈوزروں کا شور انہیں کسی ان دیکھی جنت کی کہانی سنا رہا تھا۔ وہ اپنے کمرے سے نکل کر آنگن میں آگیا۔ روشنی بھابھی اور سیما بھی چولھے کے پاس دھویں کے پیچھے بیٹھی چائے کا انتظام کر رہی تھیں۔ دونوں کے بچے بھی نیکر بنیان پہنے سامنے کھاٹ پر بیٹھے تھے۔ ’’کب تک چل رہے ہو بھیا کمپنی والے آگئے ہوں گے چوک میں ’’شیرو اپنے کو روک نہ سکا جیسے رات بھر اس جملے کو بڑی مشکل سے اس نے اپنے ہونٹوں میں دبا رکھا تھا۔ دونوں عورتیں بھی چولھے سے ہٹ کر بھیا کا جواب سننے کے لیے متوجہ ہوگئیں۔ رات آنے والے سہانے دنوں کا اتنا چرچا ہوا تھا کہ ہر ایک خوشیوں اور ارمانوں کے جھولے میں سوار ایک نئی دنیا میں جھول رہا تھا جہاں پیسہ ہی پیسہ تھا، آرام ہی آرام تھا، سیر سپاٹے تھے اور ترقی ہی ترقی تھی۔

سب لوگ بھیا کی طرف متوجہ تھے اور بھیا خاموش تھے۔ گمبھیرتا بڑھتی گئی۔ وہ دھیرے سے کھاٹ سے اٹھے اور سامنے دیوار کی طرف منہ کر کے کھڑے ہوگئے۔ ’’شیرو‘‘ انہوں نے دھیرے سے کہا جیسے بہت مشکل سے الفاظ ڈھونڈ رہے ہوں۔ پھر وہ بولے ’’شیرو! میں نے اپنا فیصلہ بدل دیا ہے۔ اب میں کھیت کسی کو بھی فروخت نہیں کروں گا ’’بھیا‘‘ شیرو جیسے چیخ سا پڑا سب پر جیسے سکتہ طاری ہوگیا۔ مٹھیوں میں آئی مفت کی دولت سرکنے لگی ہر ایک کی خواہش تھی کہ بھیا اپنا فیصلہ بدل دیں۔ لیکن گبرو آہستہ قدم چلتا واپس کھاٹ پر آگیا اور التی پالتی مار کر بیٹھتے ہوئے بولا شیرو! کھیت جو فصل اگلتے ہیں، جو ہمارے خون پسینے سے سینچے جاتے ہیں، جو ہمارے باپ دادا کی وراثت ہیں، جس میں ہمارے پرکھوں کی محنت اور محبت دفن ہے، یہ لہلہاتے کھیت جس میں پل کر ہم جوان ہوئے جہاں ہم نے اپنا بچپن گزارا، یہ ہمارے رحم و کرم پر ہیں۔ ان کے سینے پر بلڈوزر چلائے جائیں۔ ان کی رگوں کو روند دیا جائے ہم یہ کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔‘‘

’’بس بھیا بس اب میں سمجھ گیا۔‘‘ شیرو کی آنکھیں برس پڑیں دنوں عورتیں بھی آنچل سے اپنی سسکیوں کو روکتے ہوئے بولیں: ’’بھیا! یہ نہ ہوگا کہ ہم اپنے ہاتھوں اپنی وراثت کا خون کر کے تر نوالے اڑائیں۔‘‘

’’شیرو! رات میں نے بابا کو خواب میں دیکھا وہ بہت دکھی تھے، بہت دکھی اور پریشان سے۔ میں نے دیکھا کہ میرے اور تیرے ہاتھ میں چمکتے خنجر ہیں اور ہم بابا کے سینے میں گھونپ رہے ہیں۔ بس میری آنکھ کھل گئی۔ شیرو یہ خون ہم سے نہ ہوسکے گا چھوٹے بھیا مجھے معاف کر دینا‘‘ شیرو نے آگے بڑھ کر بھیا کو سہارا دیا۔ اور کچھ دیر بعد دونوں ہنسی خوشی ہل اٹھائے اپنے کھیت کی طرف چل دیے۔ انسانوں کے لیے اناج اور زندگی اگانے کے لیے۔ بلڈوزوروں کے بے ہنگم شور سے گزرتے ہوئے انہیں محسوس ہوا کہ وہ تناور سایہ دار درخت کی طرح ہیں۔ جس کی جڑیں بابا نے اپنے ہاتھوں سے مٹھی بھر زمین میں خوب گہرائی تک مضبوطی سے جمادی تھیں۔lll

شیئر کیجیے
Default image
ڈاکٹر بازغہ تبسم، علی گڑھ