6

اگر محمدﷺ آپ کے گھر آئیں

اگر ایک یا دو دن کے لیے

خلافِ توقع نبی کریمؐ آپ کے گھر آئیں،

تو آپ کیا کریں گے؟

آپ اپنا بہترین کمرا اتنے معزز مہمان کے لیے تیار کریں گے

بہترین، عمدہ اور لذیذ پکوان بنائیں گے

اور ان کو یقین دلائیں گے

کہ پیارے نبیؐ کی آمد

آپ کے لیے کس قدر باعث مسرت ہے

حضور اکرمؐ کی خدمت ایسی خوشی ہے

جس کا مقابلہ دنیا کی کوئی اور خوشی نہیں کر سکتی

لیکن…

جب نبی محترمؐ آپ کے گھر آئیں گے

تو…

آپ جھٹ سے دروازہ کھول کر انؐ کا والہانہ استقبال کریں گے

یا…

پہلے اپنا مناسب لباس پہنیں گے

اپنے رسالے، میگزین سنبھالیں گے

قرآن کو طاق میں سجائیں گے

اپنا ٹی وی سیٹ بند کریں گے کہ

کہیں آلات موسیقی کی آواز نبی کریمؐ کی سمع خراشی کا سبب نہ بنے

کیا آپ ان دو دنوں میں اپنی وہی سرگرمیاں جاری رکھیں گے

جو آپ کا معمول ہیں

کیا آپ کی باہمی گفتگو

ان دو دنوں میں وہی رہے گی

جو روز مرہ ایام میں ہوتی ہے

کیا آپ تمام نمازیں وقت پر ادا کریں گے؟

کیا آپ کے زیرمطالعہ وہی مواد رہے گا؟

کیا آپ یہ خواہش کریں گے کہ

نبی کریمؐ کا قیام دو دنوں سے بڑھ جائے

یا پھر…

آپ انتظار کریں گے

کہ وہ جائیں

اور آپ اپنی سرگرمیاں، مشاغل اور دلچسپیاں دوبارہ جاری رکھیں

ذرا سوچیے…

اگر نبی کریمؐ ایک یا دو دنوں کے لیے

آپ کے گھر آئیں تو…

٭٭

ایک نو مسلم انگریز شاعرہ کی یہ نظم نظر سے گزری تو دل اضطراب کا شکار ہو گیا۔ یہ سوال بڑا اہم ہے کہ عشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دعویدار اپنی محبت کا ثبوت کیسے دیں؟ حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا پہلا تقاضا تو یقینا ذکر رسولؐ ہی ہے جیسا کہ سورہ احزاب میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

’’ترجمہ: بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبیؐ پر سلام بھیجتے ہیں۔ اے ایمان والو! تم بھی ان پر کثرت سے دردووسلام بھیجا کرو۔‘‘

ذکر رسول ؐ عین عبادت اور عظیم سعادت ہے۔ یقینا محسن انسانیت کی ذات اس اعزاز کی مستحق ہے کہ آپؐ پر کثرت سے درودوسلام بھیجا جائے۔

ذکر رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ساتھ آج اس امر کی بھی ضرورت ہے کہ فکرِ رسولؐ کو عام اور اس پر عمل پیرا ہوا جائے۔ حضرت محمدؐ سے محبت مجرد ثواب کے لیے ہونا کامیابی کی دلیل نہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رہبانیت اختیار نہیں کی۔

محض چند افراد کو لے کر ایک گوشے میں بیٹھ کر اچھی اچھی باتیں کرتے ہوئے زندگی نہیں گزاری بلکہ زندگی کی تمام کٹھنائیاں، تلخیاں، مشکلات اور آزمائشیں صبر و استقلال کے ساتھ برداشت کر ہر طبقہِ انسانی کے لیے راہنمائی کا فریضہ انجام دیا۔ حضرت محمدؐ کی حیاتِ مبارکہ عملِ پیہم کی شرح ہے۔ کوئی انسانی روداد نہیں انسان ساز کی کہانی ہے۔

مگر ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ ہم ذکر رسولؐ تو کسی نہ کسی طرح کر لیتے ہیں، مگر فکرِ رسولؐ مکمل طور پر نظرانداز کر چکے۔ محبت رسولؐ کا دعویٰ تو کیا، مگر اپنے اعمال کو ان کے اسوہؐ حسنہ کے مطابق نہیں ڈھالا۔ آج ہماری کتاب عمل پر سیرت النبیؐ کا شائبہ تک نہیں، ہم اسوہ صلی اللہ علیہ وسلم حسنہ کو چھوڑ کر دیگر دنیاوی نظام ہائے حیات کے آگے ہاتھ پھیلا رہے ہیں۔

ہم ذہنی لحاظ سے مفلس اور معاشی طور پر مفلوک الحال ہو چکے۔ علمی و ثقافتی زندگی میں دوسروں کے کاسہ لیس ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اگرہم واقعی محبت رسولؐ کے دعویدار ہیں، تو تہذیبِ حاضر کی مرعوبیت کا چولا اتار پھینکیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت کو اوراق سے نکال کر عملی زندگی میں لے آئیں۔

ورنہ ذرا سوچیے، ہماری خجالت اور شرمندگی کا کیا عالم ہو گا اگر… محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے گھر تشریف لائیں تو… (اردو ڈائجسٹ لاہور سے ماخوذ)

شیئر کیجیے
Default image
مرسلہ: ماریہ اقبال

تبصرہ کیجیے